Urdu Ghazal

Urdu Ghazal Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Urdu Ghazal, Professional Service, Karachi.

جب ہمبوڑھے ہوجائیں گےاور بچے ہم سے بیزارتب لاٹھی کے سہارے رینگتے ہوئےپہنچیں گے قریبی پارک میں اوربیٹھ رہیں گے ٹوٹی ہوئی ...
30/08/2022

جب ہم
بوڑھے ہوجائیں گے
اور بچے ہم سے بیزار
تب لاٹھی کے سہارے رینگتے ہوئے
پہنچیں گے قریبی پارک میں اور
بیٹھ رہیں گے ٹوٹی ہوئی بنچ کے اک کونے پر
پاس سے گزرتے ہوؤں کے چہرے کو
اس امید پہ دیکھیں گے کہ
شاید کوئی ہمیں اپنا شناسا جان کر
بیٹھے دو گھڑی ہماری باتیں سننے کو
اور ہمارے مرجھائے چہرے کو
اپنے ہاتھوں میں لے کر کہے
"گھر جا کر آرام کریں"۔۔۔
جب ہم
بوڑھے ہوجائیں گے
کھانس کر یقین دلائیں گے
گھر میں اپنی موجودگی کا
مگر ہمارا ہونا اس وقت ہی محسوس ہوگا
جب خرچے میں تمام افراد کو گنا جائے گا۔۔
جب ہم
بوڑھے ہوجائیں گے
ہم سے منسوب کئی چیزوں کو
ہماری طرح کم وقعت کہہ کر
بیچ دیا جائے گا ہماری نظروں کے سامنے۔۔
جب ہم
بوڑھے ہوجائیں گے
صحن میں بچھی چارپائی پہ
اکیلے بیٹھ کر خود سے باتیں کرتے ہوئے
کوئی ہمیں دیکھ کر کہے گا
"وقت کتنا ظالم ہے"

بارشیں __ بھگوتی ہیںتن کے اور من کے یہسارے داغ دھوتی ہیںپیڑ, پودوں, پتوں پرگرد کی جمی ہر تہہدھل کے جب اترتی ہےہر جگہ نکھ...
24/07/2022

بارشیں __ بھگوتی ہیں
تن کے اور من کے یہ
سارے داغ دھوتی ہیں
پیڑ, پودوں, پتوں پر
گرد کی جمی ہر تہہ
دھل کے جب اترتی ہے
ہر جگہ نکھرتی ہے
ڈالیاں,گھٹاؤں میں
خوب لہلہاتی ہیں
کھل کے مسکراتی ہیں
ہر طرف انوکھے سے
رنگ ابھرنے لگتے ہیں
بام و در بھی دھل کر سب
پھر سنورنے لگتے ہیں

ہاں مگر مرے دل کے
چند داغ ایسے ہیں
جیسی بھی گھٹا چھاۓ
جتنا مینہ برس جاۓ
داغ باقی رہتے ہیں
لاکھ بارشیں برسیں
روح پر جمی ہے جو
گرد وہ نہیں دھلتی
✍️👉💦💦🌧️🌧️

کوئے روٹھے تو پھر بھی،درد الفت کم نہیں ھوتےگوارا یوں زبان بندی سے،اپنے غم نہیں ھوتےگرہ غصے سے دیتے ہیں،ذرا مشاطی دیکھووہ...
25/05/2022

کوئے روٹھے تو پھر بھی،درد الفت کم نہیں ھوتے
گوارا یوں زبان بندی سے،اپنے غم نہیں ھوتے
گرہ غصے سے دیتے ہیں،ذرا مشاطی دیکھو
وہ زلفیں کیسی ہوں گے،جن میں پیچ و خم نہیں ھوتے
تڑپنا دیکھ کر میرا،کلیجہ تھام لیتے ہیں
مگر دنیا کے ڈر سے،دیدہ و نم نہیں ھوتے
نہیں اٹھتے ہم گلی سے،گالیان سن کر حسینوں کی
پرانی رسم ہے عاشق،کبھی نادم نہیں ھوتے
محبت میں وضع داری کا رکھتے ہیں بھرم ایسا
چھڑا کر ھاتھ بولے،بے تکلف ہم نہیں ھوتے
خدا جانے تیری نظروں میں،کیسا سحر پنہا ہے
اٹھاتے جو جنہیںحفل سے،وہ برہم نہیں ھوتے
تیری گفتار میں پنہاں،حلاوت سنگینی ہے جیسے
مقابل تیرے ہونٹوں کے،وہ جام نہیں ھوتے

نا چین منگے نا تاج منگے،،،نا پیر دنیا دا راج منگے،،،او سجدہ دے کے خنجر دے تلے،،،حسین، رب توں میراج منگے،،،نا چین تے نا ق...
19/08/2021

نا چین منگے نا تاج منگے،،،
نا پیر دنیا دا راج منگے،،،
او سجدہ دے کے خنجر دے تلے،،،
حسین، رب توں میراج منگے،،،
نا چین تے نا قرار منگے،،،
حسین، عشق اچ معار منگے،،،
313 دی ضرب جھل کے ،،،
حسین،رب توں دیدار منگے،،،

سلام یا حسین علیہ السّلام ❤️

ملو ہم سےہماری خاک راہوں میں اڑاؤاور ہماری گرد سے کھیلوزباں پر نا سمجھ باتوں کے الزامات کی بوجھاڑ کر دواور سکوت زرد سے ...
07/01/2021

ملو ہم سے
ہماری خاک راہوں میں اڑاؤ
اور ہماری گرد سے کھیلو
زباں پر نا سمجھ باتوں کے الزامات کی بوجھاڑ کر دو
اور سکوت زرد سے کھیلو
گلے لگ کر ہماری خواہشوں کی برف کے اثرات جھیلو
اور سانسوں کی ہوائے سرد سے کھیلو
سمندر پار کرنے کا مصمّم خواب دیکھیں
اور پھر اس کی عجب تعبیر سے نظریں چرائیں
کیسا لگتا ہے ؟
ہم اپنے ساحلوں پر ادھ کھلے جن بادبانوں سے بندھے ہیں بادباں
کب ہیں
ملو ہم سے
ہمارا ہاتھ دیکھو
اور بتاؤ بھی
لکیریں اس طرح سے کب تلک الجھی رہیں گی خوش نصیبی سے۔۔
بتاؤ!
کب تلک اک دوسرے کو کاٹتی مٹتی رہیں گی بد نصیبی کی سیاہی سے
ہمارا اس قدر ویران ہو جانا کبھی تبدیل بھی ہو گا
ہمارا اس قدر سنسان ہو جانا، اجڑ جانا کبھی آباد بھی ہو گا?
ہماری خوش نمائی کی حقیقت بھی ہمیں معلوم ہے
کیا سب، یہ سب کی سب اداکاری ہمیشہ جاری و ساری رہے گی زندگانی بھر
ہماری آنکھ ہنستی ہی رہے گی
اور دل روتا رہے گا کیا?
یونہی ہم بولتے ہی جائیں گے بے بات باتوں پر
مگر اندر کوئی چپ سادھ کے یونہی ہمیں تکتا رہے گا درد میں ڈوبی
نگاہوں سے
ملو ہم سے
ہمیں ڈھونڈو
ہمیں ڈھونڈو کہ اکثر ہم خود اپنے جسم میں ہوتے ہوئے بھی دور اتنی دور
ہوتے ہیں کہ ہم کو لوٹ آنے میں بھی خاصا وقت لگتا ہے
ہم اپنی ذات میں کافی میسر ہو کے بھی کافی نہیں ہوتے
ہم اپنے ذکر میں ملتے ہیں پھر بھی بات پوری ہو نہیں پاتی
ہمیں ڈھونڈو

کسی پر نظم لکھنے سے کوئی مِل تو نہیں جاتاکوئی تعریف بانہوں کے برابر تو نہیں ھوتیکسی آواز کے پاؤںکبھی دل پر نہیں چلتےکبھ...
27/11/2020

کسی پر نظم لکھنے سے
کوئی مِل تو نہیں جاتا
کوئی تعریف
بانہوں کے برابر تو نہیں ھوتی
کسی آواز کے پاؤں
کبھی دل پر نہیں چلتے
کبھی کشکول میں
قوس و قزح اُتری نہیں دیکھی
صحیفہ رِحل پر رکھنے سے
قرآن تو نہیں بنتا
کسی نے آج تک
شاعر کے آنسو
خود نہیں پونچھے
دلاسہ ، لفظ کی حد تک ھی اپنا کام کرتا ھے
کسی خواھش کو
سینے سے لگانے
کی اجازت تک نہیں ھوتی
تمھاری ضد کو پُورا کر دیا دیکھو
ستارے ، چاند ، سُورج ، روشنی ، خوشبو ،
تمھارے دَر پہ کیا کیا دھر دیا دیکھو
گُلِ فردا !!
ابھی کِھل جاؤ ! کہنے سے
کوئی کِھل تو نہیں جاتا
کسی پر نظم لکھنے سے
کوئی مِل تو نہیں جاتا..!!!!!!!

محبت کی ادھوری نظم" ہم تجھے ایمان کہا کرتے تھے"  آ کسی شام کسی یاد کی دہلیز پہ آعمر گزری تجھے دیکھے ہوئے بہلائے ہوئےیاد...
24/09/2020

محبت کی ادھوری نظم
" ہم تجھے ایمان کہا کرتے تھے"

آ کسی شام کسی یاد کی دہلیز پہ آ
عمر گزری تجھے دیکھے ہوئے بہلائے ہوئے
یاد ہے؟
ہم تجھے دل مانتے تھے
اپنے سینے میں مچلتا ہوا ضدی بچہ
تیرے ہر ناز کو انگلی سے پکڑ کر اکثر
نت نئے خواب کے بازار میں لے آتے تھے
تیرے ہر نخرے کی فرمائش پر
ایک جیون کہ تمناؤں کی بینائی سے ہم دیکھتے تھکتے ہی نہ تھے
سوچتے تھے
ایک چھوٹا سا نيا گھر
نيا ماحول
محبت کی فضا
ہم دونوں
اور کسی بات پہ تکیوں سے لڑائی اپنی
پھر لڑائی میں کبھی ہنستے ہوئے رو پڑنا
اور کبھی روتے ہوئے ہنس پڑنا
اور تھک ہار کے گر پڑنے کا مصوم خوشی بخش خیال
یاد ہے؟
ہم تجھے سکھ جانتے تھے
رات ہنس پڑتی تھی بےساختہ درشن سے ترے
دن تری دوری سے رو پڑتا تھا
یاد ہے؟
ہم تجھے جاں کہتے تھے
تیری خاموشی سے ہم مرجاتے
تیری آواز سے جی اٹھتے تھے
تجھ کو چھو لینے سے اک زندگی آ جاتی تھی شریانوں میں
تھام لینے سے کوئی شہر سا بس جاتا تھا ويرانوں میں
یاد ہے؟
ہم تجھے ملنے کے لیے
وقت سے پہلے پہنچ جاتے تھے
اور ملاقات کے بعد
ہم بہت دیر سے گھر آتے تو کہتے کہ ہمیں کچھ نہ کہو
ہم بہت دور سے گھر آئے ہیں
اس قدر دور سے آئے ہیں کہ شاید ہی کوئی آ پائے

تیرے چھن جانے کا ڈر ٹھیک سے رکھتا تھا مسلمان ہمیں
آ کسی شام کسی یاد کی دہلیز پہ آ
تیرے بھولے ہوئے رستوں پہ لیے پھرتا ہے ایمان ہمیں
اور کہتا ہے کہ پہچان ہمیں
یاد ہے؟
ہم تجھے ایمان کہا کرتے تھے

۔

مجھے موت دے، نہ حیات دےمرے حوصلے کو ثبات دےمجھے نقدِ جاں کی طلب نہیںمجھے خواہشوں سے نجات دےترے پاس آیا ہوں دور سےمجھے دی...
24/09/2020

مجھے موت دے، نہ حیات دے
مرے حوصلے کو ثبات دے
مجھے نقدِ جاں کی طلب نہیں
مجھے خواہشوں سے نجات دے

ترے پاس آیا ہوں دور سے
مجھے دیکھنے دے قریب سے
مجھے اپنے رخ سے جدا نہ کر
مری چشمِ نم کو زکوٰۃ دے

مرے دل میں یار بسا ہوا
نہ جدا ہوا، نہ خفا ہوا
نہ مٹے نگاہ کی تشنگی
اسے ایک موجِ فرات دے

کبھی دامِ غم سے نکل سکوں
کہ دوامِ عشق میں ڈھل سکوں
کبھی لڑکھڑا کے سنبھل سکوں
ذرا میرے ہاتھ میں ہات دے

کوئی شام، شامِ فراق سی
کوئی صبح، صبحِ وصال سی
مرے گمشدہ، مرے پاس آ
مجھے روز و شب سے نجات دے

کہیں آنسوؤں سے جلا ہوا
کہیں سسکیوں سے بجھا ہوا
ہوں چراغِ شام بنا ہوا
مجھے ایک چاندنی رات دے

ترے سامنے تجھے مل سکوں
کبھی خود کو خود سے ملا سکوں
کوئی ایسا لمحہ نصیب کر
کوئی ایسی وصل کی رات دے

مری آرزوؤں کا پاس رکھ
مجھے اپنے غم میں اداس رکھ
مجھے زینؔ تیری طلب نہیں
مجھے میرا حصہء ذات دے

💕💕💕💕حسن تخیل 💕💕💕💕آؤ...سیڑھیوں پہ بیٹھ کے...تاروں...تتلیوں... پھولوں...چڑیوں... کی باتیں کریں...ایک دوسرے کے پیچھے باتیں ...
16/09/2020

💕💕💕💕حسن تخیل 💕💕💕💕

آؤ...
سیڑھیوں پہ بیٹھ کے...
تاروں...
تتلیوں...
پھولوں...
چڑیوں...
کی باتیں کریں...
ایک دوسرے کے پیچھے باتیں کرنا چھوڑ کر،
یہ پوچھیں...
کہ چاندنی رات میں چوبارے پہ منڈلانے والا جگنو،
کیا تمہارے کانوں کے اردگرد بھی
کوہ قاف کی بستی کے نغمےگاتا ہے...
اور
وہ چاند پہ چرخی کاتنے والی بڑھیا
کتنی حیران کن لوک کہانیاں سناتی ہے...
کیا ایسی کہانیاں تم نے سن رکھی تھیں..؟؟؟
ایک دوسرے کی داستانوں میں تجسس لینے کی بجائے،
یہ دیکھیں...
کوئی پھول پیاس کی تڑپ سے گملے پہ مرجھایا ہوا تو نہیں پڑا...
کسی کونے میں شاید سورج کی کوئی کرن اپنی آخری سانسیں لے رہی ہو...
یہ بھی تو ہو سکتا ہے...
منڈیر پہ بیٹھی چڑیا اپنے چڑے سے ناراض
منہ پھلائے رہنے سے اب تنگ آ گئی ہو...
اور منتظر ہو...
کوئی صلح کرا دے...
آؤ...
دوسروں کے عیب گننے کی بجائے....
آنگن میں رکھے گملوں پہ اگے پھول گنتے ہیں...
بار بار گنتے ہیں...
اور ہر بار گنتی غلط ہونے پہ قہقہے لگاتے ہیں...
آؤ...
سب سوچیں ہٹا کر،
سیاست، نفرت بھلا کر،
سیڑھیوں پہ بیٹھے،
تاروں...
تتلیوں...
پھولوں...
چڑیوں...
کی باتیں کرتے رہیں..💞💕💕💕

اُداس  یــہ زندگی ہـے___!!!اک امتحاں مسلسل___!!!کبھی بے تحاشہ خوشیاںکبھی غم کی شب مسلسل___!!!کبھی ساتھ ہو سبھی کاکبھی ہو...
03/09/2020

اُداس

یــہ زندگی ہـے___!!!

اک امتحاں مسلسل___!!!
کبھی بے تحاشہ خوشیاں
کبھی غم کی شب مسلسل___!!!
کبھی ساتھ ہو سبھی کا
کبھی ہوجائیں اکیلے__
کبھی ہو اداسی پل پل
کبھی قہقہے مسلسل____!!!
کبھی ساتھ دوستوں کا
کبھی محفلوں میں رونق__
کبھی بھیڑ میں بھی تنہا
کبھی خاموشی مسلسل___!!!
کبھی اپنوں سے لڑائی
کبھی ہو جاۓ جدائی__
کبھی بات بھی نہ کرنا
کبھی گفتگو مسلسل___!!!
کبھی رب کو یاد کرنا
تسبیح نماز پل پل__
کبھی ایک سجدہ مشکل
اور دنیا میں گم مسلسل___!!!
یہ زندگی ہے
اک امتحان مسلسل___!!!.

Address

Karachi

Telephone

03142313823

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu Ghazal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share