30/08/2022
جب ہم
بوڑھے ہوجائیں گے
اور بچے ہم سے بیزار
تب لاٹھی کے سہارے رینگتے ہوئے
پہنچیں گے قریبی پارک میں اور
بیٹھ رہیں گے ٹوٹی ہوئی بنچ کے اک کونے پر
پاس سے گزرتے ہوؤں کے چہرے کو
اس امید پہ دیکھیں گے کہ
شاید کوئی ہمیں اپنا شناسا جان کر
بیٹھے دو گھڑی ہماری باتیں سننے کو
اور ہمارے مرجھائے چہرے کو
اپنے ہاتھوں میں لے کر کہے
"گھر جا کر آرام کریں"۔۔۔
جب ہم
بوڑھے ہوجائیں گے
کھانس کر یقین دلائیں گے
گھر میں اپنی موجودگی کا
مگر ہمارا ہونا اس وقت ہی محسوس ہوگا
جب خرچے میں تمام افراد کو گنا جائے گا۔۔
جب ہم
بوڑھے ہوجائیں گے
ہم سے منسوب کئی چیزوں کو
ہماری طرح کم وقعت کہہ کر
بیچ دیا جائے گا ہماری نظروں کے سامنے۔۔
جب ہم
بوڑھے ہوجائیں گے
صحن میں بچھی چارپائی پہ
اکیلے بیٹھ کر خود سے باتیں کرتے ہوئے
کوئی ہمیں دیکھ کر کہے گا
"وقت کتنا ظالم ہے"