Vakeel Saeed Naqvi & Associates

Vakeel Saeed Naqvi & Associates Practicing at Karachi in District & High Court of Sindh

16/11/2023

2022 SCMR 1131

پڑ پوتے یعنی گریٹ گرینڈ چلڈرن کے پرسٹراپس( propositus) میراث میں حصے کے حوالے سے سپریم کورٹ کا ایک اہم فیصلہ !

فیصلے کی تفصیل میں جانے سے پہلے کیس کے مختصر حقائق کچھ یوں ہیں کہ:

تمیز النسا نام کی ایک عورت جو کہ اس کیس میں مورث اعلیٰ ہیں یعنی جس سے میراث کی تقسیم کا آغاز ہوتا ہے ۔ تمیز النسا انیس جون دو ہزار پندرہ کو فوت ہوجاتی ہیں اور اپنے پیچھے ترکے میں اسلام آباد میں ایک رہائشی گھر چھوڑ دیتی ہیں ۔ یاد رہے کہ تمیز النسا کے دو بیٹے ان سے پہلے ہی فوت ہوئے تھے جن میں ایک کا نام نواب الدین تھا اور یہ انیس سو بیانوے میں فوت ہوا تھا ۔ نواب الدین کا بھی ایک بیٹا تھا جس کا نام عزیز الرحمان تھا جو کہ رشتے میں تمیز النسا کا پوتا لگتا تھا لیکن یہاں سے اصل مسئلے یعنی اس کیس کا آغاز ہوتا ہے اور آغاز ایسے ہوتا ہے کہ تمیز النسا کا عزیز الرحمان نامی پوتا بھی تمیز النسا سے پہلے یعنی دو ہزار پانچ میں فوت ہوجاتا ہے اور تمیز النسا کی وفات دو ہزار پندرہ میں ہوئ ہوتی ہے اور اس کیس کے پیٹیشنرز بھی عزیز الرحمان کے بیٹے یعنی تمیز النسا کے پڑ پوتے ہیں ۔ اب ہوتا یہ ہے کہ تمیز النسا کے پڑپوتے مسلم فیملی لاز آرڈیننس کے سیکشن فور کے تحت تمیز النسا کے ترکے میں اپنے حصے کے لئے اسلام آباد کے سول جج کے پاس کیس کرلیتے ہیں جو کہ خارج ہوجاتی ہے ۔ وہاں سے پیٹیشنرز ہائ کورٹ میں کیس کرتے ہیں اور ہائ کورٹ بھی ان کا کیس خارج کر دیتی ہے ۔ سول جج اور ہائ کورٹ سے کیس خارج ہونے کے بعد پیٹیشنرز سپریم کورٹ میں سی پی ایل اے فائل کرتے ہیں اور یہاں سے سپریم کورٹ میں اس کیس کا آغاز ہوتا ہے ۔ سپریم کورٹ میں یہ کیس تین رکنی بینچ جو کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس قاضی محمد امین احمد پر مشتمل ہوتی ہے ۔

سپریم کورٹ کے سامنے ایک ہی سوال رکھا گیا تھا جو کہ یہ ہے کہ کیا پڑ پوتے مسلم فیملی لاز آرڈیننس کے سیکشن فور میں مستعمل لفظ " چلڈرن" میں شمار ہوں گے یا نہیں ؟

سپریم کورٹ نے اس سوال کا جواب یہ کیس خارج کر کے یہ دیا ہے کہ پڑپوتے "چلڈرن" میں شمار نہیں ہوتے اور یوں تمیز النسا کے پڑپوتے یعنی عزیز الرحمان کے بیٹے تمیز النسا کے ترکے میں کوئ حصہ نہیں رکھتے ۔ سپریم کورٹ نے اپنے اس جواب کا آغاز سیکشن فور ہی سے کیا ہے اور سیکشن فور کے الفاظ نقل کرنے کے بعد ہائ کورٹ کے فیصلے کا ایک پیراگراف نقل کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس سیکشن کو فیڈرل شریعت کورٹ نے خلاف اسلام قرار دیا ہے لیکن چونکہ اس فیصلے کے خلاف اپیل ہوئ ہے جو کہ پینڈنگ ہے لہزا فیڈرل شریعت کورٹ کا فیصلہ معطل ہے اور یوں سیکشن فور مسلم فیملی لاز آرڈیننس کا حصہ ہے ۔

سپریم کورٹ میں پیٹیشنرز کے وکیل کا سارا دار و مدار سیکشن فور میں مستعمل اصطلاح "پر سٹرائپس " رہی اور ان کا سارا زور اس بات پر رہا کہ پوتوں کے پہلے فوت ہونے کی صورت میں پڑپوتے ، پوتوں کی جگہ لے لیتے ہیں ۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں "پر سٹراپس " کی اصطلاح کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ اصطلاح مشہور کیس لا " PLD 1990 SC 1051 " میں پہلے ہی اس پر تفصیلی بحث کے بعد فیصلہ ہوچکا ہے ۔ اور اس کے بعد صراحتاً یہ لکھا ہے کہ سیکشن فور صرف ان پوتوں کے لیے ہے جو مورث اعلیٰ کی وفات کے وقت ذندہ ہوں اور اس کے بعد جسٹس صاحب نے فیصلے میں لکھا ہے کہ اس بات میں کوئ شک نہیں کہ اسلامی قوانین میں اس پوتے کا اپنے نانا یا دادا کے میراث میں کوئ حصہ نہیں ہوتا جس کا باپ اس کے نانا یا دادا سے پہلے فوت ہوجائے لیکن ساتھ میں یہ بھی لکھا ہے کہ سیکشن فور اس مندرجہ بالا رول میں ایک ایکسیپشن ہے اور اس کے بعد مزید لکھا ہے کہ سیکشن فور میں "چلڈرن" لفظ استعمال ہوا ہے نہ کہ "قانونی وارث " اور یہ بات بھی اس پر دلالت کرتی ہے کہ موجودہ پیٹیشنرز کا کیس سیکشن فور کے تحت نہیں آتا ۔ فیصلے کے آخر میں سپریم کورٹ نے سول جج اور ہائ کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے یہ فیصلہ دیا کہ پڑپوتے سیکشن فور کے تحت میراث کے حق دار نہیں ہیں یعنی کہ عزیز الرحمان کے بیٹوں کا تمیز النسا کی جائیداد میں کوئ حصہ نہیں بنتا ۔

نوٹ : مندرجہ بالا کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی رپورٹ ہوا تھا جس کی سائیٹیشن " 2021 CLC 1821 " ہے ۔

Note : This Important Judgement Of Supreme Court Can Be Searched And Cited As " 2022 SCMR 1131 ".

12/12/2022
04/12/2022
Please Vote & Support  Mr. Nasir Latif Advocate  Candidate for Member Managing Committee SHCBA Serial No. 15
24/11/2022

Please Vote & Support Mr. Nasir Latif Advocate Candidate for Member Managing Committee SHCBA Serial No. 15

29/04/2022

کل شام سے واٹس ایپ پر مسلسل وڈیو کلپس کی بھرمار ہے جو پاکستان کے موجودہ حکمران ٹولے کے افراد کی مدینہ منورہ میں آمد پر ان کے خلاف چند احمق پاکستانیوں کا نعرہ بازی پر مبنی ہے اور ہمارے عزیز پاکستانی اسے ثواب کی نئیت سے فارورڈ کئے جارہے ہیں بہت تکلیف دہ انتہائی ناشائستہ حرکت مسجد نبویؐ میں اس گستاخی اور ہنگامہ پر دکھ ہوا جن افراد کو دیکھ کر ماہ رمضان المبارک میں مسجد نبویؐ میں یہ بےگستاخی اور بیحرمتی استغفراللہ استغفراللہ۔
ہم کہاں پہنچ گئے روضۂ رسولؐ کے تقدس کا بھی انہیں خیال نہیں اس مقام پر بھی وہ دلوں کو اس آلودگی سے پاک نہ کرسکے اور مزید آلودہ اور داغدار کر لیا ان گستاخوں کو اتنا بھی احساس نہیں کہ اللہ نے ان کرم کیا ان مقدس ایام میں انہیں روضۂ رسولؐ پرحاضری کی سعادت عطا کی لیکن افسوس صد افسوس انہیں اپنے اوپر قطعاً قابو نہ رہا انہیں یہ اندازہ ہی نہ ہوا کہ انکی اس بیہودگی سے نہ صرف انکے بلکہ پاکستان کے تمام زائرین کے لئیے مشکلات کھڑی ہوسکتی ہیں وہاں موجود دیگر ممالک سے آئے ہوئے افراد جو روضۂؐ پر صرف عبادت اور ریاضت کے لئیے جمع ہیں ساری پاکستانی قوم کے بارے میں کیا تاثر لیکر جائیں گے یقیناً وہ ہم پر نفرین کر رہے ہیں انکی عبادات میں مخل ہوئے لگتا ہے وہ لوگ جسمانی طور پر تو مدینہ منورہ میں موجود تھے لیکن نہ انکے دل و ذہن مدینہ منورہ میں نہیں تھے۔
اگر وہ اسی ارادہ سے گئے تھے تو وہ اپنی اس کمینگی اور گھٹیا پن کے اظہار کے لیئے کوئی اور مقام طے کرلیتے یہ سب غلاظت ائیرپورٹ، بازار یا انکی رہائشگاہوں پر نکال لیتے سوشل میڈیا پر انہیں خوب پزیرائی ملتی خوب جی بھر کے احتجاج کر لیتے لیکن روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیحرمتی سے باز رہتے یہ بہت غلط ہوا چند احمقوں نے ساری قوم کو شرمندہ کر دیا ایسا نہیں ہونا چاہیئے تھا ان بے وقفوں نے ان ظالم لوگوں کو مظلوم بنا ڈالا انکو ہیرو بنا دیا سیاست اور نفرت انہیں روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بھی یاد رہی قربت نبوی صلی الله عليه و آلہ وسلم کا احساس ان کے دلوں سے جاتا رہا یقیناً وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں ہوسکتے مجھے بہت دکھ ہے۔
میں اپنی نالائقی اور احکامات نبویؐ کی پاسداری نہ کرنے کا بہت بڑا مجرم ہوں لیکن سرکارؐ آپکی رحمت کے صدقے آپ سے اپنی قوم کے ان نالائقوں کی گستاخی پر معافی کا خواستگار ہوں ہمیں اپنی رحمت کے صدقے میں اپنی رحمتوں سے محروم نہ کیجیئے گا وہ نالائق اپنی نفرتوں کو اپکی بارگاہ تک لے آئے انہیں آپکی قربت کا بھی احساس نہیں ہوا حالانکہ وہ اس کام کے لئے ہرگز نہیں گئے ہوں گے شاید مدینہ منورہ پہنچ کر منافقین مکہ و مدینہ کی ارواح انکے دلوں اور اذہان پر حاوی آ گئی ہوں اور اذہان میں چھپی نفرتوں نے انکو اس گستاخی پر آمادہ کیا مجھے یہ بھی یقین ہے وہ ہوش آنے پر بہت نادم بہت شرمندہ ہوں گے یا رحمت اللعامینؐ ان کی خطاؤں کو معاف فرمائیں اس حقیر فقیر پربھی اپنا کرم، رحمت اور عنایات جاری رکھیں مجھے بھی اذن عطا فرمائیں مدینہ کی سرزمین اقدس کو چوم سکوں۔

01/12/2021

Vakeel Saeed Naqvi Law Associates Strongly Condemn the brutal murder of Mr. Irfan Ali Mahar Secretary Sindh Bar Council.

Address

B-35, Natha Khosa Goth, Adjacent Shah Faisal Town, Jinnah Avenue, Malir Halt
Karachi
75080

Opening Hours

Monday 11:00 - 22:00
Tuesday 11:00 - 22:00
Wednesday 11:00 - 22:00
Thursday 11:00 - 22:00
Friday 11:00 - 22:00
Saturday 09:00 - 22:00

Telephone

+923333004101

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Vakeel Saeed Naqvi & Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Vakeel Saeed Naqvi & Associates:

Share