06/10/2025
JUSTICE SERVED!
By the blessings of the Almighty, we successfully defended a lady librarian in a petition filed by her employer school in the High Court of Sindh.
The school had challenged the compensation awarded to her by the Sindh Labour Appellate Tribunal after her unlawful termination during maternity leave.
The aggrieved lady sought assistance from M/s. Tanveer Aftab & Co. to redress her grievance, when her employment was illegally terminated by a well-reputed and renowned school of Karachi during the period when she was on maternity leaves and was suffering emotionally as well as physically with a miscarriage.
With the divine grace of the Almighty, we successfully secured compensation in lieu of reinstatement for her through the Sindh Labour Appellate Tribunal. However, the employer school contested this decision before the High Court of Sindh, which we have now successfully defended, resulting in the dismissal of their petition.
This landmark victory not only upheld her rights but also reinforced the protection of women's rights in the workplace, promoting gender equality and empowerment. It sends a strong message that discriminatory practices, including termination based on maternity, will not be tolerated, and that women can seek justice and continue to contribute to their professions without fear of reprisal.
Our fight for justice continues, advocating for the rights of those who have been wronged, deprived or oppressed.
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم نے ایک خاتون لائبریرین کا معزز عدالت عالیہ سندھ بمقام کراچی میں کامیابی سے دفاع کیا اور اس آئینی درخواست کو کامیابی سے رد کروایا جو ان کے آجر اسکول کی جانب سے معزز عدالت عالیہ سندھ میں دائر کی گئی تھی اور جس میں زچگی کی چھٹیوں کے دوران غیر قانونی طور پر نوکری سے برطرف کیےجانے کے خلاف سندھ لیبر اپیلیٹ ٹریبونل کی جانب سے ان کو دیئے گئے معاوضے کو چیلنج کیا تھا۔
متاثرہ خاتون لائبریرین نے "میسرز تنویر آفتاب و دیگر وکلاء کمپنی" کے توسط سے اس شکایت کے ازالے کے لیے، کہ جب اس کی ملازمت کو کراچی کے ایک مشہور اور معروف اسکول نے اس عرصے کے دوران غیر قانونی طور پر ختم کر دیا تھا جبکہ وہ زچگی کی چھٹیوں پر تھیں اور اسقاط حمل کے ساتھ جذباتی اور جسمانی طور پر تکلیف سے گزر رہی تھیں، سندھ لیبر کورٹ میں درخواست دائر کی جو کہ سندھ لیبر اپیلیٹ ٹریبونل نے نوکری پر بحالی کے عوض زر تلافی کے طور پر معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے منظور کر لی۔
بعد ازاں آجر اسکول نے زر تلافی ادا کرنے کے اس حکم پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے معزز عدالت عالیہ سندھ میں اس حکمنامہ کے خلاف آئینی درخواست دائر کی جو کہ معزز عدالت عالیہ سندھ نے رد کر دی۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے، ہم نے کامیابی کے ساتھ سندھ لیبر اپیلیٹ ٹریبونل کے ذریعے اس کی بحالی کے بدلے میں معاوضہ حاصل کیا۔ تاہم، آجر اسکول نے سندھ ہائی کورٹ کے سامنے اس فیصلے کا مقابلہ کیا، جس کا اب ہم نے کامیابی سے دفاع کیا ہے، جس کے نتیجے میں ان کی درخواست خارج کی گئی۔
اس تاریخی فتح نے نہ صرف اس خاتون کے حقوق کو برقرار رکھا بلکہ کام کی جگہ پر خواتین کے حقوق کے تحفظ کو تقویت بخشی، صنفی مساوات اور مساوی اختیاریات کو فروغ دیا۔ یہ ایک مضبوط پیغام ہے کہ امتیازی طرز عمل، بشمول زچگی کی بنیاد پر برطرفی، کو برداشت نہیں کیا جائے گا، اور یہ کہ خواتین انصاف کی تلاش کر سکتی ہیں اور انتقام کے خوف کے بغیر پیشہ ورانہ خدمات انجام دینے میں اپنا حصہ
ڈال سکتی ہیں۔
انصاف کے حصول کے لیے ہماری لڑائی جاری ہے، ان لوگوں کے حقوق
کی وکالت کرتے ہوئے جن کو ظلم و زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
e