04/05/2022
:::سچے و ایماندار تاجر:::
__________________
محمد بن عيسى بن سَوْرة بن موسى بن الضحاك، الترمذي، أبو عيسى (المتوفى: 279هـ) نے اپنی مشہور و معروف کتاب سنن ترمذی جلد 3 صفحہ 509 میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے’’التَّاجِرُ الأمينُ الصَّدُوقُ: مع النَّبيِّينَ والصِّدِّيقين والشُّهداء‘‘ جس کا ترجمہ ہے:
’’ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔ ‘‘۔۱؎
ارشاد گرامی ﷺ کا مطلب یہ ہے کہ جو کاروباری شخص سچائی دیانت داری اور امانت کے اوصاف سے متصف ہوگا گویا اس کی زندگی تمام صفات کمالیہ سے مزین ہو گی جس کا تنیجہ یہ ہوگا کہ وہ یا تو میدان حشر میں نبیوں صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا کہ جس طرح وہاں کی ہولنا کیوں کے وقت یہ تینوں طبقے رحمت الٰہی کے سایہ میں ہوں گے اسی طرح وہ شخص بھی رحمت الٰہی کی خاص پناہ میں ہوگا یا یہ کہ اسے جنت میں ان کی رفاقت کا شرف حاصل ہوگا چنانچہ اسے انبیاء کی رفاقت تو ان کی اطاعت و فرمانبرداری کی وجہ سے حاصل ہوگی صدیقوں کا ساتھ ان کی صفت خاص یعنی صدق کی موافقت کی وجہ سے ہوگا اور شہیدوں کی رفاقت کی سعادت اسے اس لئے نصیب ہوگی کہ شہداء اس شخص کے وصف صدق وامانت کی شہادت دینگے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے تاجروں میں سچائی اور دیانتداری پیدا فرمائے آمین ثم آمین۔
______________________
۱؎
أخرجه الترمذي رقم (1209) في البيوع، باب ما جاء في التجار
قال الترمذي عن حديث أبي سعيد: هذا حديث حسن
______________________
(محمد نوید)
#تاجر #کاروبار