Affan Afzaal & Company

Affan Afzaal & Company Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Affan Afzaal & Company, Business Center, Office no. 13, Basement, Golden Dream Banquet Hall, '57' Civic Center, G-Block, Main Plaza, Near Model Bazaar, Sabzazar Scheme, Lahore.

We Provide Services in the Areas of Internal & External Audit, Income tax & Sales tax, Accounts, Estate Advisory, Jobs, Construction, Student Visas, Home Tuition, Composing, Life & other Insurances, Vehicle lease, Hajj & Umrah Visa and Interior Designing

22/10/2023

❤️ Sad Urdu Poetry ❤️😘👍

22/10/2023

۔"ایک اللّٰہ ہی ہے !
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔












#ضیاء
۔

22/10/2023

سوال:یہ سارا کٹھ پتلیوں کا تماشہ ہے اور ادھر سے ڈوریاں کھینچنے والا بیٹھا ہے۔

جواب:
ڈوریاں کھینچنے والوں کے نام پر بے شمار کٹھ پتلیاں بن گئی ہیں،
آپ ڈوری کھینچنے والوں کو " چھوڑو دو، "
وہ حرفِ آخر ہے
اور
: اسکا " حوصلہ اتنا " ہے کہ
کوئی ایک دور گزر جائے تو اسے "کوئی پرواہ نہیں ،"

: اگر " سات نسلیں ضائع " ہو جائیں تو اسے کوئی پرواہ نہیں وہ internal life ہے دائمی زندگی والا ہے،

ڈوری کھینچنے والے کا نام ہے etemityیعنی بقائے مطلق۔

اگر پوری کی پوری نسل wipe out ہو جائے,,,,
______ تو اسے کوئی پرواہ نہیں ، _______

آپ بات سمجھ رہے ہیں؟

: جب تک آپ " فریاد نہ کریں گے کچھ نہیں بنے گا، "

طاقت جو ہے وہ اپنے آپ میں بڑی مست ہوتی ہے۔
کیونکہ یہ اللہ کی طاقت ہے،
اللہ پیدا کرنے والا ہے
اور پالنے والا ہے،

: اس کے ہاں یہ " اندیشہ نہیں ہے "
: کہ چار کافر بڑھتے جا رہے ہیں
اور
: اس سے اللہ تعالی " بیتاب " ہوتاجا رہا ہے،،،،
: بے شک بڑھنے دو،،،

: اگر آدھی سے زیادہ دنیا اسے نہ مانے ،،،،،،،
تو وہ کہتا ہے نہ مانو ،،،،،،،،،،،،،
_______ مگر کھانا تو کھاؤ۔ ________

سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمۃ اللّٰہ علیہ
گفتگو نمبر 15

22/10/2023

🥀🍃💕🤍💕🌿✨️. . . .





22/10/2023

محبوبِ سبحانی شیخ المشائخ غوث اعظم حضرت سیدناعبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ
********************
محبوبِ سبحانی شیخ المشائخ حضرت غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ عالمِ اسلام کے بہت بڑے ولی اور بزرگ ہیں۔ آپ کے فیوض و برکات اور کرامات بے شمار ہیں۔ آپ نے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی ﷺ کی شریعت مطہر ہ کو زندہ اور روشن کیا۔ اور آپﷺ کی نیابت کا پورا حق ادا کیا۔ آپ کا اسم گرامی عبدالقادر، لقب محی الدین، کنیت ابو محمد اور عرفیت غوثِ اعظم ہے۔والد کا نام سید ابو صالح موسیٰ جنگی دوست اور والدہ کا نام ام الخیر امةالجبار فاطمہ بنت سید عبداللہ الصومعی الزاہد تھا۔
آپ کے والدین کا واقعہ مشہور ہے کہ دریا سے سیب اٹھاکر کھانے کے بعد آپ کے والد نے سید عبداللہ صومعی کی شرائط کے تحت باغ میں خدمت کی تھی اور بعد میں ان کی بیٹی سے شادی کی تھی۔ جن کے بارے میں ان کے والد نے کہا تھا کہ میری بیٹی اندھی،بہری،لولی اور لنگڑی ہے۔
شادی کے بعد پتہ چلا کہ خوبصورت حسین و جمیل خاتون نے اپنی آنکھ،کان،ہاتھ،پیر اور زبان سے کوئی گناہ نہیں کیا تھا۔ اس طرح بزرگ والدین کا اثر ان کے بیٹے حضرت غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی میں نمایاں ہوا۔جس وقت آپ کی ولادت ہوئی اس وقت ان کی والدہ کی عمر ساٹھ سال تھی۔
*ولادت*
حضرت غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃاللہ علیہ کی ولادت ایک چھوٹے سے قصبے گیلان میں ہوئی۔ تاریخ ولادت میں اختلاف ہے۔ بعض 470ہجری اور بعض471ہجری کہتے ہیں۔ آپ کے والد بزرگوار سید ابو صالح کو جنگ سے بہت رغبت تھی ۔ اس لئے انہیں جنگی دوست کے لقب سے یاد کیا جاتاہے۔ وہ نہایت صالح بزرگ تھے۔ آپ کی والدہ بھی بہت نیک اور متقی خاتون تھیں۔ اپنا زیادہ وقت تلاوتِ قران میں گذارا کرتی تھیں۔
*بچپن*
حضرت غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی مادر زاد ولی تھے۔ اس کی شہادت اس بات سے ملتی ہے کہ آپ کی والدہ ماجدہ کہتی تھیں کہ عبدالقادر پیدا ہوئے تو اس وقت رمضان المبارک شروع ہوا تھا۔ اس مقدس مہینے میں دن کے وقت یہ میرا دودھ نہیں پیتے تھے۔ اتفاقاً آئندہ برس ابر کے باعث ہلالِ رمضان کے بارے میں لوگوں کو شبہ ہوا بعض لوگوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ تمہیں رویتِ ہلال کی صحیح خبر ہے؟ میں نے کہا آج میرے عبدالقادر نے دن کو دودھ نہیں پیا۔ اس لئے میں سمجھتی ہوں کے آج رمضان المبارک کی پہلی تاریخ ہے۔
*تعلیم و تربیت*
حضرت غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی کے ہوش سنبھالنے سے قبل آپ کے والد بذرگوار اس دارِ فانی سے کوچ کر چکے تھے۔ چنانچہ آپ کے نانا عبداللہ صومعی نے آپ کی پرورش کی۔ آپ بچوں کے ساتھ نہیں کھیلتے تھے۔ جب بھی وہ کھیلنے کے لئے جاتے تو انہیں آواز آتی کہ ” اے اللہ کے بندے! میں نے تجھے اپنے لئے پیدا کیا ہے، کھیلنے کے لئے نہیں۔ یہ آواز سن کر وہ اپنی والدہ کی گود میں جا بیٹھتے۔ دس برس کی عمر میں آپ نے شہر کے مدرسے میں تعلیم حاصل کی۔جب مکتب کو جاتے تو انہیں محسوس ہوتا کہ فرشتے ان کے پیچھے آرہے ہیں اور وہ یہ کہتے کہ اللہ کے ولی کو بیٹھنے کے لئے جگہ دو۔
جب آپ کے دل میں تعلیم کا شوق بڑھا تو آپ نے والدہ سے اجازت طلب کی کہ شریعت و طریقت کی اعلیٰ تعلیم کے لئے وہ بغداد کا سفر کرنا چاہتے ہیں۔آپ کی والدہ نے 80اشرفیاں دیں۔ آپ نے صرف 40اشرفیاں لیں اور باقی اپنے بھائی کے لئے چھوڑدیں۔ آپ کی والدہ نے یہ اشرفیاں آپ کے لباس میں سی دیں اور یہ ہدایت کی کہ کبھی جھوٹ نہیں بولنا۔ سفر میں ڈاکؤوں والا قصہ پیش آیا ۔ آپ نے والدہ کی ہدایت کے مطابق سچ کہہ دیا کہ اشرفیاں لباس میں سلی ہوئی ہیں۔ ڈاکؤوں کا سردار آپ کی سچ گوئی سے متاثر ہوا ۔ اس نے کہا کہ افسوس تم نے اپنی ماں کا عہد نہیں توڑا اور میں اتنی مدت سے اپنے اللہ کا عہد توڑ رہاہوں۔ یہ کہہ کر وہ ان کے قدموں میں گر پڑا اور گناہوں سے توبہ کی۔ اس کے ساتھی ڈاکو بھی بدل گئے اور سب نے توبہ کرتے ہوئے قافلے کالوٹا ہوا سامان واپس کردیا۔ یہ سب حضرت غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی کی حق گوئی سے ہوا۔
*حصول علم*
حضرت غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی نے چار سو میل کا سفر طے کیا اور بغداد پہنچے۔ وہاں علمائے کرام سے شریعت کے علوم حاصل کرنے لگے تھے۔ آپ پیدائش سے ہی قرانِ پاک کا بہت سا حصہ یاد کئے ہوئے تھے۔ اور بچپن سے ہی حافظِ قران تھے۔قران کے رموز سیکھے۔ علمِ فقہ کی تعلیم حاصل کی۔اساتذہ سے قران، حدیث،فقہ اور ادب کی تعلیم حاصل کی۔
*مشقت اور ریاضت*
علم سیکھنے کے دوران حضرت غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی نے کافی مشقت اور ریاضت کاسامنا کیا۔ والدہ کے دیے ہوئے دینار جلد ہی ختم ہوگئے تھے۔ ایک وقت ایسا آیا کہ بیس دن تک فاقہ کرنا پڑا۔ ایک کھنڈر گئے تو وہاں ان کے جیسے ستر لوگ بھوکے نظر آئے وہاں سے بغدا د چلے آئے تو ایک شخص نے ایک سونے کا ٹکڑا دیا اور کہا کہ تمہاری والد ہ نے تمہارے لئے بھیجا ہے۔ آپ نے اس کا دو حصے کیا اور اس کے پیسے کھنڈر میں بیٹھے غریب لوگوں کے کھانے پر خرچ کئے دوسرے ٹکڑے سے خود کے لئے اور دیگر مساکین کے لئے کھانے کا انتظام کیا۔ مشائخ اور اساتذہ سے سبق پڑھنے کے بعد عمامہ باندھے جنگل کی طرف نکل جاتے تھے اور دریا کے کنارے ملنے والی سبزی ترکاری کھا کر گذارا کر لیتے تھے۔علم کے حصول کے لئے انہوں نے بڑی ریاضتیں کیں۔ علم تفسیر‘علم قراءت‘علم حدیث‘ علم فقہ‘علم کلام‘علم لغت‘ علم ادب‘علم نحو‘علم مناظرہ‘ علم عروض‘علم تاریخ‘علم فراست وغیرہ میں انہوں نے کمال پیدا کیا اور وہ شہرت پائی کہ تمام علمائے کرام میں سبقت لے گئے۔ حضرت غوثِ اعظم نے بغداد میں حضرت ابوالخیر حماد بن مسلم وہاس سے علمِ طریقت سیکھا۔
*بیعت*
حضرت غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی نے جملہ علوم میں مہارت اور شریعت و طریقت میں کمال حاصل کرنے کے بعد اپنے پیر بزرگ حضرت شیخ ابو سعید مبارک مخرمی سے بیعت کی۔ اور ان کے حلقۂ ارادت میں شامل ہوگئے۔ شیخ نے انہیں اپنے ہاتھ سے کھانا کھلایا۔ حضرت غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں کہ شیخ کے ہاتھ سے جو لقمہ میرے پیٹ میں جاتا وہ میرے اندر نور بھر دیتا۔ شیخ نے خرقۂ ولایت عطا کرتے وقت فرمایا۔ اے عبدالقادر! یہ وہی خرقہ ہے جو آنحضرت ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو عطا فرمایا۔ ان سے حضرت حسن بصری کو ملا بعد ان سے مجھ تک پہنچا۔
*درس و تدریس*
ولایت کے حصول کے بعد حضرت غوثِ اعظم شیخ عبدالقادرجیلانی لوگوں کے درس و تدریس میں لگ گئے۔ بغداد میں مسندِ ارشاد قائم کیا۔ آپ کا مقصد یہ تھا کہ بھٹکے ہوﺅں کو راہِ ہدایت دکھائیں، گناہ گاروں کو گناہ کی تاریکیوں سے نکال کر ہدایت اور نیکی کی روشن منز ل تک پہنچائیں۔بیماریوں کا علاج کریں اور مردہ دلوں کو زندگی عطا کریں۔آپ کی مجلس میں لوگ اس کثرت سے آنے لگے کہ مدرسہ کی جگہ ناکافی ہوگئی۔ 528ہجری میں مدرسہ کی عالی شان عمارت تعمیر کی گئی۔ دور دراز ممالک سے لوگ آپ کی مجلس میں آتے اور فیض کے حصول کے بعد واپس جاتے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ کی مجلس میں ایک ایک وقت میں سترستر ہزار لوگ شرکت کرتے جس میں علمائے کرام اور مشائخ بھی شامل ہوتے تھے۔
*فتاویٰ*
حضرت غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کے مسلک پر فتوے دیا کرتے تھے آپ نے چالیس سال تک لوگوں کو وعظ فرمایا اور تینتیس سال تک درس و تدریس اور افتا کے کام میں مشغول رہے۔
*شادی*
حضرت غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی نےچار شادیاں کیں۔ آپ کی تمام ازواج آپ کے روحانی فیوض و کمالات سے فیضیاب ہوئیں۔ چنانچہ آپ کے صاحبزادے شیخ عبدا لجبار اپنی والدہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ جب میری والدہ کسی کے مکان میں داخل ہوتیں تو اس میں شمع کی طرح روشنی دکھائی دیتی ۔
*اولاد*
حضرت غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی کی چار ازواج سے ان کےہاں انچاس بچے پیدا ہوئے۔ بیس لڑکے اور باقی لڑکیاں۔ آپ کے سب سے بڑے صاحبزادے کانام شیخ عبدالوہاب تھا۔ جنہوں نے اپنے والد بزرگوار کے ساتھ مدرسہ میں درس و تدریس کا کام کیا۔ ان کے ایک فرزند حافظ عبد الرزاق بلند پایہ عالم تھے۔
*لباس*
حضرت غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی لباس کے بارے میں بڑے نفاست پسند تھے اور عالم یہ تھا کہ ہر روز نیا لباس تبدیل کرتے اور اتارا ہوا لباس مساکین اور محتاجوں میں بطور خیرات دے دیتے تھے۔ آپ کی پوشاک کے لئے دور دراز سے نفیس کپڑا آتا تھا۔ روز مرہ کی تبدیلی غالباً مساکین کو خیرات کرنے کا بہانہ تھی آپ کی طبیعیت نفاست پسند تھی اس لئے بہت اچھی خوشبو کا بھی استعمال کرتے تھے ہر جمعہ کو جوتے بھی تبدیل کرتے تھے اور اتارا ہواجوتا مستحق کو خیرات کردیتے تھے۔
*غذا*
حضرت غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی نہایت سادہ غذا ستعمال کرتے تھے۔ روزانہ چار پانچ چپاتیاں مغرب کے وقت آپ کی خدمت میں پیش کی جاتی تھیں۔اول آپ روٹیوں کے ٹکڑے کر لیتے اور بعد میں کچھ غربا میں تقسیم کر لیتے تھوڑی سی اپنے لئے رکھ لیتے اکثر اوقات دن میں صرف ایک ہی مرتبہ کھانا کھاتے گوشت گھی اور دودھ کا استعمال کرتے تھے۔
*سراپا*
حضرت غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی درمیانے قد کے تھے۔ رنگ گندمی‘سینہ کشادہ‘ریش مبارک بہت گنجان بھنویں باریک اور ملی ہوئیں چہرہ نورانی اور پرشوکت تھا اور آپ کی آواز بہت بلند تھی۔
*اخلاق و عادات*
حضرت غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی اعلٰی اخلاق کا نمونہ تھے۔ خاموشی کو زیادہ پسند کرتے تھے۔ اپنے مدرسے سے صرف جمعہ کو باہر نکلتے تھے۔ اور اسی روز جامع مسجد اور مسافر خانہ کی طرف تشریف لے جاتے تھے۔حق بات کہنے میں دریغ نہیں کرتے تھے چاہے وہ وقت کے بادشاہ کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ امرا‘وزرا اور دنیا داروں کی تعظیم کے لئے کبھی نہیں کھڑے ہوتے تھے۔ بلکہ ایسے لوگ آتے تو سامنے سے ہٹ جاتے تھے۔ مالِ دنیا سے محبت نہیں تھی۔ اولاد اور بیویوں سے بھی اس حد تک محبت رکھتے تھے کہ دین کے کام میں رکاوٹ نہ ہو۔ مسکینوں اور غریبوں کا بہت خیال رکھتے تھے اور ان پر ہمیشہ شفقت کا معاملہ کرتے تھے۔ خلافِ شرع کام کرنے والے سے بیزاری کا اظہار کرتے تھے۔ اپنے گھر کے لئے ضروری سامان بازارسے خود ہی لے آتے۔ سفر میں اپنے ہاتھ سے آٹا گوندھ کر روٹی پکاتے۔ اہلیہ بیمار ہوئی تو گھر کے کام کرتے۔ اور اس میں کوئی ہرج نہیں سمجھتے تھے۔ ذاتی معاملات میں کبھی کسی پر غصہ نہیں کرتے تھے۔ عادات اور خصائل میں نبی اکرم ﷺ کی پوری اطاعت کرتے تھے۔
*تصانیف*
حضرت غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی تصانیف میں غنیة الطالبین کے علاوہ پانچ جلدوں پر مشتمل تفسیر الجیلانی، فتوح الغیب‘فتح ربانی‘قصیدہ غوثیہ وغیرہ مشہور ہیں۔
*عبادات*
حضرت غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی بڑے مجاہد اور عبادت گذار تھے۔ نفس کشی کرتےہوے روزے رکھتے۔ راتوں کو جاگ کر عبادت کرتے۔ ہر رات دوسو کے قریب نفل نمازیں پڑھتے اور رکعتوں میں سورہ رحمٰن اور سورہ مزمل کی تلاوت کرتے۔ سورہ اخلاص ایک ایک رکعت میں سو سو مرتبہ پڑھتے۔ ہمیشہ باوضور رہتے۔ بڑھاپے میں بھی ساری رات قران کی تلاوت اور رکوع و سجود میں رہتے۔ صبح کی نماز کے بعد طالب علموں خادموں اور صوفیا کو شریعت کی تعلیم دیتے۔ زندگی کے آخری لمحات تک فرائض سے کبھی غفلت نہیں برتی۔
*وصال*
حضرت غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی نے زندگی کے ابتدائی سترہ سال اپنے وطن میں گذارے۔ نو سال بغداد میں رہ کر علوم ظاہری و باطنی حاصل کئے۔چالیس سال تک لوگوں میں دین کو عام کرتے رہے۔ رشد و ہدایت ‘اصلاحِ خلق اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے کام کیا۔ 11ربیع الثانی 561ہجری کو داعئ اجل کو لبیک کہا۔ بغداد میں آپ کا روضہ مرجعِ خلائق ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غوثِ اعظم ، امام التُّقی و النُّقی
جلوۂ شانِ قدرت پہ لاکھوں سلام
قطبِ اَبدال و اِرشاد و رُشدُالرَّشاد
محئ دین و ملّت پہ لاکھوں سلام
مردِخَیلِ طریقت پہ بے حد درود
فردِ اھلِ حقیقت پہ لاکھوں سلام
جس کی منبر ہوئی گردنِ اولیاء
اس قدم کی کرامت پہ لاکھوں سلام
( حدائقِ بخشش )
اللہ رب العزت،ھمیں ھدایت کانور عطا فرمائے، اھل اللہ سے فیوض وبرکات حاصل کرنےکی توفیق ارزانی فرمائےایسےاعمال کی توفیق بخشےجوھمیں اس کی محبت کاقرب بخشیں۔آمین بجاہ النبی الکریم علیہ التحیۃوالثناءوالتسلیم
محمدفیض الحبیب اشرفی، اُنتالی شریف

21/10/2023

Subhan Allah
21/10/2023

Subhan Allah

21/10/2023

"اللہ پر یقین "
:بات صرف یقین کی ہے۔ جو اللہ پر یقین رکھتے ہیں ، اللہ اُن کی من پسند چیز سے اُنہیں نواز دیتا ہے ۔ اللہ اپنی راہ پر چلنے والوں کو کبھی گمراہ نہیں ہو زندگی جینے کا مزہ تب ہی دوبالا ہوتا ہے۔
یہ فتنوں کا دور ھے۔ ھم لوگ اپنے دین سے بہت دور ہو گئے ہیں ۔
الّلہ پاک ھر مسلمان کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین۔

20/10/2023

مثلاً کہتے ہیں کہ,,
: ہمیں اللہ سے محبت ہے ،، یعنی " دین سے محبت " ہے۔
تو آپ " دین سے محبت کریں " گے۔

: تو یہ جو دین ہے'اسلام کا دین ہے'

: آپ کا " اسلام مکمل نہیں ہوتا " جب تک آپ کا کلمہ مکمل نہیں ہوتا۔ " اور کلمہ دو نام کا ہے۔ "

: یہ فرق کرنا بڑا مشکل ہے
: کہ اللہ کی محبت کہاں ہے
: اور حضور پاکﷺکی محبت کہاں ہے۔

اس لئے کہتے ہیں کہ ،،،
: تو ذکر ہی نہ کر اور چلتا جا'

: کبھی اللہ کے نام کی محبت آجائے گی'
: کبھی حضور پاکﷺکے نام کی محبت غالب آ جائے گی

______ اصل میں دونوں ایک ہی ہیں ۔ ______

: پھر لوگوں نے کہا کہ " میم کا پردہ اُٹھاؤ " کہ یہ پردہ کیا ہے۔

: مگر یہ پردہ ہے اور پردہ ہی رہنے دو'
: یہ پردہ ہی رہنے دو
: کہ ایک ہیں کہ دو ہیں'
: کہ اللہ ہے ،،،،، کہ ،،،،،،، حبیب ﷺہیں'
: یہ کلام کون بول رہا ہے'

: قرآن کس کا کلام ہے'محبت کس کی ہوتی ہے ۔۔۔۔
: بس چھوڑو۔ " ذکر کرنا منع ہے ۔ "

: اللہ وہی ہے جو اللہ ہے'

: حضورﷺوہی ہیں جو حضور پاکﷺہیں ۔

: اور محبت میں یہ تقسیم کرنا
: کہ یہاں تک اللہ کی محبت ہونی چاہئے
: اور یہاں تک حضور پاکﷺکی محبت ہونی چاہئے'
: یہ ناممکنات میں سے ہیں ۔

: انسانی زندگی میں یہ ممکن ہی نہیں ہے'

: آپ لوگ سمجھدار ہیں'
: یہ دیکھیں کہ جب کسی سے محبت ہوتی ہے تو اس کی "باقی چیزوں سے بھی محبت" ہو جاتی ہے۔

: یعنی اگر باپ سے محبت ہو تو پھر " بیٹے سے بھی ہو سکتی ہے۔ "

: آپ یہ بتائیں کہ
آپ کو امام عالی مقام علیہ السلام سے محبت کیوں ہے؟

: کیا شہید ہونے کی وجہ سے؟
: ان کا رسول پاکﷺسے تعلق ہے
: اور نسبت ہونے کی وجہ تعلق ہے۔

: تو یہ جو محبتیں ہیں " محبوبوں کی نسبتوں سے محبت ہے۔ "

: تو یہاں پر تمیز نہیں ہوتی اور کہتے ہیں کہ حضور پاکﷺسے ہم جو محبت کرتے ہیں،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، " وہی اِدھر بھی ہے۔ "

: ہمیں سجدہ کرنے سے کام ہےجو وہاں نہیں تو یہیں سہی
_______ بات ایک ہی ہے ۔ ______

: تو اصل بات یہ ہے کہ لوگوں نے آپ لوگوں کو تقسیم کر کے " کنفیوز CONFUSE کر دیا ہے۔ "
یہ سب ایک ہی محبت ہے۔

اقبالؒ نے ایک جگہ کہا تھا کہ

"تیرے نقشِ پا کی تلاش تھی
جو جھکا رہا میں نماز میں"

سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمۃ اللّٰہ علیہ
گفتگو۲۱صفحہ۲۲۹

20/10/2023

"اللہ کی محبت "
مثلاً کہتے ہیں کہ,,
: ہمیں اللہ سے محبت ہے ،، یعنی " دین سے محبت " ہے۔
تو آپ " دین سے محبت کریں " گے۔

: تو یہ جو دین ہے'اسلام کا دین ہے'

: آپ کا " اسلام مکمل نہیں ہوتا " جب تک آپ کا کلمہ مکمل نہیں ہوتا۔ " اور کلمہ دو نام کا ہے۔ "

: یہ فرق کرنا بڑا مشکل ہے
: کہ اللہ کی محبت کہاں ہے
: اور حضور پاکﷺکی محبت کہاں ہے۔

اس لئے کہتے ہیں کہ ،،،
: تو ذکر ہی نہ کر اور چلتا جا'

: کبھی اللہ کے نام کی محبت آجائے گی'
: کبھی حضور پاکﷺکے نام کی محبت غالب آ جائے گی

______ اصل میں دونوں ایک ہی ہیں ۔ ______

: پھر لوگوں نے کہا کہ " میم کا پردہ اُٹھاؤ " کہ یہ پردہ کیا ہے۔

: مگر یہ پردہ ہے اور پردہ ہی رہنے دو'
: یہ پردہ ہی رہنے دو
: کہ ایک ہیں کہ دو ہیں'
: کہ اللہ ہے ،،،،، کہ ،،،،،،، حبیب ﷺہیں'
: یہ کلام کون بول رہا ہے'

: قرآن کس کا کلام ہے'محبت کس کی ہوتی ہے ۔۔۔۔
: بس چھوڑو۔ " ذکر کرنا منع ہے ۔ "

: اللہ وہی ہے جو اللہ ہے'

: حضورﷺوہی ہیں جو حضور پاکﷺہیں ۔

: اور محبت میں یہ تقسیم کرنا
: کہ یہاں تک اللہ کی محبت ہونی چاہئے
: اور یہاں تک حضور پاکﷺکی محبت ہونی چاہئے'
: یہ ناممکنات میں سے ہیں ۔

: انسانی زندگی میں یہ ممکن ہی نہیں ہے'

: آپ لوگ سمجھدار ہیں'
: یہ دیکھیں کہ جب کسی سے محبت ہوتی ہے تو اس کی "باقی چیزوں سے بھی محبت" ہو جاتی ہے۔

: یعنی اگر باپ سے محبت ہو تو پھر " بیٹے سے بھی ہو سکتی ہے۔ "

: آپ یہ بتائیں کہ
آپ کو امام عالی مقام علیہ السلام سے محبت کیوں ہے؟

: کیا شہید ہونے کی وجہ سے؟
: ان کا رسول پاکﷺسے تعلق ہے
: اور نسبت ہونے کی وجہ تعلق ہے۔

: تو یہ جو محبتیں ہیں " محبوبوں کی نسبتوں سے محبت ہے۔ "

: تو یہاں پر تمیز نہیں ہوتی اور کہتے ہیں کہ حضور پاکﷺسے ہم جو محبت کرتے ہیں،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، " وہی اِدھر بھی ہے۔ "

: ہمیں سجدہ کرنے سے کام ہےجو وہاں نہیں تو یہیں سہی
_______ بات ایک ہی ہے ۔ ______

: تو اصل بات یہ ہے کہ لوگوں نے آپ لوگوں کو تقسیم کر کے " کنفیوز CONFUSE کر دیا ہے۔ "
یہ سب ایک ہی محبت ہے۔

اقبالؒ نے ایک جگہ کہا تھا کہ

"تیرے نقشِ پا کی تلاش تھی
جو جھکا رہا میں نماز میں"

سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمۃ اللّٰہ علیہ
گفتگو۲۱صفحہ۲۲۹

Address

Office No. 13, Basement, Golden Dream Banquet Hall, '57' Civic Center, G-Block, Main Plaza, Near Model Bazaar, Sabzazar Scheme
Lahore
54500

Telephone

+923044282974

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Affan Afzaal & Company posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Affan Afzaal & Company:

Share