Legal Legends

Call Directions

Legal Legends Hard work isn't confined to an office. That's why we offer legal consultations services by call so

20/07/2026

منشیات کے مقدمات میں جرح
سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے 2025 SCMR 923 کی روشنی میں

ذیل میں دیے گئے سوالات منشیات کے مقدمات میں براہِ راست تفتیشی افسر (I.O.)، محرر/انچارج مالخانہ اور فرانزک ماہر سے جرح کے دوران استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

حصہ اول: تفتیشی افسر / برآمد کنندہ افسر سے جرح

دفعہ 20 قانون انسدادِ منشیات 1997 اور پیشگی اطلاع کے متعلق

1۔ کیا آپ کو وقوعہ سے قبل کوئی پیشگی اطلاع موصول ہوئی تھی؟
2۔ کیا اس پیشگی اطلاع کا اندراج رول 22.49 پولیس رولز 1934 کے مطابق رجسٹر نمبر II میں کیا گیا؟
3۔ کیا آپ نے دفعہ 20 قانون انسدادِ منشیات 1997 کے تحت سرچ وارنٹ حاصل کیا؟
4۔ اگر نہیں، تو اس کی کیا وجہ تھی؟ کیا یہ وجہ روزنامچہ میں درج کی گئی؟
5۔ کیا آپ نے موقع پر دو آزاد گواہوں کو شامل کیا؟ اگر ہاں، ان کے نام بتائیں۔

برآمدگی اور قبضہ کے متعلق

6۔ برآمد شدہ منشیات کس ترازو سے تولی گئی؟ کیا اس ترازو کا تصدیقی سرٹیفکیٹ موجود ہے؟
7۔ تین نمائندہ نمونے کب اور کہاں تیار کیے گئے؟ کیا وہ آپ کی موجودگی میں تیار ہوئے یا محرر نے تیار کیے؟
8۔ کیا ہر نمونے پر مقدمہ نمبر، تاریخ، آپ کے اور گواہوں کے دستخط موجود ہیں؟
9۔ نمونے لینے کے بعد باقی مال کو کس نے سیل کیا؟ کیا فارم 22.70 پر نمونہ مہر موجود ہے؟

حصہ دوم: محرر / انچارج مالخانہ سے جرح

2025 SCMR 923 کا بنیادی اصول: محفوظ تحویل (Chain of Custody)

1۔ کیا آپ متعلقہ تھانے کے انچارج مالخانہ ہیں؟
2۔ کیا آپ نے مقدمہ کی ضبط شدہ پراپرٹی وصول کی؟ تاریخ اور وقت بتائیں۔
3۔ کیا اس کا اندراج رجسٹر نمبر XIX میں کیا گیا؟ براہِ کرم رجسٹر عدالت میں پیش کریں۔
4۔ متعلقہ اندراج کا سیریل نمبر کیا ہے؟ کیا اس کی مصدقہ نقل پیش کر سکتے ہیں؟
5۔ کیا لیبارٹری بھیجنے سے قبل رول 22.72 کے مطابق روڈ سرٹیفکیٹ (فارم 10.17) تیار کیا گیا؟
6۔ نمونے لیبارٹری لے جانے والے پولیس اہلکار کا نام، تاریخ اور وقت کیا ہے؟ اس کا اندراج کہاں موجود ہے؟
7۔ کیا لیبارٹری سے واپسی کا روڈ سرٹیفکیٹ بھی موجود ہے؟
8۔ کیا مالخانہ سے لیبارٹری، لیبارٹری سے واپسی اور بعد ازاں عدالت تک مقدمہ کی پراپرٹی کی ہر نقل و حرکت کا باقاعدہ ریکارڈ موجود ہے؟
9۔ اگر نہیں، تو کیا آپ تسلیم کرتے ہیں کہ 2025 SCMR 923 کی روشنی میں مقدمہ کی محفوظ تحویل ثابت نہیں ہوتی؟

نوٹ: اگر گواہ زبانی یادداشت کا سہارا لے تو آرٹ

18/12/2025

ARGUMENT ON REMAND

(On behalf of the Accused)

May it please the Court,

1. Remand is an exception, not a rule
• Under section 167 Cr.P.C., police remand is not automatic; it is an exception which must be justified by cogent reasons.
• The Hon’ble Superior Courts have consistently held that liberty is the rule and detention is the exception.
• The prosecution must show actual necessity for physical custody; mere allegation or seriousness of offence is not sufficient.

Reliance:
• Muhammad Akram v. State (PLD 1986 SC 539)
• Zafar Iqbal v. State (2006 SCMR 122)

⸻

2. Nature of offence does not justify physical remand
• The alleged offences under Copyright Ordinance, 1962 and Trade Marks Ordinance, 2001 are documentary in nature.
• No recovery is required from the accused’s physical custody; alleged infringing material, if any, is already in possession of FIA.
• Investigation revolves around:
• ownership of copyright / trademark
• registration certificates
• licences / permissions
• comparison of documents
All of which can be done without physical custody.

Reliance:
• Tariq Bashir v. State (PLD 1995 SC 34)
• State v. Muhammad Hanif (2017 SCMR 1025)

⸻

3. Police remand cannot be used for fishing or confession
• Police remand cannot be granted for:
• extracting confession
• pressurising the accused
• completing investigation due to investigator’s inefficiency
• Confession before police is inadmissible under Article 38 of Qanun-e-Shahadat Order, 1984.

Reliance:
• Abdul Razzaq v. State (PLD 1967 SC 580)
• Muhammad Shahid v. State (2010 SCMR 927)

⸻

4. FIA has not shown specific grounds for remand
• The prosecution has failed to disclose:
• what recovery is required,
• which specific fact needs accused’s custody,
• how custody would advance investigation.
• Absence of case diary with reasons is fatal to remand request.

Reliance:
• Nadeem Ahmed v. State (2011 SCMR 123)
• Muhammad Aslam v. State (PLD 2009 Lahore 362)

⸻

5. Jurisdictional do

28/09/2025

پی آر نمبر: 781/2025
ڈائریکٹوریٹ آف پبلک ریلیشنز،
فیڈرل انوسٹیگیشن ایجنسی،
ہیڈ کواٹرز اسلام آباد

ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے رفعت مختار راجہ کی زیر صدارت اردلی روم کا انعقاد

کرپشن اور ناقص تفتیش میں ملوث اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی

بدعنوانی، کرپشن اور ناقص تفتیش میں ملوث 5 آفسران کو سزا سنائی گئی

2 انسپکٹرز اور 2 سب انسپکٹرز کو کرپشن اور ناقص تفتیش پر نوکری سے برخاست کر دیا گیا

خاتون انسپکٹر کو ناقص تفتیش پر سب انسپکٹر کے عہدے پر تنزلی کر دی گئی

سزا پانے والے اہلکار اسلام آباد، کراچی اور لاہور زون میں تعینات تھے

کرپشن، غفلت اور ناقص تفتیش میں ملوث اہلکاروں کی ایف آئی اے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ڈی جی ایف آئی اے

ادارے کو کرپشن اور کالی بھیڑوں سے پاک کرنے کے لیے سخت احتسابی عمل جاری ہے۔ ڈی جی ایف آئی اے

غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ڈی جی ایف آئی اے

احتسابی عمل سے ہی انسانی سمگلنگ اور کرپشن کا خاتمہ ممکن ہوگا۔ ڈی جی ایف آئی اے

غفلت برتنے والے افسران کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ ڈی جی ایف آئی اے

ترجمان ایف آئی اے

16/06/2025
Child Marriage Restraint Act, 2025
16/06/2025

Child Marriage Restraint Act, 2025

30/03/2025

"Res Ipsa Loquitur" کا اصول: ایک قانونی جائزہ

تعارف:
"Res Ipsa Loquitur" ایک لاطینی اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے "چیز خود بولتی ہے"۔ یہ ایک مختصر اور آسان قانونی اصول ہے جو بذاتِ خود کسی جادوئی اثر یا اضافی فضیلت کا حامل نہیں، بلکہ اس کی خوبی صرف اس کی جامعیت اور اختصار میں ہے۔

یہ اصول کب لاگو ہوتا ہے؟
یہ اصول بنیادی طور پر تین شرائط پوری ہونے پر لاگو ہوتا ہے:

1. جس چیز کی وجہ سے نقصان پہنچا، وہ مکمل طور پر مدعا علیہ (Defendant) کے کنٹرول میں تھی۔

2. حادثہ ایسا تھا کہ وہ بغیر کسی لاپرواہی (Negligence) کے نہیں ہوسکتا تھا۔

3. اس بات کا کوئی براہِ راست ثبوت موجود نہیں کہ حادثہ کیسے اور کیوں پیش آیا۔

جب یہ شرائط پوری ہوں، تو مدعا علیہ پر لازم ہوتا ہے کہ وہ عدالت کو قائل کرے کہ یہ حادثہ اس کی غفلت کی وجہ سے نہیں ہوا۔

"Res Ipsa Loquitur" کا مطلب:
یہ اصول دیوانی مقدمات (Civil Proceedings) میں لاپرواہی کی نشاندہی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کے تحت کسی واقعے کے رونما ہونے کی بنیاد پر مدعا علیہ کی لاپرواہی کا مفروضہ قائم کیا جا سکتا ہے، جو عدالت میں ابتدائی طور پر قابلِ سماعت ہوتا ہے۔ تاہم، عدالت کو لازمی طور پر اس مفروضے کو تسلیم کرنا ضروری نہیں ہوتا۔

عدالت میں استدلال کیسے پیش کیا جاتا ہے؟
اس اصول کے تحت، مدعی کو درج ذیل نکات ثابت کرنا ہوتے ہیں:

1. ایسا واقعہ عموماً بغیر کسی کی لاپرواہی کے نہیں ہوتا۔

2. نقصان کسی ایسی چیز سے ہوا جو مدعا علیہ کے مکمل کنٹرول میں تھی۔

3. مدعی نے خود کسی بھی طرح اس حادثے کے وقوع میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔

مدعا علیہ پر لازم ہوتا ہے کہ وہ اپنی صفائی میں ایسا ثبوت پیش کرے جو مدعی کے الزامات پر سوالیہ نشان لگا سکے۔ تاہم، اگر مدعا علیہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ حادثہ اس کی لاپرواہی کے بغیر ہوا، تو عدالت مدعی کے حق میں فیصلہ دے سکتی ہے۔

"Res Ipsa Loquitur" اور اس کے عملی اثرات:
یہ اصول عمومی انسانی تجربات پر مبنی ہے، کیونکہ کچھ حادثات ایسے ہوتے ہیں جو عام حالات میں کسی کی لاپرواہی کے بغیر نہیں ہو سکتے۔ مثال کے طور پر، اگر کسی شخص کے چلنے کے دوران کسی عمارت کی چھت سے اینٹ اس پر گر جائے، تو یہ مانا جائے گا کہ اس حادثے میں کسی نہ کسی کی لاپرواہی شامل ہے۔

یہ اصول صرف مدعا علیہ کے خلاف ایک استدلالی مفروضہ (Inference of Negligence) پیدا کرتا

Address

Lahore

Telephone

+923347081949

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Legal Legends posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share