05/02/2025
وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ نے ایک عدد نیا قانون متعارف کروایا ہے وہ یہ کہ موٹر سائیکل سوار 60 کی سپیڈ سے اوپر نہیں چلائے گا
دیکھئیے اس تناظر میں عرض کردوں قانون تو ٹھیک ہے مگر کیسے پتہ چلے گا کہ پولیس نے مقدمہ صحیع دائر کیا یا کسی اور وجہ سے درج کیا ہے ظاہری بات ہے اس محکمہ میں سارے لوگ اچھے بھی نہیں ہیں البتہ بہت سے ایماندار آفیسرز بھی دیکھنے کو ملتے ہیں اس لئے آنکھیں بند نہیں کی جا سکتی۔ اس حوالے شہریوں کے علم میں چند باتیں لانا چاہوں گا ۔
اگر موٹر سائیکل تیز رفتار نہیں تھی اور پولیس نے بہانے سے دفعہ 279 PPC کے تحت مقدمہ درج کر دیا ہے جیسا کہ آج فیصل آباد میں پہلا پرچہ درج ہوا ہے ، تو آپ درج ذیل طریقوں سے ثابت کر سکتے ہیں کہ پرچہ جھوٹا ہے
اگر کسی بھی جگہ حادثہ نہیں ہوا، تو پولیس کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ آپ واقعی تیز رفتاری سے گاڑی یا موٹر سائیکل چلا رہے تھے۔پولیس کے FIR میں دیے گئے بیان اور اصل حالات کا موازنہ کریں۔
اگر FIR میں لکھا گیا ہے کہ آپ تیز رفتار سے جا رہے تھے لیکن کسی ٹریفک سگنل یا رش کے دوران آپ کی رفتار عام تھی، تو یہ پولیس کے جھوٹ کو بے نقاب کر سکتا ہے اگر علاقے میں CCTV موجود ہیں تو ان کی ریکارڈنگ حاصل کریں۔
عدالت میں درخواست دی جا سکتی ہے کہ متعلقہ ٹریفک کنٹرول اتھارٹی سے رفتار کا ریکارڈ طلب کیا جائے۔
اگر پولیس نے رشوت کے لیے مقدمہ درج کیا ہے ، تو آپ پولیس کے اعلیٰ افسران کو شکایت کر سکتے ہیں۔
اگر پولیس کی بدنیتی ثابت ہو جائے تو مقدمہ 249-A CrPC کے تحت خارج کرایا جا سکتا ۔۔
اگر کوئی حادثہ نہیں ہوا اور آپ کی رفتار معمول کے مطابق تھی، تو پولیس کو عدالت میں ثابت کرنا ہوگا کہ آپ واقعی تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہے تھے۔ اگر پولیس کے پاس ایسا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے، تو عدالت مقدمہ خارج کر سکتی ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج، گواہان، اور پولیس کے جھوٹے بیان میں تضادات آپ کے دفاع میں بہترین شواہد ہوں گے۔۔