Mehr Legal Consultancy

Mehr Legal Consultancy We Deal with Your Legal, Family, & Business Matters with Professional Teams of Lawyers

وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ نے ایک عدد نیا قانون متعارف کروایا ہے وہ یہ کہ موٹر سائیکل سوار 60 کی سپیڈ س...
05/02/2025

وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ نے ایک عدد نیا قانون متعارف کروایا ہے وہ یہ کہ موٹر سائیکل سوار 60 کی سپیڈ سے اوپر نہیں چلائے گا
دیکھئیے اس تناظر میں عرض کردوں قانون تو ٹھیک ہے مگر کیسے پتہ چلے گا کہ پولیس نے مقدمہ صحیع دائر کیا یا کسی اور وجہ سے درج کیا ہے ظاہری بات ہے اس محکمہ میں سارے لوگ اچھے بھی نہیں ہیں البتہ بہت سے ایماندار آفیسرز بھی دیکھنے کو ملتے ہیں اس لئے آنکھیں بند نہیں کی جا سکتی۔ اس حوالے شہریوں کے علم میں چند باتیں لانا چاہوں گا ۔

اگر موٹر سائیکل تیز رفتار نہیں تھی اور پولیس نے بہانے سے دفعہ 279 PPC کے تحت مقدمہ درج کر دیا ہے جیسا کہ آج فیصل آباد میں پہلا پرچہ درج ہوا ہے ، تو آپ درج ذیل طریقوں سے ثابت کر سکتے ہیں کہ پرچہ جھوٹا ہے
اگر کسی بھی جگہ حادثہ نہیں ہوا، تو پولیس کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ آپ واقعی تیز رفتاری سے گاڑی یا موٹر سائیکل چلا رہے تھے۔پولیس کے FIR میں دیے گئے بیان اور اصل حالات کا موازنہ کریں۔

اگر FIR میں لکھا گیا ہے کہ آپ تیز رفتار سے جا رہے تھے لیکن کسی ٹریفک سگنل یا رش کے دوران آپ کی رفتار عام تھی، تو یہ پولیس کے جھوٹ کو بے نقاب کر سکتا ہے اگر علاقے میں CCTV موجود ہیں تو ان کی ریکارڈنگ حاصل کریں۔
عدالت میں درخواست دی جا سکتی ہے کہ متعلقہ ٹریفک کنٹرول اتھارٹی سے رفتار کا ریکارڈ طلب کیا جائے۔
اگر پولیس نے رشوت کے لیے مقدمہ درج کیا ہے ، تو آپ پولیس کے اعلیٰ افسران کو شکایت کر سکتے ہیں۔
اگر پولیس کی بدنیتی ثابت ہو جائے تو مقدمہ 249-A CrPC کے تحت خارج کرایا جا سکتا ۔۔

اگر کوئی حادثہ نہیں ہوا اور آپ کی رفتار معمول کے مطابق تھی، تو پولیس کو عدالت میں ثابت کرنا ہوگا کہ آپ واقعی تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہے تھے۔ اگر پولیس کے پاس ایسا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے، تو عدالت مقدمہ خارج کر سکتی ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج، گواہان، اور پولیس کے جھوٹے بیان میں تضادات آپ کے دفاع میں بہترین شواہد ہوں گے۔۔

14/10/2023

ریمانڈ پر سیر حاصل معلومات

سب سے پہلی تو بات یہ ہے کہ ریمانڈ سے متعلق تفصیلات جاننے کے لئے آئین میں درج ضابطہ فوجداری کی دفعات61، 167 اور344 کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔ اس کے ساتھ دفعہ62 اور دفعہ173 کا بھی مطالعہ کرنا چاہئے۔

ریمانڈ کے لفظی معنی ”واپس بھجوانا“ ہے۔
یعنی مجسٹریٹ کی عدالت سے مقدمہ میں نامزد پیش کردہ ملزم کو واپس حوالات بھیجنا
اصل میں پولیس کے تشدد کی وجہ سے یہ اصطلاح بہت خطر ناک سمجھی جاتی ہےجو کافی حد تک صحیح ہے۔
جب کوئی شخص کسی بھی جرم میں گرفتار ہوتا ہے تو پولیس اس کو چوبیس گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے پاس پیش کرنے کی پابند ہوتی ہے اور مزید عرصے کے لئے زیر حراست رکھنا مطلوب ہو تو پولیس مجسٹریٹ سے تحریری حکم حاصل کرتی ہے اس درخواست کو ریمانڈ کی درخواست کہتے ہیں۔
اگر پولیس24 گھنٹے کے اندر ملزم کو عدالت میں پیش نہیں کرتی اور مزید مناسب حکم حاصل نہیں کرتی تو چوبیس گھنٹے سے بعد کی حراست غیر قانونی شمار ہوگی۔
عام طور پر ریمانڈ کی درخواست علاقہ مجسٹریٹ کو دی جاتی ہے تاہم ناگزیر صورت میں ریمانڈ کی درخواست کسی بھی مقامی مجسٹریٹ کو دی جا سکتی ہے۔ مجسٹریٹ جس کے روبرو کسی ملزم کو بغرض ریمانڈ پیش کیا جائے زیادہ سے زیادہ پندرہ دن کا ریمانڈ دیتا ہے۔ ہائی کورٹ رولز میں بھی ریمانڈ کے متعلق احکامات اور ہدایات دی گئی ہیں۔ ریمانڈ کی درخواستوں میں قانون یہ ہے کہ مجسٹریٹ کو ملزم کے وکیل یا اسکے رشتہ داروں کو یہ حق دینا چاہئے کہ اگر وہ ریمانڈ کے خلاف ملزم کی طرف سے عذر پیش کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں۔ ہائی کورٹ کے قواعد میں درج ہے کہ مجسٹریٹ کو لازم ہے کہ وہ ملزم کو وکیل رکھنے کا موقع دے تاکہ وہ وکیل ریمانڈ کے خلاف عذر پیش کر سکے۔
مجسٹریٹ کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس بات کا تعین کرے کہ آیا ملزم کا پولیس کے قبضہ میں دیا جانا ضروری ہے یا نہیں۔اگر مجسٹریٹ محسوس کرے کہ ملزم کو پولیس کی حراست میں مزید رکھنا ضروری نہیں ہے تو وہ ریمانڈ کا حکم صادر کرنے سے انکار کر سکتا ہے۔

(بحوالہ PLD 1979 Lah 587)
وہ ملزم جس کے خلاف مقدمہ زیر تجویز ہو ریمانڈ پر صرف پولیس اسٹیشن میں رکھا جا سکتا ہے کسی اور جگہ نہیں ورنہ یہ اقدام غیر قانونی ہوگا۔ریمانڈ کے لئے ضروری ہے کہ ملزم کو مجسٹریٹ کے روبرو حاضر کیا جائے۔ مجسٹریٹ کا خود مقامنظر بندی تک جانا غیر قانونی ہے۔
ملزم کے رشتہ داروں کو دوران ریمانڈملزم کو کھانا یا لباس مہیا کرنے سے بھی منع نہیں کیا جا سکتا۔
اب آتے ہیں ریمانڈ کی اقسام کی جانب تو جناب
ریمانڈ دو طرح کا ہوتا ہے۔
1۔ جسمانی ریمانڈ (Physical Remand)

2.جوڈیشل ریمانڈ
(Judicial Remand)

جسمانی ریمانڈ کا مطلب یہ ہے کہ گرفتار شدہ ملزم تھانہ میں ہی زیر حراست رہتا ہے۔ مجسٹریٹ اگر اس نتیجے پر پہنچے کہ پولیس کو بر آمدگی وغیرہ یا کسی اور مقصد کے لئے ملزم کی بنفسہ ضرورت ہے تو وہ ملزم کا جسمانی ریمانڈ وقتاً فوقتاً پولیس افسران کو دیتا رہے گا۔ لیکن اس ریمانڈ کی مجموعہ تعداد پندرہ دن سے زیادہ نہیں ہوتی۔ اس جسمانی ریمانڈ کی وجہ بھی باقاعدہ درج کی جائے گی
اس جسمانی ریمانڈ کا مطلب ویسے ہماری عام عوام میں پولیس کا ملزم پر تشدد ہی سمجھا جاتا ہے حالانکہ قانون کا یہ منشا ہر گز نہ ہے۔
مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ تفتیش کا مطلب مار پٹائی کے سوا ہمارے ملک میں اور کچھ نہیں ہے۔ پولیس جس طرح دوران ریمانڈ ملزم کے ساتھ سلوک کرتی ہے وہ مہذب قوموں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ اس رویے کی بناء پر پولیس کو خوف اور نفرت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ گرفتار شدہ شخص کے دوست، رشتہ دار صرف اس بات کے لئے پولیس کو بھاری رقوم بطور بطوررشوت دیتے ہیں کہ وہ ملزم کا جسمانی ریمانڈ نہ لے بلکہ جوڈیشل ریمانڈ لے اور مدعی پارٹی پولیس کو بھاری رقم اسی لئے دیتی ہے کہ وہ دوران ریمانڈ ملزم پر جسمانی تشدد کرے۔
گرفتار ملزم پر اگر دوران حراست تشدد کیا گیا ہے تو علاقہ مجسٹریٹ سے میڈیکل کرانے کا حکم حاصل کیا جا سکتا ہے تاکہ پولیس کی طرف سے کیا گیا تشدد ثابت ہونے پر پولیس کے خلاف کاروائی کی جا سکے۔
اب آتے ہیں جوڈیشل ریمانڈ کی جانب
2۔ جوڈیشل ریمانڈ (Judicial Remand)

جوڈیشل ریمانڈ کا مطلب ملزم کو سیدھا جیل بھجوانا ہوتا ہے۔ اگر پولیس آفیسر استدعا کرے کہ تفتیش مقدمہ مکمل ہے یا مزید تفتیش کی ضرورت نہیں ہے تو مجسٹریٹ ملزم کو عدالتی ریمانڈ(Judicial Remand) پر جیل بھجوا سکتا ہے۔
ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اگر تفتیشی افست مزید ریمانڈ جسمانی کی استدعا کرے تو مجسٹریٹ مزید ریمانڈ جسمانی(Physical Remand) کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے ملزم کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھجوا سکتا ہے۔ اس کے لئے مجسٹریٹ چند امور کو مد نظر رکھے گا۔

1۔ مجسٹریٹ اگر مناسب سمجھے کہ تفتیش مقدمہ مکمل ہے۔

2۔ مجسٹریٹ اگر مناسب سمجھے کہ مزید تفتیش کی غرض سے جسمانی ریمانڈ دینا مناسب نہیں ہے۔

3۔ ملزم کے خلاف بظاہر کوئی مقدمہ نہ بنتا ہو۔

جسمانی ریمانڈ سے متعلق ہائی کورٹ کی ہدایات یہ ہیں کہ اسے بہت ہچکچاہٹ کے ساتھ منظور کرنا چاہئے اور تھوڑے تھوڑے دن کے لئے کرنا چاہئے۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 167 اس بابت تفصیل فراہم کرتی ہے۔ عام لوگ چونکہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ریمانڈ کی منظوری اور نا منظوری پولیس کی مرضی پر منحصر ہے اسلئے کوئی بھی ریمانڈ کے مرحلہ پر کسی وکیل سے رجوع نہیں کرتا۔ پولیس کے ٹاؤٹوں سے کام چلایا جاتا ہے حالانکہ ریمانڈ کے مرحلہ پر وکیل بحث کرکے مندرجہ ذیل قسم کے احکام حاصل کر سکتا ہے۔
1۔ جسمانی ریمانڈ کی بجائے جوڈیشل ریمانڈ کیا جائے۔
2۔ ملزم کی ضمانت لے لی جائے۔
3۔ ملزم کے خلاف ثبوت نہیں ہے اسکو رہا کر دیا جائے.
وکیل یہ عذر بھی لے سکتا ہے کہ جسمانی ریمانڈ کم دنوں کا دیا جائے۔
یہ بھی عام مشاہدہ ہے کہ گرفتار شدہ لوگوں کے وارث اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ ریمانڈ کے متعلق معاملات میں وکیل کوئی دخل نہیں دے سکتا اسی لئے وہ پولیس کے دلالوں کو ہزاروں روپے صرف اتنی سی رعایت کے لئے دے دیتے ہیں کہ جسمانی ریمانڈ نہ لیا جائے۔ سادہ لوح لوگوں کی غلط فہمی اور قانون سے لاعلمی کی وجہ سے پولیس کے لئے کرپشن کے کئی دروازے کھل جاتے ہیں۔ اس بابت تدارک کے لئے وکلاء اور عدلیہ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

غیر قانونی ریمانڈ
عدالت کو ریمانڈ دینے کی وجوہات اپنے حکم میں لکھنا ہوتی ہیں۔اسکا بہترین حل یہ ہے کہ آپ جوعذر پیش کرنا چاہتے ہیں وہ تحریری درخواست کے زریعے ریمانڈ کے وقت پیش کردیں۔ کوئی بھی جوڈیشل مجسٹریٹ ان عذرکو نہ تو پھاڑے گا اور نہ ان کو نظر انداز کرے گا یعنی حکم میں اگر ان کا ذکر نہ کرے گا تب بھی قابل مواخذہ ہوگا اور اگر عذرکی تردید میں بھی کچھ نہیں لکھے گا تب بھی جوابدہ ہوگا۔ ہائی کورٹ کو بڑی سختی کے ساتھ ایسے مجسٹریٹ صاحبان کی گرفت کرنی چاہئے جو ہائی کورٹ کے قواعد و ہدایات اور سکرول کو نظر انداز کریں۔ اب قانون میں ترمیم کرکے یہ حکم بھی ہو چکا ہے کہ ہر ریمانڈ کی نقل سیشن جج صاحب کو بھیجی جائے۔
ہائی کورٹ کو یہ واضح ہدایات ہیں کہ سیشن ججز صاحبان پر لازم ہے کہ وہ ناجائز قسم کے احکام ریمانڈ سے متعلق ہائی کورٹ کو رپورٹ بھجوائیں۔ بہر حال جب بھی کوئی متاثرہ فریق محسوس کرے کہ مجسٹریٹ صاحب نے ریمانڈ منظور کرتے ہوئے قانون کے مطابق عمل نہیں کیا تو فوراً اس کی نقل لے کر سیشن عدالت میں نگرانی دائر کر سکتے ہیں۔ اگچہ ایسی نگرانی کوئی زیادہ فائدہ مند نہیں ہوگی لیکن مجسٹریٹ صاحب سے حکم ریمانڈ کی بابت جواب طلبی ہو سکتی ہے۔
ایسے کئی فیصلے ہیں جن میں صرف ریمانڈ کے خلاف ہدایات دینے پر مجسٹریٹ صاحب کی جوابدہی ہوئی۔ اگر ایسی صور ت درپیش ہو تو براہ راست ہائی کورٹ میں بھی درخواست زیر دفعہ 491 ض۔ف دی جا سکتی ہے کہ ریمانڈ ہائی کورٹ کی ہدایات کے خلاف منظور کیا گیا ہے اسلئے حراست ملزم ناجائز اور نامناسب ہے۔ ایسی صورت میں ملزم زیر ریمانڈ کو رہا کردیا جائے گا۔
491 ضابطہ فوجداری Illegal Custody اورImproper Custody دونوں صورتوں میں ہائی کورٹ مداخلت کرتی ہے۔جب ریمانڈ جوڈیشل کی بجائے جسمانی دیا گیا ہو تو اسے Illegal نہ سہی Improper Custody کہا جا سکتا ہے اور491 ضابطہ فوجداری چونکہ سستا قانونی حربہ ہے اس سے فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔ ریمانڈ کے دوران بھی ملزم کو قانوناً یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ اس کے دوست احباب اور وکیل اس سے ملاقات کریں اور اس کوقانون کے مطابق صحیح مشورہ دیں۔ملزم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ: Accused is the Favourite Child of Law اسلئے یہ تمام سہولیات قانون کے مطابق ملزم کو ملنی چاہئیں۔
قانونی تقاضہ یہ ہے کہ ملزم کو تھانے کی عمارت میں رکھا جائے۔ کئی تھانیدار تشدد کرنے کے لئے پرائیویٹ مکان حاصل کرکے ملزموں کو ایسے پرائیویٹ مکانوں میں رکھتے ہیں جو سراسر غیر قانونی ہے۔اس کے علاوہ ان کو بھی جن کی گرفتاری ریکارڈ میں موجود نہیں ہوتی انہیں بھی ایسے ٹارچر سیلز میں رکھا جاتا ہے۔ لہذاایسے مکانوں پر چھاپہ ڈلواکر تھانیدار کے خلاف پرچہ درج کروایا جا سکتا ہے۔
سی آئی اے کا دفتر تھانہ نہیں ہوتا،اسی طرح کرائم برانچ کا دفتر بھی تھانہ نہیں ہوتا اسلئے ملزمان کو سی آئی اے کے دفتر میں رکھنا خلاف قانون سمجھا جائے گا۔
منطقی طور پر یہ بات سمجھ لینی آسان ہے کہ جب قانون نے ملزم کو یہ حق دیا ہے کہ وہ گرفتاری کے بعد اپنے گھر سے بستر اور کپڑے منگوا سکتا ہے، دوست احباب اور وکلاء سے ملا قات کر سکتا ہے تو یہ سب قانونی حقوق ایسی حالت میں کیونکر پورے ہونگے جب ملزم کو کسی خفیہ مقام پر پابند رکھا جائے۔

ہائی کورٹ کے بیلف 491 ضابطہ فوجداری کی درخواستوں پر چھاپہ مارتے ہیں تو سب سے پہلے وہ روزنامچہ قابو کرتے ہیں جہاں رپٹ گرفتاری عموماً لکھی ہوئی نہیں ہوتی بلکہ تھانیدار بیلف کے چھاپے کے بعد کسی مقدمے کی ضمنی میں گرفتاری کا ذکر کر دیتا ہے۔تھانے کے روز نامچے کا رجسٹر سب سے زیادہ قابل اعتبار ریکارڈ ہوتا ہےاس میں ردو بدل آسان نہیں ہوتا...!!

08/10/2023

فوجداری مقدمے کی کارروائی کے اقدامات:

(1) -ایف آئی آر 154 یا براہ راست شکایت 200

(2) -تفتیش 156 یا انکوائری 202۔

(3) -بیان اور اعتراف کا ریکارڈ 161،164

(4) جسمانی یا پولیس ریمانڈ 167 ، ، ، 344…)

(5) مندرجہ ذیل طریقوں کے تحت ، 173 کے چالان جمع کرانے؛
دفعہ 169 - جب ثبوت کی کمی ہو تو ملزم کی رہائی
دفعہ 170-کیس مجسٹریٹ کو ارسال کیا جائے جب شواہد کافی ہوں تو ملزم کی عدم موجودگی میں شواہد کا 512 ریکارڈ

(6) ایف آئی آر کا خاتمہ… 561 A)

(7) ادراک 190

(8) 204،204 عمل جاری کرنا ،

(9) ناقابل ضمانت 496 غیر ضمانت 497 ..

(10) 221 سے 240 تک چارج کی فریمنگ ..

(11) تیز بری 249 اے ، 265 کے ، ، 561 اے…
پراسیکیوٹر اور ملزم کے وکیل کی سماعت کے بعد اور وجوہات ریکارڈ کیئے جائیں ..)

(12) قصور وار… .. 243 ،،،، 265 ای…
استغاثہ کے ثبوتوں کا آغاز…
ملزم کا امتحان 342 ……
دفاعی ثبوتوں کا آغاز ..340
ثبوت پیش کرنا….

*فیصلہ*…
(2) 245 / 265H بری…
یا سزا 245 (2) ، 265 ایچ(2)
اپیل
(1) اسسٹنٹ سیشن جج یا جوڈیشل مجسٹریٹیو سیکشن 408 کے ذریعہ منظور شدہ سزا کے خلاف عدالت کے سیشن میں اپیل
(2) سیشن یا ایڈیشنل سیشن جج سیکشن 410 کے ذریعہ منظور شدہ سزا کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل ....

پری میڈیکل کے بچے اور بچیاں سمجھتی ہیں کہ اگر انکا ایڈمیشن. MBBS یا BDS میں نہیں ہوا تو انکے پاس میڈیکل کی کوئی اور فیلڈ...
16/07/2023

پری میڈیکل کے بچے اور بچیاں سمجھتی ہیں کہ اگر انکا ایڈمیشن. MBBS یا BDS میں نہیں ہوا تو انکے پاس میڈیکل کی کوئی اور فیلڈ باقی نہیں بچتی جس میں ایک روشن مستقبل کی ضمانت مل سکے تو ان بچوں اور انکے والدین تک یہ میسیج پہنچا دیں کہ میڈیکل کی فیلڈ کے یہ 78 ڈپارٹمنٹس بھی بہترین ہیں۔

15/06/2023

منقول
طلاق بچوں کی کسٹڈی پہ ہالی ووڈ کی موویز دیکھیں جو ان کے سسٹم پر based ہیں جہاں ایک آئیڈیل نظام رائج ہے بہترین قوانین موجود ییں طلاق ہو بھی جائے تو بچے والدین کے پاس کورٹ احکامات کے تحت ہنسی خوشی آتے جاتے ہیں ایک ویک اینڈ پہ باپ ایک ویک اینڈ پہ ماں بچوں کو لے جاتی ہے بلکہ جب ماں یا باپ بچوں کو لینے آتے ہیں تو کافی بھی اکٹھے پیتے ہیں بچوں کے تیار ہونے تک، یہاں ایسا کت سیاپا پڑتا ہے کہ خدا کی پناہ تیرا پیو اینج دا سی تری ماں اینج دی سی کی بکواسیات سے بچوں کے زہن پراگندا کردئیے جاتے ہیں عدالتوں میں وہ کت پنہ چلتا ہے ماں باپ میں بچوں کی کسٹڈی کے حوالہ سے کہ الامان الحفیظ اور ultimate جسمانی زہنی تباہی بچوں کا مقدر ٹھہرتی ہے عدالتیں جہاں دو دو سو کیسز کی لسٹ ہوتی ہے وہ ایسے ایسے فیصلے کرتی ہیں کہ رہی سہی تباہی پوری ہو جاتی ہے کہنے کو شاندار ملاقاتی کمرے بنائے گئے ہیں مگر افسوس کسی کو احساس نہیں کہ کسٹڈی طلاق کو ہینڈل کرنے کا طریقہ فرسودہ ترین ہوچکا ہے کوئی غیر ممالک سے ہی سبق سیکھ لیں وہاں کی طرز کا نظام رائج کریں جو انکی فلموں میں ہی نہیں باقاعدہ قانون کی شکل میں نافز ہے جس میں سب سے بڑی priority بچوں کی زہنی و جسمانی نشوونما مقدم ہے اگر ماں باپ اکٹھے نہ رہنا چاہیں۔۔۔۔ تفصیل قوانین نظام بعد میں لکھوں گا فی الحال اتنا کافی ہے ویسے بھی اتنا بھی نہیں لکھنا چاہئیے کیونکہ یہاں ہمارے بچوں مستقبل آوے ای آوے جاوے ای جاوے تک محدود رہنا ہے اس لئیے دولت اکٹھی کریں باہر کوچ کریں۔۔۔۔
احسن فاروقی۔۔۔۔۔

03/06/2023

اپنی کمپنی S.E.C.P اور F.B.R سے رجسٹرڈ کرائیں اور اپنے کاروبار کو قانونی تحفظ دیں
اس کے علاوہ انکم ٹیکس ریٹرن،سیلزٹیکس ریٹرن ، لوگو اینڈ برانڈ رجسٹریشن کی رہنمائی انتہائی مناسب فیس کے ساتھ
Register Your Company Or Business

Company Registration SECP
Private Limited Company registration
SMC Company registration
Foreign company registration
Chamber Of Commere
Sole Proprietorship
AOP Firm Registration
NTN Registration

Import Export License registration
Chamber of commerce registration
Logo and Trademark registration

ST Registration
NTN Registration
Become a filer

PEC Registration & Renewals
NGO Registration
IT Company Registration

Call/WhatsApp for free consultation

Mehr Zaman
Advocate High Court.

03217266171

26/05/2023

Ex*****on proceedings---Arrest and detention of judgment debtor in civil prison---Pre-requisites and scope---Before passing an order for the issuance of warrants for arrest and detention or passing an order for detention/arrest, the court needs to issue a show cause notice (to the judgment-debtor); needs to satisfy itself through an inquiry, and should allow opportunity of evidence to the parties---Unless such preconditions are proved the order for arrest and detention of judgment-debtor cannot be passed.

2023 CLC 796

10/04/2023

کسی مسلہ کی صورت میں قانونی کارروائی یا مشاورت کیلئے رابطہ کریں۔
● این ٹی این
● انکم ٹیکس ریٹرن/سیلری پرسن ریٹرن
● سیلز ٹیکس رجسٹریشن
● سیلز ٹیکس ریٹرن
● فرم /بزنس رجسٹریشن /AOP/ پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی/ سنگل ممبرکمپنی/ سُول پروپرائٹر رجسٹریشن
● پی آر اے رجسٹریشن
● ایس ای سی پی رجسٹریشن
● این جی اوز رجسٹریشن
● ٹریڈ مارک/لوگو رجسٹریشن
● امپورٹ/ایکسپورٹ لائسنس
● ڈیڈ رجسٹریشن/ رجسٹری
● پی ای سی لائسنس
● سول، فوجداری اور فیملی مقدمات

05/04/2023

🍁🍁 *Evidence beyond pleadings* 🍁

*None of the parties to a judicial proceeding can be allowed to adduce evidence in support of a contention not pleaded by it and the decision of a case cannot rest on such evidence.*
*(2023 YLR 687)*

01/02/2023

میرے مالک ان پر کرم کر جو بظاہر تو ٹھیک نظر آتے ہیں،اور اندر سے مالی طور پر ختم ہو چکے ہیں،سفید پوش طبقے کی غیبی مدد فرما،آمین

اپنی کمپنی S.E.C.P اور F.B.R سے رجسٹرڈ کرائیں اور اپنے کاروبار کو قانونی تحفظ دیں  اس کے علاوہ انکم ٹیکس ریٹرن،سیلزٹیکس ...
01/02/2023

اپنی کمپنی S.E.C.P اور F.B.R سے رجسٹرڈ کرائیں اور اپنے کاروبار کو قانونی تحفظ دیں
اس کے علاوہ انکم ٹیکس ریٹرن،سیلزٹیکس ریٹرن ، لوگو اینڈ برانڈ رجسٹریشن کی رہنمائی انتہائی مناسب فیس کے ساتھ
Register Your Company Or Business

Company Registration SECP
Private Limited Company registration
SMC Company registration
Foreign company registration
Chamber Of Commere
Sole Proprietorship
AOP Firm Registration
NTN Registration

Import Export License registration
Chamber of commerce registration
Logo and Trademark registration

ST Registration
NTN Registration
Become a filer

PEC Registration & Renewals
NGO Registration
IT Company Registration

Call/WhatsApp for free consultation
+92 3217266171

29/01/2023

Mehr Legal Consultancy

Our law firm helps you to get justice

We provide you best legal services professionally in the issues of:

1- civil matters
2- family matters
3- court marriage
4- criminal matters
5- Revenue matters
6- Narcotics matters
7- Anti corruption matters
8- FIA matters
9- Corporate and FBR (Tax, NTN, STRN, logo Trade Mark,NGO and Company Registration etc)

مہر محمد زمان ایڈووکیٹ ہائی کورٹ و فیڈرل شریعت کورٹ آف پاکستان
Contact number:

03217266171
Email
[email protected]

Address

Lahore
54000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mehr Legal Consultancy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mehr Legal Consultancy:

Share