Adeel s diary

Adeel s diary Entertainment , Music , History , Archeology , Funny stuff , Poetry , Pictures , Nature , Books.

**جب ایک زبان مرتی ہے، تو صرف الفاظ نہیں بلکہ ایک پورا کلچر ہمیشہ کے لیے دفن ہو جاتا ہے! 🗣️💔**تمل ناڈو کے پہاڑوں اور جنگ...
27/05/2026

**جب ایک زبان مرتی ہے، تو صرف الفاظ نہیں بلکہ ایک پورا کلچر ہمیشہ کے لیے دفن ہو جاتا ہے! 🗣️💔**

تمل ناڈو کے پہاڑوں اور جنگلوں میں صدیوں سے گونجنے والی مقامی بولیاں اب خاموشی کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ 'ٹوڈا' (Toda) اور 'کوٹا' (Kota) جیسی قدیم زبانیں اب معدومیت کے آخری دہانے پر کھڑی ہیں؟ کیونکہ انہیں بولنے والے اب چند بزرگ ہی رہ گئے ہیں اور ان کا کوئی تحریری رسم الخط بھی نہیں ہے۔
ان زبانوں کو ڈیجیٹل موت یعنی "Phonocide" اور ثقافتی مٹاو سے بچانے کے لیے ایک یونیورسٹی لیب (IELLAB) نے ایک شاندار مہم کا آغاز کیا ہے، جہاں ان نایاب آوازوں اور انوکھے تلفظ کو محفوظ کیا جا رہا ہے۔
**ان زبانوں کی خاص بات کیا ہے؟**
* **ٹوڈا (Toda):** اسے نیلاگری کی پہاڑیوں کا "لسانی ہیرا" کہا جاتا ہے۔ اس کا صوتی نظام (Sound System) اتنا پیچیدہ ہے کہ عام انسان کے لیے اس کا درست تلفظ ادا کرنا بھی مشکل ہے۔ اس زبان میں ایسے پرانے دراوڑی گرامر کے اصول محفوظ ہیں جو باقی جنوبی ہندی زبانوں سے کب کے غائب ہو چکے ہیں۔
* **کوٹا (Kota):** یہ روایتی کاریگروں، لوہاروں اور موسیقاروں کی زبان ہے۔ اس میں دھات کاری، مٹی کے برتن بنانے اور موسیقی کے پیچیدہ نظام سے متعلق ایسے مخصوص الفاظ موجود ہیں جو دنیا کی کسی دوسری زبان میں نہیں ملتے۔ یہ علم نسل در نسل گیتوں اور کہانیوں کے ذریعے آگے منتقل ہوتا رہا۔
یہ صرف الفاظ کا ضیاع نہیں ہے، بلکہ انسانی تاریخ، قدیم تہذیب اور جنگلاتی زندگی کے لائف اسٹائل کا خاتمہ ہے۔ اگر آج ہم نے ان زبانوں کو محفوظ نہ کیا، تو آنے والی نسلیں تاریخ کے ایک بہت بڑے حصے سے محروم ہو جائیں گی۔
**آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا جدید دور میں ان قدیم اور مقامی زبانوں کو بچانا ممکن ہے؟

سمندر کی جگہ اب جنگل لے گا! قازقستان کا ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک بڑا اور تاریخی قدم۔ 🌳🌊قازقستان نے دنیا کے سب...
27/05/2026

سمندر کی جگہ اب جنگل لے گا! قازقستان کا ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک بڑا اور تاریخی قدم۔ 🌳🌊

قازقستان نے دنیا کے سب سے بڑے ماحولیاتی حادثات میں سے ایک، یعنی **"بحیرہ ارال" (Aral Sea)** کے خشک ہو جانے والے حصے کو دوبارہ زندگی دینے کے لیے ایک بڑا معجزہ کر دکھایا ہے۔ حال ہی میں قازقستان کی وزارتِ ماحولیات کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، سمندر کے خشک بستر پر شجرکاری کا رقبہ **12 لاکھ (1.2 Million) ہیکٹرز** تک پہنچ چکا ہے۔
**اہم نکات اور پس منظر:**
* **مایوسی سے امید کا سفر:** چونکہ بحیرہ ارال میں پانی کی سطح کو پرانی حالت پر لانا اب ممکن نہیں رہا، اس لیے قازقستان نے اس بنجر اور صحرا بنتی زمین کو بچانے کے لیے وہاں بڑے پیمانے پر جنگلات اگانے (Afforestation) کی حکمتِ عملی اپنائی۔
* **سکسول (Saxaul) کے پودے:** اس مہم کے تحت لاکھوں ایسے پودے اور بیج لگائے گئے ہیں جو شدید گرمی اور نمکین مٹی میں بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔ یہ پودے مٹی کو اڑنے اور زہریلے ریتلے طوفانوں کو روکنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔
* **ایک نیا ایکو سسٹم:** اس گرین بیلٹ کی وجہ سے اس بنجر مٹی میں زندگی دوبارہ لوٹ رہی ہے۔ پرندے، رینگنے والے جانور اور چھوٹے جاندار اس نئے بنتے ہوئے جنگل میں واپس آنے لگے ہیں۔
**مستقبل کا پلان:** قازقستان اب اس علاقے میں 13 لاکھ ہیکٹرز پر محیط ایک خصوصی اسٹیٹ فارسٹ نیچر ریزرو "Aral Ormany" قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، تاکہ اس خطے کو مکمل طور پر ایک محفوظ پناہ گاہ میں بدلا جا سکے۔
یہ منصوبہ دنیا کے لیے ایک روشن مثال ہے کہ اگر انسان چاہے تو اپنی کی گئی غلطیوں کی تلافی اور زمین کا حسن بحال کر سکتا ہے۔
** Sea

🇵🇰 **پاکستان کی معیشت کا ضامن: تربیلا ڈیم کے 50 سال مکمل!** $460 ارب کے معاشی فوائد اور 586 ارب یونٹ سستی بجلی۔ تو عوام ...
27/05/2026

🇵🇰 **پاکستان کی معیشت کا ضامن: تربیلا ڈیم کے 50 سال مکمل!**
$460 ارب کے معاشی فوائد اور 586 ارب یونٹ سستی بجلی۔

تو عوام کو سستی بجلی ملتی کیوں نہیں؟
**لاہور:** واٹر اینڈ پاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے پیر کے روز بتایا کہ تربیلا ڈیم نے گزشتہ 50 سالوں کے دوران زرعی آبپاشی کے لیے 419 ملین ایکڑ فٹ سے زیادہ پانی فراہم کیا، اور ساتھ ہی نیشنل گرڈ میں 586 ارب یونٹ ماحول دوست اور سستی بجلی شامل کی ہے۔
یہ تفصیلات واپڈا کے چیئرمین، ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید کو تربیلا ڈیم اور خانپور ڈیم کے چوتھے اور پانچویں توسیعی منصوبوں کے دورے کے دوران دی جانے والی بریفنگ میں بتائی گئیں۔ حکام کے مطابق، اس ڈیم نے 1974 سے اب تک پاکستان کو مجموعی طور پر **460 ارب ڈالرز** کا معاشی فائدہ پہنچایا ہے۔
**تربیلا ففتھ (5th) ایکسٹینشن پروجیکٹ: ایک اہم سنگِ میل**
اپنے ایک روزہ دورے کے دوران، چیئرمین واپڈا نے زیر تعمیر 'تربیلا ففتھ ایکسٹینشن ہائیڈرو پاور پروجیکٹ' پر جاری کام کا جائزہ لیا۔ اس منصوبے کی اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:
* **پیداواری صلاحیت:** اس منصوبے کے مکمل ہونے پر تربیلا ڈیم کی کل بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت **4,888 میگاواٹ سے بڑھ کر 6,418 میگاواٹ** ہو جائے گی (اضافی 1,530 میگاواٹ)۔
* **عالمی سرمایہ کاری:** اس منصوبے کے لیے ورلڈ بینک $390 ملین اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (AIIB) $300 ملین فراہم کر رہے ہیں۔
* چیئرمین واپڈا نے پروجیکٹ ٹیم، کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹرز کو ہدایت کی کہ وہ کام کے معیار اور حفاظتی معیارات پر سمجھوتہ کیے بغیر منصوبے کو تیزی سے مکمل کریں۔
**فورٹھ (4th) ایکسٹینشن پروجیکٹ کی کارکردگی**
اس سے قبل، چیئرمین نے چوتھے توسیعی منصوبے کے لو-لیول آؤٹ لیٹ کی ٹیسٹنگ کا مشاہدہ کیا تاکہ (Kharif) کی فصلوں کے لیے ارسا (IRSA) کی پانی کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ حکام نے بتایا کہ ورلڈ بینک کے تعاون سے بننے والے اس منصوبے نے مارچ 2018 سے اب تک نیشنل گرڈ کو **33.254 ارب یونٹ** سستی بجلی فراہم کی ہے۔

اس موقع پر ارسا کے چیئرمین امجد سعید، ٹیکنیکل کمیٹی کے اراکین اور واپڈا کے دیگر اعلیٰ حکام بھی چیئرمین واپڈا کے ہمراہ تھے۔

**"تاریخ سے لاعلمی یا ذہنی صدمہ؟ تاج محل کے سائے میں کھڑے ہو کر ایرانی تہذیب کو مٹانے کا خواب دیکھنے والوں کے لیے ایک آئ...
27/05/2026

**"تاریخ سے لاعلمی یا ذہنی صدمہ؟ تاج محل کے سائے میں کھڑے ہو کر ایرانی تہذیب کو مٹانے کا خواب دیکھنے والوں کے لیے ایک آئینہ!"**

کیا مارکو روبیو نے اپنی اہلیہ کے ساتھ تاج محل کے سامنے یہ تصویر کھنچوانے سے پہلے اس کی تاریخ کا ایک صفحہ بھی پڑھا تھا؟ یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

سیاست دانوں کا تضاد بھی کتنا عجیب ہوتا ہے! ایک طرف اس انتظامیہ کا حصہ ہونا جو ایران کی ہزاروں سال پرانی تہذیب و تمدن کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکیاں دیتی ہے، اور دوسری طرف اسی ایرانی فنِ تعمیر کے شاہکار "تاج محل" کے سامنے فخر سے تصویر بنوانا!
معروف امریکی سیاست دان مارکو روبیو کی یہ تصویر دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کیا انہیں معلوم بھی ہے کہ تاج محل کی روح میں ایرانی فن دھڑکتا ہے؟ لگتا ہے موصوف کو تہذیب کے معنی کا الف بے بھی نہیں پتہ، یا پھر ایران کے خوف اور ذہنی صدمے نے ان سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لی ہے، تبھی وہ تضادات سے بھرپور بیانات داغتے ہیں۔
جس انسان کو فن اور خوبصورتی کی قدر ہو، وہ ایران کے شہر اصفہان جائے اور دیکھے کہ انسانیت کے لیے وہاں کیسی بے مثال شرافت اور خوبصورتی تخلیق کی گئی ہے۔ تہذیبیں مٹانے کا دعویٰ کرنے والے خود تاریخ کے اندھیروں میں گم ہو جاتے ہیں، مگر فن ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ جس '65 سال' کی عمر کو ہم ریٹائرمنٹ کا سنہری اصول مانتے ہیں، وہ دراصل 137 سال پرانی ایک سیاسی چال تھی...
26/05/2026

کیا آپ جانتے ہیں کہ جس '65 سال' کی عمر کو ہم ریٹائرمنٹ کا سنہری اصول مانتے ہیں، وہ دراصل 137 سال پرانی ایک سیاسی چال تھی؟ ایک ایسا نظام جو اس وقت بنایا گیا جب لوگ اتنی عمر پاتے ہی نہیں تھے۔
**ریٹائرمنٹ: ایک صدی پرانا فارمولا اور آج کی حقیقت**
writer / Mal James

آج دنیا بھر میں یہ مانا جاتا ہے کہ 65 سال کی عمر زندگی کا وہ پڑاؤ ہے جہاں کام ختم ہوتا ہے اور حکومت یا ادارہ آپ کے بقیہ سالوں کے اخراجات اٹھاتا ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ '65' کا ہندسہ کہاں سے آیا؟ یہ کسی جدید طبی ریسرچ کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک بوڑھے جرمن چانسلر کا سیاسی داؤ تھا۔
*(نوٹ: یہ مضمون تاریخی اور ثقافتی پس منظر پر مبنی ہے، اسے مالیاتی مشورہ یا فنانشل ایڈوائس نہ سمجھا جائے۔)*
# **بسکمارک کا اصل ڈیزائن: فلاح یا سیاست؟**
1889ء سے پہلے، عام محنت کش طبقے کے لیے "ریٹائرمنٹ" نامی کسی چیز کا کوئی تصور نہ تھا۔ لوگ اس وقت تک کام کرتے تھے جب تک کوئی حادثہ یا بیماری انہیں معذور نہ کر دے، اور اس کے بعد وہ خاندان یا خیرات کے رحم و کرم پر ہوتے۔
اس تصور کو بدلا جرمنی کے 74 سالہ چانسلر **اوٹو وان بسکمارک (Otto von Bismarck)** نے۔ انہوں نے 1889ء میں دنیا کا پہلا سرکاری پینشن نظام متعارف کروایا۔ بسکمارک کے عزائم جذباتی یا ہمدردانہ نہیں تھے۔ اس وقت یورپ میں سوشلزم زور پکڑ رہا تھا، اور بسکمارک محنت کشوں کو ریاست کی طرف سے تحفظ دے کر سوشلسٹ تحریکوں کا راستہ روکنا چاہتے تھے۔ جب ناقدین نے ان پر سوشلزم کا الزام لگایا تو انہوں نے ٹکا سا جواب دیا: *"آپ اسے سوشلزم کہیں یا جو جی چاہے، مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔"*
لیکن اس قانون میں ایک بڑا جھول تھا۔ بسکمارک نے پینشن کے لیے اہل ہونے کی عمر **70 سال** رکھی، جبکہ اس دور میں جرمنی میں ایک عام مرد کی اوسط عمر صرف **40 سال** تھی! (اگرچہ بچپن میں شرح اموات زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ اوسط کم تھی، اور جو لوگ جوانی عبور کر لیتے وہ زیادہ جیتے تھے، مگر پھر بھی 70 سال تک پہنچنا بہت کم لوگوں کے بس میں تھا)۔ بسکمارک خود 74 سال کے تھے جب یہ قانون پاس ہوا اور وہ 83 سال کی عمر میں فوت ہوئے، یعنی اپنی ہی مقرر کردہ حد سے 13 سال زیادہ جیے۔
# **ہم '65' کے جادوئی ہندسے تک کیسے پہنچے؟**
اگلی ایک صدی کے دوران دو بڑی تبدیلیاں آئیں:
1. جرمنی نے 1916ء میں ریٹائرمنٹ کی عمر 70 سے گھٹا کر 65 سال کر دی۔
2. انسان کی اوسط عمر میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا۔
جب امریکہ نے 1935ء میں اپنا 'سوشل سیکیورٹی سسٹم' بنایا، تو وہاں اوسط عمر بڑھ کر مردوں کے لیے 58 اور عورتوں کے لیے 62 سال ہو چکی تھی۔ امریکہ نے بھی ریٹائرمنٹ کے لیے 65 سال کی عمر کو چنا۔ اس کے بعد برطانیہ، کینیڈا اور باقی دنیا نے بھی بنا کسی گہری تحقیق کے، اسی 65 سال کے فارمولے کو اپنا لیا اور یہ انسانی زندگی کا ایک طے شدہ اصول بن گیا۔
# #**ہمیں ورثے میں کیا ملا؟**
بسکمارک کا اصل ماڈل اس مفروضے پر تھا کہ ریٹائرمنٹ زندگی کے آخری چند سالوں کا ایک مختصر انعام ہے۔ ایک مزدور 30 سال ٹیکس دیتا، چند سال پینشن لیتا اور دنیا سے رخصت ہو جاتا۔
مگر آج کی ڈیموگرافک حقیقت بالکل مختلف ہے۔ آج اگر کوئی شخص 65 سال کی عمر کو پہنچتا ہے، تو وہ اوسطاً مزید 18 سے 20 سال جینے کی امید رکھ سکتا ہے۔ یہ بیس سال اکثر صحت مند اور متحرک ہوتے ہیں۔ یعنی وہ ریٹائرمنٹ جو چند سالوں کے لیے ڈیزائن کی گئی تھی، اب زندگی کا ایک اتنا بڑا حصہ بن چکی ہے جتنا انسان کا بچپن اور لڑکپن ملا کر ہوتا ہے۔

اس بات کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھا دی جائے۔ چالیس سال تک سخت محنت کرنے والے لوگ عزت، سکون اور اپنے ذاتی وقت کے حقدار ہیں۔ لیکن یہ سوچنا ضرور بنتا ہے کہ ہم آج سن 2026ء کی جدید دنیا میں بھی، 1935ء کے ایک ایسے انتظامی نمبر (65 سال) کے سہارے چل رہے ہیں جس کا حقیقت سے اب کوئی تعلق نہیں رہا!
آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا ریٹائرمنٹ کے اس صدیوں پرانے تصور کو بدلنے کی ضرورت ہے؟

**"صحرا میں درخت لگانے کی وہ مہم جو بار بار ناکام ہوئی... مگر پھر ایک ایسی تبدیلی آئی جس نے دنیا کو حیران کر دیا۔  # # *...
26/05/2026

**"صحرا میں درخت لگانے کی وہ مہم جو بار بار ناکام ہوئی... مگر پھر ایک ایسی تبدیلی آئی جس نے دنیا کو حیران کر دیا۔
# # **جب صحرا نے درختوں کو نگل لیا: 'دیوارِ سبز' کی ناکامی اور کامیابی کی سچی کہانی**
زمین کو بنجر ہونے اور صحرا کی پھیلتی ہوئی سرحدوں کو روکنے کے لیے انسان نے ہمیشہ منفرد طریقے اپنائے ہیں۔ ایسا ہی ایک خواب افریقا کے ساحل (Sahel) خطے کے لیے دیکھا گیا تھا، جسے **"دیوارِ سبز" (Great Green Wall)** کا نام دیا گیا۔ مقصد تھا صحرائے اعظم (Sahara Desert) کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے افریقا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک، یعنی تقریباً 8,000 کلومیٹر لمبی درختوں کی ایک عظیم دیوار کھڑی کرنا۔
لیکن یہ مہم شروع ہوتے ہی ایک بڑے بحران کا شکار ہو گئی: **وہ جتنے درخت لگاتے، وہ اتنی ہی تیزی سے سوکھ کر ختم ہو جاتے۔**
# **شروعاتی ناکامی کی وجہ کیا تھی؟**
اس منصوبے کے آغاز میں سب سے بڑی غلطی یہ کی گئی کہ مقامی ماحول اور وہاں کے لوگوں کو نظرانداز کر دیا گیا۔ باہر سے لائے گئے لاکھوں پودے صحرا کی سخت گرمی، پانی کی شدید قلت اور دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے مرنے لگے۔ یہ ایک ایسی سائنسی حقیقت ہے جسے مہم جوئی کے جوش میں فراموش کر دیا گیا تھا: **"صرف درخت لگانا کافی نہیں ہوتا، انہیں زندہ رکھنا اصل چیلنج ہے۔"**
# **پھر حکمتِ عملی کیسے بدلی؟**
جب اربوں ڈالر کے فنڈز اور لاکھوں درخت مٹی میں مل گئے، تو ماہرین اور افریقی رہنماؤں کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ انہوں نے درخت لگانے کے بجائے **"مقامی لوگوں کی مدد سے زمین کو دوبارہ زندہ کرنے" (Regeneration)** کا طریقہ اپنایا۔
* **مقامی تکنیک کا استعمال:** نائیجر اور برکینا فاسو جیسے ممالک میں کسانوں نے قدیم روایتی طریقے اپنائے، جیسے زمین میں چھوٹے گڑھے بنانا تاکہ بارش کا پانی ضائع نہ ہو (جسے 'زائی' کہا جاتا ہے)۔
* **قدرتی زراعت:** زمین میں پہلے سے موجود درختوں کی جڑوں اور بیجوں کو تحفظ دیا گیا، جس سے وہ خود بخود دوبارہ اگنے لگے۔
* **کمیونٹی کی شمولیت:** جب مقامی لوگوں کو یہ سمجھ آیا کہ یہ درخت ان کے مویشیوں کے لیے چارہ، زمین کے لیے نمی اور روزگار کا ذریعہ ہیں، تو انہوں نے خود ان کی حفاظت شروع کر دی۔

آج یہ منصوبہ صرف درختوں کی ایک لکیر نہیں رہا، بلکہ یہ ایک پورا ایکو سسٹم بن چکا ہے۔ اس کہانی سے دنیا نے یہ سبق سیکھا کہ فطرت کے ساتھ زبردستی کرنے کے بجائے اگر اس کے قوانین کو سمجھ کر کام کیا جائے، تو صحرا کو بھی گلزار بنایا جا سکتا ہے۔ 'دیوارِ سبز' کی ابتدائی ناکامی نے دنیا کو سکھایا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ صرف فنڈز سے نہیں، بلکہ سمجھداری اور مقامی لوگوں کے تعاون سے جیتی جاتی ہے۔

دشمن ہو یا دوست، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی سفارتی مہارت اور سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز نے سب کو حیران کر دیا۔ آج ...
26/05/2026

دشمن ہو یا دوست، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی سفارتی مہارت اور سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز نے سب کو حیران کر دیا۔
آج کل انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک ایرانی سفارت کار کی ویڈیوز شدید توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ تہران کی سڑکوں پر بنائی گئی ان ویڈیوز میں سے ایک خاص کلپ تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جس میں وہ علاقائی کشیدگی کے اس نازک دور میں بھی کسی ظاہری سیکیورٹی کے بغیر عام انداز میں نقل و حرکت کرتے نظر آ رہے ہیں۔
یہ شخصیت کوئی اور نہیں بلکہ ایران کے موجودہ وزیر خارجہ عباس عراقچی ہیں، جن کے خطابات، انٹرویوز اور عوامی دوروں کی ویڈیوز اس وقت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ٹرینڈ کر رہی ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین ان کے پرسکون لہجے، باوقار اندازِ گفتگو اور شدید سفارتی دباؤ کے باوجود بہترین طریقے سے مؤقف پیش کرنے کی صلاحیت کو بے حد سراہ رہے ہیں۔ دوست ہو یا دشمن، اس وقت ہر کوئی ان کی سفارتی مہارت سے متاثر دکھائی دیتا ہے۔
# سفارتی پس منظر اور مہارت
عباس عراقچی ایران کی خارجہ پالیسی کا ایک انتہائی تجربہ کار اور معتبر نام ہیں۔ وہ 2015 کے عالمی جوہری معاہدے (JCPOA) کے مذاکرات میں بھی کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں۔ برطانیہ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور انگریزی زبان پر مکمل عبور رکھنے والے عراقچی کو بین الاقوامی مبصرین ایک انتہائی تکنیکی، دوراندیش اور منجھے ہوئے مذاکرات کار کے طور پر دیکھتے ہیں۔
حالیہ مہینوں میں انہوں نے روایتی سفارت کاری سے ہٹ کر عوامی رابطے کا ایک نیا اور جارحانہ انداز اپنایا ہے۔ وہ اہم علاقائی اور عالمی معاملات پر سوشل میڈیا کے ذریعے براہ راست اور ٹو دی پوائنٹ بیانات جاری کر رہے ہیں۔ ان کے حامیوں کا ماننا ہے کہ موجودہ دور میں، جہاں عوامی رائے سیکنڈوں میں عالمی بیانیے کو بدل سکتی ہے، ان کا یہ جدید اندازِ گفتگو سفارت کاری کو زیادہ مؤثر اور عوام کے قریب بنا رہا ہے۔
# # # تنقیدی نقطہ نظر اور اندرونی حالات
دوسری طرف، ناقدین کا خیال ہے کہ عباس عراقچی کی اس آن لائن مقبولیت کی بڑی وجہ ان کی داخلی پسندیدگی سے زیادہ بین الاقوامی سطح پر جنگ مخالف جذبات اور بیانات ہیں۔
# # # جدید سفارت کاری کا بدلتا رخ
سوشل میڈیا پر عباس عراقچی کی اس بڑھتی ہوئی مقبولیت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اب سفارت کاری صرف بند کمروں کے مذاکرات تک محدود نہیں رہی۔ آج کے دور میں ایک سیاست دان کا عوامی عکس، آن لائن بیانات اور وائرل ہونے والے لمحات کسی بھی ملک کی سیاسی و سفارتی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ بن چکے ہیں۔

**جب جنون سچا ہو، تو تنہا انسان بھی بنجر پہاڑوں کو گھنا جنگل بنا سکتا ہے!  🌲✨ **مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک بوڑھے کسان کی...
26/05/2026

**جب جنون سچا ہو، تو تنہا انسان بھی بنجر پہاڑوں کو گھنا جنگل بنا سکتا ہے! 🌲✨
**مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک بوڑھے کسان کی انوکھی قربانی**
اکثر لوگ بڑھاپے میں آرام اور سکون تلاش کرتے ہیں، لیکن انڈونیشیا کے ایک دور دراز گاؤں میں رہنے والے کسان **"مبا سادیمان" (Mbah Sadiman)** کی سوچ بالکل مختلف تھی۔ انہوں نے اپنے علاقے کو ایک ایسی زندگی بخشی جس کا تصور بھی وہاں کے لوگوں کے لیے ناممکن تھا۔
**بنجر پہاڑ اور پانی کی قلت:**
انڈونیشیا کے صوبے وسطی جاوا کا علاقہ 'وونوگیری' (Wonogiri) برسوں سے شدید خشک سالی، جنگلات کی کٹائی اور پانی کی قلت کا شکار تھا۔ پہاڑ بالکل بنجر ہو چکے تھے اور زیر زمین پانی کے ذخائر ختم ہونے کی وجہ سے مقامی لوگوں کا جینا محال تھا۔
**تمسخر سے جنگل تک کا سفر:**
1990ء کی دہائی میں سادیمان نے اس مسئلے کا ایک پائیدار حل سوچا۔ انہوں نے پہاڑوں پر برگد (Banyan) اور انجیر کے درخت لگانے کا فیصلہ کیا، کیونکہ یہ درخت پانی کو زمین میں روک کر رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
شروع میں جب ان کے پاس پودے خریدنے کے پیسے ختم ہوئے، تو انہوں نے اپنی **بکریاں تک بیچ دیں** تاکہ مزید پودے خرید سکیں۔ اس وقت گاؤں والوں نے ان کا مذاق اڑایا، انہیں "پاگل" کہا اور سوچا کہ وہ اپنی زندگی ضائع کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ تو برگد کے درختوں سے جڑی توہم پرستی کی وجہ سے ان کے مخالف بھی ہو گئے۔
**عزم کی جیت:**
لوگوں کی باتوں اور شدید تنقید کے باوجود سادیمان نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ روزانہ خاموشی سے پہاڑوں پر جاتے، پودے لگاتے اور ان کی دیکھ بھال کرتے۔
**آج کا منظرنامہ:**
کئی دہائیوں کی اس انتھک محنت کا نتیجہ آج دنیا کے سامنے ہے۔ وہ بنجر اور خشک پہاڑ اب ایک گھنے، ہرے بھرے جنگل میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ سب سے بڑا معجزہ یہ ہوا کہ جو چشمے سوکھ چکے تھے، وہ دوبارہ ابل پڑے ہیں اور اب پورے علاقے کو پینے اور کھیتی باڑی کے لیے وافر مقدار میں پانی میسر ہے۔
آج وہی گاؤں والے جو کبھی ان پر ہنستے تھے، سادیمان کے سامنے سر جھکاتے ہیں اور انہیں اپنا ہیرو مانتے ہیں۔
بڑے بدلاؤ کے لیے کسی بڑی تنظیم یا فنڈنگ کی ضرورت نہیں ہوتی، بس ایک انسان کا سچا عزم اور جنون ہی کافی ہوتا ہے۔

 # # 🥭 ٹوکیو میں بھارتی آموں کی انٹری پر بریک: جاپان نے امپورٹ کیوں روکی؟**کیا اس بار جاپانی عوام الفونسو اور کیسر کے ذا...
25/05/2026

# # 🥭 ٹوکیو میں بھارتی آموں کی انٹری پر بریک: جاپان نے امپورٹ کیوں روکی؟
**کیا اس بار جاپانی عوام الفونسو اور کیسر کے ذائقے سے محروم رہیں گے؟**
اس سال ٹوکیو کے بازاروں میں بھارتی آموں کی وہ دھوم نظر نہیں آئے گی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ جاپانی حکام نے رواں سیزن کے لیے بھارت سے تازہ آموں کی امپورٹ (درآمد) پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے۔
ایسا کیوں ہوا اور اس کے بھارتی برآمد کنندگان (Exporters) پر کیا اثرات ہوں گے؟ آئیے اس کی تفصیلات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
# # # 🛑 پابندی کی اصل وجہ کیا ہے؟
جاپان اپنی فوڈ سیفٹی اور پلانٹ کوارنٹائن (Plant Quarantine) قوانین کے معاملے میں دنیا بھر میں سخت ترین ملک مانا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق:
* مارچ 2026 میں جاپانی پلانٹ کوارنٹائن افسران نے بھارت میں آموں کے ٹریٹمنٹ پلانٹس کا دورہ کیا۔
* اس معائنہ کے دوران آموں کو جراثیم اور کیڑوں سے پاک کرنے والے عمل (Fumigation and Disinfection measures) میں کچھ خامیاں پائی گئیں۔
* جاپان کی "یوکوہاما پلانٹ پروٹیکشن ایسوسی ایشن" کے مطابق، 25 مارچ 2026 یا اس کے بعد جاری ہونے والے بھارتی سرٹیفکیٹس والے آموں کی کھیپ قبول نہیں کی جائے گی۔
اس تکنیکی مسئلے کی وجہ سے بھارت کی مشہور ترین اقسام جیسے **الفونسو (Alphonso)، کیسر (Kesar)، لنگڑا (Langra)، اور بانگن پالی (Banganapalli)** کی جاپان سپلائی فی الحال رک گئی ہے۔
# # # 💼 ایکسپورٹرز کا کیا کہنا ہے؟
اگرچہ جاپان بھارتی آموں کا سب سے بڑا خریدار نہیں ہے، لیکن یہ ایک پریمیم مارکیٹ ضرور ہے۔ بھارتی برآمد کنندگان کے مطابق:
1. **سیزن کا ضیاع:** آم کی ایکسپورٹ کا اصل سیزن اپریل سے جون تک ہوتا ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ یہ سیزن جاپانی مارکیٹ کے بغیر ہی گزر جائے گا کیونکہ معاملات سلجھنے میں وقت لگے گا۔
2. **دیگر چیلنجز:** تاجروں کا کہنا ہے کہ جاپان کے علاوہ اس وقت ان کا بڑا مسئلہ امریکہ کے لیے فضائی کرایوں (Airfreight costs) میں بے پناہ اضافہ ہے۔ مڈل ایسٹ کی کشیدگی اور فیول کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے مال بھیجنا دگنا مہنگا ہو چکا ہے۔
3. **مذاکرات جاری:** بھارتی حکام اس وقت جاپانی ہم منصبوں کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ ان کے معیار (Phytosanitary requirements) کو پورا کر کے اس تعطل کو جلد ختم کیا جا سکے۔
# # # 🌐 سورس (Source)
> **The Economic Times**

 # # 🏔️ پہاڑ جھک گئے، عزم جیت گیا: انسانی ہمت کا ایک عظیم شاہکارچین کے علاقے لنژو (Linzhou) کے لوگوں نے صدیوں تک خشک سال...
25/05/2026

# # 🏔️ پہاڑ جھک گئے، عزم جیت گیا: انسانی ہمت کا ایک عظیم شاہکار
چین کے علاقے لنژو (Linzhou) کے لوگوں نے صدیوں تک خشک سالی کا عذاب جھیلا۔ یہ وہ بدقسمت زمین تھی جہاں بادل ہر جگہ برستے تھے، سوائے لنژو کے کھیتوں کے۔ زمین میں ایسی دراڑیں پڑ چکی تھیں جیسے کسی مچھلی کے جسم پر سکیلز (چھلکے) ہوں، اور لوگ کہتے تھے کہ پرندے بھی اس پیاسی دھرتی کے اوپر سے گزرنا پسند نہیں کرتے تھے۔ حالت یہ تھی کہ لوگ زندگی میں صرف تین بار نہاتے تھے؛ پیدائش پر، شادی سے پہلے، اور موت کے بعد۔
پھر 1960ء کی دہائی میں یہاں کے باسیوں نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے تاریخ بدل دی۔ انہوں نے کسی مشینری کے بغیر، صرف اپنے ہاتھوں سے پہاڑوں کو کاٹنے کا تہیہ کیا۔
# # # 🌊 پتھروں کے بیچ بہتا ہوا 'سبز ربن'
آج "ریڈ فلیگ کینال" (Red Flag Canal) نامی یہ نہر شانشی صوبے سے پانی لے کر لنژو کی پیاس بجھا رہی ہے۔ تائی ہانگ (Taihang) کے عمودی اور خطرناک پہاڑوں کے درمیان 70.6 کلومیٹر طویل یہ نہر ایسے بل کھاتی گزرتی ہے جیسے پہاڑوں کے گلے میں کوئی خوبصورت سبز ربن سجایا گیا ہو۔
فرانسیسی ثقافتی ماہر جیروم کلیمینٹ، جنہوں نے 1974ء میں اس جگہ کا دورہ کیا تھا، جب دہائیوں بعد یہاں دوبارہ آئے تو دنگ رہ گئے۔ انہوں نے بتایا:
"جب میں پہلی بار آیا، تو یہ ایک انتہائی پسماندہ دیہی علاقہ تھا۔ نہر کا بنیادی ڈھانچہ تو بن چکا تھا، لیکن کام اب بھی باقی تھا۔ میرے لیے یہ دیکھنا حیران کن تھا کہ بغیر کسی مشین، گاڑی یا ٹریک کے، صرف انسانی ہاتھوں اور پیروں کی طاقت سے اتنا بڑا معجزہ سرانجام دیا گیا تھا۔ آج یہ نہر چین کی تاریخ اور عوامی طاقت کی ایک عظیم علامت بن چکی ہے۔"

# 🧗 'یوتھ کیو' (Youth Cave): جہاں وقت ٹھہر جاتا ہے
اس پورے پروجیکٹ کا سب سے مشکل حصہ وہ غار تھی جسے 300 نوجوانوں نے اپنی بے مثال لگن سے تراشا۔ آج جب سیاح یہاں آتے ہیں، تو وہ غار کی چٹانوں پر بنے ان سوراخوں اور نشانات میں اپنے ہاتھ رکھ کر دیکھتے ہیں جو دہائیوں پہلے مزدوروں کے ہاتھوں سے بنے تھے۔ یہ احساس ایسا ہے جیسے انسان ماضی اور حال کے فاصلوں کو اپنے لمس سے ناپ رہا ہو۔
مقامی حکام کے مطابق، اس نہر کے بغیر آج کے جدید لنژو کا کوئی وجود ممکن ہی نہیں تھا۔ سیاحوں کے لیے یہاں آنا صرف ایک تفریح نہیں بلکہ ایک ایسا تجربہ ہے جو روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔
# 🗺️ سیاحوں کے لیے رہنمائی اور قدرتی حسن
اگر آپ اس تاریخی شاہکار کو دیکھنا چاہتے ہیں، تو سب سے پہلے یہاں کے میموریل ہال (یادگاری گھر) جائیں تاکہ آپ کو اس کی تاریخ کا اندازہ ہو سکے۔ اس کے بعد شٹل بس کے ذریعے 'یوتھ کیو' کا رخ کریں۔
* **خاص تجربہ:** آپ اس غار کے اندر بوٹنگ (کشتی رانی) کر سکتے ہیں اور پہاڑی چوٹی پر بنی نہر کے کنارے پیدل چل کر اس خطرے اور انسانی ہمت کو قریب سے محسوس کر سکتے ہیں۔
* **لوسی پول (Luosi Pool):** غار سے چند منٹ کی دوری پر دریائے ژووژانگ پر واقع یہ ایک خوبصورت گہری جھیل ہے جہاں سے نہر میں پانی آتا ہے۔ یہاں گرمیوں میں آبشار بہتی ہے اور سردیوں میں برف کی خوبصورت چادر تن جاتی ہے۔
یہ نہر صرف پانی کا ذریعہ نہیں، بلکہ انسانی عقل اور قدرت کے حسن کا ایک ایسا انوکھا ملاپ ہے جہاں پہاڑ اور دریا ایک دوسرے کو گلے لگاتے ہیں، اور انسان کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ اگر عزم سچا ہو، تو پہاڑ بھی راستہ دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
Canal

🏛️ **کیا کوئی قدیم شہر آج کے دور سے زیادہ انصاف پسند ہو سکتا ہے؟** جہاں مصر کے فرعون اپنے لیے فلک بوس اہرام بنا رہے تھے،...
25/05/2026

🏛️ **کیا کوئی قدیم شہر آج کے دور سے زیادہ انصاف پسند ہو سکتا ہے؟**
جہاں مصر کے فرعون اپنے لیے فلک بوس اہرام بنا رہے تھے، وہیں سندھ کی دھرتی پر ایک ایسا شہر آباد تھا جس نے تاریخ کے تمام اصول بدل ڈالے۔ موہنجوداڑو کا ایک ایسا راز جو اجاگر کرتا ہے کہ ترقی کا مطلب محل بنانا نہیں، بلکہ عوام کو سہولیات دینا ہے۔

# # **تاریخ کے اصولوں کو چیلنج کرتا ایک قدیم شہر: موہنجوداڑو ہمیں کیا سکھا سکتا ہے؟**
**تحریر: Tom Hale** **اردو ترجمہ: عدیل جعفر**
تاریخ کا ایک عام اصول رہا ہے: جیسے جیسے شہر بڑے ہوتے گئے، امیر اور غریب کا فرق بڑھتا گیا۔ مؤرخین کا ماننا ہے کہ قدیم دور میں بڑی تہذیبوں کی تعمیر کے لیے طاقت کا ایک جگہ جمع ہونا ضروری تھا، اور جہاں طاقت ہوتی ہے، وہاں دولت بھی چند ہاتھوں میں سمٹ جاتی ہے۔ لیکن دنیا کے قدیم ترین اور کامیاب ترین شہروں میں سے ایک نے تاریخ کے اس مسلمہ اصول کو ماننے سے انکار کر دیا۔
ہم بات کر رہے ہیں **موہنجوداڑو** کی، جس کا مطلب ہے "مردہ لوگوں کا ٹیلہ"۔ یہ وادیٔ سندھ کی عظیم تہذیب کا مرکز تھا، جو موجودہ پاکستان کے صوبہ سندھ کے جنوب مغربی حصے میں واقع ہے۔ کانسی کے دور (Bronze Age) میں تعمیر ہونے والا یہ شہر 240 ہیکٹرز (تقریباً 593 ایکڑ) پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کی خاص بات اس کے منظم رہائشی بلاکس، عوامی مراکز، غسل خانے، کالجز، ایک عظیم غلہ گودام (Granary) اور زیرِ زمین نکاسیِ آب کا ایک بہترین اور جدید نظام ہے۔
یونیورسٹی آف یارک کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے ایک حالیہ تحقیق میں 2600 قبلِ مسیح سے 1900 قبلِ مسیح (شہر کے متروک ہونے سے کچھ عرصہ پہلے) کے درمیان موہنجوداڑو کی ترقی کا نقشہ تیار کیا۔ نتائج حیران کن تھے! انہوں نے دیکھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہاں کے بڑے اور چھوٹے گھروں کا درمیانی فرق بڑھنے کے بجائے کم ہوتا چلا گیا۔ یعنی جیسے جیسے شہر ترقی کر رہا تھا، امیر اور غریب کی خلیج مٹ رہی تھی۔
تحقیق کے مطابق:
"موہنجوداڑو میں معاشی عدم مساوات اپنے دور کے دوسرے شہروں کے مقابلے میں نہ صرف بہت کم تھی، بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں مزید کمی آئی۔ اسی دوران شہر کی گلیوں اور بنیادی ڈھانچے پر بھرپور کام کیا گیا، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ معاشی برابری اور شہر کے نظم و نسق (Governance) کا آپس میں گہرا تعلق تھا۔"

قدیم دنیا میں ایسا ہونا بالکل انوکھا تھا۔ عام طور پر پتھر کے آخری دور (Neolithic Age) کے دیہاتوں میں برابری ہوتی تھی، جہاں لوگ مشترکہ نظام کے تحت رہتے تھے۔ لیکن جیسے ہی آبادی بڑھتی، نظامِ حکومت چند مخصوص اشرافیہ یا مذہبی پیشواؤں کے ہاتھ میں چلا جاتا۔ وہ وسائل پر قبضہ کر لیتے اور اپنے لیے عظیم محلات اور یادگاریں کھڑی کرتے، جبکہ عام عوام کچی آبادیوں میں رہنے پر مجبور ہو جاتی۔
مثال کے طور پر، جب ہم قدیم مصر کا نام سنتے ہیں تو ذہن میں گیزا کے اہرام، پرشکوہ مندر اور سونے سے لدی قبریں آتی ہیں۔ لیکن یہ اس دور کی عام عوام کی زندگی کی حقیقت نہیں تھی۔ یہی حال رومیوں اور یونانیوں کا تھا، جہاں اکثریت غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہی تھی اور حکمران طبقہ ان کی محنت پر اپنے مجسمے کھڑے کر رہا تھا۔
# **تو موہنجوداڑو میں ایسا کیا الگ تھا؟**
محققین کا کہنا ہے کہ موہنجوداڑو کے حکمرانوں نے اپنی دولت اور طاقت کو ذاتی نمائش، بڑے محلات یا انا کی تسکین کے منصوبوں پر ضائع کرنے کے بجائے، ان بنیادی کاموں پر خرچ کیا جس سے ہر شہری کی روزمرہ زندگی بہتر ہو سکے۔
یونیورسٹی آف یارک کے شعبہ آثارِ قدیمہ سے وابستہ اس تحقیق کے سربراہ **ڈاکٹر ایڈم گرین** کہتے ہیں:
"جس دور میں مصری اپنے دیوتا نما بادشاہوں کے لیے اہرام بنا رہے تھے اور یونانی کریٹ (Knossos) میں عظیم محلات تعمیر کر رہے تھے، وادیٔ سندھ کے لوگ کچھ بالکل مختلف بنا رہے تھے۔ انہوں نے سونے سے بھری قبروں کے بجائے پکی اینٹوں سے بنی زیرِ زمین نالیاں اور منظم راستے بنائے۔ انہوں نے معاشرے کی سہولیات کو کسی ایک طبقے تک محدود رکھنے کے بجائے ہر عام گھر تک پہنچایا۔"

اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ موہنجوداڑو کوئی جادوئی یا سو فیصد طبقاتی فرق سے پاک دنیا تھی، لیکن اس سے یہ ثابت ضرور ہوتا ہے کہ معاشرے کو اس انداز میں بھی چلایا جا سکتا ہے جہاں وسائل کا فائدہ چند خوش نصیبوں کے بجائے سب کو برابر ملے۔
آج کے 21 ویں صدی کے دور میں، جہاں عالمی سطح پر معاشی عدم مساوات آخری حدوں کو چھو رہی ہے—جہاں دنیا کے صرف 0.001 فیصد امیر ترین لوگوں کے پاس باقی آدھی دنیا سے تین گنا زیادہ دولت ہے—موہنجوداڑو کا یہ قدیم ماڈل ہمیں ایک بہت بڑا سبق دیتا ہے۔
ڈاکٹر گرین کے الفاظ میں:
"جدید دنیا کے لیے یہ ایک بہترین سبق ہے کہ ایک شہری معاشرہ معاشی طور پر مضبوط، تخلیقی اور بڑے پیمانے پر پیداواری صلاحیت کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ وسائل اور طاقت کی منصفانہ تقسیم بھی یقینی بنا سکتا ہے۔ بلکہ، صدیوں تک اپنی خوشحالی کو برقرار رکھنے کے لیے ایسا کرنا شاید سب سے زیادہ ضروری تھا۔"

یہ اہم اور چشم کشا تحقیق مشہور سائنسی جریدے **Antiquity** میں شائع ہو چکی ہے۔

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adeel s diary posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share