27/05/2026
**جب ایک زبان مرتی ہے، تو صرف الفاظ نہیں بلکہ ایک پورا کلچر ہمیشہ کے لیے دفن ہو جاتا ہے! 🗣️💔**
تمل ناڈو کے پہاڑوں اور جنگلوں میں صدیوں سے گونجنے والی مقامی بولیاں اب خاموشی کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ 'ٹوڈا' (Toda) اور 'کوٹا' (Kota) جیسی قدیم زبانیں اب معدومیت کے آخری دہانے پر کھڑی ہیں؟ کیونکہ انہیں بولنے والے اب چند بزرگ ہی رہ گئے ہیں اور ان کا کوئی تحریری رسم الخط بھی نہیں ہے۔
ان زبانوں کو ڈیجیٹل موت یعنی "Phonocide" اور ثقافتی مٹاو سے بچانے کے لیے ایک یونیورسٹی لیب (IELLAB) نے ایک شاندار مہم کا آغاز کیا ہے، جہاں ان نایاب آوازوں اور انوکھے تلفظ کو محفوظ کیا جا رہا ہے۔
**ان زبانوں کی خاص بات کیا ہے؟**
* **ٹوڈا (Toda):** اسے نیلاگری کی پہاڑیوں کا "لسانی ہیرا" کہا جاتا ہے۔ اس کا صوتی نظام (Sound System) اتنا پیچیدہ ہے کہ عام انسان کے لیے اس کا درست تلفظ ادا کرنا بھی مشکل ہے۔ اس زبان میں ایسے پرانے دراوڑی گرامر کے اصول محفوظ ہیں جو باقی جنوبی ہندی زبانوں سے کب کے غائب ہو چکے ہیں۔
* **کوٹا (Kota):** یہ روایتی کاریگروں، لوہاروں اور موسیقاروں کی زبان ہے۔ اس میں دھات کاری، مٹی کے برتن بنانے اور موسیقی کے پیچیدہ نظام سے متعلق ایسے مخصوص الفاظ موجود ہیں جو دنیا کی کسی دوسری زبان میں نہیں ملتے۔ یہ علم نسل در نسل گیتوں اور کہانیوں کے ذریعے آگے منتقل ہوتا رہا۔
یہ صرف الفاظ کا ضیاع نہیں ہے، بلکہ انسانی تاریخ، قدیم تہذیب اور جنگلاتی زندگی کے لائف اسٹائل کا خاتمہ ہے۔ اگر آج ہم نے ان زبانوں کو محفوظ نہ کیا، تو آنے والی نسلیں تاریخ کے ایک بہت بڑے حصے سے محروم ہو جائیں گی۔
**آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا جدید دور میں ان قدیم اور مقامی زبانوں کو بچانا ممکن ہے؟