13/10/2026
جہاں انسانوں کے لیے ہمدردی نایاب ہو جائے، وہاں بے زبانوں کا مسیحا بن کر ابھرنے والا ایک خاموش ہیرو!
ہمارے معاشرے میں جہاں انسان بنیادی سہولتوں اور ہمدردی کے لیے ترستے ہیں، وہاں بعض ایسے حساس اور پاکیزہ دل انسان بھی موجود ہیں جو ان بے زبان جانوروں کے لیے آسرا بنتے ہیں جن کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا۔ کراچی کے رہنے والے سید فیصل ایک ایسے ہی بے مثال انسان اور حقيقي ہیرو ہیں، جنہوں نے بے سہارا، زخمی اور بھوکے جانوروں کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا ہے۔
سید فیصل نے کسی بڑی این جی او یا سرکاری امداد کا انتظار کیے بغیر اپنی زنگ آلود موٹر سائیکل کو ہی ایک مکمل موبائل ایمیجینسی ایمبولینس اور ہسپتال میں تبدیل کر دیا ہے۔ ان کی اس موٹر سائیکل پر فرسٹ ایڈ بکس، ہر قسم کی ادویات، حرارت اور سردی سے بچاؤ کے لیے ہیٹنگ پیڈ اور کمبل، صاف پانی، اور ہر نوعیت کی خوراک موجود ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے جانوروں کو محفوظ طریقے سے ریسکیو کرنے اور ہسپتال منتقل کرنے کے لیے خصوصی کیچر، ٹریولنگ باکسز اور پنجرے بھی موٹر سائیکل پر سیٹ کر رکھے ہیں، تاکہ ایک وقت میں ایک سے زیادہ بلیوں اور کتوں کو باحفاظت منتقل کیا جا سکے۔
کراچی جیسے گنجان اور وسیع شہر کی تنگ گلیوں اور محلو ں میں، جہاں بڑی گاڑیاں اور ایمبولینسز نہیں پہنچ سکتیں، وہاں سید فیصل اپنی بائیک پر منٹوں میں فرشتہ بن کر پہنچ جاتے ہیں۔ شہر بھر سے جیسے ہی انہیں کسی زخمی یا بھوکے جانور کی اطلاع ملتی ہے، وہ تمام تر تکالیف کو بھول کر فوری ریسکیو کے لیے نکل پڑتے ہیں۔ وہ نہ صرف موقع پر ہی زخمی جانوروں کی ابتدائی مرہم پٹی کرتے ہیں بلکہ شدید زخمی جانوروں کو فوری علاج کے لیے ویٹرنری ڈاکٹرز اور شیلٹر ہومز تک پہنچاتے ہیں۔
سید فیصل کا کہنا ہے کہ "جانور بھی اللہ تعاليٰ کی مخلوق ہیں؛ انہیں بھی درد ہوتا ہے، انہیں بھی گرمی، سردی، بھوک اور پیاس محسوس ہوتی ہے اور ان کے زخموں کو بھی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔" کراچی میں لاکھوں آوارہ اور بے سہارا جانور موجود ہیں جبکہ شیلٹر ہومز اور سہولیات کی انتہائی کمی ہے۔ ایسے کٹھن حالات میں جب لوگ سرکار یا شیلٹرز کے نمبرز پر رابطہ کر کے مایوس ہو جاتے ہیں، تو سید فیصل وہ واحد امید بنتے ہیں جو ہر وقت مدد کے لیے تیار رہتے ہیں۔
وہ یہ تمام کام بلا معاوضہ، اکیلے اور اپنے بل بوتے پر کر رہے ہیں۔ ان کا عزم اور ارادہ یہی ہے کہ وہ اس مشن کو مزید وسیع کریں تاکہ کوئی بھی بے زبان جانور سڑکوں پر تڑپ تڑپ کر جان نہ دے۔ وہ حکومت اور عوام سے صرف اتنی توقع اور اپیل کرتے ہیں کہ بے زبان جانوروں کے حقوق کو تسلیم کیا جائے، ان کے لیے سرکاری سطح پر شیلٹر ہومز اور طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور معاشرے میں ان کے ساتھ رحم دلی کا رویہ اپنایا جائے۔
سید فیصل جیسے جذبے اور احساس سے سرشار انسان ہمارے پورے معاشرے کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ایسے عظیم اور نیکی سے بھرپور کام کو دل سے سراہنا اور ان کی آواز بننا ہم سب کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔