Adeel s diary

Directions

Adeel s diary Entertainment , Music , History , Archeology , Funny stuff , Poetry , Pictures , Nature , Books.

جہاں انسانوں کے لیے ہمدردی نایاب ہو جائے، وہاں بے زبانوں کا مسیحا بن کر ابھرنے والا ایک خاموش ہیرو!ہمارے معاشرے میں جہاں...
13/10/2026

جہاں انسانوں کے لیے ہمدردی نایاب ہو جائے، وہاں بے زبانوں کا مسیحا بن کر ابھرنے والا ایک خاموش ہیرو!
ہمارے معاشرے میں جہاں انسان بنیادی سہولتوں اور ہمدردی کے لیے ترستے ہیں، وہاں بعض ایسے حساس اور پاکیزہ دل انسان بھی موجود ہیں جو ان بے زبان جانوروں کے لیے آسرا بنتے ہیں جن کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا۔ کراچی کے رہنے والے سید فیصل ایک ایسے ہی بے مثال انسان اور حقيقي ہیرو ہیں، جنہوں نے بے سہارا، زخمی اور بھوکے جانوروں کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا ہے۔
سید فیصل نے کسی بڑی این جی او یا سرکاری امداد کا انتظار کیے بغیر اپنی زنگ آلود موٹر سائیکل کو ہی ایک مکمل موبائل ایمیجینسی ایمبولینس اور ہسپتال میں تبدیل کر دیا ہے۔ ان کی اس موٹر سائیکل پر فرسٹ ایڈ بکس، ہر قسم کی ادویات، حرارت اور سردی سے بچاؤ کے لیے ہیٹنگ پیڈ اور کمبل، صاف پانی، اور ہر نوعیت کی خوراک موجود ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے جانوروں کو محفوظ طریقے سے ریسکیو کرنے اور ہسپتال منتقل کرنے کے لیے خصوصی کیچر، ٹریولنگ باکسز اور پنجرے بھی موٹر سائیکل پر سیٹ کر رکھے ہیں، تاکہ ایک وقت میں ایک سے زیادہ بلیوں اور کتوں کو باحفاظت منتقل کیا جا سکے۔
کراچی جیسے گنجان اور وسیع شہر کی تنگ گلیوں اور محلو ں میں، جہاں بڑی گاڑیاں اور ایمبولینسز نہیں پہنچ سکتیں، وہاں سید فیصل اپنی بائیک پر منٹوں میں فرشتہ بن کر پہنچ جاتے ہیں۔ شہر بھر سے جیسے ہی انہیں کسی زخمی یا بھوکے جانور کی اطلاع ملتی ہے، وہ تمام تر تکالیف کو بھول کر فوری ریسکیو کے لیے نکل پڑتے ہیں۔ وہ نہ صرف موقع پر ہی زخمی جانوروں کی ابتدائی مرہم پٹی کرتے ہیں بلکہ شدید زخمی جانوروں کو فوری علاج کے لیے ویٹرنری ڈاکٹرز اور شیلٹر ہومز تک پہنچاتے ہیں۔
سید فیصل کا کہنا ہے کہ "جانور بھی اللہ تعاليٰ کی مخلوق ہیں؛ انہیں بھی درد ہوتا ہے، انہیں بھی گرمی، سردی، بھوک اور پیاس محسوس ہوتی ہے اور ان کے زخموں کو بھی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔" کراچی میں لاکھوں آوارہ اور بے سہارا جانور موجود ہیں جبکہ شیلٹر ہومز اور سہولیات کی انتہائی کمی ہے۔ ایسے کٹھن حالات میں جب لوگ سرکار یا شیلٹرز کے نمبرز پر رابطہ کر کے مایوس ہو جاتے ہیں، تو سید فیصل وہ واحد امید بنتے ہیں جو ہر وقت مدد کے لیے تیار رہتے ہیں۔
وہ یہ تمام کام بلا معاوضہ، اکیلے اور اپنے بل بوتے پر کر رہے ہیں۔ ان کا عزم اور ارادہ یہی ہے کہ وہ اس مشن کو مزید وسیع کریں تاکہ کوئی بھی بے زبان جانور سڑکوں پر تڑپ تڑپ کر جان نہ دے۔ وہ حکومت اور عوام سے صرف اتنی توقع اور اپیل کرتے ہیں کہ بے زبان جانوروں کے حقوق کو تسلیم کیا جائے، ان کے لیے سرکاری سطح پر شیلٹر ہومز اور طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور معاشرے میں ان کے ساتھ رحم دلی کا رویہ اپنایا جائے۔
سید فیصل جیسے جذبے اور احساس سے سرشار انسان ہمارے پورے معاشرے کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ایسے عظیم اور نیکی سے بھرپور کام کو دل سے سراہنا اور ان کی آواز بننا ہم سب کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔

عالمی مارکیٹ میں تیل سستا: کیا پاکستان کے حکمرانوں کو غریب عوام کا ذرا بھی احساس ہوگا؟عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں م...
13/10/2026

عالمی مارکیٹ میں تیل سستا: کیا پاکستان کے حکمرانوں کو غریب عوام کا ذرا بھی احساس ہوگا؟

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے। رائٹرز (Reuters) کی رپورٹ کے مطابق، برنٹ کروڈ (Brent Crude) کی قیمت میں 1.30 ڈالر (تقریباً 1.2 فیصد) کمی کے بعد نئی قیمت 105.35 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 1.25 ڈالر (تقریباً 1.3 فیصد) گھٹ کر 92.49 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں اس بڑی کمی کی بنیادی وجہ روس کی جانب سے عالمی منڈی میں ڈیزل کی سپلائی میں تیزی سے اضافہ ہے۔ امریکہ کی جانب سے عارضی پابندیاں ہٹائے جانے کے بعد روس نے فی الفور 3 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد ڈیزل عالمی مارکیٹ میں پہنچا دیا ہے، جس کے بعد سال کے اختتام تک یہ سپلائی 30 لاکھ ٹن ماہانہ تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اس بڑی سپلائی نے عالمی سطح پر ایندھن کی قلت اور قیمتوں کے دباؤ کو سمیٹ کر مارکیٹ میں ریلیف پیدا کر دیا ہے۔

کاش کوئی ہمارے پاکستانی حکمرانوں کے کندھے ہلا کر ان کو بتائے اور شرم دلائے کہ دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں نیچے آ رہی ہیں، لیکن ہمارے ہاں عوام کے لیے کوئی حقیقی سہولت پیدا نہیں کی جا رہی۔ جب عالمی منڈی میں تیل کا ایک روپیہ بڑھتا ہے تو ہمارے ہاں راتوں رات پیٹرول کے ساتھ ساتھ مہنگائی کا طوفان کھڑا کر دیا جاتا ہے، لیکن جب عالمی سطح پر قیمتیں اتنی نمایاں نیچے آتی ہیں تو عوام کو اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر بہت تھوڑا تھوڑا ریلیف دیا جاتا ہے۔ خدارا! اس قوم کو مزید اتنی سخت آزمائش میں مت ڈالیں۔ جب تیل کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں تو ملک بھر میں اشیائے ضرورت کی وہ تمام قیمتیں جو آسمان چھو رہی ہیں ان کو فوری طور پر کم کیا جائے تاکہ عام گھرانوں کا گزارا ممکن ہو سکے اور ایک غریب و تنخواہ دار بندہ بھی سکھ کا سانس لے سکے۔

13/10/2026

تقسیمِ ہند سے پہلے کی بنی ہوئی چنیوٹ کی یہ تاریخی حویلی آج بھی اپنے بنانے والوں کی راہ دیکھ رہی ہے۔
"ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے" —
نہ جانے ایسے کتنے تاریخی گھر ہیں جو خاموشی سے اپنے بسانے والوں کے انتظار میں ہیں کہ کاش کوئی ایک بار پلٹ کر انہیں دیکھ لے۔

विभाजन से पहले बनी चनियोट की यह ऐतिहासिक हवेली आज भी अपने बनाने वालों की राह देख रही है। "हम जो तारीख़ राहों में मारे गए" — न जाने ऐसे कितने घर हैं जो आज भी अपने बसाने वालों के इंतज़ार में हैं कि काश कोई एक बार वापस आकर इन्हें देख ले।

Beautiful haveli in Chiniot.

"Chiniot Haveli, Pre Partition Heritage, Historical Architecture, Old Haveli Chiniot, Sad Poetry Reel, Faiz Ahmad Faiz Poetry, Partition Stories, Viral Instagram Reels, Heritage Tourism, Architectural Beauty"

امرتسر کی تاریخی گلیوں کی خوشبو اور سردیوں کا نایاب تحفہ: "بادام بھگا"لاہور کے اندرون جیسا امرتسر کا سحر، اور سردیوں کی ...
13/10/2026

امرتسر کی تاریخی گلیوں کی خوشبو اور سردیوں کا نایاب تحفہ: "بادام بھگا"

لاہور کے اندرون جیسا امرتسر کا سحر، اور سردیوں کی وہ نایاب مٹھائی جو صرف چند ماہ ملتی ہے!
اگر آپ کبھی لاہور کے اندرونی شہر کی بل کھاتی گلیوں، صدیوں پرانی حویلیوں اور جھروکوں سے گزرے ہیں، تو آپ امرتسر کے اندرون شہر کے سحر کو بھی فوراً محسوس کر لیں گے۔ بالکل لاہور ہی کی طرح امرتسر کی ان تاریخی اور تنگ گلیوں میں ایک الگ ہی رومانی اور پرانی دنیا آباد ہے، جہاں کی ہواؤں میں قدیم روایتوں اور ذائقوں کی خوشبو رچی ہوئی ہے۔ انہی تاریخی گلیوں کے بیچ و بیچ ایک قدیم حویلی میں سردیوں کا ایک ایسا نایاب تحفہ تیار ہوتا ہے جس سے سرحد کے اس پار شاید بہت ہی کم لوگ واقف ہوں گے۔
یہ نایاب اور مقوی مٹھائی ہے "بادام بھگا"، جو پورے سال میں صرف دو سے تین مہینے، یعنی کڑکتی سردیوں کے موسم میں ہی دستیاب ہوتی ہے۔ اس مٹھائی کو بنانے کی روایت نسل در نسل چلی آ رہی ہے اور آج بھی لال چند سویٹس کے مالک انڈین پنجاب کے اندرون امرتسر کی گلیوں میں اپنے آباؤ اجداد کے اسی صد سالہ روایتی طریقے سے اسے تیار کرتے ہیں۔
تیاری کا شاہکار اور قدرتی غذائیت:
بادام بھگا کی تیاری کوئی معمولی بات نہیں بلکہ ایک صبر آزما فن ہے۔ سب سے پہلے کڑاہیوں میں خالص دودھ کو گھنٹوں ہلکی آنچ پر کاڑھا جاتا ہے تاآنکہ وہ گاڑھے کھوئے میں تبدیل ہو جائے۔ اس کھوئے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں شکر یا قدرتی میٹھا اتنی مہارت سے شامل کیا جاتا ہے کہ اس کا اپنا خالص ذائقہ برقرار رہے۔
جب کھویا مکمل طور پر تیار ہو جاتا ہے، تو اس کے بڑے بڑے، گول گول سنہرے پیڑے بنائے جاتے ہیں۔ اس کے بعد مرحلہ آتا ہے ڈرائی فروٹس کا۔ ان سنہرے پیڑوں کے اوپر پشوری بادام، کاجو، پستہ اور کشمش کی اتنی سخاوت سے تہہ چڑھائی اور چپکائی جاتی ہے کہ پیڑا ڈرائی فروٹس میں مکمل طور پر ڈھک جاتا ہے۔
سردیوں کا مقوی تحفہ:
یہ مٹھائی صرف ذائقے میں ہی لاجواب نہیں بلکہ سردیوں کے موسم میں جسم کو توانائی اور حرارت فراہم کرنے کا ایک زبردست ذریعہ ہے۔ بادام، کاجو اور کھوئے کا یہ امتزاج جسمانی طاقت کے لیے بہترین مانا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مقامی لوگ سردیوں میں اسے خاص طور پر شوق سے کھاتے اور تحفے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
اگر آپ کو قدیم شہروں کی دلکش گلیوں اور ان کے چھپے ہوئے روایتی ذائقوں سے محبت ہے، تو امرتسر کا یہ "بادام بھگا" محض ایک مٹھائی نہیں، بلکہ تاریخ، محنت اور روایتی محبت کا ایک انمول شاہکار ہے۔
کیا آپ کے شہر یا علاقے میں بھی سردیوں میں اس طرح کی کوئی خاص مٹھائی تیار کی جاتی ہے؟ اگر کی جاتی ہے تو کمنٹ سیکشن میں اپنے شہر کے نام کے ساتھ ضرور بتائیے!

لاہور اور پنجاب کے مختلف شہروں میں سٹی ٹریفک پولیس نے کم عمر اور بغیر لائسنس ڈرائیوروں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا آغاز کر ...
13/10/2026

لاہور اور پنجاب کے مختلف شہروں میں سٹی ٹریفک پولیس نے کم عمر اور بغیر لائسنس ڈرائیوروں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ فی الحال یہ آپریشن پورے پاکستان میں نہیں بلکہ صوبائی سطح پر لاہور پولیس کی قیادت میں کیا جا رہا ہے۔ اس مہم کا مقصد سڑکوں کو محفوظ بنانا اور اوور سپیڈنگ کے باعث ہونے والے المناک حادثات کی روک تھام کرنا ہے۔
والدین کے لیے لمحہ فکریہ: کیا گاڑی کی چابی دینا محبت ہے یا خطرہ؟
گزشتہ چند برسوں میں تیز رفتاری اور بے احتیاطی کی وجہ سے بے شمار ہلاکت خیز حادثات رونما ہو چکے ہیں، جن میں حالیہ دنوں جنوبی پنجاب اور لاہور میں معصوم شہریوں کی جانیں گئیں۔ یہ حادثات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ والدین اپنے 18 سال سے کم عمر بچوں کو گاڑی یا موٹر سائیکل کی چابی دینے سے پہلے سو بار سوچیں۔

18 سال سے کم عمر بچے، بغیر لائسنس ڈرائیورز، اور بغیر ہیلمٹ و ون وے کی خلاف ورزی کرنے والے۔
جرمانے اور کارروائی: بغیر لائسنس گاڑی چلانے پر 5,000 روپے اور موٹر سائیکل پر 2,000 روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا، جبکہ گاڑی کو بند بھی کیا جا سکتا ہے۔ کم عمر ڈرائیوروں کے والدین سے دوبارہ خلاف ورزی نہ کرنے کا تحریری بیان لیا جائے گا۔
لرنر پرمٹ: لرنر پرمٹ پر اکیلے یا بغیر نگرانی گاڑی چلانے پر بھی پابندی ہے۔
عوام کا بنیادی سوال: کیا یہ اقدام بلا تفریق ہوگا؟
عوام کا اعتراض بجا ہے کہ اکثر اوقات ایسی تیز رفتار گاڑیاں ایلیٹ کلاس کے بچوں کے پاس ہوتی ہیں اور حادثات کے بعد معاملات صلح صفائی پر ختم ہو جاتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پولیس اس آپریشن میں کسی دباؤ کے بغیر اشرافیہ پر بھی یکساں قانون لاگو کرتی ہے یا یہ صرف چند دنوں کی دکھاوے کی کارروائی ثابت ہوتی ہے۔

" جس گدھے کو ہم صرف ڈانٹنے کے لیے استعمال کرتے تھے، وہ اب ڈالر کما کر دے رہا ہے!" 🫏💵دی ڈیلی سی پیک (The Daily CPEC) کی ر...
12/10/2026

" جس گدھے کو ہم صرف ڈانٹنے کے لیے استعمال کرتے تھے، وہ اب ڈالر کما کر دے رہا ہے!" 🫏💵

دی ڈیلی سی پیک (The Daily CPEC) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے چین کو 81 ٹن گدھے کی مصنوعات برآمد کی ہیں۔ چین میں گدھے کی کھال سے روایتی ادویات، خوبصورتی کی مصنوعات اور جیلی تیار کی جاتی ہے جبکہ اس کا گوشت بھی استعمال ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں تو گدھے کی عزت صرف 'محنتی بندے' کو طعنہ دینے تک محدود تھی، لیکن چین نے ثابت کر دیا کہ 'گدھا بھی کسی سے کم نہیں'! اب سمجھ میں آیا کہ بچپن میں استاد جو کہتے تھے "تم بڑے ہو کر گدھے ہی بنو گے"، شاید انہیں پہلے سے پتہ تھا کہ آئندہ دور میں گدھوں کی برآمدات سے ہی ملک کی معیشت کا پہیہ چلے گا! 😂

ماں بولی کی بقا کا سوال: کیا پنجاب اپنی ہی پہچان کھو رہا ہے؟2024ء میں پنجاب اسمبلی میں سیاستدان امجد علی جاوید نے ایک تا...
12/10/2026

ماں بولی کی بقا کا سوال: کیا پنجاب اپنی ہی پہچان کھو رہا ہے؟

2024ء میں پنجاب اسمبلی میں سیاستدان امجد علی جاوید نے ایک تاریخی قرارداد پیش کی تھی جس میں پنجابی زبان کو صوبے بھر کے اسکولوں میں لازمی مضمون کے طور پر شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس قرارداد کو اسمبلی نے منظور بھی کر لیا تھا، لیکن 2026ء کا سال ختم ہونے کو ہے اور اس پر اب تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جا سکا۔
اردو ہماری قومی زبان اور یکجہتی کا ذریعہ ہے جسے ہم سب دل سے تسلیم کرتے ہیں، مگر اردو کے ساتھ ساتھ اپنے ہی خطے پنجاب میں پنجابی نصاب کو جگہ نہ دینا ایک گہرا المیہ ہے۔ آخر وہ کون سی طاقتیں اور وجوہات ہیں جو پنجاب کو اس کی مادری زبان سے دور کر رہی ہیں؟
نوآبادیاتی ذہنی غلامی: سرکاری نظام اور تعلیم پر انگریزی اور نفاذِ تعلیم کی ترجیحات اس طرح مسلط ہیں جیسے وہ ہماری مادری زبان ہو، جبکہ مقامی زبانوں کو حاشیے پر دھکیل دیا جاتا ہے۔
بیوروکریسی اور نیت کا فقدان: قراردادیں تو منظوری کی حد تک محدود رہ جاتی ہیں، مگر نفاذ کے لیے لازمی نصاب سازی، کتب کی اشاعت اور اساتذہ کی بھرتی کو ہمیشہ التوا کا شکار بنایا جاتا ہے۔
نظریاتی رکاوٹیں: پنجابی زبان کے نفاذ کو جدید تعلیمی معیار کے لیے چیلنج بتانے کا مصنوعی عذر پیش کر کے اس معاملے کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
پنجابی صرف ایک زبان نہیں بلکہ ہمارا ہزاروں سال پرانا ثقافتی ورثہ، پہچان اور ماں بولی ہے۔ اگر پنجاب کے اسکولوں میں ہی پنجابی نہیں پڑھائی جائے گی تو کہاں پڑھائی جائے گی؟ اپنی مادری زبان کی حفاظت اور اسے آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کے لیے آواز اٹھاتےرہیں! ❤️

"35 سال کی عمر میں 21 شادیاں! جہاں لوگ ایک شادی کے لیے ترس رہے ہیں، یہاں ایک بھکاری نے ریکارڈ توڑ دیا ، پاکستان میں نہیں...
12/10/2026

"35 سال کی عمر میں 21 شادیاں! جہاں لوگ ایک شادی کے لیے ترس رہے ہیں، یہاں ایک بھکاری نے ریکارڈ توڑ دیا ، پاکستان میں نہیں، بنگلہ دیش کی حکومت کو یہاں 'ایمرجنسی' لگانی چاہیے!"
ان دنوں سوشل میڈیا پر بنگلہ دیش کے ایک 35 سالہ بھکاری کی خبر نے تہلکہ مچا رکھا ہے۔ بھیک مانگ کر اپنا گزر بسر کرنے والے اس شخص کا نام 'مور میاں' ہے۔ جہاں دنیا بھر میں نوجوان ایک شادی کے لیے پاپڑ بیل رہے ہیں اور عمریں گزر رہی ہیں، وہاں مور میاں نے محض 35 سال کی عمر میں ایک یا دو نہیں، بلکہ پوری 21 شادیاں کرنے کا حیران کن دعویٰ کیا ہے!
21 شادیاں اور 8 نام: حافظہ جواب دے گیا
اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنی لمبی فہرست کے باوجود موصوف کو صرف 8 بیویوں کے نام ہی یاد رہ سکے ہیں (جن میں شیلا، نرگس، سلینہ، عالیہ، تارا، جوتسنا، رابعہ اور پارول شامل ہیں)۔ بقیہ 13 بیویاں اس کے حافظے سے ایسی غائب ہوئی ہیں جیسے وہ کبھی تھیں ہی نہیں! لگتا ہے کہ 8 کے بعد گنتی یاد رکھنا ان کے لیے ممکن نہیں رہا۔
ایک خاص نظام: ہر روز علیحدہ بیوی کے ساتھ
مور میاں کا بھیک مانگنے نکلنے کا طریقہ بھی کچھ کم منفرد نہیں ہے۔ وہ روزانہ اپنی باری کے حساب سے ایک الگ بیوی کو ساتھ لے کر بھیک مانگنے نکلتے ہیں۔ ان کے لیے یہ ایک طرح سے 'نوکری' کا حصہ ہے اور اس کے لیے وہ باقاعدہ منصوبہ بندی کرتے ہیں کہ کس دن کس بیوی کی باری ہے۔ موصوف بتاتے ہیں کہ میں نے کبھی کسی کو شادی کی پیشکش نہیں کی بلکہ عورتیں خود میرے پیچھے پڑتی ہیں،پتہ نہیں مجھ میں ایسا کیا خاص ہے😝؟
بنگلہ دیش حکومت سے گزارش
جس طرح پاکستان میں ان دنوں سیاسی وجوہات پر ایمرجنسی لگی ہے، ہمیں تو لگتا ہے کہ بنگلہ دیش کی حکومت کو فوری طور پر اس بھکاری کی ان کارروائیوں پر 'ایمرجنسی' لگا دینی چاہیے! کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ کوئی اور ریکارڈ بنا دے!

یقیناً بہت سے پاکستانی مردوں کو اس وقت مور میاں کے فون نمبر کی شدید ضرورت محسوس ہو رہی ہوگی! ہر کوئی جاننا چاہتا ہوگا کہ آخر وہ کونسی 'جادوئی ترکیب' ہے جس کی وجہ سے یہ کارنامہ انجام پایا ہے۔ شاید وہ یہ بھی جاننا چاہیں کہ کونسا ہنر ہے اس کے پاس؟ لیکن افسوس کہ میرے پاس اس کا نمبر میسر نہیں ہے، اس لیے جن بھائیوں کی خواہش جاگ اٹھی ہے، وہ جائیں اور سوشل میڈیا پر خود ہی اسے تلاش کر کے دیکھ لیجیے!

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی، مولانا کا طنز اور دستخط والی سسپنس ویڈیو!خیبر پختونخوا میں  ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، جس پ...
12/10/2026

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی، مولانا کا طنز اور دستخط والی سسپنس ویڈیو!
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، جس پر مولانا فضل الرحمن کا ایک انتہائی دلچسپ تبصرہ سامنے آیا ہے، انہوں نے فرمایا: "یہ عجیب بات ہے کہ یہ تیسری یا چوتھی بار ہے، جب بھی ایمرجنسی لگی ہے اس میں پیپلز پارٹی کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے، حالانکہ وہ خود کو جمہوریت کی علمبردار کہتی ہے!"
چلیے خیر، اب ایمرجنسی تو لگ گئی ہے اور دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے۔ ویسے اس پورے معاملے کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ایمرجنسی کے احکامات پر دستخط کرواتے وقت باقاعدہ ویڈیو بھی بنائی گئی جو اب ریکارڈ پر رہے گی۔ شاید ایمرجنسی کا فیصلہ کرنے والے ماضی سے سبق سیکھ چکے تھے اور جانتے تھے کہ آصف علی زرداری صاحب پہلے بھی نواز شریف سے معاہدہ کرنے کے بعد یہ تاریخی بیان دے چکے ہیں کہ "معاہدہ کوئی صحیفہ تو نہیں ہوتا!" اسی لیے اس بار آصف زرداری کی محسن نقوی کے ساتھ دستخط کرتے ہوئے ویڈیو بنوائی گئی، جہاں محسن نقوی کی موجودگی اور ساتھ ساتھ آصف زرداری کو ڈکٹیٹ کرنا، یہ ساری کہانی وہ ویڈیو خود بیان کر رہی ہے۔ باقی اب دیکھیے آگے کیا بنتا ہے، اچھا تو ملک میں پہلے بھی کچھ خاص نہیں ہو رہا تھا، تو دیکھتے ہیں اب مزید کیا ہوتا ہے۔

خدارا! اب تو رحم کرو ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق، نیپرا (NEPRA) نے اگست کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (FCA) کی مد میں بجلی کی ...
11/10/2026

خدارا! اب تو رحم کرو

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق، نیپرا (NEPRA) نے اگست کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (FCA) کی مد میں بجلی کی قیمتوں میں فی یونٹ 1.11 روپے کے اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت اکتوبر کے بلوں میں شہریوں پر تقریباً 16 ارب روپے کا مزید مالی بوجھ ڈالا جائے گا۔ یہ اضافی وصولی کے-الیکٹرک سمیت تمام سرکاری ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے صارفین سے کی جائے گی، جبکہ لائف لائن اور پری پیڈ صارفین اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔

موسم کا مزاج بدلا، راتیں کچھ ٹھنڈی ہوئیں تو غریب عوام نے بھی سکھ کا سانس لیا تھا کہ چلو اب تو بجلی کے بل کچھ کم آئیں گے، لیکن شاید یہ محض ایک خوش فہمی ہی تھی۔ حکومت نے فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر ایک بار پھر عوام کو نچوڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ پنکھے بھی اب عنقریب بند ہونے والے ہیں اور موسم بہتر ہو رہا ہے، مگر حالات بتا رہے ہیں کہ حکومت کی طرف سے بجلی کے بلوں میں کسی ریلیف کی کوئی امید نہیں۔

ایک طرف حکمرانوں کے اتنے بڑے بڑے دعوے ہیں گویا ملک میں ترقی سنبھالی نہیں جا رہی، اور دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ مسلسل غریب اور متوسط طبقے کا خون پسینہ نچوڑا جا رہا ہے۔ کسی بھی فیصلے میں عوام کی بہتری کا دور دور تک کوئی نام و نشان نظر نہیں آتا، صرف اور صرف سارا بوجھ پہلے سے پسے ہوئے شہریوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adeel s diary posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share