05/05/2026
بہاولپور کے چکاں والا چوک میں ایک چھوٹی سی ریڑی کے نیچے بیٹھا ایک بزرگ صرف چاول ہی نہیں بیچتا… وہ دلوں کو جوڑتا ہے، ایمان کو تازہ کرتا ہے۔ پچھلے 50 سال سے کھوکھر چاول والے اپنی محنت کی روزی کما رہے ہیں، مگر ان کی اصل پہچان ان کا رزق نہیں، بلکہ اللہ کا ذکر ہے۔
جو بھی گاہک ان کے پاس چاول یا بیف پلاؤ کھانے آتا ہے، وہ اسے صرف کھانا نہیں دیتے بلکہ محبت سے کہتے ہیں:
“نماز پڑھا کرو، قرآن پاک پڑھا کرو، اللہ کو یاد رکھا کرو…”
چاہے کوئی ان سے کھانا لے یا نہ لے، وہ ہر آنے والے کو اللہ کی طرف بلانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔
یہ بزرگ سادہ سی زندگی گزار رہے ہیں، سستے داموں میں مزیدار بیف پلاؤ بیچتے ہیں، مگر دل میں ایک بہت بڑا خواب رکھتے ہیں… عمرہ کا خواب۔
کئی سالوں سے تھوڑے تھوڑے پیسے جوڑتے ہیں، مگر پھر وہی پیسے کسی ضرورت میں خرچ ہو جاتے ہیں۔ لیکن ان کا یقین آج بھی مضبوط ہے کہ:
“اللہ تعالیٰ مجھے ایک دن ضرور اپنے گھر بلائے گا…”
ان کی دریا دلی بھی کمال ہے… اگر کوئی بھوکا آ جائے اور اس کے پاس پیسے نہ ہوں، تو یہ بزرگ اسے خالی ہاتھ نہیں جانے دیتے، بلکہ فری میں چاول کھلا دیتے ہیں۔
آج ان کی زندگی کا سب سے بڑا ارمان یہی ہے کہ ایک بار اللہ کے گھر کی زیارت نصیب ہو جائے، روضۂ رسول ﷺ پر حاضری ہو جائے… اور وہ اس لمحے کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔
آئیں ہم سب مل کر اس نیک دل انسان کا ساتھ دیں۔ اگر آپ بہاولپور میں ہیں تو ضرور ان کے چاول ٹرائی کریں، ان کی حوصلہ افزائی کریں، اور ان کے لیے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کا یہ خوبصورت خواب جلد پورا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو بھی اپنے گھر کی حاضری نصیب فرمائے اور ایسے نیک دل لوگوں کے صدقے ہمارے حال پر بھی رحم فرمائے… آمین 🤲