28/03/2020
جیسے داعش اسرائیل کو چھوڑ کر ہر ملک پر حملہ کر رہا تھا۔
ویسے ہی کرونا اسرائیل کو چھوڑ کر ہر ملک پر حملہ کر رہا ہے۔
آج کل ہر کوئی کرونا وائرس کرونا وائرس بولنے لگا ہوا ہے لیکن اکثر لوگوں سے پوچھ لو کہ یہ ہوتا کیا ہے تو کسی کو پتا ہی نہیں ہو گا وائرس کس چیز کا نام ہے یہ کس کو بھی معلوم نہیں ہے۔۔۔ وائرس ایک بے جان ڈی این اے ہے جب اسکو کسی جاندار میں شامل کیا جائے تو بیکٹیریا کی مدد سے وہ منٹوں میں لاکھوں کی تعداد میں بچے پیدا کرتا ہے اور جب کوئی جاندار اسکو چھوتا ہے وائرس اس بندے میں منتقل ہو جاتا ہے یہ تو تھا وائرس کا تعارف اور پھیلنے کا طریقہ۔۔ اب ہم اپنی بات کرلیں ہماری قوم کو جب سے پتا چلا ہے کہ وائرس پاکستان میں داخل ہوگیا ہے ماسک غائب کر دئے ہیں۔۔۔ لیکن میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ وائرس کے لئے N-95 ایک خاص قسم کا ماسک استعمال ہوتا ہے اور جو ہماری قوم نے لالچ میں آکر ماسک ذخیرہ کرلئے ہیں وہ صرف مٹی سے بچنے کے لئے استعمال ہونے والا ماسک ہے۔۔ ہماری عوام کو بس ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دو یہ آسانی سے لگ جاتی ہے۔۔۔ سب سے ضروری بات وائرس ہوا کے ذریعے نہیں پھیلتا بلکہ چھونے سے پھیلتا ہے اور ماسک صرف متاثرہ شخص کے لئے ہے ہماری عوام کے دل میں میڈیا نے اتنا زیادہ ڈر پیدا کر دیا ہے کہ لوگ گھروں سے نکلنے سے ڈر رہے ہیں۔۔۔
اب بات کرتے ہیں وائرس آیا کہاں سے اسکا علاج کیا ہے میں جو آپ کو بتانے جارہا ہوں وہ شاید آپ کو حیرت میں ڈال دے۔۔ یہ بات مشہور کی جارہی ہے کہ وائرس چمگادڑ کھانے سے پیدا ہوا اور پھیل رہا ہے اور یہ وائرس کچھ ماہ پہلے پیدا ہوا ہے۔۔۔
ایسا ہرگز نہیں ہے نہ تو یہ وائرس چمگادڑ کھانے سے پیدا ہوا اور نہ پھیل رہا ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو کسی مسلمان کو یہ وائرس کبھی نہ لگتا۔۔
یہ وائرس خاص طور پر لیبارٹری میں تیار کیا گیا ہے اور یہ آج کل میں نہیں بلکہ پچاس سال پہلے سے تیار کیا جا چکا تھا لیکن اسکو سکے سہی وقت اور سہی جگہ پر لوگوں میں پھیلانے کا انتظار کیا جارہا تھا
میں آپ کو یہ بات دلیل سے پیش کرتا ہوں کہ وائرس ایک دو ماہ پہلے نہیں بنا بلکہ پچاس سال پہلے خود تیار کیا گیا ہے۔۔۔
سب سے پہلے 1981 میں ایک ناول
The eye of darkness
میں بتا دیا گیا تھا کہ 2020 میں چائنہ کے شہر وہان سے اسکا آغاز ہوگا۔۔
پھر 2000 میں چلنے والے مشہور کارٹون میں
The Simpsons
میں اسکا ذکر کیا گیا