TAABi fan Club

TAABi fan Club TAABi fans club without GoD love Aftab in lose

سن سن کے ترے ہجر میں اغیار کے طعنےمیرا ہی کلیجہ ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
17/07/2022

سن سن کے ترے ہجر میں اغیار کے طعنے
میرا ہی کلیجہ ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

09/04/2022

ٹھہریے!
وہ رویے یاد کیجے جنہوں نے اپ کو دل توڑا۔ وہ الفاظ جو اج تک اپ کو یاد اتے ہیں تو روح زخمی ہوجاتی ہے ۔
ان کے منفی اثرات اج تک اپ کو یاد ہیں۔
اب خود سے وعدہ کریں کہ آپ اپنی اگلی نسلوں کو ان الفاظ سے بچائیں گے۔ اس رویے سے بچائیں گے۔

یہ سلسلہ آپ کو روکنا ہے!

25/03/2022

؟
نیا ڈنر سیٹ خریدا ہے تو کھانا پرانے میں کیوں کھایا جائے؟
نئے کپڑے سلوائے ہیں تو اُنہیں عام حالات میں بھی پہننے میں کیا مضائقہ ہے؟گھر میں ڈیڑھ لٹر والے کولڈ ڈرنک کی خالی بوتلوں کے انبار لگتے جارہے ہیں لیکن پھینکنے کا حوصلہ نہیں پڑ رہا۔
نیا بلب خرید لیا ہے تو پرانے کو سٹور میں کیوں سنبھال کے رکھ دیا ہے؟
باتھ رو م میں نیا شیونگ ریزر موجود ہے تو پرانے پندرہ ریزر کا انبار کیوں لگا رکھا ہے؟
پانچ سو روپے والا لائٹر خرید ہی لیا ہے تو اُسے استعمال کیوں نہیں کرتے؟
نئی بیڈ شیٹ کیوں سوٹ کیس میں پڑی پڑی پرانی ہوجاتی ہے؟
جہیز میں ملی نئی رضائیاں کیوں بیس سال سے استعمال میں نہیں آئیں؟
باہر سے آیا ہوا لوشن کیوں پڑا پڑا ایکسپائر ہوگیا ہے؟؟؟

دل چاہیے۔۔۔! نئی چیز استعمال کرنے کے لیے پہاڑ جتنا دل چاہیے ‘جو لوگ اس جھنجٹ سے نکل جاتے ہیں ان کی زندگیوں میں عجیب طرح کی طمانیت آجاتی ہے۔ یہ شرٹ خریدیں تو اگلے دن پورے اہتمام سے پہن لیتے ہیں۔
یہ ہر اوریجنل چیز کو اُس کی اوریجنل شکل میں استعمال کرتے ہیں اور ہم جیسے دیکھنے والوں کو لگتاہے جیسے یہ بہت امیر ہیں حالانکہ یہ سب چیزیں ہمارے پاس بھی ہوتی ہیں لیکن ہماری ازلی بزدلی ہمیں ا ن کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتی۔

دن پہ دن گذرتے جاتے ہیں لیکن ہم نقل کی محبت میں اصل سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔
کسی کے گھر سے کیک آجائے تو خود کھانے کی بجائے سوچنے لگتے ہیں کہ آگے کہاں دیا جاسکتا ہے۔
ہر وہ کیک جس پر لگی ٹیپ تھوڑی سی اکھڑی ہوئی ہو‘اس بات کا ثبوت ہے کہ اہل خانہ نے ڈبہ کھول کر چیک کیا ہے اور پھر اپنے تئیں کمال مہارت سے اسے دوبارہ پہلے والی حالت میں جوڑنے کی ناکام کوشش کی ہے۔پتانہیں کیوں ہم میں سے اکثر کو ایسا کیوں لگتاہے کہ اچھی چیز ہمارے لیے نہیں ہوسکتی۔
ہم ساری زندگی اچھے لباس میلا ہونے کے ڈر سے جیتے ہیں اور پھر ایک دن دودھ کی طرح اجلا لباس پہن کر مٹی میں اتر جاتے ہیں۔۔۔!!!

جانوروں کے زنانہ" اور انسانوں کے مردانہ" بچوں کے پیدائش پر خوش ہونے والوں مومنوں 😕 صبح بخیر ☕ Copied
08/03/2022

جانوروں کے زنانہ" اور انسانوں کے مردانہ" بچوں کے پیدائش پر خوش ہونے والوں مومنوں 😕
صبح بخیر ☕

Copied

29/12/2021
پاکستان کے عدالتی نظام کا معیار کیا ہے وہ اس تصویر سے واضح ہے۔یہاں صرف کمزوروں پر قانون چلایا جاتا ہے جبکہ طاقور کو چھوڑ...
06/12/2021

پاکستان کے عدالتی نظام کا معیار کیا ہے وہ اس تصویر سے واضح ہے۔
یہاں صرف کمزوروں پر قانون چلایا جاتا ہے جبکہ طاقور کو چھوڑ دیا جاتا ہے ۔🤐

04/12/2021

(+ *؞*

*؞*
معاشرہ کی بہتری کے لئے ایک عمدہ خوبصورت تحریر۔۔۔۔۔
*دوسروں کی ذلت پہ ہنسنا*

میں آفس میں آتے ہی ایک کپ چائے ضرور پیتا ہوں۔ اُس روز ابھی میں نے پہلا گھونٹ ہی بھرا تھا کہ اطلاع ملی: کوئی صاحب مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا: بھجوا دیجئے۔ تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا اور شلوار قمیض پہنے‘ گریبان کے بٹن کھولے‘ گلے میں کافی سارا ٹیلکم پائوڈر لگائے‘ ہاتھوں میں مختلف قسم کی مُندریاں اور کانوں میں رِنگ پہنے ہوئے ایک نیم کالے صاحب اندر داخل ہوئے۔ سلام لیا اور سامنے بیٹھ گئے۔ میں نے سوالیہ نظروں سے ان کی طرف دیکھا‘ وہ نہایت اطمینان سے بولے... ''میں بھی ایک مراثی ہوں‘‘۔ میں بوکھلا گیا... ''کک... کیا مطلب...؟؟؟‘‘
وہ تھوڑا قریب ہوئے اور بولے ''مولا خوش رکھے... میں کافی دنوں سے آپ سے ملنا چاہ رہا تھا... سنا ہے آپ بھی میری طرح... میرا مطلب ہے‘ آپ بھی لوگوں کو ہنساتے ہیں؟‘‘
میں نے جلدی سے کہا ''ہاں... لیکن میں مراثی نہیں ہوں...!!!‘‘
''اچھی بات ہے‘‘ وہ اطمینان سے بولے ''میں نے بھی کبھی کسی کو اپنی حقیقت نہیں بتائی...!!!‘‘
میرا خون کھول اٹھا ''عجیب آدمی ہو تم... تمہیں لگتا ہے میں جھوٹ بول رہا ہوں؟ یہ دیکھو میرا شناختی کارڈ... ہم آج کل قریشی ہیں!!!‘‘ وہ کارڈ دیکھتے ہی چہکا...!!! ''مولا خوش رکھے... وہی بات نکلی ناں...!!!‘‘
میرا دل چاہا کہ اچھل کر اُس کی گردن دبوچ لوں‘ لیکن کم بخت کا ڈیل ڈول اچھا تھا اس لیے میں نے خود کو قابو میں رکھا اور آنے کا مقصد پوچھا۔
اُس نے محتاط نظروں سے اِدھر اُدھر دیکھا‘ پھر ٹیبل پر آگے کو جھک کر بولا ''مجھے نوکری چاہیے‘‘۔
میں پہلے چونکا‘ پھر غصے سے بھڑک اٹھا ''یہ کوئی کمرشل تھیٹر کا دفتر نہیں ہے‘ تم نے کیسے سوچ لیا کہ یہاں مراثی بھرتی کیے جاتے ہیں؟‘‘
وہ کچھ دیر مجھے گھورتا رہا‘ پھر اپنی مندری گھماتے ہوئے بولا ''یہاں نہ سہی‘ کسی دوسرے دفتر میں ہی کام دلوا دیں‘‘۔

میں کوئی سخت جواب دینے ہی والا تھا کہ اچانک میرے ذہن میں ایک اچھوتا خیال آیا اور میں مسکرا اٹھا‘ آفس بوائے سے اُس کے لیے بھی چائے لانے کے لیے کہا اور خود اُٹھ کر اُس کے ساتھ والی کرسی پر آ کر بیٹھ گیا۔ اُس کی آنکھوں میں الجھن سی اُتر آئی۔
میں نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا ''سنو! تمہیں بہت اچھی نوکری مل سکتی ہے‘ اگر تم مجھے ہنسا کے دکھا دو‘‘۔
وہ ہونقوں کی طرح میرا منہ دیکھنے لگا۔ میں نے اُس کی حالت کا مزا اٹھاتے ہوئے اُسے زور سے ہلایا ''ہیلو! ہوش کرو... بتاؤ‘ یہ چیلنج قبول ہے؟‘‘۔
اُس نے کچھ دیر پھر مندری گھمائی اور نفی میں سر ہلا دیا۔
میں حیران رہ گیا‘ وہ مراثی ہونے کے باوجود مجھ جیسے اچھے خاصے معزز انسان سے ہار مان رہا تھا۔ میں نے وجہ پوچھی تو اُس نے عجیب سا جواب دیا ''میں نے لوگوں کو ہنسانا چھوڑ دیا ہے‘‘۔

میں اچھل پڑا ''یہ کیسے ہو سکتا ہے؟؟؟ ‘‘
اُس نے لمبا سانس لیا اور بیزاری سے بولا ''لوگ اب ہنسنا چھوڑ چکے ہیں‘‘۔
میں نے ایک زوردار قہقہہ لگایا ''یہ تمہاری غلط فہمی ہے... دنیا آج بھی ہنستی ہے‘ مزاحیہ تحریریں پڑھتی ہے‘ مزاحیہ ڈرامے دیکھتی ہے‘ جگتیں پسند کرتی ہے...‘‘۔

اُس نے اپنی مندری نکال کر دوسری انگلی میں پہنی اور اپنی بڑھی ہوئی شیو پر خارش کرتے ہوئے بولا ''دنیا ہنستی نہیں‘ دوسروں کی ذلت پر خوش ہوتی ہے‘‘۔
میں نے پھر قہقہہ لگایا ''وہ کیسے بھئی؟‘‘۔
اُس نے قمیص کی سائیڈ والی جیب سے سستے والے سگریٹ کی مسلی ہوئی ڈبی نکالی اور میری طرف اجازت طلب نظروں سے دیکھا‘ میں نے ایش ٹرے اُس کے سامنے رکھ دی۔ اُس نے شکریہ کہا اور سگریٹ سلگا کر گہرا کش لیا۔

میں اُس کے جواب کا منتظر تھا‘ تھوڑی دیر خاموشی رہی‘ پھر اُس کی آواز آئی ''آپ کا منہ فلسطین کے لومڑ جیسا ہے...‘‘۔
مجھے گویا ایک کرنٹ سا لگا اور میں کرسی سے پھسل گیا۔ میری رگ رگ میں طوفان بھر گیا۔ وہ میرے دفتر میں بیٹھ کر مجھے ہی لومڑ کہہ رہا تھا‘ بات تو سچ تھی مگر بات تھی رسوائی کی... میرا چہرہ سرخ ہو گیا‘ اس سے پہلے کہ میں اُس پر چائے کا گرم گرم کپ انڈیل دیتا‘ وہ جلدی سے بولا ''آپ کا ایک جگری دوست شہزاد صغیر ہے ناں؟‘‘ میں پوری قوت سے چلایا ''ہاں ہے...پھر؟؟؟‘‘۔ وہ فوراً بولا ''اُس کی شکل بینکاک کے جمعدار جیسی ہے‘‘۔
میں نے بوکھلا کر اُس کا یہ جملہ سنا ... کچھ دیر غور کیا اور پھر... بے اختیار میری ہنسی چھوٹ گئی... میں ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگیا۔

تین چار منٹ تک آفس میں میرے قہقہے گونجتے رہے‘ بڑی مشکل سے میں نے خود پر قابو پایا اور دانت نکالتے ہوئے کہا ''شرم کرو... وہ میرا دوست ہے‘‘۔
میری بات سنتے ہی مراثی نے پوری سنجیدگی سے کہا ''ایسی ہنسی آپ کو اپنے اوپر لگنے والی جگت پر کیوں نہیں آئی؟‘‘۔
میں یکدم چونک اٹھا‘ ساری بات میری سمجھ میں آ گئی تھی...!!!

ہمارے معاشرے میں واقعی وہ چیز زیادہ ہنسی کا باعث بنتی ہے جس میں کسی دوسرے کی ذلت کا سامان ہو‘ یہی وجہ ہے کہ سٹیج ڈراموں اور عام زندگی میں جب ہم کسی دوسرے کو ذلیل ہوتے دیکھتے ہیں تو ہمارے دل و دماغ فریش ہو جاتے ہیں۔
کوئی بندہ چلتے ہوئے گر جائے‘
کسی کی گاڑی خراب ہو جائے‘
کسی کے پیچھے کتا دوڑ لگا دے‘
کسی کی بس نکل جائے اور وہ آوازیں لگاتا رہ جائے تو ہماری ہنسی نہیں رکتی‘

*یہی عمل اگر ہمارے ساتھ ہو اور دوسرے ہنسیں تو ہم غصے سے بھر جاتے ہیں۔*

گویا ہنسنے کے لیے کسی کا ذلیل ہونا لازمی امر قرار پا چکا ہے۔
یہی رویہ ہماری زندگی کے ہر پہلو میں در آیا ہے‘
ہمیں اپنے سُکھ سے اتنی راحت نہیں ملتی جتنے کسی کے دُکھ ہمیں سکون دیتے ہیں۔
یہاں جو انسان اچھی نوکری پر ہے وہ بڑی طمانیت سے مسکراتے ہوئے بے روزگار کو اٹھتے بیٹھتے اپنی کامیابیوں اور اُس کی ناکامیوں کی وجوہات بتاتا ہے‘ چاہے بے روزگار اُس سے سو گنا زیادہ صلاحیتوں کا مالک ہی کیوں نہ ہو۔
ہم وہ قوم بن چکے ہیں جو کسی بھوکے کو دیکھتے ہی اپنے لیے کھانا منگوا لیتی ہے۔
ہم اپنی فیملی کے ساتھ گاڑی میں اے سی آن کر کے جا رہے ہوں تو ہمیں سڑک پر اپنے بیوی بچوں کا بوجھ اٹھائے سائیکل پر جاتا ہوا غریب آدمی بہت لطف دیتا ہے‘
ہمارے سامنے کسی کمزور کو مار پڑ رہی ہو تو ہم بڑی دلچسپی سے اُسے دیکھتے ہوئے مسکرانے لگتے ہیں‘
ہم اپنی کامیابیوں کو اپنا حق سمجھ کر انجوائے کرتے ہیں اور ناکام انسانوں کو محنت کرنے کے مشورے دیتے ہیں‘
جس کے پاس اپنا گھر ہے وہ کرائے کے گھر میں رہنے والے کی بے بسی کا مزا لیتے ہوئے اٹھتے بیٹھتے اُسے یہی نصیحت کرتا ہے کہ کچھ اپنا گھر بنانے کا بھی سوچو‘ حالانکہ جو انسان کرائے پر رہتا ہو اُس سے زیادہ اپنا گھر بنانے کی خواہش بھلا کون کر سکتا ہے؟؟؟

*کبھی غور کیجئے گا*

کسی کی گاڑی یا موٹر سائیکل نہر میں جا گرے تو نکالنے والے کم اور انجوائے کرنے والے زیادہ جمع ہو جاتے ہیں۔
لیکن
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اذیت میں ہم ہوتے ہیں اور مسکرانے کے لیے پورا زمانہ ...!!!

ہم میں سے ہر شخص کی مجبوریاں اور ذلتیں دوسروں کو ہنسانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں‘ ہم سب بیک وقت تماشا بھی ہیں ‘ تماشا گر بھی اور تماشائی بھی...!

*☆ ☆۔*
آج کا پرامید نوجوان
Copy..


🤣🤣🤣🤣🤣🤣🤣🤣🤣🤣میں کزن میرج کے خلاف تھا تو میری بیوی کزنز کے ہی خلاف تھی، پھر بھی ہماری شادی ہو گئی، ایسا نہیں ہے کہ ہماری مح...
06/10/2021

🤣🤣🤣🤣🤣🤣🤣🤣🤣🤣

میں کزن میرج کے خلاف تھا تو میری بیوی کزنز کے ہی خلاف تھی، پھر بھی ہماری شادی ہو گئی، ایسا نہیں ہے کہ ہماری محبت کی شادی تھی بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ضد کی شادی تھی، نفرت کی شادی تھی، غصے کی شادی تھی، انتقام کی شادی تھی، بچپن سارا لڑتے ہوئے گزرا تھا، اسے میں پسند نہیں تھا اور مجھے وہ کبھی ایک آنکھ نہیں بھائی تھی، مگر گھر والوں نے ہمارے گٹھ جوڑ کا فیصلہ کر لیا تو پھر نہ میرے گھر چھوڑنے کی دھمکی کام آئی اور نہ ہی اس کے زہر کھانے کے ڈراوے نے کوئی کام کیا۔😕

شادی کی رات وہ پلنگ پر گھونگٹ پھیلائے میری منتظر بھی نہ تھی، جب میں کمرے میں داخل ہوا تو دل ہی دل میں اس کی گردن مروڑنے اور اُسے قتل کر ڈالنے کے کئی ارادے بنا کے رد کر چکا تھا اور وہ جائے نماز پر بیٹھی ہچکیاں لے رہی تھی، شاید رو رہی تھی، تب میں نے جانا کہ مجبور صرف میں نہیں تھا، وہ مجھ سے زیادہ مجبور تھی -
زندگی میں پہلی بار اس کے آنسوؤں نے میرا دل زخمی کیا، وہ اپنا گھر، اپنے ماں باپ، بہن بھائی اور دوست سب چھوڑ کر میرے لیے آئی تھی اور میں اس کو ضد بنائے بیٹھا تھا، مجھے اس کو جھکانے کا شوق تھا اور اس کو روتے دیکھ کر میرے سینے میں جو درد جاگا ، میں نے سوچا اگر یہ واقعی جھک گئی تو کیا مجھے خوشی ہو گی؟ دل سے آواز آئی کہ مجھے پھر نہ کہنا دھڑکنے کے لیے🙄

میں فوراً کمرے سے باہر نکل گیا جب دس منٹ بعد میں چائے کی دو پیالیاں لیے کمرے میں داخل ہو رہا تھا تو وہ آنسو صاف کرتے جائے نماز سمیٹ رہی تھی۔
میں نے اس کے ہاتھ سے جائے نماز لے کر تپائی پر رکھی اور چائے کی پیالی اس کے ہاتھ میں تھما دی اس کے چہرے کی حیرت مجھے لطف دینے لگی تھی، میں نے مسکرا کر پوچھا:

کیا چائے کی پیالی اتنی طاقت ور ہے کہ بچپن کے دشمن دوست بن جائیں؟ 😬

وہ ایک دم کھلکھلا کر ہنسی اور مجھے جواب مل گیا۔۔

ہاں بالکل چائے کی پیالی میں اتنی طاقت ہے کہ سالوں پرانی دشمنی دوستی میں بدل سکتی ہے ۔

منقول

اس پوسٹ کے لیے تعاون کیا ہے ٹپال دانے دار بنانے والوں نے جن کا پیغام ہے کہ دانے دانے سے آئے انگ انگ میں چستی.🤣🤣🤣

22/08/2021

جو مُقدّر سنْوار دیتے ہیں
اُن سِتاروں کی کہکشاں ہے تُو…🌹

دنیا میں کسی جانور کسی مخلوق نے انسان کا اتنا شکار نہیں کیا جتنا انسان نے انسان کا کیا ہے۔۔۔ انسان نے انسان کو جنگوں میں...
17/05/2021

دنیا میں کسی جانور کسی مخلوق نے انسان کا اتنا شکار نہیں کیا جتنا انسان نے انسان کا کیا ہے۔۔۔
انسان نے انسان کو جنگوں میں مارا۔۔۔۔
رشتوں میں مارا۔۔۔۔۔
محبت میں مارا ۔۔۔۔۔
محبت سے مارا ۔۔۔۔
دھوکے سے مارا ۔۔۔۔
یہ انسان اتنے رنگ بدلتا ہے کہ کوئی مخلوق نہیں بدلتی اور یہ کائنات کی وہ واحد مخلوق ہے جو اپنی ہی نسل کا شکار کرنا پسند کرتی ہے۔۔۔۔۔
کوئی دوست کے روپ میں دشمن ہے ۔۔۔۔
کوئی مسافر کے بھیس میں لٹیرا ہے ۔۔۔۔۔

انسان نے سب کچھ بن کر رہنا سیکھا بس ایک انسان ہی بن کر رہنا اس کے لیئے ہمیشہ مشکل رہا۔۔۔!!!!!

Address

Lahore

Telephone

+923084322676

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when TAABi fan Club posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share