Qalam Foundation International

Qalam Foundation International Its page are help the people for reading books according to their taste. Any thing you want. I shall try solve your problem. (demand)

16/12/2025
کتاب پیارے مولانا مصنف الطاف حسین قریشی ہر پاکستانی کے لیے مشعل راہ ہےکتابیں تنھائی اور پریشانیوں کا بھترین تریاق ھوتی ھ...
07/11/2025

کتاب پیارے مولانا
مصنف الطاف حسین قریشی
ہر پاکستانی کے لیے مشعل راہ ہے
کتابیں تنھائی اور پریشانیوں کا بھترین تریاق ھوتی ھیں
مطالعہ لازوال خوشیوں کا سبب بنتا ھے۔ کتابیں مفت میں دنیا کے لوگوں سے ملاتی ھیں۔ دور دور کے ممالک کی سیر کرواتی ھیں ۔ ھمیں اپنی غلطیوں کی درستگی کا موقع دیتی ھیں۔ ھمیں مسائل سے نمٹنے کے راز بتاتی ھیں۔
33فیصداسپشل ڈسکاؤنٹ کے ساتھ
قیمت 1500
رعایتی قیمت 1005
کتاب حاصل کرنے کے لیے قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل والٹن روڈ لاہور کینٹ پاکستان 03000515101
[email protected]
www.qalamfoundation.pk

02/11/2025

بڑی سوچ
(قاسم علی شاہ)
اروما ٹرین میں سوار اپنی منزل کی جانب گامزن تھی۔ وہ خوب صورت مستقبل کے خواب بننے میں مصروف تھی کہ اچانک بوگی میں کچھ بدمعاش آگئے۔ وہ لوگوں کو لوٹ رہے تھے۔ ان کی نظر اروما کے گلے میں موجود سونے کی زنجیر پر پڑی، بدمعاشوں نے چھیننے کی کوشش کی لیکن اروما نے بھرپور مزاحمت کی جس پر وہ آگ بگولہ ہوگئے اور انھوں نے اروما کو چلتی ٹرین سے باہر پھینک دیا۔ بدقسمتی سے اسی وقت مخالف سمت سے ٹرین آرہی تھی، اروما اس سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں اس کی ایک ٹانگ کٹ گئی اور دوسری کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔ شدید زخمی حالت میں وہ رات بھر پڑی رہی، صبح گاؤں والوں نے اسے دیکھا تو اٹھاکر قریبی ہسپتال لے گئے۔وہاں اس کا علاج کیا گیا لیکن وہ ایک ٹانگ سے محروم ہوچکی تھی۔ ڈاکٹروں نے اسے وہیل چیئر استعمال کرنے کا مشورہ دیا لیکن اس نے انکار کر دیا۔ وہ مصنوعی ٹانگ کے سہارے آہستہ آہستہ چلنے کی کوشش کرنے لگی اور کچھ عرصے بعد اس کی رفتار تیز ہوگئی۔ وہ سائیکل بھی چلانے لگی۔ اسے خیال آیا کہ بدترین حادثے کے باوجود بھی میں زندہ ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا مجھ سے خاص کام لینا چاہتاہے۔ اتفاق سے ایک دن وہ بچیندری پال سے ملی۔ یہ ہندوستان کی پہلی خاتون تھی جس نے ماؤنٹ ایورسٹ سر کیا تھا۔ اروما دل کی بات زبان پر لے آئی کہ میں بھی آپ کی طرح ایورسٹ کی چوٹی سر کرنا چاہتی ہوں۔ معذور لڑکی کا اس قدر بڑا جذبہ دیکھ کر بچیندری کی آنکھوں میں آنسو آگئے، وہ کہنے لگی:” اروما! یہ کہہ کر تم اپنے عزم سے ماؤنٹ ایورسٹ فتح کرچکی ہو، بس اب دنیا کو دکھانا باقی ہے۔“ اروما نے تیاری شروع کرلی لیکن یہ اتنا آسان کام نہیں تھا۔ اسے پہلا دھچکا تب لگا جب اس کے ساتھیوں نے روڈ سے بیس کیمپ تک کافاصلہ دو منٹ میں طے کیا اور وہ تین گھنٹوں میں وہاں پہنچی۔ اس کے زخم تازہ تھے، کچھ دیر سفر کے بعد ان سے خون رسنا شروع ہوجاتا لیکن اروما ہار ماننے کے لیے تیار نہیں تھی۔ اس نے مزید تیاری شروع کی اور طویل محنت کے بعد اس قابل ہوگئی کہ یہ خطرناک سفرطے کرسکے۔وہ اپنی منزل کی جانب روانہ ہوگئی۔ قدم قدم پر اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مصنوعی ٹانگ کبھی نکل جاتی، کبھی مڑجاتی۔ طوفانی ہوا اس کی ہڈیوں میں گھس رہی تھی اورپرانے زخموں سے درد کی لہریں اٹھ رہی تھیں۔ جب وہ چوٹی کے قریب پہنچی تو وہاں ایک اور آزمائش اس کی منتظر تھی۔ اس کا آکسیجن ختم ہوگیا۔ اس کی امید ٹوٹنے لگی، دوست بار بار اسے واپس جانے کا مشورہ دے رہے تھے لیکن اس حالت میں بھی وہ واپس جانے کے لیے تیار نہیں تھی۔ سچ ہے کہ جس انسان کے عزائم بلند ہوں تو قدرت بھی اس کے لیے راستے کھول دیتی ہے۔ خوش قسمتی سے کچھ فاصلے پر اسے کسی کوہ پیما کا اضافی سلنڈر مل گیا۔ اس نے دوبارہ سفر شروع کیا اور بالآخر گرتے پڑتے اور پھولے سانسوں کے ساتھ 21 مئی 2013 کی صبح وہ ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی پر پہنچ گئی اور دنیا کی پہلی خاتون بن گئی جس نے معذوری کے باوجود ماؤنٹ ایورسٹ سرکرلیا تھا۔
انسان اگر سوچ بلند رکھے اور مشکلات کے باوجود ہار نہ مانے تو وہ بڑے سے بڑا ہدف بھی حاصل کرسکتا ہے۔
دنیا کا امیرترین آدمی اینڈریو کارنیگی کہتا ہے کہ ”تم وہی ہو جو تم سوچتے ہو، لہٰذا بڑا سوچو، یقین بلند رکھو۔“
انسان کی زندگی کا معیار وسائل نہیں بلکہ اس کی سوچ طے کرتی ہے۔ بے تحاشا دولت اور بھرپور وسائل کے باوجود بھی اگر کسی شخص کی سوچ چھوٹی ہے اور وہ معمولی چیزوں میں الجھتا رہتا ہے تو ایسی دولت کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس کے برعکس کسی کے پاس وسائل انتہائی محدود ہیں لیکن اس کی سوچ بلند ہے تو وہ مشکل حالات کے باوجود اپنے پختہ ارادوں سے نمایاں مقام حاصل کرلیتا ہے۔
عموماً جوانی میں ہم بڑے بڑے خواب دیکھتے ہیں اور انھیں حاصل کرنے کے لیے محنت کرتے ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ گرم جوشی ماند پڑجاتی ہے اور ہم بڑا سوچنا چھوڑ دیتے ہیں۔دراصل یہ ماحول کی وجہ سے ہوتا ہے جو اونچا سوچنے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ لوگوں کو جب معلوم ہوجائے کہ فلاں شخص بڑے ارادوں کا اظہار کر رہا ہے تو وہ اس کا مذاق اڑانے لگ جاتے ہیں۔ کوئی اسے شیخ چلی کا لقب دیتا ہے تو کوئی کہتا ہے یہ خیالی پلاؤ پکارہا ہے اور ہوا میں قلعے تعمیر کررہا ہے۔ تضحیک کے ساتھ ساتھ وہ اسے نصیحت بھی کرتے ہیں کہ”بیٹا! ہوش میں آجاؤ، تم جو سوچ رہے ہو وہ ممکن نہیں۔“دراصل یہ معاشرتی نفسیات ہے۔ لوگ اس بات کو قبول نہیں کرتے کہ ان کے ساتھ رہنے والا شخص ان سے مختلف بنے۔ چنانچہ جوبھی منفرد بننے کی کوشش کرتا ہے، معاشرہ اس کے حوصلوں کو پست کرتا ہے۔
انسانی تاریخ میں ایسی بے شمار شخصیات گزری ہیں جن کی غیر معمولی صلاحیتوں اور منفرد خیالات کی وجہ سے لوگوں نے ان کی مخالفت کی اور ان ک امذاق اڑایا۔
سقراط کا شمار مغربی فلسفہ کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ وہ منفرد انداز میں مکالمہ اور سوال کرتا تھا اور لوگوں کو سوچنے پر مجبور کرتا تھا۔ اس نے اپنے خیالات کے ذریعے روایتی سوچ کو توڑا اور لوگوں کو سوال کرنے کا حوصلہ دیا۔ یہ چیز بااثر شخصیات کے لیے قابل قبول نہیں تھی، چنانچہ اس کی مخالفت کی گئی اور اسے باغی قرار دے کر موت کی سزا سنا دی گئی۔
ونسنٹ وان گوگ شان دار مصور تھا لیکن وہ روایت سے ہٹ کر چلتا تھا جس کی بنا پر لوگ اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ زندگی میں اس نے صرف ایک فن پارہ بیچا، وہ غربت میں وقت گزارتا رہا لیکن کسی نے اس کی قدر نہیں کی، البتہ مغربی آرٹ میں آج اسے بااثر شخصیت مانا جاتا ہے۔
نکولا ٹیسلا انتہائی ذہین انسان تھا۔ اپنے خیالات سے اس نے برقی دنیا میں انقلاب برپا کیا لیکن ایڈیسن سمیت بہت سے نامور لوگوں کی جانب سے اسے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ غریبی اور کسمپرسی کی حالت میں مرا، البتہ آج ایلون مسک نے اس کے نام پر ایک کام یاب کمپنی بنائی ہے۔
میری کیوری ماہر طبیعیات اور کیمیا دان خاتون تھی جس نے ریڈیو ایکٹیویٹی پر اہم تحقیق کی۔چوں کہ وہ مردوں کے زیر تسلط میدان میں نمایاں ہورہی تھی اس وجہ سے اسے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس کے باوجود اس نے فزکس اور کیمسٹری میں نوبل انعام جیتا اور پہلی نوبل انعام یافتہ خاتون کا اعزاز حاصل کیا۔
لوگ چھوٹا کیوں سوچتے ہیں، اس کے بہت سے عوامل ہیں۔
(1) ماحول
ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں، اس کے لوگ ہمیں ڈراتے ہیں کہ اگر بڑا سوچنے کے بعد تم ناکام ہوگئے تو زمانہ کیا کہے گا۔” لوگ کیا کہیں گے“ آج کا بڑا خوف ہے۔ یہ لوگوں پر اس قدر حاوی ہے کہ اکثر افراد اس وجہ سے بڑا قدم نہیں اٹھاتے۔
(2)خود اعتمادی کی کمی
خود اعتمادی کی کمی بھی ماحول کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ گھر میں ماں باپ بچے کے اعتماد کو جس قدر بہتر انداز میں نکھاریں گے، اسی قدر وہ بااعتماد بنے گا، ا س کے برعکس جس بچے کی تضحیک کی جائے گی، اس کی سوچ پر اسے باتیں سنائی جائیں گی تو اس کا اعتماد ٹوٹے گا اور وہ کوئی بھی نیا قدم نہیں اٹھاسکے گا۔
یاد رکھیں کہ کام یابی اور خود اعتمادی کا آپس میں براہ راست تعلق ہے۔ خود اعتمادی ہوگی تو کام یابی ملے گی وگرنہ نہیں۔ کام یاب انسان سب سے پہلے اپنی اہمیت کو خود تسلیم کرتا ہے اس کے بعد دنیا اسے مانتی ہے۔ جو شخص خود کو نہیں مانتا، دنیا بھی اس کی قدر نہیں کرتی۔
(3) ماضی کے تجربات
جب ہم کسی ہدف کو پانے میں ناکام ہوجاتے ہیں اور اس کے بعد کوئی نیا قدم اٹھاتے ہیں تو پرانے تجربے کی ناکامی کا خوف ہم پر سوار ہو جاتا ہے اور اندر سے آواز آتی ہے کہ اس بار بھی ناکامی ہوگی چنانچہ اس ڈر کی بنیاد پر ہم اونچی سوچ سے دستبردار ہوجاتے ہیں۔
(4)خطہ آرام (Comfort Zone)
انسان کی فطرت آرام پسند ہے۔ یہ تکلیف کو ناپسند اور راحت کو پسند کرتا ہے۔ اس وجہ سے خطہ آرام میں رہنا چاہتا ہے اور مشقت والے کام سے گریز کرتا ہے۔”خطہ آرام“ انسانی صلاحیتوں کا قاتل ہے۔ جو انسان بھی اپنے گرد آرام پسندی کا خ*ل بناکر ا س میں رہنا شروع کر دیتا ہے وہ اونچا نہیں سوچ سکتا، اس وجہ سے ترقی نہیں کرسکتا۔
(5) مسائل سے دور بھاگنا
ہم اس لیے بھی بڑا نہیں سوچ سکتے کیوں کہ ہم Challenge Lover نہیں ہیں۔ ہم مسائل سے دور بھاگتے ہیں، حال آنکہ دور بھاگنے سے مسائل حل نہیں ہوتے، ان کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بہترین تدبیر اپنا کر اسے حل کیا جاسکتا ہے۔ غور کریں اگر فلم میں ہیرو کو بغیر کسی رکاوٹ کے ہیروئن مل جائے تو فلم بے مزہ ہوگی۔ ولن کا کردار فلم کو ڈرامائی رنگ دیتا ہے اور اسے دلچسپ بناتاہے۔ مسائل اور مشکلات ہماری زندگی میں ولن کا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ اگر نہ ہوں تو انسان جدوجہد نہیں کرے گا، وہ نیا نہیں سوچے گا اور زندگی سے اکتا جائے گا۔
(6)لانگ ٹرم نہ نہ سوچنا
بڑی سوچ نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ دن، ہفتے اور مہینے تک سوچتے ہیں،اس سے زیادہ نہیں۔اس وجہ سے ان کی زندگی میں Vision بھی نہیں ہوتا۔جب Vision نہ ہو تو زندگی بے سمت ہوجاتی ہے اور انسان کو جس طرف بھی فائدہ دکھائی دیتاہے، ادھر چل پڑتاہے۔
(7)وسائل کارونا
بعض لوگ یہ عذرپیش کرتے ہیں کہ ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں،جب وسائل ہوں گے تو ہم بڑاسوچنا شروع کریں گے۔یہ محض بہانہ ہے۔کیوں کہ آج ہم ٹیکنالوجی کے دور میں جی رہے ہیں جس نے ہرچیزکو آسان بنادیا ہے۔آپ کچھ سیکھناچاہیں، کسی بڑی شخصیت سے رابطہ کرناچاہیں،ان سے رہنمائی لیناچاہیں توبہ آسانی کرسکتے ہیں۔
ہم کیسے بڑا سوچ سکتے ہیں، اس کے لیے درج ذیل تدابیر اختیار کریں۔
(1) اونچے اہداف طے کریں
اپنی استطاعت سے بڑھ کر ایسے اہداف طے کریں جو آپ کو آگے بڑھنے پر ورغلائیں اور آپ کے جذبوں کو متحرک کریں۔ جب آپ انھیں پانے کا مضبوط عزم کریں گے تو آپ کا ذہن آپ کے لیے راستے بنانا شروع کردے گا۔ آپ کی تخلیقی صلاحیت ہدف تک پہنچنے کے اسباب تلاش کرے گی اور آپ آہستہ آہستہ منزل کے قریب ہوتے جائیں گے۔
(2) گروتھ مائنڈ سیٹ اپنائیں
اپنا ذہن کشادہ کریں اور ترقی پسند ذہنیت کو پروان چڑھائیں۔ یہ یقین رکھیں کہ نیا سیکھنے اور استقامت کے ساتھ محنت کرنے سے آپ اپنی صلاحیتوں اور ذہانت کو بڑھاسکتے ہیں۔Growth mindset کا کمال یہ ہے کہ بدترین حالات میں بھی یہ آپ کو مثبت اندازِ فکر دیتی ہے جس کی بدولت آپ اپنے لیے مواقع ڈھونڈ لیتے ہیں اور آگے بڑھناشروع ہوجاتے ہیں۔
(3) اعلیٰ دماغ لوگوں کی صحبت اختیار کریں
ایسے لوگوں کے ساتھ تعلق رکھیں جو اپنی سوچ اور فکر سے آپ کو متاثر کریں، آپ کی غلط فہمیوں کو دور کریں اور آپ کو سوچنے پر مجبور کریں۔ ایسے لوگوں کی صحبت سے آپ کو نئے امکانات نظر آئیں گے اور آپ کی سوچ بلندیوں کی طرف گامزن ہوگی۔
(4) Out of the Box Thinking
ہمیشہ ایک جیسا مت سوچیں بلکہ روایت سے ہٹ کر سوچنے کی کوشش بھی کریں۔ متبادل لفظ ہمیشہ ذہن میں رکھیں۔ اگر ایک جگہ کام رک جائے تو اسی پر سارا زور مت لگائیں بلکہ متبادل راستہ ڈھونڈیں۔ اپنے فیصلوں میں جدت لائیں اور منفرد چیزیں تلاش کریں۔
(5) لچک اور استقامت اپنائیں
یہ یاد رکھیں کہ جب آپ بڑا سوچیں گے تو آپ کے سامنے مشکلات بھی آئیں گی، ان کے لیے خود کو تیاررکھیں۔ البتہ اگر آپ کی زندگی کا مقصد بڑا ہو تو مشکل حالات آپ کے لیے رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ ہر قسم کے حالات کو قبول کرنا اور مسلسل محنت کرنا ایسی خوبیاں جن کی بدولت آپ ہر طرح کے مسائل سے نبرد آزما ہوسکتے ہیں۔

کتاب
02/11/2025

کتاب

نام کتاب : جرات کے نشانمرتب : لیفٹیننٹ کرنل (ر) امجد حسین امجدپبلشر : قلم فائونڈیشن انٹرنیشنل، لاہورفون : 0300 0515101یہ کتاب پاک فوج کے مجلّے ’’ہلال‘‘ اور مختلف اخبارات م....

02/11/2025
02/11/2025
قومی جذبے سے ایک تعلیمی انقلاب کا آغاز! قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کی جانب سےہم ایک ایسے خواب کی تعبیر چاہتے ہیںجس میں پاکست...
02/11/2025

قومی جذبے سے ایک تعلیمی انقلاب کا آغاز!
قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کی جانب سے
ہم ایک ایسے خواب کی تعبیر چاہتے ہیں
جس میں پاکستان کے ہر شہر، ہر گاؤں، ہر اسکول میں
علم کی روشنی پھیلتی جائے، کتاب سے دوستی عام ہو۔
مہم کا عنوان:
"100 قومی لائبریریز — علم کی مشعل ہر ہاتھ میں"
علامہ عبدالستار عاصم (چیئرمین، قلم فاؤنڈیشن)
نے قومی لیجنڈ جناب برگیڈیئر صولت رضا صاحب ()
کی شاہکار کتاب کو صرف 100 روپے میں پیش کر کے
100 لائبریریوں کے قیام کی بنیاد رکھی ہے۔
📖 آپ بھی اس کارِ خیر میں شامل ہوں:
اپنی لائبریری کا آغاز ایک کتاب سے کریں،
اور 100 کتابوں سے اپنی خوبصورت لائبریری مکمل کریں۔
آئیے!
قومی شعور، علم و آگہی اور مطالعہ کی نئی تحریک کا حصہ بنیں۔
آئیے کتاب کو اپنا قومی فخر بنائیں۔
رابطہ کریں:
علامہ عبدالستار عاصم
چیئرمین، قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل
والٹن روڈ، لاہور کینٹ، پاکستان
📞 0300-0515101
📧 [email protected]
قلم فاؤنڈیشن — جہاں کتاب، علم اور کردار ایک ساتھ پروان چڑھتے ہیں

12/10/2025

سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک۔
ہر پاکستانی کے لیے مشعل راہ ہے
کتابیں تنھائی اور پریشانیوں کا بھترین تریاق ھوتی ھیں
مطالعہ لازوال خوشیوں کا سبب بنتا ھے۔ کتابیں مفت میں دنیا کے لوگوں سے ملاتی ھیں۔ دور دور کے ممالک کی سیر کرواتی ھیں ۔ ھمیں اپنی غلطیوں کی درستگی کا موقع دیتی ھیں۔ ھمیں مسائل سے نمٹنے کے راز بتاتی ھیں۔
50فیصداسپشل ڈسکاؤنٹ کے ساتھ
قیمت 4000
رعایتی قیمت 2000
کتاب حاصل کرنے کے لیے قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل والٹن روڈ لاہور کینٹ پاکستان 03000515101
[email protected]
www.qalamfoundation.pk

12/10/2025
تہذیبوں کا شہر لاہور                                   لاہورزندگی کا دوسرا نام ہے یہ شہرصدیوں کے سنگم پرآباد ہے ۔ جس کو ...
05/09/2025

تہذیبوں کا شہر لاہور


لاہورزندگی کا دوسرا نام ہے یہ شہرصدیوں کے سنگم پرآباد ہے ۔ جس کو مشرق کا پیرس کہا جاتا ہے۔ یہ پاکستان کا دوسرا اور دنیا کا ستائیسواں بڑا شہر ہے قدیم مذہبی کتابوں میں لاہور کا ذکر ملتا ہے روشنیوں کا یہ شہردریائے راوی کنارے آباد ہے ۔ یہ سینکڑوں سالوں کی تاریخ کا چشم دید گواہ ہے۔ اِس شہر میں آنے کیلئے کئی راستے ہیں لیکن دو اُن میں سے بہت مشہور ہیں ایک کابل سے آتا ہے جبکہ دوسرا دہلی سے ، وسطی ایشیا کے حملہ آور پشاور کے راستے جبکہ یو پی کے حملہ آور دہلی کے راستے سے وارد ہوتے تھے لاہور ہندوستان کی تاریخ کا کوہ نورتھا۔جس کو برصغیر کی کنجی اور ہندوستان کا گیٹ وے بولا جاتا تھا۔یہ گنگاجمنی،سندھ ساگر،افغانی،ایرانی،ترکش،یونانی آداب و اطواراورعلم وادب کامرکز تھا۔ یہ روشنیوں،باغوں، پھولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں کا شہر ہے۔ یہ شہرادب، سیاست، تجارت، ثقافت کی دولت سے مالا مال رہا ہے۔ قدیم ہندو دیو مالائی تاریخ کے پَنوں سے اس شہر کی موجودگی کے آثار ملتے ہیں۔ ہندوؤں کی مذہبی و تاریخی کتابوں میں یہ درج ہے کہ سل کوٹ موجودہ سیالکوٹ کے راجہ سالوہن کے بیٹے راجہ رسالو نے لاہور میں راوی کنارے راکھشس سے جنگ لڑی تھی ۔ اس جنگ میں اُس نے راکھشس کو مار گرایا تھا ۔ یہ شہرزندہ دلانِ لاہور گنگا جمنی،سندھ ساگر آداب واطوار کے سنگم پر واقع تھا۔ قدیم اتہاس کے پنَے گواہی دیتے ہیں کہ یہ راوی کے کنارے ایک دوسرے سے ہم آغوش ہوتی تھیں۔ ہندوؤں کی قدیم تاریخ،کہانیوں،روایتوں،شاعری اور مذہبی کتابوں میں بیان ہوا ہے کہ ہندو راجپوت راجہ راما کے دو بیٹے لاوٓ اورکَسو تھے لاوۤ نے جو شہر آباد کیا وہ یہی شہرلاہور ہے اورکَسو نے جوشہر آباد کیا تھا وہ قصور ہے۔ پہلے پہل اس علاقے کو لہو،لاآوریا لہہ نور بولتے تھے جو اِمتداد زمانہ کے زبانی بگڑتے بگڑتے لاہور ہو گیا تھا۔ تاریخ کی کتابوں میں لپٹی کہانیاں یہ بتاتی ہیں کہ لاہورکی بنیاد پہلی یا دوسری صدی عیسوی میں رکھی گئی تھی۔ اِس سے پہلے پانچ دریاوۤں کی سرزمین کا دارالخلافہ راجہ سالوہن کا شہرسل کوٹ موجودہ سیالکوٹ تھا۔ جس کے متعلق تاریخ کی کتابیں بتاتی ہیں کہ یہ شہر پانچ ہزارسال پرانا ہے لاہور چونکہ ہندوستان اور افغانستان کی گزر گاہ پرراوی کنارے واقع تھا جسے ہم تہذیبوں کی گزر گاہ کا سنگم بھی کہہ سکتے ہیں ۔ جو جلد ہی برصغیر کے ایک بڑے شہر کا روپ دھار گیا اور ہندوستانی تہذیب کا چمکتا ستارہ بن گیا۔ جب سلطان محمودعزنوی نے ہندوستان فتح کیا تو وفادارغلام و سپہ سالارایازکو یہاں کا گورنر مقرر کیا ۔ اُس ایاز نے لاہور کو نئے سرے سے تعمیر کیا راوی کنارے اونچی جگہ پرشاہی قلعہ تعمیر کیا موجودہ شاہی قلعہ اُس جگہ پرواقع ہے۔اُس نے حفاظتی نقطہ نظر سے شہر کے گرد فصیل تعمیرکروائی جس میں مختلف شہروں کو جانے والے بارہ دروازے بنوائے۔ وہ وفات کے بعد یہیں دفن ہوا اس کا مقبرہ رنگ محل کے مقام پر ہے ۔ ہندوستان میں پہلی اسلامی حکومت قائم کرنے والا بادشاہ قطب الدین ایبک انارکلی میں ابدی نیند سو رہا ہے اُس کے بعد ظہیر الدین بابر نے مغل سلطنت کی بنیاد رکھی ۔ جس کو شیر شاہ سوری نےآن لیا اور دارالحکومت پھرسیالکوٹ منتقل کردیا۔ اُس نے دینہ کے پاس روہتاس قلعہ تعمیر کروایا تھا جو فن تعمیر کا شاہکار ہے۔ اس نے کابل سے کلکتہ تک جی ٹی روڈ تعمیر کروایا جس کو گرینڈ ٹرنک روڈ کہا جاتا ہے۔ اُس کے بعد ہندوستان پر دوبارہ مغل حکومت قائم ہونے پر لاہور کو اَزسرے نو تعمیر کروایا جس میں شاہی قلعہ، بادشاہی مسجد،شالامارباغ،شاہدرہ باغ، کامران کی بارہ دری، مقبرہ جہانگیر، مقبرہ نورجہاں، مقبرہ انارکلی،مقبرہ آصف جاہ،چوبرجی، مسجد وزیرخان اور درجنوں دوسری عمارات تعمیر کروائیں ۔ ابوالفضل فیضی لاہور کو دنیا کی تہذیبوں اور قوموں کا مقام سکونت کہتا ہے۔ یہاں حملہ آوروں کے ساتھ علماء،صوفیاء،اولیاء بھی ہندوستان آتے رہے۔ جن کی بدولت یہاں اسلام پھیلا ،لاہورکواولیاء،صوفیاء، اور مزاروں، درباروں ، مقبروں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ لاہور کو داتا گنج بخش علی ہجویری کا شہر بھی بولتے ہیں ۔ گوجرانوالہ میں جنم لینے والا راجہ رنجیت سنگھ پنجاب کا وہ راجہ ہے جس نے لاہور کواپنا پایا تخت بنایا تھاَ۔اُس کی وفات کے بعد اس کو بادشاہی مسجد کے پہلو میں دفن کیا گیا تھا۔جب ہندوستان پرانگریزوں کا قبضہ ہوا تو پرانے لاہور سے باہر نیا لاہور بسایا گیا۔ جس میں سات کلومیٹر لمبی مال روڈ نہر تک بعد اَزاں آر،اے بازار تک بنائی گئی۔ جس کے دونوں طرف انگریزی طرز تعمیر کی بڑی بڑی تعلیمی ،انتظامی، رہائشی،عمارتیں تعمیرکی گیں۔ سول انجینئر سر چارلیس نئیپر کی زیر نگرانی نیا لاہور بسایا گیا جس میں سڑکوں کا جال بچھایا گیا۔ 1859ء میں لاہور ریلوے اسٹیشن تعمیر کیا گی۔ جنرل پوسٹ آفس، لاہور ہائی کورٹ، چیئرنگ کراس، گورنر ہاوس، ایچی سن کالج، لارنس گارڈن،گورنمنٹ کالج لاہور، پنجاب یونیورسٹی،ٹاون ہال،گورنمنٹ سنٹرل ماڈل ہائی سکول،اوریئنٹل کالج،میو ہسپتال، فلیٹیز ہوٹل جیسی عمارتیں تعمیر کی گیں۔ جس میں کئی سڑکوں کے نام انگریزحکمرانوں کے نام پر ہیں۔لاہور ہائیکورٹ اوراسٹیٹ بنک کے درمیان والی سڑک سر ہنری فین کے نام پرفین روڈ ہے ۔ جوبرٹش انڈیا میں کمانڈرانچیف تھا۔ لاہورہائی کورٹ کی پچھلی جانب چھوٹی سی سڑک الوائن ٹرنر کے نام پر ہے جو برٹش دور میں وکیل اور جج تھا۔ اِس طرح ہال روڈ کے ساتھ ایک چھوٹی سڑک جو مال روڈ کو میکلوڈ روڈ سے ملاتی ہے بیڈن روڈ کہلاتی ہے۔ جو بنگال کے لفٹیننٹ گورنرسرسیسل بیڈن کے نام پر تھی ۔ لاہور ہائی کورٹ چوک سے ایک سڑک نکلتی ہے جو لکشمی چوک سے ہوتی ہوئی ریلوے اسٹیشن تک جاتی ہے جو سرڈونالڈ میکلوڈ کے نام پر ہے ۔ جس نےاورینٹل کالج ،پنجاب پبلک لائبریری، ریلوے اسٹیشن لاہور تعمیر کروانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اِس طرح گورنرپنجاب سررابرٹ ہنری ڈیوس جوویلزکا رہنے والا تھا۔ جس نے میو سکول آف آرٹس اور چڑیا گھر تعمیر کروائے ۔ شملہ پہاڑی سے جو سڑک مال روڈ تک جاتی ہے جس پر پنجاب پبلک سروس کمیشن، جنگ اخبارکا دفترہے۔یہ سڑک سرڈیوس کے نام پرڈیوس روڈ کہلاتی ہے۔لاہور شہرعلم وادب کا مرکزرہا ہے۔معروف محقق مورخ سرٹامس مور،جان ملٹن، ناول نگارجارج اورویل،رڈیارڈ کپلنگ،ای ایم فاسٹراپنی شاعری،افسانوں،کہانیوں، ناولوں میں لاہور کا زکر کرتے ہیں اور ساری عمر لاہور کو یاد کرتے رہے۔ آپ لاہور رہتے ہیں توکئی زندگیاں جیتے ہیں، مجھے بچپن سے ہی لاہور اپنی طرف کھنچتا ہے ۔ یہاں قطب الدین ایبک کا مقبرہ ہے،انارکلی، جہانگیر اور نورجہاں کی محبت کے مزار بھی ہے، یہاں شاہی قلعہ، بادشاہی مسجد کے سامنے عظیم شاعرعلامہ اقبال کا مزارہے۔ یہاں گنج بخش علی ہجویری المعروف داتا دربار ہے۔ یہاں منٹو افسانے لکھتا تھا۔ مستنصر حسین تارڑ سفرنامے لکھتا ہے، ناصر کاظمی، احسان دانش، حفیظ جالندھری پاک ٹی ہاوس میں محفلیں جماتے تھے،اے حمید برما کے جنگلوں میں گھومتا ہے مگر سانسیں لاہور کی گلیوں میں لیتا تھا،احمد راہی ترنجن گاتا ہے ۔ بھاٹی گیٹ کے ایک ہجرے میں استاد دامن اور فیض احمد فیض رتجگوں کی محفلیں سجاتے تھے ،یہاں سرکلر روڑ پر ساغر صدیقی اپنی شاعری سناتا رہا ، یہ آغا حشر، شورش کشمیری، حبیب جالب، احمد ندیم قاسمی، انتظارحسین کا شہر ہے ، یہ مادھو لال حسین، میاں میر کا شہر ہے، یہاں کرشن چندر،راجندرسنگھ بیدی، بلونت سنگھ ، خشونت سنگھ ، میراں جی، شیو کمار بٹالوی،بلراج ساہنی،منوج کمار،راجندر کمار، راجکمار، دلیپ کمار، محمد رفیع کی روحیں گھومتی ہیں،یہاں صدیوں سے محبتوں کی کہانیاں سینے میں چھپائے دریائے روای بہتا ہے۔ لاہور میری روح میں اور میں لاہور میں جیتا ہوں۔

راوی کہتا ہے لاہور میں پہلے پہل
عشق بہتا تھا محبت کی ہوا چلتی تھی

شاہد محمود سیالکوٹ
06/09/2025

Address

LAHORE CANTT
Lahore
0345

Opening Hours

Monday 09:00 - 20:00
Tuesday 09:00 - 20:00
Wednesday 09:00 - 20:00
Thursday 09:00 - 20:00
Friday 09:00 - 20:00
Saturday 09:00 - 20:00

Telephone

03214553271

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Qalam Foundation International posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Qalam Foundation International:

Share