13/01/2026
مشترکہ کھاتہ
سیکشن 135 لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے مطابق ،،،،،،،مشترکہ کھاتہ میں ہر کھاتہ شریک مالک ہر انچ پر مالک تصور ہوگا جب تک اس کی سرکاری تقسیم نہ ہو۔ 2. کوئی بھی مالک کسی مخصوص خسرے پر باوجود حد براری دعویٰ نہیں کرسکتا تا وقتیکہ سرکاری تقسیم۔ 3. بغیر سرکاری تقسیم کھاتہ شریک مالکان کے مابین خسرہ تتمہ نہیں ہوسکتا ،،4. سرکاری تقسیم میں طریقہ تجویز اہمیت کا حامل ہے جو بہ لحاظ ناقص و کامل مساویانہ عادلانہ مابین فریقین ہو،،5. قبضہ کو 1/3 حصہ ترجیح حاصل ہے۔ 6. آگر کسی مالک کے پاس حصہ رسدی سے قبضہ کم ہو یا بالکل بھی نہیں تو دوران تقسیم اہل کمیشن اسے کسی بھی خسرہ نمبر سے حصہ پورا کرسکتا ہے بشرطیکہ دوسرے مالک کے حصہ رسدی کا خیال رکھیں ، 7. تجویز منصفانہ نہ ہو تو بروقت ٹھوس اور جامع مدلل عذرات ٹرائل کورٹ میں پیش کریں ، انہی عذرات کی بنیاد پر اپیل کی جائے گی 8. اپیل میں نئے گراؤنڈز یا دلائل پیش نہیں کئے جاسکتے ہیں ، 9. عدالتی کارروائی اصالتا مختارتا وکالتا ممکن ہے ، وکیل ضروری نہیں 10. قانون تعلیم یافتہ ، ہوشیار ، دانا ، نکمے ، سست ، کاہل کی بجائے ،،،،،،،،،،،،بیدار ، باخبر اور بروقت فریق کی مدد کرتا ہے ، تاخیر مضر ہے ،،،،،،،، موجودہ مسئلے کی تناظر میں۔ مشترکہ کھاتہ میں بغیر سرکاری تقسیم حد براری اور تتمہ خسرہ نہیں ہوسکتا کیونکہ مشترکہ کھاتہ میں ہر مالک ہر انچ پر مالک تصور ہوگا ، مشترکہ کھاتہ میں دعویٰ حاصلات و بے دخلی بھی دائر نہیں ہوسکتی کیونکہ مخصوص خسرے پر دعویداری نہیں ہوسکتی۔ یہ اختیار واحد مالک یا جملہ کھاتہ شریک مالکان کے مرضی سے ممکن ہے ،۔ لہذا اہلکاران مال نے اختیارات سے تجاوز کیا ہے جسے۔ Abuse of power یا Misuse of authority بھی کہا جاسکتا ہے ، ڈپٹی کمشنر صاحب کو درخواست پیش کریں ، ریلیف نہ ملنے کی صورت میں انٹی کرپشن سے رجوع کریں ، انہیں دن میں تارے نظر آئینگے ،،،،یاد رکھیں۔ سرکاری اہلکار جتنے ظالم اور سنگدل ہوتے ہیں وہی بزدل اور ڈرپوک بھی ،، لیکن عوام آپنی شکایت کے پیروی سے دستبردار ہوتے ہیں ، کوئی تگڑا بندہ ہو تو اداروں سے ریلیف نہ ملنے کے بعد ہائی کورٹ سے بذریعہ رٹ رجوع کر سکتا ہے
محمد بلال سعید
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ 03218881858