Sultan Associates

Sultan Associates We have been providing our land & legal services since 1965 so,
Now We are determined to serve our best with our third generation

13/01/2026

مشترکہ کھاتہ
سیکشن 135 لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے مطابق ،،،،،،،مشترکہ کھاتہ میں ہر کھاتہ شریک مالک ہر انچ پر مالک تصور ہوگا جب تک اس کی سرکاری تقسیم نہ ہو۔ 2. کوئی بھی مالک کسی مخصوص خسرے پر باوجود حد براری دعویٰ نہیں کرسکتا تا وقتیکہ سرکاری تقسیم۔ 3. بغیر سرکاری تقسیم کھاتہ شریک مالکان کے مابین خسرہ تتمہ نہیں ہوسکتا ،،4. سرکاری تقسیم میں طریقہ تجویز اہمیت کا حامل ہے جو بہ لحاظ ناقص و کامل مساویانہ عادلانہ مابین فریقین ہو،،5. قبضہ کو 1/3 حصہ ترجیح حاصل ہے۔ 6. آگر کسی مالک کے پاس حصہ رسدی سے قبضہ کم ہو یا بالکل بھی نہیں تو دوران تقسیم اہل کمیشن اسے کسی بھی خسرہ نمبر سے حصہ پورا کرسکتا ہے بشرطیکہ دوسرے مالک کے حصہ رسدی کا خیال رکھیں ، 7. تجویز منصفانہ نہ ہو تو بروقت ٹھوس اور جامع مدلل عذرات ٹرائل کورٹ میں پیش کریں ، انہی عذرات کی بنیاد پر اپیل کی جائے گی 8. اپیل میں نئے گراؤنڈز یا دلائل پیش نہیں کئے جاسکتے ہیں ، 9. عدالتی کارروائی اصالتا مختارتا وکالتا ممکن ہے ، وکیل ضروری نہیں 10. قانون تعلیم یافتہ ، ہوشیار ، دانا ، نکمے ، سست ، کاہل کی بجائے ،،،،،،،،،،،،بیدار ، باخبر اور بروقت فریق کی مدد کرتا ہے ، تاخیر مضر ہے ،،،،،،،، موجودہ مسئلے کی تناظر میں۔ مشترکہ کھاتہ میں بغیر سرکاری تقسیم حد براری اور تتمہ خسرہ نہیں ہوسکتا کیونکہ مشترکہ کھاتہ میں ہر مالک ہر انچ پر مالک تصور ہوگا ، مشترکہ کھاتہ میں دعویٰ حاصلات و بے دخلی بھی دائر نہیں ہوسکتی کیونکہ مخصوص خسرے پر دعویداری نہیں ہوسکتی۔ یہ اختیار واحد مالک یا جملہ کھاتہ شریک مالکان کے مرضی سے ممکن ہے ،۔ لہذا اہلکاران مال نے اختیارات سے تجاوز کیا ہے جسے۔ Abuse of power یا Misuse of authority بھی کہا جاسکتا ہے ، ڈپٹی کمشنر صاحب کو درخواست پیش کریں ، ریلیف نہ ملنے کی صورت میں انٹی کرپشن سے رجوع کریں ، انہیں دن میں تارے نظر آئینگے ،،،،یاد رکھیں۔ سرکاری اہلکار جتنے ظالم اور سنگدل ہوتے ہیں وہی بزدل اور ڈرپوک بھی ،، لیکن عوام آپنی شکایت کے پیروی سے دستبردار ہوتے ہیں ، کوئی تگڑا بندہ ہو تو اداروں سے ریلیف نہ ملنے کے بعد ہائی کورٹ سے بذریعہ رٹ رجوع کر سکتا ہے

محمد بلال سعید
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ 03218881858

01/01/2026

May each day of 2026 bring you a new reason to smile and be thankful. The best year is yet to come!

24/12/2025

My view on the suspension of ordinance "The Punjab protection of ownership of immovable properties ordinance 2025"

*پنجاب غیر منقولہ جائیداد کی ملکیت کے تحفظ کا آرڈیننس 2025 – آسان اردو خلاصہ**1. نام، دائرہ اور نفاذ*- اس قانون کا نام “...
13/12/2025

*پنجاب غیر منقولہ جائیداد کی ملکیت کے تحفظ کا آرڈیننس 2025 – آسان اردو خلاصہ*

*1. نام، دائرہ اور نفاذ*
- اس قانون کا نام “پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی آرڈیننس 2025” ہے۔
- پورے پنجاب میں لاگو ہوتا ہے اور فوراً نافذ العمل ہے۔

*2. تعریفیں*
- *کمیٹی*: تنازعہ حل کرنے والی سرکاری کمیٹی۔
- *حکومت*: پنجاب حکومت۔
- *غیر منقولہ جائیداد*: زمین، عمارت، کھیت، گھر اور زمین سے جڑی ہر چیز (کھڑے درخت، فصل، پھل، جڑی ہوئی ماشینری کو شامل نہیں)۔
- *رکن*: کمیٹی کا فرد۔
- *ٹربیونل*: اس قانون کے تحت بنائی گئی خاص عدالت جو قبضے کے کیس سنتی ہے۔

*3. قانون کی بالادستی*
- اگر کوئی دوسرا قانون اس کے خلاف ہو تو یہ آرڈیننس ہی مرجع ہوگا۔

*4. غیر قانونی قبضہ*
- کسی بھی شخص کا زبردستی، دھوکہ، جعل سازی یا بغیر اجازت جائیداد پر قبضہ کرنا جرم ہے۔
- سزا: 5 سال سے 10 سال تک قید (کم سے کم 5 سال)۔

*5. مدد یا سازش*
- قبضہ کروانے میں مدد، جھوٹے کاغذات بنانا یا سازش کرنا بھی جرم ہے اور اسی سزا کا حامل ہو سکتا ہے۔

*6. کمپنی/ادارے کا جرم*
- اگر کوئی ادارہ یا کمپنی قبضہ کرے تو اس کے ڈائریکٹر/منیجر ذمہ دار ہوں گے، الا یہ کہ وہ ثابت کریں کہ انہیں علم نہیں تھا اور وہ روک نہیں سکے۔

*7. شکایت کیسے دائر کریں*
- متاثرہ مالک تحریری درخواست کے ساتھ کمیٹی میں شکایت کرے گا۔
- درخواست میں جائیداد کی تفصیل، قبضے کا ثبوت، قبضہ کرنے والے کا نام، تاریخ و طریقہ شامل ہونا چاہیے۔

*8. نوٹس اور کارروائی*
- کمیٹی ملزم کو نوٹس دے کر دونوں طرف سے سن کر کارروائی کرے گی۔
- ضرورت پڑنے پر کمیٹی موقع پر جا کر معائنہ بھی کر سکتی ہے۔

*9. 90 دن میں فیصلہ*
- کمیٹی کو کوشش کرنی ہوگی کہ معاملہ 90 دن میں ختم ہو۔
- پیچیدہ کیس میں یہ مدت مزید 90 دن بڑھائی جا سکتی ہے۔

*10. حل نہ ہونے پر ٹربیونل کو بھیجنا*
- اگر کمیٹی حل نہ کر سکے تو کیس اپنی رائے کے ساتھ ٹربیونل کو بھیجے گی۔

*11. ٹربیونل کا قیام*
- حکومت ہر ضلع میں کم از کم ایک ٹربیونل بنائے گی۔
- سربراہ: سابقہ جج (لہور ہائی کورٹ یا ڈسٹرکٹ جج)۔

*12. ٹربیونل کے اختیارات*
- ثبوت طلب کرنا، گواہ بلانا، ریکارڈ منگوانا اور مکمل مقدمہ چلانا۔
- یہ ایک مکمل عدالت کی طرح کام کرے گا۔

*13. جھوٹی شکایت پر سزا*
- جان بوجھ کر جھوٹی شکایت کرنے والے کو 1‑5 سال قید اور جرمانہ (کم از کم 100,000 روپے) ہو سکتا ہے۔

*14. ٹربیونل کے عدالتی اختیارات*
- ٹربیونل کو سول اور سیشن کورٹ جیسے اختیارات حاصل ہوں گے۔

*15. گرفتاری کا اختیار*
- ٹربیونل کے حکم پر پولیس یا سرکاری ادارہ ملزم کو گرفتار کر سکتا ہے اگر جرم ثابت ہو۔

*16. اصل مالک کو فوراً قبضہ واپس*
- اگر ٹربیونل یہ مانے کہ قبضہ غیر قانونی ہے تو فوراً مالک کو قبضہ واپس کرنے کا حکم دے گا۔

*17. رضاکارانہ واپسی*
- اگر قبضہ کرنے والا خود ہی جائیداد چھوڑ دے تو ٹربیونل اسے ریکارڈ کر کے کارروائی ختم کر سکتا ہے۔

*18. حکومتی اداروں کی مدد*
- ریونیو، پولیس، ڈپٹی کمشنر دفتر وغیرہ ٹربیونل کی مدد کریں گے تاکہ قبضہ ختم کر کے مالک کو جائیداد مل سکے۔

*19. قواعد بنانے کا اختیار*
- حکومت اس قانون کے نفاذ کے لیے مزید قواعد بنا سکتی ہے۔

---

_یہ خلاصہ اس آرڈیننس کے اہم نکات کو عام فہم اور آسان اردو میں پیش کرتا ہے تاکہ مالکان اور عام لوگ اس کے حقوق و فرائض کو آسانی سے سمجھ سکیں۔_

06/11/2025

کیا ریوینو افیسر انتقال منظور کرنے کے بعد منسوخ کر سکتا ہے

🔹 1. متعلقہ دفعہ — Section 42, West Pakistan Land Revenue Act, 1967

عنوان: “Sanction of mutation.”
اس دفعہ کا خلاصہ یہ ہے:

> جب ریونیو افسر (Patwari → Girdawar → Tehsildar → Assistant Collector-II / I) کسی انتقال کو تحریری طور پر منظور (sanction) کر دیتا ہے،
تو وہ انتقال زمین کے ریکارڈ میں درج ہو کر ریونیو ریکارڈ کا حصہ بن جاتا ہے۔

یعنی "انتقال" ایک مالیاتی یا ریکارڈ درستگی کا عمل ہے —
نہ کہ بذاتِ خود ملکیت کی منتقلی (transfer of title by itself)، بلکہ یہ ملکیت کی تبدیلی کو ریکارڈ میں ظاہر کرنے کا عمل ہے۔

---

🔹 2. کیا منظور شدہ انتقال منسوخ ہو سکتا ہے؟

سیدھا جواب:

> 🔸 نہیں، عام طور پر منظور شدہ انتقال (Mutation) کو ریونیو افسر از خود منسوخ نہیں کر سکتا۔
کیونکہ جب ایک بار سیکشن 42 کے تحت انتقال تحریری طور پر منظور (sanctioned) ہو جائے، تو وہ final administrative order تصور ہوتا ہے،
جسے صرف اپیل، نظرثانی (revision) یا سیٹ اسائیڈ (set aside) کے ذریعے ہی ختم کیا جا سکتا ہے —
یعنی قانونی فورم سے، نہ کہ از خود۔

---

🔹 3. متعلقہ قانونی طریقہ کار (Remedies)

منظور شدہ انتقال کو منسوخ کرنے یا چیلنج کرنے کے صرف درج ذیل قانونی طریقے ہیں:

1. Appeal (دفعہ 161)
اگر کوئی فریق منظور شدہ انتقال سے متاثر ہو، تو وہ متعلقہ Collector یا Commissioner کے سامنے اپیل کر سکتا ہے (عام طور پر 30 دن کے اندر)۔

2. Revision (دفعہ 164)
اگر اپیل نہ کی گئی ہو یا Collector کا فیصلہ غلط ہو تو Board of Revenue نظرِ ثانی (revision) کا اختیار رکھتا ہے۔

3. Civil Suit (سیکشن 42 Specific Relief Act کے تحت)
اگر معاملہ ملکیت (title) سے متعلق ہو، تو متاثرہ فریق سول کورٹ میں اعلانِ ملکیت (declaratory suit) دائر کر سکتا ہے۔
سول کورٹ یہ طے کرے گی کہ آیا انتقال غلط تھا یا درست۔

یعنی:

> ریونیو افسر از خود منظور شدہ انتقال کو منسوخ یا ترمیم نہیں کر سکتا۔
ایسا اختیار صرف اپیلیٹ یا ریویژنل اتھارٹی یا سول عدالت کو حاصل ہے۔

---

🔹 4. عدالتی نظائر (Judicial Precedents)

⚖️ PLD 1970 Lahore 597 — “Ghulam Muhammad v. Board of Revenue”

> "Once a mutation has been sanctioned by a competent Revenue Officer under Section 42,
he becomes functus officio and cannot later cancel or amend the mutation on his own motion."

(ترجمہ: منظور کرنے کے بعد ریونیو افسر کا اختیار ختم ہو جاتا ہے،
وہ خود سے اس آرڈر کو تبدیل یا منسوخ نہیں کر سکتا۔)

---

⚖️ PLD 2003 Lahore 444 — “Muhammad Yousaf v. Province of Punjab”

> "Sanctioned mutation is a final order of administrative nature.
It can only be challenged before competent authority through appeal or revision,
or by filing a civil suit to challenge the underlying transaction."

(منظور شدہ انتقال کو صرف اپیل، ریویژن یا سول کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔)

---

⚖️ 2018 SCMR 801 — Supreme Court of Pakistan

> "Revenue Officers cannot cancel a duly sanctioned mutation unless specifically empowered by law.
If fraud or misrepresentation is alleged, proper proceedings before the competent forum are required."

(اگر جعل سازی ہو تو بھی محض تحصیلدار یا پٹواری از خود منسوخی نہیں کر سکتے — انہیں متعلقہ فورم سے رجوع کرنا ہوگا۔)

---

🔹 5. استثنا (Exception)

صرف ایک صورت میں منسوخی ممکن ہے:

> اگر یہ ثابت ہو جائے کہ انتقال جعلی، فراڈ یا Misrepresentation کے ذریعے منظور کرایا گیا ہے۔

تب Collector یا Board of Revenue suo motu کارروائی کر کے (تحقیقات کے بعد) اسے set aside کر سکتا ہے،
لیکن اس کے لیے تحریری وجوہات اور باقاعدہ انکوائری لازمی ہوتی ہے۔

---

🔹 6. خلاصہ (Simplified Answer)

سوال جواب

اگر سیکشن 42 کے تحت انتقال منظور ہو جائے تو کیا اسے منسوخ کیا جا سکتا ہے؟ ❌ نہیں، ریونیو افسر خود سے نہیں کر سکتا۔
کس طریقے سے منسوخ ہو سکتا ہے؟ ✅ صرف اپیل، ریویژن، یا سول کورٹ کے ذریعے۔
اگر انتقال فراڈ سے منظور ہوا؟ ⚠️ تب Collector یا Board of Revenue انکوائری کے بعد اسے کالعدم کر سکتا ہے۔
متعلقہ دفعات Sections 42, 161, 164 – West Pakistan Land Revenue Act, 1967
عدالتی نظائر PLD 1970 Lahore 597, PLD 2003 Lahore 444, 2018 SCMR 801

محمد بلال سعید
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
03218881858

25/09/2025
Happy Eid to you and your families 😍
07/06/2025

Happy Eid to you and your families 😍

25/05/2025

شاملات دہ کی ملکیت اور سپریم کورٹ کا فیصلہ – 2025 SCMR 174
تعارف
پاکستان میں شاملات دہ کی زمین ہمیشہ سے تنازعات کا شکار رہی ہے، جہاں قابضین اور روایتی مالکان کے درمیان ملکیتی حقوق پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ حالیہ سپریم کورٹ کے فیصلے "محمد رمضان بنام ممبر (جوڈیشل-II) بورڈ آف ریونیو، پنجاب، لاہور" (2025 SCMR 174) نے اس معاملے کو واضح کر دیا ہے کہ شاملات دہ کی زمین کی تقسیم اور ملکیت کا تعین کس طرح کیا جائے گا۔

شاملات دہ کیا ہے؟
شاملات دہ ایسی زمین ہوتی ہے جو پورے گاؤں کی مشترکہ ملکیت میں آتی ہے اور عام طور پر چراگاہ، قبرستان، پانی کے ذخائر، اور دیگر عوامی استعمال کے لیے مختص کی جاتی ہے۔ اس زمین پر کسی فرد یا خاندان کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتی بلکہ یہ دیہہ کی مشترکہ ملکیت تصور کی جاتی ہے، اور اس کا استعمال مقامی روایات، ریونیو قوانین اور حکومتی پالیسیوں کے تحت طے کیا جاتا ہے۔

مقدمہ: 2025 SCMR 174
اس مقدمے میں ادنیٰ مالکان (Appellants) نے دعویٰ کیا کہ وہ شاملات دہ کی زمین پر قابض ہیں اور اس قبضے کی بنیاد پر انہیں اس زمین کا مالک تسلیم کیا جائے۔ دوسری طرف، اعلیٰ مالکان (Respondents) نے موقف اختیار کیا کہ شاملات دہ کی تقسیم گاؤں کے مالکانہ کھاتہ کے تناسب سے ہونی چاہیے اور محض قبضے کی بنیاد پر ملکیت نہیں دی جا سکتی۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ
سپریم کورٹ نے واضح طور پر فیصلہ دیا کہ:
محض قبضہ ملکیت کا حق نہیں دیتا – اگر کوئی شخص صرف شاملات دہ پر قابض ہے لیکن اس کا نام ملکیت کھاتہ میں نہیں، تو وہ شاملات دہ میں کوئی قانونی حق حاصل نہیں کر سکتا۔
ملکیت کا تعین "حساب رسد کھیوٹ" اور ریونیو ریکارڈ سے ہوگا – شاملات دہ کی تقسیم گاؤں کے اصل مالکانہ حقوق کے مطابق کی جائے گی، نہ کہ محض قبضے کی بنیاد پر۔
1960 کے نوٹیفکیشن اور MLR-64 کا اطلاق – شاملات دہ میں صرف ادنیٰ مالک اور اعلیٰ خود ادنیٰ مالک کو حصہ دیا جا سکتا ہے، لیکن جو لوگ ان زمروں میں نہیں آتے، انہیں محض قبضے کی بنیاد پر کوئی حق نہیں مل سکتا۔
اعلیٰ مالکان کا تصور ختم – سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ MLR-64 کے نفاذ کے بعد اعلیٰ مالک کا تصور ختم ہو گیا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی بھی شخص زمین پر قبضہ کر کے خود کو مالک قرار دے سکتا ہے۔
اس فیصلے کے اثرات
یہ فیصلہ شاملات دہ کے حوالے سے ایک اہم نظیر (precedent) بن گیا ہے اور اس کے درج ذیل اثرات مرتب ہوں گے:
غیر قانونی قبضے کی حوصلہ شکنی ہوگی کیونکہ سپریم کورٹ نے واضح کر دیا کہ قبضے کی بنیاد پر ملکیت کا حق نہیں مل سکتا۔
ریونیو ریکارڈ کی اہمیت میں اضافہ ہوگا، کیونکہ صرف وہی افراد زمین کے حقدار ہوں گے جن کا نام ملکیت کھاتہ میں درج ہوگا۔
حساب رسد کھیوٹ کے مطابق تقسیم ہوگی، جس سے دیہہ کے اصل مالکان کو ان کا قانونی حق ملے گا اور غیر متعلقہ افراد کے دعوے مسترد ہوں گے۔
ریونیو افسران کو ہدایت دی گئی کہ وہ اس فیصلے کو سامنے رکھتے ہوئے شاملات دہ کے معاملات کو نمٹائیں اور 1960 کے نوٹیفکیشن کی روشنی میں فیصلے کریں۔

نتیجہ
سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ شاملات دہ کے حوالے سے ایک اہم اصول طے کرتا ہے کہ ملکیت صرف ریونیو ریکارڈ کی بنیاد پر طے ہوگی، نہ کہ محض قبضے کی بنیاد پر۔ یہ فیصلہ نہ صرف زمینوں کے تنازعات کو کم کرے گا بلکہ ناجائز قبضے کے رجحان کو بھی روکنے میں مدد دے گا۔ اس فیصلے کے بعد، ریونیو حکام اور عدالتوں کے لیے شاملات دہ کی زمین کے مسائل کو قانون کے مطابق حل کرنا مزید آسان ہو جائے گا

12/04/2025
Eid Mubarak to you and your family ❣️
31/03/2025

Eid Mubarak to you and your family ❣️

Address

808 Ravi Block Allama Iqbal Town Main Multan Road Opposite To Telephone � Exchange Near Sabzazar Station Metro Orange Line Train
Lahore

Opening Hours

Monday 11:00 - 20:30
Tuesday 11:00 - 20:30
Wednesday 11:00 - 20:30
Thursday 11:00 - 20:30
Friday 14:30 - 21:00
Saturday 11:00 - 20:30

Telephone

+923218881858

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sultan Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Sultan Associates:

Share