06/04/2018
اسلام آباد (رانا غلام قادر) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پاکستانیوں اور اوورسیز پاکستانیوں کیلئے کالا دھن سفید کرنے کی 5نکاتی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا اعلان کرتےہوئے کہاہےکہ جن پاکستانی شہریوں کے اثاثے پاکستان سے باہر ہیں وہ دو فیصد جرمانہ ادا کرکے ایمنسٹی سکیم کا فائدہ اٹھاسکیں گے۔جبکہ اندرون ملک ظاہر کرنےپر5فیصدادائیگی کرکے اثاثے وائٹ کرائے جاسکیں گے،خفیہ پراپرٹی قانونی بنانے کیلئے ایک فیصدکی ادائیگی کرناہوگی،سیاستدان اس سکیم سے فائدہ نہیں اٹھاسکتے ،سکیم30 جون 2018 تک موثر رہے گی اور اس کو قانونی تحفظ دینے کیلئے صدارتی آرڈی نینس جاری کیا جائے گا۔ سکیم کا مقصد یہ ہےکہ شہری رضا کارانہ طور پر اپنے اثاثے ظاہر کریں اور ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہو۔ سکیم کا اعلان وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے وزیراعظم آفس میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ مفتاح اسماعیل اور وزیر مملکت اطلاعات مریم
اورنگزیب بھی ان کے ساتھ موجود تھیں۔ وزیراعظم نے بتایا کہ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ نمبر ہی قومی ٹیکس نمبر تصور کیا جائے گا۔12لاکھ شناختی کارڈ این ٹی این نمبربن گئے،ہرشخص کوریٹرن فائل کرناہوگا، سکیم کے تحت 30جون سے پہلے غیر اعلانیہ آمدن سے حاصل کئے گئے تمام مقامی اثاثے (سونا، بانڈز اور جائیداد) پانچ فیصد پینلٹی کی ادائیگی پر ریگولرائز کرائے جا سکتے ہیں ،یکم جولائی 2018 سے ایف بی آر جائیداد کے ریٹ ختم (منسوخ) کر دے گا صوبوں سے بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ ڈی سی ریٹ ختم کر دیں۔ یکم جولائی 2018 کے بعد ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والا کوئی بھی شخص 40لاکھ سے زیادہ مالیت کی جائیداد نہیں خرید سکے گا۔ جائیداد کی رجسٹریشن پر زیادہ سے زیادہ ایک فیصد ٹیکس (مقامی اور صوبائی) لگانے کی تجویز ہے، وفاقی سطح پر ایڈوانس انکم ٹیکس (ایڈجسٹ ایبل) کو کم کر کے ایک فیصد کیا جار ہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جو پیسہ بنایا جاتا ہے، وہ پیسہ چھپانے کیلئے پراپرٹی میں ڈالا جاتا ہے۔ رجسٹری کراتے وقت جائیداد کی اصل قیمت ظاہر نہیں کی جاتی۔ اب حکومت کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ وہ رجسٹری میں لکھی گئی قیمت سے دوگنا قیمت ادا کر کے جائیداد خرید سکے گی۔ کم قیمت ظاہر کرنے پر حکومت 2018-19 کے دوران 100 فیصد زائد ادائیگی پر جائیداد خرید سکے گی۔ 2019-20 میں 75 فیصد اور 2020-21 میں 50 فیصد زائد ادائیگی پر خرید سکے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ ٹیکس پیکج عوام کو ریلیف دینے کیلئے تیار کیا گیا ہے، اس سے اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ٹیکس ادا کرنا رضاکارانہ کام ہے حالانکہ یہ قانونی ذمہ داری ہے، ٹیکس ادا نہ کرنا مجرمانہ فعل ہے۔ 207 ملین کی آبادی میں سے صرف 12 لاکھ ٹیکس گوشوارے جمع کراتے ہیں، ان میں سے 5 لاکھ کوئی ٹیکس ادا نہیں کرتے، صرف سات لاکھ افراد ٹیکس دیتے ہیں۔ اس میں سے 90 فیصد تنخواہ دار ہیں جن کا ٹیکس سورس پر کاٹ لیا جاتا ہے ۔ ہمارے ہاں چونکہ انکم ٹیکس سب لوگ ادا نہیں کرتے، اسلئے مجبوراً بالواسطہ ٹیکس لگانے پڑتے ہیں جو غیر منصفانہ نظام ہے۔ جوں جوں انکم ٹیکس سے ریونیو میں اضافہ ہوگا، بالواسطہ ٹیکس ختم کر دیئے جائیں گے۔ نئے ٹیکس نظام میں ٹیکنالوجی پر انحصار زیادہ ہوگا۔ ہمارے پاس تمام ڈیٹا موجود ہے، جو آمدن ہونے کے باوجود ٹیکس ادا نہیں کرے گا اس کیخلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔ جن لوگوں نے ماضی میں ٹیکس چوری کیا ہے ان کیلئے یہ ایمنسٹی سکیم دی گئی ہے۔ ماضی کو ایک طرف رکھ کر وہ اپنے اثاثے سفید کرسکتے ہیں۔ مقامی اثاثے 5 فیصد جرمانہ دے کر وائٹ کرالیں۔ بیرون ملک اثاثے دو فیصد ادائیگی پر ملک میں واپس لاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس گزاروں کی شناخت کا نظام وضع کیا گیا ہے ہر شخص کی مالیاتی ٹرانزکشن حکومت کے سامنے ہوگی، ان کے یوٹیلیٹی بلز اور بچوں کی فیس ہمارے سامنے ہے ۔ بجلی کا لاکھوں میں بل ادا کرتے ہیں لیکن ٹیکس نہیں دیتے۔ وزیراعظم نے کہاکہ ٹیکس میں انقلابی اصلاحات کی گئی ہیں۔ ہم تین چار سال سے اس پر کام کر رہے تھے، انکم ٹیکس کی شرح کو بہت کم کیا جارہا ہے،12لاکھ روپے سالانہ آمدن پر کوئی انکم ٹیکس نہیں ہوگا، 12 سے 24 لاکھ روپے پر 5 فیصد، 24 سے 48 لاکھ روپے پر 10 فیصد اور 48 لاکھ روپے اور اس سے زائد پر 15 فیصد انکم ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ ایک لاکھ ڈالر سالانہ کی ترسیل زر پر کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوگی۔ وہ ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گی۔ ایک لاکھ ڈالر سالانہ سے زیادہ ترسیلات زر بھی ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گی بلکہ ایف بی آر ذرائع سے متعلق سوال کرسکے گا۔ فارن ایکسچینج اکائونٹ صرف ٹیکس فائلر (گوشوارے جمع کرانے والا) کھول سکے گا۔ پاکستان میں ڈالر اکائونٹ رکھنے والے وہ افراد جنہوں نے غیر اعلانیہ آمدن سے ڈالر خریدے ہیں وہ دو فیصد ادائیگی پر یہ رقم ریگولرائز کراسکتے ہیں۔ غیر ملکی اثاثوں کو ظاہر کرنے کی پالیسی کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ دو فیصد ادائیگی پر غیر ملکی زرمبادلہ کو واپس لایا جاسکے گا۔ اس کے دو آپشن ہوں گے، ایک یہ کہ 5 سال کیلئے تین فیصد سالانہ کی شرح پر بانڈز لیں (ادائیگی شمشاہی بنیاد پر ہوگی) اور ایک سال کیش نہیں کرایا جاسکے گا۔ یا موجودہ انٹر بینک ڈالر ریٹ پر پاکستانی روپے میں اینکیشمنٹ کرالیں۔ غیر ملکی زرمبادلہ رکھنے والے مقامی افراد بھی یہ بانڈ خرید سکتے ہیں۔ سکیم کا اطلاق سرکاری افسروں اور عوامی عہدے رکھنے والوں ان کی بیگمات اور ان پر انحصار کرنے والے بچوں پر نہیں ہوگا۔ سیاستدان اوران کی زیرکفالت افراد اس سکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ غیر ملکی اثاثے ظاہر کرنے اور ڈالر ملک میں واپس لانے کی سکیم کا اطلاق منی لانڈرنگ، ڈرگ سمگلنگ اور دہشتگردی فنانسنگ کرنے والوں پر نہیں ہوگا۔ ٹیکس ایمنسٹی سکیم 30 جون تک جاری رہے گی۔ حکومت آرڈیننس جاری کرے گی اور ایف بی آر یا نیب وغیرہ کے متعلقہ قوانین سے ان لوگوں کو استثنیٰ دیا جائے گاجو اس ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھائیں گے۔