Syed Law Associates

Syed Law Associates Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Syed Law Associates, Consulting Agency, First Floor, Al Hamd Building, Old Punjab Bar, 13 Fan Road Near State Bank Lahore, Lahore.

اسلام آباد (رانا غلام قادر) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پاکستانیوں اور اوورسیز پاکستانیوں کیلئے کالا دھن سفید کرنے کی ...
06/04/2018

اسلام آباد (رانا غلام قادر) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پاکستانیوں اور اوورسیز پاکستانیوں کیلئے کالا دھن سفید کرنے کی 5نکاتی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا اعلان کرتےہوئے کہاہےکہ جن پاکستانی شہریوں کے اثاثے پاکستان سے باہر ہیں وہ دو فیصد جرمانہ ادا کرکے ایمنسٹی سکیم کا فائدہ اٹھاسکیں گے۔جبکہ اندرون ملک ظاہر کرنےپر5فیصدادائیگی کرکے اثاثے وائٹ کرائے جاسکیں گے،خفیہ پراپرٹی قانونی بنانے کیلئے ایک فیصدکی ادائیگی کرناہوگی،سیاستدان اس سکیم سے فائدہ نہیں اٹھاسکتے ،سکیم30 جون 2018 تک موثر رہے گی اور اس کو قانونی تحفظ دینے کیلئے صدارتی آرڈی نینس جاری کیا جائے گا۔ سکیم کا مقصد یہ ہےکہ شہری رضا کارانہ طور پر اپنے اثاثے ظاہر کریں اور ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہو۔ سکیم کا اعلان وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے وزیراعظم آفس میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ مفتاح اسماعیل اور وزیر مملکت اطلاعات مریم

اورنگزیب بھی ان کے ساتھ موجود تھیں۔ وزیراعظم نے بتایا کہ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ نمبر ہی قومی ٹیکس نمبر تصور کیا جائے گا۔12لاکھ شناختی کارڈ این ٹی این نمبربن گئے،ہرشخص کوریٹرن فائل کرناہوگا، سکیم کے تحت 30جون سے پہلے غیر اعلانیہ آمدن سے حاصل کئے گئے تمام مقامی اثاثے (سونا، بانڈز اور جائیداد) پانچ فیصد پینلٹی کی ادائیگی پر ریگولرائز کرائے جا سکتے ہیں ،یکم جولائی 2018 سے ایف بی آر جائیداد کے ریٹ ختم (منسوخ) کر دے گا صوبوں سے بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ ڈی سی ریٹ ختم کر دیں۔ یکم جولائی 2018 کے بعد ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والا کوئی بھی شخص 40لاکھ سے زیادہ مالیت کی جائیداد نہیں خرید سکے گا۔ جائیداد کی رجسٹریشن پر زیادہ سے زیادہ ایک فیصد ٹیکس (مقامی اور صوبائی) لگانے کی تجویز ہے، وفاقی سطح پر ایڈوانس انکم ٹیکس (ایڈجسٹ ایبل) کو کم کر کے ایک فیصد کیا جار ہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جو پیسہ بنایا جاتا ہے، وہ پیسہ چھپانے کیلئے پراپرٹی میں ڈالا جاتا ہے۔ رجسٹری کراتے وقت جائیداد کی اصل قیمت ظاہر نہیں کی جاتی۔ اب حکومت کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ وہ رجسٹری میں لکھی گئی قیمت سے دوگنا قیمت ادا کر کے جائیداد خرید سکے گی۔ کم قیمت ظاہر کرنے پر حکومت 2018-19 کے دوران 100 فیصد زائد ادائیگی پر جائیداد خرید سکے گی۔ 2019-20 میں 75 فیصد اور 2020-21 میں 50 فیصد زائد ادائیگی پر خرید سکے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ ٹیکس پیکج عوام کو ریلیف دینے کیلئے تیار کیا گیا ہے، اس سے اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ٹیکس ادا کرنا رضاکارانہ کام ہے حالانکہ یہ قانونی ذمہ داری ہے، ٹیکس ادا نہ کرنا مجرمانہ فعل ہے۔ 207 ملین کی آبادی میں سے صرف 12 لاکھ ٹیکس گوشوارے جمع کراتے ہیں، ان میں سے 5 لاکھ کوئی ٹیکس ادا نہیں کرتے، صرف سات لاکھ افراد ٹیکس دیتے ہیں۔ اس میں سے 90 فیصد تنخواہ دار ہیں جن کا ٹیکس سورس پر کاٹ لیا جاتا ہے ۔ ہمارے ہاں چونکہ انکم ٹیکس سب لوگ ادا نہیں کرتے، اسلئے مجبوراً بالواسطہ ٹیکس لگانے پڑتے ہیں جو غیر منصفانہ نظام ہے۔ جوں جوں انکم ٹیکس سے ریونیو میں اضافہ ہوگا، بالواسطہ ٹیکس ختم کر دیئے جائیں گے۔ نئے ٹیکس نظام میں ٹیکنالوجی پر انحصار زیادہ ہوگا۔ ہمارے پاس تمام ڈیٹا موجود ہے، جو آمدن ہونے کے باوجود ٹیکس ادا نہیں کرے گا اس کیخلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔ جن لوگوں نے ماضی میں ٹیکس چوری کیا ہے ان کیلئے یہ ایمنسٹی سکیم دی گئی ہے۔ ماضی کو ایک طرف رکھ کر وہ اپنے اثاثے سفید کرسکتے ہیں۔ مقامی اثاثے 5 فیصد جرمانہ دے کر وائٹ کرالیں۔ بیرون ملک اثاثے دو فیصد ادائیگی پر ملک میں واپس لاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس گزاروں کی شناخت کا نظام وضع کیا گیا ہے ہر شخص کی مالیاتی ٹرانزکشن حکومت کے سامنے ہوگی، ان کے یوٹیلیٹی بلز اور بچوں کی فیس ہمارے سامنے ہے ۔ بجلی کا لاکھوں میں بل ادا کرتے ہیں لیکن ٹیکس نہیں دیتے۔ وزیراعظم نے کہاکہ ٹیکس میں انقلابی اصلاحات کی گئی ہیں۔ ہم تین چار سال سے اس پر کام کر رہے تھے، انکم ٹیکس کی شرح کو بہت کم کیا جارہا ہے،12لاکھ روپے سالانہ آمدن پر کوئی انکم ٹیکس نہیں ہوگا، 12 سے 24 لاکھ روپے پر 5 فیصد، 24 سے 48 لاکھ روپے پر 10 فیصد اور 48 لاکھ روپے اور اس سے زائد پر 15 فیصد انکم ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ ایک لاکھ ڈالر سالانہ کی ترسیل زر پر کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوگی۔ وہ ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گی۔ ایک لاکھ ڈالر سالانہ سے زیادہ ترسیلات زر بھی ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گی بلکہ ایف بی آر ذرائع سے متعلق سوال کرسکے گا۔ فارن ایکسچینج اکائونٹ صرف ٹیکس فائلر (گوشوارے جمع کرانے والا) کھول سکے گا۔ پاکستان میں ڈالر اکائونٹ رکھنے والے وہ افراد جنہوں نے غیر اعلانیہ آمدن سے ڈالر خریدے ہیں وہ دو فیصد ادائیگی پر یہ رقم ریگولرائز کراسکتے ہیں۔ غیر ملکی اثاثوں کو ظاہر کرنے کی پالیسی کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ دو فیصد ادائیگی پر غیر ملکی زرمبادلہ کو واپس لایا جاسکے گا۔ اس کے دو آپشن ہوں گے، ایک یہ کہ 5 سال کیلئے تین فیصد سالانہ کی شرح پر بانڈز لیں (ادائیگی شمشاہی بنیاد پر ہوگی) اور ایک سال کیش نہیں کرایا جاسکے گا۔ یا موجودہ انٹر بینک ڈالر ریٹ پر پاکستانی روپے میں اینکیشمنٹ کرالیں۔ غیر ملکی زرمبادلہ رکھنے والے مقامی افراد بھی یہ بانڈ خرید سکتے ہیں۔ سکیم کا اطلاق سرکاری افسروں اور عوامی عہدے رکھنے والوں ان کی بیگمات اور ان پر انحصار کرنے والے بچوں پر نہیں ہوگا۔ سیاستدان اوران کی زیرکفالت افراد اس سکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ غیر ملکی اثاثے ظاہر کرنے اور ڈالر ملک میں واپس لانے کی سکیم کا اطلاق منی لانڈرنگ، ڈرگ سمگلنگ اور دہشتگردی فنانسنگ کرنے والوں پر نہیں ہوگا۔ ٹیکس ایمنسٹی سکیم 30 جون تک جاری رہے گی۔ حکومت آرڈیننس جاری کرے گی اور ایف بی آر یا نیب وغیرہ کے متعلقہ قوانین سے ان لوگوں کو استثنیٰ دیا جائے گاجو اس ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھائیں گے۔

26/01/2018
FBR is launching of IRIS-ADX for offline entry of Sales Tax Data....
25/01/2018

FBR is launching of IRIS-ADX for offline entry of Sales Tax Data....

23/01/2018

Federal Board of Revenue has introduced new risk-based registration system called ‘RegSys’ for issuance of Sales Tax Registration Numbers. In this regard instructions have been issued to the Chief Commissioners of the Large Taxpayer Units and Regional Tax Offices on the introduction of the new risk-based sales tax registration procedure.
Under the new system, the role of Central Registration Office has been minimised in the new system. Now, the residual functions shall be performed by Secretary Inland Revenue (Automation). However, Local Registration Offices (LRO) will continue to conduct physical verification and other inquiries as required under the new system.
A number of improvements have been made in the revised procedure to expedite registration while minimising the risk of dubious registration. These changes have been notified by amendment made in the Sales Tax Rules, 2006 through SRO 79(1)/2014 dated 31.01.2014.
The main features of the new procedure revealed that the application form for sales tax registration has been made part of income tax registration (TRF-01). Thus, a person can apply for both NTN and sales tax registration at the same time. A person required to be registered under Rule 4 of the Sales Tax Rules, 2006 is now required to fill in the online application form (TRF-01) available on the FBR website. Instructions for filling in the form are available on it, and a detailed User Guide is also available on the website.
The documents required to be furnished in support of the application have now been specified in the Rules. These include CNICs/passports of owners, partners or directors (as the case may be), registration/incorporation certificate or partnership deed, bank account certificate, lease/rent agreement (in case of rented property) and ownership documents of the premises, latest utility bills and list of machinery installed (in case of manufacturers). Scanned copies of the supporting documents are to be electronically attached with the application.
In order to reduce visits of field staff to business premises, applicants are now asked to attach/upload digital GPS-tagged photographs of their business premises, machinery installed (if any), and electricity and gas meter as the case may be, using the electronic application “Verisite” provided for the purpose. This Android-based application is available on the website “Google Play”, and can be downloaded on any Android-enabled mobile telephone.
The instructions for downloading and installing have been made available on FBR’s website. Submission of GPS-tagged photographs will enable FBR to easily confirm the location and existence of the business, without deputing officials for physical verification.
Applicants who are unable to file applications online have the option to approach the Local Registration-Office (LRO) of their concerned Regional Tax Office for assistance. The submitted application shall be processed electronically by ‘RegSys’. In case the application is found incomplete or incorrect, objection memo shall be issued electronically to the applicant, allowing him a period of 10 days to remove the objections before the application is rejected.
If the application is complete, and all particulars are verified, it shall be assigned a risk score by ‘RegSys’. In case of low risk score, the registration certificate will be directly issued by ‘RegSys’ and sent to the applicant by courier service. Remaining applications shall be sent to the concerned Local Registration Office (LRO) for further inquiry which may include physical verification.
By introducing this system, it is expected that substantial number of applications would be disposed of automatically through ‘RegSys’. This would facilitate genuine applicants and-prevent undue delays and complaints about sales tax registration. FBR has requested all RTOs and trade bodies to inform and assist the applicants for filing applications for registration under the new procedure. Any difficulty or problem may be brought to the notice of the Board.

22/01/2018

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزارت تجارت نے ملک میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے سلسلہ میں وضاحت کی ہے کہ صرف بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بیگج، گفت اینڈ ٹرانسفر آف ریڈیڈنیس سکیمز کے تحت استعمال شدہ کاریں درآمد کرنے کی سہولت حاصل ہے جبکہ بیگج ، گفت اینڈ ٹرانسفر آف ریڈیڈنیسسکیم کے تحت فوائد تجارتی بنیادوں پر گاڑیوں کی درآمد کرنے والوں کو حاصل نہیں ہوں گے ۔ وزارت تجارت نے ملک میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے عمل میں آسانی کو صحیح خطوط پر استوار کئے جانے بارے حالیہ فیصلوں کے سلسلہ میں شراکت داروں ، عوام الناس اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی آگاہی کے سلسلہ میں وضاحت کی ہے کہ صرف سمندر پار پاکستا نیوں کو بیگج ، گفت اینڈ ٹرانسفر آف ریڈیڈنیس سکیمز کے تحت استعمال شدہ کاریں درآمد کرنے کی سہولت حاصل ہے جبکہ درآمدی پالیسی میں اس شق کا استعمال تجارتی بنیادوں پر گاڑیوں کی درآمد کی غرض سے نہیں تھا ۔ اس سکیم کے مسلسل غلط استعمال سے بچنے اور حقیقی طور پر استفادہ کرنے والے یعنی سمندر پار پاکستانیوں کی سہولت اور آسانی کیلئے درآمدی پالیسی میں اس شق کا اضافہ کیا گیا تاکہ سمندر پار پاکستانی خود اپنے بینک اکانٹ سے ایسی درآمد پر غیر ملکی زرمبادلہ ، ٹیکسز اور ڈیوٹیز ادا کرسکیں ۔ اس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کوئی دوسرا بیرون ملک سے استفادہ کرنے والے کے نام پر درآمدات میں فائدہ نہ اٹھا سکے ۔ تاہم اس وقت درآمدی عمل میں موجود گاڑیوں کے سلسلہ میں غور و خوض جاری ہے اور ایسی گاڑیوں کے سلسلہ میں ابھی فیصلہ کیا جا رہا ہے یا یہ عمل درآمد کے مرحلہ میں ہے تاہم غیر ضروری مشکلات سےبچنے کیلئے صرف ایک مرتبہ یہ درآمدی سہولت دیئے جانے کیلئے شق کو حتمی شکل دی جا رہی ہے جبکہ یہ بات تشویشناک ہے کہ ایک ایسوسی ایشن کی طرف سے ایسے بیانات دیئے جا رہے ہیں جن سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پالیسی کی یہ شق مستقبل میں کی جانے والی تمام درآمدات کیلئے ختم کی جا رہی ہے۔ وزارت تجارت نے وضاحت کی ہے کہ کمرشل درآمدات کبھی بھی استفادہ کی غرض سے نہیں ہوتیں اور نہ ہی یہ درآمد کنندگان بیگج ، گفٹ اینڈ ٹرانسفر آف ریڈیڈنیس سکیمز کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے معاملہ میں جائز شراکت دار ہیں یہ صرف اور صرف سمندر پار پاکستانیوں کیلئے ہے اور ان پاکستانیوں کی طرف اپنے اکانٹس سے ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی ادائیگی کی شق درآمدی پالیسی کا حصہ بن چکی ہے اور ایسا کابینہ کی اقتصادی رابطہ میں غور و خرض کے بعد کیا گیا ۔ وزارت تجارت نے واضح کیا ہے کہ اس پالیسی میں تبدیلی کی توقع پر کوئی بھی گاڑی درآمد کرنے والا اپنے نقصان کا خود ذمہ دار ہوگا اور کسٹمز حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسی گاڑیاں ضبط کر لیں اور یا ان غیر قانونی درآمدات کے خلاف کوئی دیگر قانونی کارروائی کی جائے ۔ وزارت تجارت کا درآمدی عمل میں پھنسی گاڑیوں کے ماسوا پالیسی کی اس شق میں تبدیلی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

16/01/2018

زیرالتوا آڈٹ کیسز کا انبار لگ گیا.

بجٹ 2015کی شق214ڈی سے تاخیری ریٹرنزکے آڈٹ انتخاب سے مسئلہ کھڑاہوا.

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)نے دیر سے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کو آڈٹ کے لیے منتخب کرنے سے متعلق شق سیکشن 214 ڈی ختم کرنے کی تجویز کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔

’’ایکسپریس‘‘ کو دستیاب دستاویز ایف بی آر کے آڈٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے چیئرمین ایف بی آر کو تحریری طور پر رپورٹ بھجوائی گئی ہے جس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ میں انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 214 ڈی ختم کرنے کی تجویز دی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیاکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے فنانس ایکٹ 2015 کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت لاگو کی جانے والی سیکشن 214 ڈی کے تحت انکم ٹیکس آڈٹ کے لیے منتخب ہونے والے ٹیکس دہندگان کے بعد سے آڈٹ کا کام متاثر ہورہا ہے کیونکہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے کی وجہ سے آڈٹ کے لیے منتخب کرنے کے بعد ماتحت اداروں کے پاس آڈٹ کے زیر التوا کیسوں کی تعداد بڑھ کر 7 لاکھ 80 سے تجاوز کرگئی ہے اور آڈٹ کیسوں کی تعداد بڑھنے کی وجہ سے گزشتہ 2 سال کے دوران صرف21 ہزار694 ٹیکس دہندگان کا آڈٹ مکمل ہو سکا ہے۔

ایف بی آر کے آڈٹ ڈپارٹمنٹ نے موقف اختیار کیا کہ آڈٹ کے اتنی بڑی تعدادمیں زیر التوا کیس نمٹانے کیلیے دستیاب انسانی وسائل ناکافی ہیں،
صرف 1 سال کے دوران آڈٹ کے زیر التوا کیسوں کی شرح میں 33.7 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، مذکورہ شق لاگو ہونے کے بعد ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے اور ...
دیر سے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی بنیاد پر صرف ٹیکس ایئر 2015 میں مزید 3 لاکھ6 ہزار 380 لوگ آڈٹ کیلیے منتخب ہوئے جبکہ ٹیکس ایئر 2015 کیلیے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی مختلف شقوں کے تحت مجموعی طور پر 3لاکھ 91 ہزار579 لوگ آڈٹ کیلیے منتخب ہوئے جن میں سے صرف21 ہزار 145 ٹیکس دہندگان کا آڈٹ مکمل ہو سکا ہے اور 3 لاکھ70 ہزار 434 ٹیکس دہندگان کا آڈٹ التوا کا شکار ہے۔

دستاویز کے مطابق ٹیکس ایئر 2015 میں 3 لاکھ6ہزار 380 ٹیکس دہندگان کو سیکشن 214 ڈی کے تحت آڈٹ کیلیے منتخب کیا گیا جن میں سے صرف251 ٹیکس دہندگان کا آڈٹ مکمل ہوسکا.

اور 3 لاکھ 6 ہزار129 آڈٹ کے کیسز التوا کا شکار ہیں جبکہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی سیکشن 177کے تحت 1ہزار727 ٹیکس دہندگان کو آڈٹ کے لیے منتخب کیا گیا جن میں سے صرف 532 ٹیکس دہندگان کا آڈٹ مکمل کیا جا سکا اور باقی1ہزار 195 آڈٹ کے کیس التوا کا شکار ہیں، اسی طرح انکم ٹیکس آرڈیننس 2001کی سیکشن 214 سی کے تحت 83ہزار 472ٹیکس دہندگان کو آڈٹ کے لیے منتخب کیا گیا جن میں سے صرف 20ہزار362ٹیکس دہندگان کا آڈٹ مکمل ہوسکا اور 63 ہزار110آڈٹ کے کیس التوا کا شکار ہیں۔

دستاویز میں بتایا گیاکہ ٹیکس ایئر 2016 میں مجموعی طور پر 4 لاکھ 10 ہزار 485 ٹیکس دہندگان کو آڈٹ کے لیے منتخب کیا گیا، ان میں سے 4 لاکھ 9 ہزار 577 ٹیکس دہندگان کو سیکشن 214 ڈی کے تحت منتخب کیا گیا جن میں سے صرف 406 ٹیکس دہندگان کا آڈٹ مکمل ہوسکا اور4 لاکھ 9ہزار171 آڈٹ کیسز التوا کا شکار ہیں، انکم ٹیکس آرڈیننس2001 کی سیکشن 177کے تحت 908 ٹیکس دہندگان کو آڈٹ کے لیے منتخب کیا گیا اور صرف 143 ٹیکس دہندگان کا آڈٹ مکمل کیا جا سکا، باقی765 آڈٹ کیسز التوا کا شکار ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیاکہ اس وقت آڈٹ کے جتنے کیس زیر التوا ہیں اس سے پہلے کبھی التوا کا شکار نہیں تھے اور اس کی بنیادی وجہ ایف بی آر کی جانب سے انکم ٹیکس آرڈیننس میں متعارف کرائی جانے والی شق 214 ڈی ہے، اگر یہ شق برقرار رہی تو اس سال بھی اس شق کے تحت بے تحاشہ ٹیکس دہندگان آڈٹ کیلیے منتخب ہوجائیں گے جنہیں سنبھالنا مشکل ہو جائیگا اور کام کا بوجھ بڑھنے کے ساتھ مقدمہ بازی بھی بڑھ جائیگی۔

16/01/2018

*FBR reduces valuations of immovable properties in six major cities*

January 11, 2018 Inland Revenue

ISLAMABAD: Federal Board of Revenue (FBR) has announced massive reduction in values of immovable properties located in six major cities of the country for determination of withholding tax and capital gain tax.
In six different SROs issued on Thursday, the FBR notified reduced valuations of immovable properties in Peshawar, Faisalabad, Lahore, Karachi, Rawalpindi and Islamabad.
The valuations have been reduced for both residential and industrial open and constructed plots located in these cities.
The FBR issued amended rates through notifications included: SRO 15(I)/2018 – Peshawar; SRO 16(I)/2018 – Faisalabad; SRO 17(I)/2018 – Lahore; SRO 18(I)/2018 – Karachi; SRO 19(I)/2018 – Rawalpindi; and SRO 20(I)/2018 – Islamabad.

*Note

*This is the best ever news for property in past one year. This will reduce transfer and transection costs dramatically and will energise properties markets in all these cities once again in sha Allah*

12/01/2018

For jeweller's

Budget purposal
06/01/2018

Budget purposal

INTERIM ORDERS PASSED BY THE Lahore High Court against levy and collection of (FURTHER SALES TAX) on supplies made under...
06/01/2018

INTERIM ORDERS PASSED BY THE Lahore High Court against levy and collection of (FURTHER SALES TAX) on supplies made under SRO 1125(i)/2017 read with SRO 584(i)/2017.

Address

First Floor, Al Hamd Building, Old Punjab Bar, 13 Fan Road Near State Bank Lahore
Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Syed Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share