01/02/2021
کاروبار میں یہ غلطیاں مت کیجئے!
تحریر: عظیم امین
اگر آپ بزنس کا ارادہ رکھتے ہیں, یا بزنس سٹارٹ لے چکے ہیں, تو پہلے تو میں آپ کی کامیابی کے لئیے اللہ پاک سے دعا گو ہوں, دوسرا کچھ گزارشات عرض کرنا چاہوں گا جو بز نس کو کامیاب بنانے کے لئیے از حد ضروری ہیں.
1. جس چیز کی مارکیٹ میں ڈیمانڈ زیادہ اور سپلائی کم ہو, اس میں کامیاب ہونے کے بہت زیادہ چانسز ہیں, آجکل مارکیٹ میں "ایمانداری" کی شدید کمی ہے اور کم وبیش ہر بندہ اس کی ڈیمانڈ کرتا ہے. اگر آپ اپنی لین دین, پروڈکٹ, سروسز میں اس عنصر کو شامل کر لیں تو آپ کی کامیابی یقینی ہے.
2. دیکھا دیکھی بزنس مت شروع کریں: یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ ہمیں اپنے اردگرد جو, پروڈکٹ یا سروس بیچنے والا اچھی ماہانا/سالانا کماتا نظر آتا ہے ہم بنا سوچے سمجھے اس سے متاثر ہو کر اس کے کام جیسا سٹارٹ لے لیتے ہیں, صرف اس بات کو دلیل بناتے ہوے کہ فلاں اس سے اتنا کما رہا ہے. میرے دوست یاد رکھئے آپ جس سے متاثر ہیں وہ اس کی موجودہ حالت ہے, کتنی قربانیاں دے کر وہ اس مقام تک پہنچا ہے شائد میں اور آپ اس کا ادراک نہیں کر سکتے. اس لئیے دیکھا دیکھی کاروبار مت شروع کیجئے.
3. مجھے مشورہ چائیے: آئے روز ایسی سینکڑوں پوسٹس پڑھنے کو ملتی ہیں کہ "میرے پاس اتنا پیسا ہے, مجھے کیا کام کرنا چائیے" میرے محترم برادر مشورہ ضرور لیجئے لیکن مشورہ دینے والا آپ کو صرف مشورہ دے سکتا ہے تجربہ نہیں اور بہتر یہ ہے کہ آپ اپنی دلچسپی کے کام کا انتخاب کیجئے اور پھر متعلقہ شعبے کے تجربہ کار افراد سے مشورہ کےلئے رجوع کیجئے.
4. کیسا کاروبار کرنا چائیے: یہ ایک طرح سے انتہائی مشکل سوال بھی ہے اور آسان بھی. مشکل اس طرح سے ہے کہ آپ کو اس سوال کا جواب کوئی دوسرا نہیں دے سکتا, آسان اس طرح سے ہے کہ اس کا سب سے بہتر جواب پوچھنے والے کے پاس ہی ہوتا ہے.
فرض کیجئے کہ آپ کے پاس دس لاکھ روپے ہیں, اور اگر آپ ان کو کہیں استعمال نہیں کرتے تو ٹھیک دس دن کے بعد یہ ایکسپائر ہو جائیں گئے, اب آپ سوچئیے کہ آپ ان کو کہاں بہتر استعمال کر سکتے ہیں, آپ کے زہن میں آنے والا پہلا آئیڈیا ہی آپ کے سوال کا جواب ہے.
5. اپنے بزنس کو وقت دیجئیے: یاد رکھئے گا کہ آپ کے انویسٹ کئیے ہوئے پیسے کی آپ سے ذیادہ قدر کسی اور کو نہیں ہو سکتی. آپ کی یہ قدر ہی آپ سے اپنے پیسے کی وصولی کے لئیے بہترین پلاننگ ترتیب دلا سکتی ہے.
اکثر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ ہم اچھی خاصی رقم لگا کر بزنس شروع تو کر لیتے ہیں, لیکن پھر اپنی مجبوریوں اور وقت کی کمی کو بہانا بنا کر کبھی کسی بھائی کے سپرد کر دیتے ہیں تو کبھی کسی ملازم کے.(یہ ایک انتہائی غیر سنجیدہ رویہ ہے, جو ناکامی کا بہت بڑا سبب ہے) پھر گلہ یہ کرتے ہیں کہ بزنس کی گروتھ نہیں ہو رہی.
اللہ پاک مجھے, آپ کو, ہم سب کو اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئیے بہتر سمجھ بوجھ عطا فرمائے.
آپ کی کامیابیوں اور دعاؤں کا طالب: عظیم امین.