01/09/2022
شرک و توحید
مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اِلَّاۤ اَسۡمَآءً سَمَّیۡتُمُوۡہَاۤ اَنۡتُمۡ وَ اٰبَآؤُکُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ ؕ اِنِ الۡحُکۡمُ اِلَّا لِلّٰہِ ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ ؕ ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الۡقَیِّمُ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿12 :سورۃ یوسف : آیت 40
اس کے سوا تم جن کی پوجا پاٹ کر رہے ہو وہ سب نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ داداؤں نے خود ہی گھڑ لیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی فرماں روائی تو صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، اس کا فرمان ہے کہ تم سب سوائے اس کے کسی اور کی عبادت نہ کرو، یہی دین درست ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (ترجمہ مکہ)
اَمۡوَاتٌ غَیۡرُ اَحۡیَآءٍ ۚ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ ۙ اَیَّانَ یُبۡعَثُوۡنَ (16 :سورۃ النحل : آیت 21﴾
مردے ہیں زندہ نہیں انھیں تو یہ بھی شعور نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے. (ترجمہ مکہ)
فَاِنَّکَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰی وَ لَا تُسۡمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوۡا مُدۡبِرِیۡنَ 30 : سورۃ الروم : آیت 52
بیشک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو (اپنی) آواز سنا سکتے ہیں جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر مڑ گئے ہوں۔ (ترجمہ مکہ)
وَ مَا یَسۡتَوِی الۡاَحۡیَآءُ وَ لَا الۡاَمۡوَاتُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُسۡمِعُ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ مَاۤ اَنۡتَ بِمُسۡمِعٍ مَّنۡ فِی الۡقُبُوۡرِ
﴿35 :سورۃ فاطر : آیت 22
اور زندہ اور مردے برابر نہیں ہوسکتے اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے سنا دیتا ہے اور آپ ان کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں مدفون ہیں۔ (ترجمہ مکہ)
ہندو، سکھ، عیسائی، بدھ مت, یہود یا آج کے نام نہاد مسلمان ہوں تمام مشرک قوموں کا اپنے معبودوں سے متعلق ایک ہی عقیدہ ہے کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ (ایشور) کے مقرب (ولی اللّٰہ) ہیں اور فوت ہونے کے باوجود بھی اپنی تصویروں، قبروں، بتوں، مزاروں، مندروں اور گوردواروں میں زندہ موجود ہیں اور حاضرین و زائرین کو " دیکھتے سنتے جانتے " ہیں، مشرکین کے اس جھوٹ پر شرک کی پوری عمارت کھڑی ہے۔