06/06/2026
پریس ریلیز
سورج پر ٹیکس نہ لگاؤ
پاکستان سولر ایسوسی ایشن، لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن اور صارفین کے نمائندوں کا سولر آلات پر مجوزہ 18 فیصد سیلز ٹیکس مسترد
لاہور، 06 جون 2026:
پاکستان سولر ایسوسی ایشن، لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن اور سولر صارفین کے نمائندوں نے وفاقی بجٹ 2026-27 میں سولر توانائی کے آلات پر مجوزہ 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی اطلاعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ سولر توانائی کے شعبے پر مزید ٹیکس عائد نہ کیے جائیں بلکہ صاف، سستی اور ماحول دوست توانائی کے فروغ کے لیے مراعات اور سہولیات فراہم کی جائیں۔
لاہور پریس کلب میں منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے چیئرمین وقاص موسیٰ، صدر ناصر محمود، وائس چیئرمین شہاب غوری، جنرل سیکریٹری محمد فاروق گجر، لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے سابق وفاقی بجٹ سیکریٹری سعید ایوب اور صارفین کے نمائندوں شاہد عثمان، عامر بٹ اور عمر کھوکھر نے کہا کہ سولر توانائی پاکستان کے توانائی بحران کا ایک کامیاب اور دیرپا حل ثابت ہوئی ہے جس نے لاکھوں گھریلو، تجارتی اور صنعتی صارفین کو مہنگی بجلی کے بوجھ سے جزوی نجات دلانے کے ساتھ ساتھ قومی معیشت کو بھی اہم فوائد پہنچائے ہیں۔
مقررین نے کہا کہ 2009 میں حکومت نے قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے لیے سولر آلات پر عائد ٹیکسز ختم کیے تھے۔ بعد ازاں 2022 میں سولر شعبے پر دوبارہ ٹیکس عائد کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم سولر صنعت، صارفین اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے بھرپور احتجاج کے نتیجے میں سولر پینلز پر ٹیکس واپس لینا پڑا۔ اب جبکہ سولر آلات پر پہلے ہی 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جا چکا ہے، اسے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز ملک کے توانائی اور معاشی مفادات کے خلاف ہے۔
مقررین نے کہا کہ رواں سال ملک میں لوڈشیڈنگ کے حالات ماضی کے مقابلے میں نسبتاً بہتر رہے ہیں اور اس بہتری میں سولر توانائی کا نمایاں کردار ہے۔ لاکھوں صارفین نے اپنی ذاتی سرمایہ کاری سے قومی گرڈ پر دباؤ کم کیا، جس کا فائدہ نہ صرف بجلی کے صارفین بلکہ پوری قومی معیشت کو پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران پاکستان تقریباً 12 ارب ڈالر مالیت کے درآمدی تیل اور گیس کے اخراجات سے بچنے میں کامیاب ہوا ہے جس میں سولر توانائی کے تیز رفتار فروغ نے اہم کردار ادا کیا۔ ماہرین کے مطابق صرف رواں سال یہ بچت تقریباً 6 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ اگر سولر شعبے کی ترقی کو ٹیکسوں کے ذریعے سست کیا گیا تو یہی رقوم دوبارہ درآمدی ایندھن پر خرچ کرنا پڑیں گی جس کا بوجھ بالآخر قومی خزانے اور عوام دونوں کو اٹھانا ہوگا۔
صارفین کے نمائندوں شاہد عثمان، عامر بٹ اور عمر کھوکھر نے کہا کہ سولر توانائی اپنانے والے شہری کسی عیاشی یا سرمایہ کاری کے لیے سولر نہیں لگا رہے بلکہ انہوں نے اپنے خاندانوں کو مہنگی بجلی اور لوڈشیڈنگ سے بچانے کے لیے یہ قدم اٹھایا۔ لاکھوں متوسط طبقے کے خاندانوں نے کمیٹیاں ڈال کر، اپنی جمع پونجی خرچ کر کے، قرض لے کر اور سرکاری ملازمین نے جی پی فنڈ سے ایڈوانس حاصل کر کے اپنے گھروں میں سولر سسٹم نصب کیے ہیں۔ ایسے لوگوں پر مزید ٹیکس عائد کرنا سراسر ناانصافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ان شہریوں کو سزا نہ دے جنہوں نے اپنے خرچے پر ملک کے توانائی بحران کے حل میں حصہ ڈالا ہے۔ سولر توانائی کی قیمت میں اضافہ صرف سولر صارفین کو متاثر نہیں کرے گا بلکہ صنعت، تجارت، زراعت اور گھریلو شعبے سمیت پورے معاشی نظام پر اثر انداز ہوگا۔ جب سولر مہنگا ہوگا تو پیداوار اور خدمات کی لاگت بڑھے گی اور اس کا نتیجہ اشیائے ضروریہ سمیت تقریباً ہر چیز کی قیمت میں اضافے کی صورت میں نکلے گا۔
مقررین نے زور دیا کہ حکومت سولر توانائی کو ریونیو اکٹھا کرنے کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے قومی توانائی پالیسی کا بنیادی ستون تسلیم کرے۔ اگر سولر کی رفتار کم ہوئی تو تیل اور گیس کی درآمدات پر اخراجات دوبارہ بڑھ جائیں گے اور وہ اربوں ڈالر جو آج ملک بچا رہا ہے، دوبارہ بیرونِ ملک منتقل ہونے لگیں گے۔
پاکستان سولر ایسوسی ایشن، لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن اور صارفین کے نمائندوں نے وفاقی حکومت، وزارتِ خزانہ اور تمام متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ سولر آلات پر مجوزہ 18 فیصد سیلز ٹیکس فوری طور پر مسترد کیا جائے، موجودہ ٹیکس پالیسی پر نظرثانی کی جائے اور ایسی پالیسیاں اختیار کی جائیں جو پاکستان کو سستی، صاف اور پائیدار توانائی کی طرف لے جائیں۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ سولر صارفین، صنعت اور قومی معیشت کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام متعلقہ حلقوں کے ساتھ مل کر جدوجہد جاری رکھیں گے۔
نعرہ:
"سورج پر ٹیکس نہ لگا