Main Wo Dunya Hon Jahan teri Kami Hai Sayaan

Main Wo Dunya Hon Jahan teri Kami Hai Sayaan Just for funn

19/10/2020
20/09/2019

وہ دل کا برا نہ بے وفا تھا
بس مجھ سے یوں ہی بچھڑ گیا

لفظوں کی حدوں سے ماوراء تھا
اب کس سے کہوں وہ شخص کیا تھا

وہ میری غزل کا آئینہ تھا
ہر شخص یہ سب جانتا تھا

ہر سمت اس کا تذکرہ تھا
ہر دل میں وہ جیسے بس رہا تھا

میں اس کی انا کا آسرا تھا
وہ مجھ سے کبھی روٹھتا نہیں تھا

میں دھوپ کے بن میں جل رہا تھا
وہ سایہ ابر بن گیا تھا

میں بانجھ رتوں کا آشنا تھا
وہ موسم گل کا ذائقہ تھا

اک باڑ بچھڑ کے جب ملا تھا
وہ مجھ سے مل کے رو پڑا تھا

کیا کچھ نہ اس سے کہا گیا تھا
اس نے تو لبوں کو سی لیا تھا

وہ چاند کا ہمسفر تھا شاید
راتوں کو تمام جاگتا تھا

ہونٹوں میں گلوں کی نرم خوشبو
باتوں میں تو شہد گھولتا تھا

کہنے کو جدا تھا مجھ سے لیکن
وہ میرے رگوں میں گونجتا تھا

اس نے جو کہا کیا وہ دل نے
انکار کا کس میں حوصلہ تھا

یوں دل میں تھی یاد اس کی جیسے
مسجد میں چراغ جل رہا تھا

مت پوچھ حجاب کے قرینے
وہ مجھ سے بھی کم ہی کھل سکا تھا

اس دن میرا دل بھی تھا پریشان
وہ بھی میرا دل سے کچھ خفا تھا

میں بھی ڈرا ہوا سا لیکن
رنگ اس کا بھی کچھ اڑا اڑا تھا

اک خوف سا ہجر کی رتوں کا
دونوں پہ محیط ہوچلا تھا

اک راہ سے میں بھی گریزاں
اک موڑ پہ وہ بھی رک گیا تھا

اک پل میں جھپک گئیں جو آنکھیں
منظر ہی دوسرا تھا--------------

سوچا تو ٹھر گئے زمانے
دیکھا تو وہ دور جا چکا تھا

قدموں سے زمین سرک گئی تھی
سورج کا رنگ سانولا تھا

چلتے ہوئے لوگ بھی رک گئے تھے
ٹھرا ہوا شہر گھومتا تھا

سہمے ہوئے پیڑ کانپتے تھے
پتوں میں ہراس رینگتا تھا

رکھتا تھا میں جس میں خواب اپنے
وہ کا نچ کا گھر چٹخ گیا تھا

ہم دونوں کا دکھ تھا ایک جیسا
احساس مگر جدا جدا تھا

کل شب ملا تھا وہ دوستوں کو
کہتے ہیں اداس لگ رہا تھا

محسن یہ غزل بھی کہہ رہی ہے
شاید تیرا دل دکھا ہوا تھا

Mohsin naqvi❤

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Main Wo Dunya Hon Jahan teri Kami Hai Sayaan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share