Gaseous Fuel-Bio Gas Program

Gaseous Fuel-Bio Gas Program We are Install Bio gas Plant with latest technology ( Fixed Dom Technology ) In very cheap Investment.

16/10/2024

ہندوستان کے ٹاپ بزنس مین کروڑ پتی ۔ارب پتی شخص رتن ٹاٹا کی کہانی

( حقیقی خوشی )

جب ہندوستانی ارب پتی رتن جی ٹاٹا سے ٹیلی فون پر انٹرویو میں ریڈیو پریزینٹر نے پوچھا:
"جناب آپ کو کیا یاد ہے جب آپ کو زندگی میں سب سے زیادہ خوشی ملی"؟

رتن جی ٹاٹا نے کہا:
"میں زندگی میں خوشی کے چار مراحل سے گزر چکا ہوں، اور آخر کار میں نے حقیقی خوشی کا مطلب سمجھ لیا ہے۔"

پہلا مرحلہ دولت اور وسائل جمع کرنا تھا۔
لیکن اس مرحلے پر مجھے وہ خوشی نہیں ملی جو میں چاہتا تھا
۔
پھر قیمتی اشیاء اور اشیاء جمع کرنے کا دوسرا مرحلہ آیا۔
لیکن میں نے محسوس کیا کہ اس چیز کا اثر بھی عارضی ہے اور قیمتی چیزوں کی چمک زیادہ دیر نہیں رہتی۔

پھر ایک بڑا پروجیکٹ حاصل کرنے کا تیسرا مرحلہ آیا۔ یہ وہ وقت تھا جب ہندوستان اور افریقہ میں ڈیزل کی سپلائی کا 95% میرے پاس تھا۔

میں ہندوستان اور ایشیا کی سب سے بڑی اسٹیل فیکٹری کا مالک بھی تھا۔ لیکن یہاں بھی مجھے وہ خوشی نہیں ملی جس کا میں نے تصور کیا تھا۔

چوتھا مرحلہ تھا جب میرے ایک دوست نے مجھ سے کچھ معذور بچوں کے لیے وہیل چیئر خریدنے کو کہا۔
تقریباً 200 بچے۔
ایک دوست کے کہنے پر میں نے فوراً وہیل چیئر خرید لی۔
لیکن دوست نے اصرار کیا کہ میں اس کے ساتھ جاؤں اور وہیل چیئر بچوں کے حوالے کروں۔ میں تیار ہو کر اس کے ساتھ چلا گیا۔

وہاں میں نے ان بچوں کو یہ وہیل چیئر اپنے ہاتھوں سے دی۔ میں نے ان بچوں کے چہروں پر خوشی کی ایک عجیب سی چمک دیکھی۔ میں نے ان سب کو وہیل چیئر پر بیٹھے، چلتے اور مزے کرتے دیکھا۔
وہیل چیئر کو بگھا رھے ھیں

ایسا لگتا تھا جیسے وہ کسی پکنک کے مقام پر پہنچ گئے ہوں، جہاں وہ جیتنے والا تحفہ بانٹ رہے ہوں۔

میں نے اپنے اندر حقیقی خوشی محسوس کی۔ جب میں نے جانے کا فیصلہ کیا تو ایک بچے نے میری ٹانگ پکڑ لی۔
میں نے آہستہ آہستہ اپنی ٹانگیں چھوڑنے کی کوشش کی، لیکن بچے نے میرے چہرے کی طرف دیکھا اور میری ٹانگیں مضبوطی سے پکڑ لی، میں نے جھک کر بچے سے پوچھا: کیا تمہیں کچھ اور چاہیے؟

اس بچے نے جو جواب دیا اس نے نہ صرف مجھے چونکا دیا بلکہ زندگی کے بارے میں میرا نظریہ بھی بدل دیا۔
اس بچے نے کہا:

"میں آپ کا چہرہ یاد رکھنا چاہتا ہوں تاکہ جب میں آپ سے جنت میں ملوں تو میں آپ کو پہچان سکوں اور ایک بار پھر آپ کا شکریہ ادا کروں۔"

اب اس واقعے سے خلاصہ اور سبق ہمیں یہ ملتا ہے کہ وہ پوری زندگی لگا کر یہ چیز اور نتیجہ حاصل کر سکے ہیں کہ انسانیت کی خدمت کے اندر ہی اصل خوشی اور سکون ہے جب کہ یہی بات ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بالکل مفت میں بتا کر جا چکے ہیں،،، تو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور انسانیت کی خدمت یہ دو ایسے راستے ہیں کہ بندہ جس حال میں بھی ہوگا ان شاءاللہ اسے سکون اور اطمینان محسوس ہوگا بس آزمائش شرط ہے۔
وہ کہتے ہیں نا کہ عبادت سے جنت اور خدمت سے خدا ملتا ہے اور وہ بندہ جو یہ دونوں کرے تو پھر آپ خود سوچیں کہ اس کی خوش نصیبی کے کیا عالم ہوں گے۔

10/10/2024

مرغا اماں کے ہاتھ پر ٹھونگ مارتا، نہ ذلیل ہوتا۔

‎میں نے اپنے بابا جی کو بہت
فخرسے بتایا کہ میرے پاس
دو گاڑیاں
‎ اور بہت اچھا بینک بیلنس ہے۔ اس کے علاوہ میرے بچے اچھے انگریزی سکول میں پڑھ رہے ہیں۔ عزت شہرت سب کچھ ہے، دنیا کی ہر آسائش ہمیں میسر ہے، اس کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون بھی ہے۔
‎میری یہ بات سننی تھی کہ انہوں نے جواب میں مجھے کہا کہ یہ کرم اس لیے ہوا کے تو نے اللّه کے بندوں کو ٹھونگیں مارنا چھوڑ دیں۔
‎میں نے جب اس بات کی وضاحت چاہی۔۔۔
‎تو بابا جی نے کہا‎
احمد میری اماں نے
اصیل ککڑ پال رکھا تھا۔ اماں کو اس مرغے س خصوصی محبت تھی۔ اماں اپنی بک (مٹھی) بھر کے، مرغے کی چونچ کے عین نیچے رکھ دیا کرتی تھیں اور ککڑ چونچ جھکاتا اور جھٹ پٹ دو منٹ میں پیٹ بھر کے مستیوں میں لگ جاتا۔
‎میں روز یہ ماجرا دیکھا کرتا اور سوچتا کہ یہ ککڑ کتنا خوش نصیب ہے۔ کتنے آرام سے بِنا محنت کیے، اس کو اماں دانے ڈال دیتی ہیں۔
‎ایک روز میں صحن میں بیٹھا پڑھ رہا تھا، حسب معمول اماں آئی اور دانوں کی بک بھری کہ مرغے کو رزق دے۔ اماں نے جیسے ہی مُٹھی آگے کی، مرغے نے اماں کے ہاتھ پر ٹھونگ (چونچ) مار دی۔ اماں نے تکلیف سے ہاتھ کو جھٹکا تو دانے پورے صحن میں بکھر گئے۔ اماں ہاتھ سہلاتی اندر چلی گئی اور ککڑ (مرغا) جو ایک جگہ کھڑا ہو کر آرام سے پیٹ بھرا کرتا تھا، اب وہ پورے صحن میں بھاگتا پھر رہا تھا۔ کبھی دائیں جاتا، کبھی بائیں۔ کبھی شمال، کبھی جنوب۔
‎سارا دن مرغا بھاگ بھاگ کے دانے چگتا رہا۔ تھک بھی گیا اور اُسکا پیٹ بھی نہیں بھرا۔"

‎بابا دین مُحمد نے کچھ توقف کے بعد پوچھا:
‎" بتاؤ مرغے کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟"
‎میں نے فٹ سے جواب دیا:
‎" نہ مرغا اماں کے ہاتھ پر ٹھونگ مارتا، نہ ذلیل ہوتا۔"
‎بابا بولا :
‎" بالکل ٹھیک، یاد رکھنا اگر اللّٰہ کے بندوں کو حسد، گمان، تکبر، تجسس، غیبت اور احساس برتری کی ٹھونگیں مارو گے، تو اللّه تمھارا رزق مشکل کر دے گا اور اس اصیل ککڑ کی طرح مارے مارے پھرو گے۔ تُو نے اللّه کے بندوں کو ٹھونگیں مارنا چھوڑیں، رب نے تیرا رزق آسان کر دیا۔"
ایسے مہربان رب کا ہمیشہ زکر ہونا چاہیے اللہ نے ہمیں اپنے ذکر کے لیے پیدا کیا ہے روزانہ 2000مرتبہ کلمہ طیبہ
درودپاک 100مرتبہ استغفار اللہ 313 سورہ اخلاص41 لازمی پڑھیں

11/07/2024

اوشو کے ایک دوست نے اوشو سے کہا کہ "میں آپ کو اپنی والدہ سے ملوانا چاہتا ہوں کیونکہ میری والدہ بہت مذہبی ہیں" اوشو نے کہا "ٹھیک ہے، میں آپ کی والدہ سے ملوں گا کیونکہ مجھے مذہبی لوگوں سے ملنا پسند ہے۔"

جب اوشو اپنے دوست کی والدہ سے ملا تو اس کے دوست کی والدہ نے اوشو سے پوچھا کہ تم بہت کتابیں پڑھتے ہو، ان دنوں کیا پڑھ رہے ہو؟

اوشو نے کہا آج کل میں قرآن پڑھ رہا ہوں

یہ سن کر میرے دوست کی والدہ غصے میں آگئیں اور کہنے لگیں کہ تم کس قسم کے ہندو ہو جو قرآن پڑھتے ہو، تم اپنے مذہب کی کتابیں پڑھو۔

بعد میں اوشو نے اپنے دوست سے کہا کہ تم کہتے تھے کہ تمہاری ماں مذہبی ہے لیکن وہ مذہبی نہیں بلکہ فرقہ پرست ہے۔

آج کل آپ کو بہت سے لوگ ملیں گے جو خود کو مذہبی کہتے ہیں، لیکن وہ فرقہ پرست ہیں، "مذہبی" ہونے اور "فرقہ وارانہ" ہونے کے درمیان بہت باریک لکیر ہے۔

جگدیش شرما کے قلم سے

30/04/2024

‏ستاون روپے ساٹھ پیسے کی چوری پر ایک سچی کہانی😳

ہندستان میں 1984 میں ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے عدالت کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔ 🙏😔

ایک چھوٹے سے قصبے میں پوسٹ آفس تھا۔ وہیں ایک پوسٹ مین اوماکانت مشرا کام کرتا تھا۔ منی آرڈر کے پیسے گھر گھر پہنچاتا تھا۔ اسٹاف کے لوگ اس سے حسد کرتے تھے اس کی دو وجوہات تھیں ایک یہ کہ اس کے والد کے انتقال کے بعد اس کی جگہ اسے ڈائریکٹ پوسٹ مین کی نوکری مل گئی۔ دوسری وجہ وہ ایماندار تھا ھیر پھیر نہیں کرتا تھا اس لئے پورا اسٹاف اس سے ناخوش تھا۔

ایک دن پوسٹ ماسٹر نے اسے چھ سو ستاون روپے ساٹھ پیسے منی آرڈر کے دئیے جو پانچ افراد تک پہنچانے تھے اتفاقاً صرف ایک شخص کو تین سو روپے دے پایا باقی چار افراد تک مختلف وجوہات کی بنا پر رسائی حاصل نہ کرسکا اس نے بقایا تین سو ستاون روبے ساٹھ پیسے ہوسٹ ماسٹر کو واپس کر دئیے پوسٹ ماسٹر اس کو دراز میں رکھنے لگا تو اس نے کہا گن لیں پوسٹ ماسٹر نے کہا بعد میں گن لوں گا۔

دو ماہ بعد وہ گھر پر رات کا کھانا کھا رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی باہر پولیس کھڑی تھی اور اسے بتایا گیا کہ تم کو سرکاری خزانے سے چوری کرنے کے الزام میں گرفتار کیا جاتا ہے اس نے کہا صاحب میں نے چوری نہیں کی میں نے تو پورے پیسے واپس کردیے تھے دوران تفتیش اس کو بتایا گیا کہ تم نے پیسے واپس کئے تھے مگر صرف تین سو روپے باقی ستاون روپے ساٹھ پیسے چوری کئے ہیں اور تمہارے خلاف پوسٹ ماسٹر نے ایف آئی آر کٹوائی ہے اور تمہارے دو ساتھیوں نے گواہی دی ہے۔

دوسرے دن اس کو مجسٹریٹ سے ضمانت مل گئی جب وہ پوسٹ آفس پہنچا تو اسے بتایا گیا کہ تم کو نوکری سے معطل کیا جاتا ہے جب تک عدالت فیصلہ نہیں کرتی۔

وہ غریب شخص نوکری واپس ملنے کے چکر میں کورٹ میں ہر پیشی پر پیش ہوتا رہا مگر کورٹ میں نہ تو پوسٹ ماسٹر پیش ہوا اور نہ ہی دونوں گواہوں میں سے کوئی پیش ہوا اس دوران استغاثہ کے وکلاء بھی تبدیل ہوتے رہے۔

پیشی پر پیشی 25 سال تک کورٹ کے چکر لگاتے آخر وہ بھی پانچ پیشیوں پر حاضری دینا چھوڑ چکا تھا۔ اسے پھر توہین عدالت پر گرفتار کر لیا اس کے وکیل نے بھی کوئی موقف پیش نہیں کیا کہ آج تک نہ تو کمپلینٹ اور نہ ہی گواہ پیش ہوئے ان پر تو توہین عدالت لاگو نہیں کیا گیا۔

ان ستائیس سالوں کے دوران غربت کے باعث بیماری میں اس کے تین بچوں کا انتقال ہوگیا اور اس کی نوکری میں ریٹائرمنٹ بھی ہو گئی مگر کیس چلتا رہا۔

26 ویں سال وہ اپنی یاداشت کھو بیٹھا اس کے بیٹے نے ایک اچھا وکیل کیا جس نے دو پیشیوں پر کیس جیت لیا کیونکہ پوسٹ ماسٹر مر چکا تھا اور گواہان کبھی عدالت نہیں آئے۔

اس مقدمے کی کل تین سو پیشیاں ہوئیں اور اس کو 27 سال لگ گئے اور 1984 میں چلنے والا مقدمہ بلآخر 2011 میں اختتام کو پہنچا ۔ جس نے ہندستان کی عدلیہ پر ایک سوالیہ نشان کھڑا کر دیا تھا۔

پاکستان میں نہ جانے کتنے ایسے مقدمے ہونگے جو پچاس سالوں سے یوں ہی برقرار ہونگے۔

24/04/2024

ایرانی صدر کا دورہِ پاکستان
اور پاکستان کی بے خبر عوام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1965 میں جب بھارت کے ساتھ جنگ کا ماحول بن رہا تھا حالات انتہائی کشیدہ تھے اور دوسری طرف ایران بھی جس کا ہمیشہ سے جھکاؤ پاکستان کے مقابلے میں بھارت کی طرف رہا ہے وہ بھی پاکستان کا شدید مخالف تھا تو اس خوفناک صورتحال میں کہ ایک طرف بھارت سے ہماری جنگ لگ جائے اور پیچھے سے ایران کہیں ہماری پیٹھ میں چھرا نہ گھونپ دے ایوب خان جو اس وقت صدر پاکستان تھے انہوں نے اس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کو ایران بھیجا جو ایرانیوں کے داماد بھی تھے بھٹو سے ایوب خان نے کہا کہ جاؤ اور شاہ ایران کے پاس اور جس طرح بھی وہ راضی ہوتا ہے اسے راضی کرو اور پاکستان کے خلاف ایران کے حملے سے بچنے کی تدبیر کرو بھٹو صاحب ایران گئے اور انہوں نے شاہ ایران سے جا کے کہا کہ اپ کیا چاہتے ہیں تو اس پر شاہ ایران نے دو باتیں کی پہلی بات سیندک کے حوالے سے سیندک کا وہ علاقہ جہاں پر کاپر کے اور قیمتی معدنیات کے ذخائر ہیں اس کا وہ بڑا حصہ جہاں پر زیادہ ذخائر ہیں ایران نے اس پہ نشان لگا کے کہا کہ یہ آپ ہمیں دیں سیندک کا علاقہ شروع سے متنازہ چل رہا تھا تو بھٹو صاحب نے شاہ ایران کی یہ بات مان لی اور دوسری شرط شاہ ایران نے بھٹو صاحب کے ساتھ یہ رکھی کہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنی سرحد کے قریب سے بلوچستان کے اندر سے تیل نہیں نکال سکتا اور ایران پاکستان کی سرحد کے قریب سے اپنے بلوچستان سے جو ایران کے اندر کا ہے وہاں سے تیل نکالے گا بھٹو صاحب نے یہ شرط بھی مان لی اور 30 سال تک کا یہ معاہدہ طے پایا کہ 30 سال تک پاکستان اپنے بلوچستان سے تیل نہیں نکالے گا ایران پاکستان کی سرحد کے قریب سے تیل نکال سکے گا اور تیل کا معاملہ اس طرح ہوتا ہے کہ جب ایک جگہ سے نکالا جائے تو بہہ کر دور دور سے تیل وہاں ا جاتا ہے تو ہوا یہ کہ ایران نے تیل نکالنا شروع کر دیا پاکستان کا تیل بہ کر زمین کے اندر اندر ایران کی طرف جاتا ہے اور ایران وہی تیل نکالتا ہے اور سستا تیل ہے ایران کا جس کے بارے ہمارے ہاں بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ایران سے پاکستان سستا تیل کیوں نہیں خریدتا اور یہ وہی تیل ہے جس کی سمگلنگ ایران پاکستان کی طرف کرتا ہے جس کی ویڈیوز اور تصویریں ہم سوشل میڈیا پر اکثر دیکھتے رہتے ہیں یہ معاہدہ 30 سال تک تھا پھر اگلے 30 سالوں میں کبھی کوئی ایرانی سربراہ حکومت پاکستان نہیں آیا 1965 سے 30 سال کے بعد 1995 میں اس وقت کے ایرانی صدر ہاشمی رفسنجانی پاکستان تشریف لائے اور اس وقت کی پاکستان کی وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو سے جو ایرانیوں کی نواسی تھیں ان سے اس معاہدے کی مزید 30 سال کے لیے توثیق کروا لی گئی تو اب پھر اس معاہدے کے 30 سال پورے ہونے جا رہے ہیں 2025 میں تو اصولی طور پر تو ایران کے صدر کو 2025 میں پاکستان انا تھا لیکن وہ ایک سال قبل ہی اگئے کیونکہ اج کل پھر بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری کرسی صدارت پر براجمان ہیں اور پاکستان کی ایک بڑی شخصیت وزیر داخلہ بھی ایران نواز ہیں تو ان حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ پاکستان تشریف لائے ہیں اور اسی معاہدے کو مزید اگے بڑھانے کی کوشش کی جائے گی تو میری پاکستان کے محب وطن لوگوں سے گزارش ہے کہ اب مزید اس معاہدے کی توثیق نہیں ہونی چاہیے اس کو اگے نہیں بڑھا نا چاہیے ہم اپنا تیل نکال سکیں ہماری ضرورت ہے ہم باہر سے مہنگا تیل خریدتے ہیں جبکہ ہمارا تیل ایران مفت میں نکالے جا رہا ہے اور الٹا ہمیں ہی وہ سمگل کر کے فروخت کرتا ہے تو اس پر پاکستان کے مقتدر حلقوں اور محب وطن لوگوں کو خصوصی توجہ دینی چاہیے ۔

اللہ محافظ پاکستان کا۔جاگو دیر ھونےسےپہلے

FAR #

09/01/2024

کاغذی نوٹوں کی تاریخ💵💵💶💶💷💷
میرے اور آپ کے پاس اس وقت دس روپے سے لے کر پانچ ہزار کے نوٹوں میں سے کوئی ایک نوٹ ہو گا۔ اسے نکال کر دیکھیں، قائدِ پاکستان کی تصویر کے بائیں جانب جلی حروف میں "بینک دولت پاکستان" اور اس کے نیچے نوٹ کی مالیت اور اس کے نیچے لکھا نظر آئے گا۔
"حاملِ ہذا کو مطالبہ پر ادا کریگا"
یہ وہ جملہ ہے جہاں سے ساری کہانی شروع ہوتی ہے۔ یہ نوٹ جنہیں کمانے کے لیے تو ہم دن رات ایک کیے بیٹھے ہیں پر ان کی حقیقت کیا ہے اس سے ناواقف ہیں۔ لیکن آپ کو بتاتا چلوں کہ آپ اکیلے نہیں ہیں، دنیا کے 95 فیصد سے بھی زائد لوگوں کو اس حقیقت کا ادراک نہیں ہےکہ ایسا کیا ہے جو ہمارے لیے جاننا ضروری ہے پر ہم یہ جاننے کو سنجیدہ نہیں لیتے اور ہماری اس عدم واقفیت کی وجہ سے کون لوگ کیسے فائدہ اٹھا رہے ہیں؟ یہ سب جاننے کے لیے ہمیں بنی آدم کی تاریخ پر مختصر نظر کرنی پڑے گی۔
اولادِ آدم روئے زمین پر مختلف جگہوں پر قبیلوں کی شکل میں آباد ہوئی۔ چند لوگوں کا قبیلہ بنا کر رہنا اس کی مجبوری تھی کیونکہ اکیلے انسان کے لیے زندگی گزارنے کے لوازمات پورے کرنا ممکن نہ تھا۔ زندگی گزارنے کے لوازمات کی فراہمی لوگوں نے آپس میں بانٹ لی، پر جب قبیلے وسیع ہوتے گئے تو انسانی فطرت جو اپنے معاملے میں انصاف پسند ہے اس نے محسوس کیا کہ کم محنت کرنے والا، اور زیادہ محنت کرنے والا برابر نہیں ہو سکتے ۔تو رفتہ رفتہ اشیاء و محنت کے لین دین کا نظام وجود میں آیا جسے بارٹر سسٹم بھی کہا جاتا ہے۔ اسے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص نے کاشتکاری سے غلہ حاصل کیا، اور ضرورت سے زیادہ ایک ایسے شخص کو دیا جس سے اسے لباس چاہیے تھا۔ یوں ہر کوئی اتنے ہی لوازمات حاصل کرتا، جتنی وہ محنت کرتا۔
پر اس نظام میں یہ خامی تھی کہ بعض اجناس کا تبادلہ مشکل تھا، جیسے ایک شخص نے بکریاں پالیں اور وہ ایک بکری دے کر غلہ لینا چاہتا ہے، پر جس شخص سے غلہ لینا ہے اس کے پاس غلہ کم مقدار میں ہے۔ اب وہ بکری کو ذبح کر کے کچھ گوشت بھی نہیں دے سکتا کیونکہ کسان کو بکری کا گوشت نہیں بلکہ دودھ کے حصول کے لیے بکری چاہیے۔ اس خامی کا حل یوں نکالا گیا کہ اشیاء و محنت کا تبادلہ ایسی شے سے کیا جانے لگا جس کے ٹکڑے کرنا آسان ہوتا، اور اس کی نقل و حرکت بھی آسان ہوتی اور اس شے کی ایک خاص قدر ہوتی اور اس کا حصول بھی محنت طلب ۔
یہاں سونے اور چاندی کے ٹکڑے معرض وجود میں آئے جن سے اشیاء اور محنت(مزدوری) خریدی جا سکتی تھی اور ان کو ڈھال کر زیبائش کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا تھا، اور یہ لمبے عرصے تک خراب نہیں ہوتے تھے حتی کہ کئی ہزار سال بعد بھی سونا قدرت کے دیگر عناصر مثلا ہوا، پانی اور مٹی میں بھی اپنا وجود قائم رکھتا ہے۔ اب جس نے جتنی محنت کی اس نے اتنا سونا کمایا، اور اس سے لوازماتِ زندگی اور ان سے بڑھ کر زیبائشِ زندگی حاصل کیے۔
سونا اور چاندی اور دیگر دھاتیں خلا میں ستارے کے ٹوٹنے پر پیدا ہوتی ہیں اور ان کے بڑے و چھوٹے ٹکڑے خلا میں پھیلتے ہیں اور زمین پر بھی ایسے ہی یہ ٹکڑے پہنچے ہیں۔ پہلے وقتوں میں ان کا حصول اس وقت کے وسائل کے مطابق تھا اور آج کل ان کا حصول موجودہ وسائل پر منحصر ہے۔ ان دھاتوں میں سے سونا اور چاندی اپنی خوبصورتی اور لمبے عرصے تک اپنی حالت برقرار، رکھنے کی وجہ سے بطورِ کرنسی استعمال ہونا شروع ہوئے۔
وقت کا پہیہ گردش کرتا رہا، انسان بھی وقت کے ساتھ ترقی کرتا رہا۔ بڑی بڑی سلطنتیں قائم ہوئیں، اور انہوں نے ان ٹکڑوں کومختلف شکلوں میں ڈھال کر سکے بنائے جن کا تبادلہ آسان ہوتا تھا، اور ہم وزن ہونے کی وجہ سے یہ قابلِ اعتماد بھی ہوتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ انسان تیزی سے جدیدت کی طرف مائل ہوا۔ اور جس نے مظاہرِ قدرت میں جتنی کھوج کی ، قدرت نے اسے اتنا ہی نوازا۔
کاغذ کی ایجاد بھی قدرت کا ایک انعام ہے جو اس نے غور کرنے والوں کو عطا کیا۔ سب سے پہلے کاغذ چینیوں نے بنایا، اور پہلا کرنسی نوٹ بھی ساتویں صدی میں چین میں ہی جاری کیا گیا۔ اس کا مقصد تانبے کے بنے سکوں کو بڑی ادائیگی کی صورت میں زیادہ وزن ہونے کی وجہ سے لے جانا مشکل ہوتا تو یہ اس تانبے کی رسید بطورِ ادئیگی پیش کی جاتی تھی۔ اب اگر تانبہ چاہیے ہوتا تو گودام سے لے لیا جاتا، یا اس رسید کو آگے کسی اور کو بطورِ ادائیگی دے دیا جاتا اور جس کو تانبہ چاہیے ہوتا وہ آ کر لے جاتا اور باقی لوگ جن کو صرف ادائیگی سے غرض ہوتی وہ وزن اٹھانے سے بچ جاتے۔ یہ معاملہ بہت بڑی ادائیگیوں کے ضمن میں تھا اور بہت ہی خاص لوگوں تک محدود تھا۔
گیارہویں صدی عیسوی میں یورپ میں بسنے والے یہودیوں نے بینک متعارف کروایا۔یہ لوگوں سے کم شرح سود پر قرض لے کر زیادہ شرح سود پر قرض دیتے تھے۔ آج موجودہ بینکوں کی بھی یہی تعریف ہے کہ:
بینک ایک ایسا ادارہ ہے جو لوگوں سے کم شرح سود پر رقم لیتا ہے اور زیادہ شرح سود پر قرض دیتا ہے، یوں بینک ایک "منافع بخش" کاروبار کرتا ہے۔
ان یہودیوں کے پاس سونا اکٹھا ہوتا اور یہ قرض دیتے اور سود کما کر امیر تر ہوتے گئے۔ کچھ عرصے بعد بڑے پیمانے پر سونے کے سکوں کا لین دین کرنے، بڑے مکان اور حفاظتی سپاہیوں پہرے داری رکھنے کی وجہ سے اکثر لوگ اپنا سونا ان کے پاس حفاظت کے لیے رکھوانے لگے۔ یہ سونے کی حفاظت کرنے کی کچھ رقم وصول کر تے اس کی رسید بنادیتے۔
یہ معاملہ یوں چلتا رہا پر کچھ عرصے بعد ان بینکروں نے ایک بات نوٹ کی...!!!

وہ یہ کہ سونا رکھوانے کوئی اور آتا ہے اور لینے کے لیے کوئی اور، مزید یہ کہ سونا رکھوانے والے لوگ زیادہ تھے اور واپس لینے والے بہت کم۔ یعنی لوگوں نے سونے کی رسیدوں پر ہی لین دین شروع کر لیا تھا۔ ان رسیدوں پر اعتماد کی وجہ یہ تھی کہ جس کا جب جی چاہا وہ مطلوبہ بینکار کے پاس جاتا اور اسے اسی وقت سونا مل جاتا۔ اس اعتماد نے مارکیٹ میں ان رسیدوں کو وہی اہمیت دلا دی جو کہ اصل سونے کی اشرفیوں کی اہمیت تھی۔ اہمیت کیوں نہ ہوتی کیونکہ کئی دھائیاں لوگوں نے انہیں استعمال کیا اور کبھی کوئی رسید لوٹائی نہیں گئی۔ اس اعتماد کا ان بینکاروں نے ناجائز فائدہ اٹھانا شروع کیا۔
انہوں نے پاس موجود سونے سے زیادہ رسیدیں بنانا شروع کر دیں۔اور ان کو مارکیٹ میں یوں پہنچاتے کہ کوئی ایسا قرض کا طلب گار آتا جس کے بارے میں انہیں یقین ہوتا کہ یہ رقم سود سمیت ادا کر دے گا، تو وہ اسے رسید بنا دیتے۔اور جب وہ سود سمیت قرض لوٹاتا، تو سود اپنی جیب میں ڈالتے اور رسید کو ضائع کر دیتے۔ یوں کچھ کیے بغیر ان کی دولت میں بے پناہ اضافہ ہونے لگا۔ چند ایک لوگ جنہوں نے بڑی مقدار میں اپنا سونا ان کے پاس رکھا تھا، انہیں اس بات کی خبر ہوئی تو وہ بینکاروں کے پاس گئے۔ پر انہیں ان رسیدوں پر ملنے والے سود میں سے کچھ فیصد کا وعدہ کر کے ہمنوا بنا لیا گیا۔
یہ بینکار وقت کے ساتھ ساتھ اتنے امیر ہو گئے کہ حکومتوں کو قرض دینے لگے۔ اور اپنی مرضی کے قوانین بنوانے لگے۔ انگریزی کہاوت ہے کہ
"جو سونے کا مالک ہوتا ہے وہی قانون بناتا ہے"۔
بہت سی حکومتوں نے ان کے آئیڈیا کو اپنایا، سنٹرل بینک بنے جو اکثر پاس موجود سونے سے زیادہ رسیدیں چھاپ کر حکومتی کام نکلوا لیتے جن میں تنخواہیں دینا اور تعمیر و ترقی کے کام وغیرہ شامل تھے۔
ایک بات ذہن میں رہے کہ یہ جن کو قرض جاری کرتے تھے، ان میں سے کچھ لوگ کنگال ہو کر قرض ادا کرنے کے قابل نہیں رہتے تھے، حتی کہ ان کے کوئی ایسے اثاثے بھی نہ ہوتے جو ضبط کیے جا سکیں۔ جب بھی کسی بینکار کے بہت زیادہ لوگ قرض ادا کرنے سے عاجز آ جاتے اور دوسری طرف ان کی مارکیٹ میں پھیلائی گئیں رسیدوں کی واپسی زیادہ تعداد میں ہونے لگتی تو ایک وقت آتا کہ ان کے پاس لوگوں کا رکھوایا گیا سونا ختم ہو جاتا اور لوگوں کے ہاتھ میں موجود رسیدیں سونے کے ٹکڑوں سے کاغذ کا ٹکڑا بن جاتیں۔ اس صورت حال کو بینک کا ڈیفالٹ ہونا کہتے ہیں۔
چونکہ انہوں نے اپنی مرضی کے قوانین بنا رکھے تھے، لہذا ایسی صورت حال میں نقصان عوام اٹھاتی اور بینکار اپنی ذاتی دولت سمیت کر فرار ہو جاتا۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اتنا بڑا فراڈ لوگ کیسے برداشت کر لیتے تھے؟ تو جواب یہ ہے کہ لوگ تب تک بے بس ہو چکے تھے۔ کاغذ کی رسیدیں مارکیٹ میں بہت زیادہ عام ہو چکی تھیں اور یہ کہ بینکوں کا یہ فراڈ خال خال ہی آشکار ہوتا تھا، اور ان بینکاروں نے اپنے تحفظ کے لیے حکومتی سرپرستی بھی حاصل کر رکھی تھی اور خود کو تحفظ دینے والے قوانین بھی اور اس سارے بینکنگ سسٹم کو اتنا پیچیدہ بنا کر پیش کیا گیا تھا، کہ عام لوگ اسے سمجھنے سے قاصر ہوتے جیسے کہ اسی طرز کے بینک آج بھی چل رہے ہیں اور ہم ان کے فراڈ کو جانتے ہی نہیں۔
ڈیمانڈ اینڈ سپلائی، یعنی طلب و رسد کا اصول ہمیشہ سے لاگو رہا ہے۔ جب بھی مارکیٹ میں اشیاء اور کرنسی کی سپلائی میں توازن رہتا ہے قیمتوں میں تسلسل قائم رہتا ہے۔ پر جب اشیاء اتنی ہی رہیں اور کرنسی کی سپلائی بڑھ جائے تو اسے افراطِ زر کہتے ہیں۔ چونکہ ہر کسی کے پاس پیسے ہوتے ہیں تو لوگ اشیاء زیادہ قیمت پر بھی لینے کو تیار ہو جاتے ہیں ، یوں ان کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔دوسری صورت میں اشیاء کا زیادہ ہوجانا ہے جس کی وجہ سے کرنسی کی قدر بڑھتی ہے اور اشیاء کی قیمتیں کم ہو جاتیں ہیں۔ جب سے بینک قائم ہوئے اور پھر حکومتی سرپرستی میں گئے اور انہوں نے اندھا دھند رسیدیں جنہیں نوٹ کہا جاتا ہے چھاپنے شروع کیے تب سے مارکیٹ میں کرنسی کی سپلائی بڑھتی جا رہی ہے اور اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔
پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں جب یورپ دست و گریباں تھا تب امریکہ نے اس جنگ سے خوب فائدہ اٹھایا۔ اس نے یورپ کو اسلحہ اور اشیاء ضروریہ بیچیں اور خوب سونا اکٹھا کر لیا۔ تب تک حکومتوں کا آپسی لین دین سونے میں ہی ہوتا تھا۔ امریکہ دوسری جنگ عظیم میں اختتام سے کچھ عرصہ پہلے شامل ہوا تھا، اس وجہ سے جنگ کے اثرات اس کی معیشت پر کچھ خاص نہیں پڑے ۔ اس وقت جتنے امریکی ڈالر مارکیٹ میں تھے امریکہ کے پاس اتنا ہی سونا بھی تھا۔ یورپی حکومتوں نے اپنے پاس موجود سونے سے زیادہ اپنی کرنسیاں چھاپ کر جنگوں کے اخراجات پورے کیے تھے اور ان کی کرنسیاں اپنی قدر کھو چکی تھیں۔جنگ کے تقریبا اختتام پر عالمی تجارت کے پیمانے طے ہونے کے لیے اجلاس منعقد ہوا ، جس میں امریکہ چونکہ دیگر ممالک کے مقابلے میں 75٪ زائد سونے کا مالک تھااسی لیے وہی بات" جو سونے کا مالک ہوتا ہے وہی قانون بناتا ہے "کے مصداق اس کی مانی گئی بلکہ منوائی گئی۔
تب یعنی 1944 میں امریکی ڈالر کو عالمی تجارتی کرنسی مانا گیا اور ایک ڈالر کے قیمت 0.888 گرام سونا طے کی گئی جسے بریٹن وڈز کا معاہدہ کہاجاتا ہے۔ تب سے ہر ملک نے سونے کے ساتھ ساتھ امریکی ڈالر بھی اپنے سینٹرل بینکوں میں بطورِ ریزرو کرنسی رکھنا شروع کیے۔ ہر ملک کی کرنسی یوں ماپی جانے لگی کہ ان کے پاس کتنا سونا اور کتنے ڈالر ہیں اور کتنی مقدار میں انہوں نے اپنی کرنسی چھاپ رکھی ہے۔
مثال کے طور پر ایک ملک کے سینٹرل بینک کے پاس 1000 ڈالر اور 888 گرام سونا ہےاور انہوں کے اپنی کرنسی اگر
دو ہزار کی تعداد میں چھاپ رکھی ہے تو ان کی کرنسی ڈالر کے برابر ہے۔
اگر ایک ہزار چھاپ رکھی ہے تو ڈالر سے دگنی ہے۔
اور اگر چار ہزار چھاپ رکھی ہے تو ڈالر کے مقابلے میں آدھی ہے۔
یوں ہر ملک کی کرنسی کی قدر طے ہوئی جو اس کے سینٹرل بینک میں ڈالر اور سونا بڑھنے پر مظبوط ہوتی اور یہ دو چیزیں کم ہونے پر اس کی قدر کمزور ہوتی۔
اس وقت یہ اصول تو طے کر لیا گیا پر اس کے پیچھے بھی وہی یہودی بینکار تھے جن کے آباء نے اعتماد قائم کر کےسونے سے زیادہ رسیدیں چھاپنا شروع کی تھیں۔
اس معاہدے کے بعد دیگر مالک نے امریکہ کو اشیاء بیچ کر ڈالر حاصل کرنا شروع کر دیے، اور چند ممالک سستے میں اشیاء دینے لگے تاکہ ڈالر حاصل ہوں یوں امریکی صنعت بیٹھنا شروع ہوئی کیونکہ بیرونِ ملک سے سستی اشیاء لوگوں کو مل رہی تھیں۔ امریکہ کی برآمدات کم اور درآمدات زیادہ ہونے لگ گیں جس کی وجہ سے امریکہ کے تقریبا آدھے ڈالر دیگر ممالک کے سینٹرل بینکوں میں اکٹھے ہونے گے۔
اس پر مستزاد کہ امریکہ نے دفاعی اخراجات بڑھا لیے۔ ویت نام کی جنگ میں کود پڑاجس کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اسے اپنے پاس موجود سونے سے زیادہ ڈالر چھاپنے پڑے۔ جب دیگر بڑے ممالک نے دیکھا کہ امریکہ کی برآمدات و درآمدات میں بہت واضح فرق ہے ۔ اور یہ ویت نام کی جنگ میں بھی گھسا ہوا ہے۔ مارکیٹ میں ڈالر کی سپلائی جوں کی توں جاری ہے تو وہ کھٹک گئے۔ سوئیزرلینڈ نے امریکہ کو پانچ کروڑ ڈالر واپس کر کے 44 ٹن سونا حاصل کیا۔ امریکہ نے سفارتی دباؤ ڈال کر دیگر ممالک کو سونا لینے سے روکنے کی کوشش کی پر فرانس کو نہ روک سکا۔ فرانس نے تقریبا 19 کروڑ ڈالر واپس کر کے 170 ٹن سونا امریکہ سے وصول کیا۔برطانیہ بھی 75 کروڑ ڈالر واپس کر کے سونا لینا چاہتا تھا جس کا تقریباً 660 ٹن وزن بنتا تھا.
صورتِ حال یہ تھی کہ امریکہ اپنے پاس موجود سونے سے تین گنا زیادہ ڈالر چھاپ کر دنیا میں بانٹ چکا تھا۔ اب اگر سارے ملک ڈالر واپس کر کے سونا مانگتے تو امریکہ کے پاس اتنا سونا نہیں تھا۔ حقیقت میں امریکہ اس وقت ساری دنیا کا مقروض ہو چکا تھا۔ اس کی معاشی و عسکری ترقی کی وجہ کاغذ کا ڈالر تھا جسے وہ چھاپ کر امیر اور طاقتور تھا۔ اس وقت یعنی 1971 میں امریکی صدر نکسن نے تقریر کی اور کہا کہ میں ڈالر کی سونے یا کسی مادی شے میں تبدیلی عارضی طور پر منقطع کر رہا ہوں، پر یہ وعدہ جھوٹا نکلا، تب سے مستقل طور پر امریکی ڈالر سونے سے منقطع ہے اور اس بات کو اس نے اپنی طاقت کے زور پر منوایا۔
اس اعلان کے بعد دنیا کی معیشت جو سونے میں منتقل ہونے والے ڈالر پر کھڑی تھی ، وہ فقط ایک کاغذ کے ڈالر پر آ گئی۔ وہ کاغذ جسے فیڈرل ریزرو آف امریکہ ڈیمانڈ پر چھاپنے کا حکم جاری کرتا ہے اور وہ چھپ جاتا ہے۔ امریکہ اس سے جنگیں لڑتا ہے، پیٹرول خریدتا ہے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے اداروں کو استعمال کر کے ملکوں کو معاشی غلام بناتا ہے۔ ڈالر درختوں پر اگتے تو شاید اگنے میں وقت لگتا، پر فیڈرل ریزر آف امریکہ چند سیکنڈز میں ایک چیک لکھتا ہے اور دنیا میں اربوں ڈالر وجود میں آ جاتے ہیں۔جن کی وجہ سے پوری دنیا میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔ دیگر ممالک یوں نوٹ چھاپیں تو ان کی کرنسی کی ویلیو گر جاتی ہے۔
لیکن ڈالر کو ریزرو کرنسی منوایا گیا ہے، اس لیے امریکہ جب یہ نوٹ چھاپتا ہے تو اس کے نوٹ کی ویلیو نہیں گرتی کیونکہ ڈالر تو ایک معیار ہے۔ اور یہ معیار ڈنڈے کے زور پر اور دنیا کی جہالت کی وجہ سے قائم ہے۔ آج ہم آئی ایم ایف سے ان چند ارب ڈالر کے لیے اپنا ملکی وقار داؤ پر لگاتے ہیں جو فیڈرل ریزرو آف امریکہ نے بس پرنٹ کر کے دینے ہیں۔
تو یہ جو" حامل ہذا کو مطالبہ پر ادا کرے گا" اس سے مراد، اس مالیت کا سونا ہوتا ہے، جو 1971 سے پہلے ملنے کا قانون تو موجود تھا۔ پر اب یہ ایک جھوٹ ہے، یہ نوٹ فقط کاغذ کا ٹکڑا ہے، جس کی اپنی کوئی قدر و قیمت نہیں اور اسے کمانے کے لیے ہم دن رات ایک کر رہے ہیں۔
دنیا کی تاریخ میں کئی بار ایسا ہوا ہے کہ حکومتوں نے سونے کے سکوں میں ملاوٹ کر کے زیادہ سکے بنائے پر وہ سکے وقت کے ساتھ ختم ہو گئے، جنہوں نے وہ کمائے ان کی کمائی ضائع گئی اور سونے کے اصلی سکے ہی باقی رہے۔ یہ جو عالمی دھوکہ جاری ہے اس نے جلد ختم ہو جانا ہے۔ اس وقت جس کے پاس ان نوٹوں کا انبار یا بینک میں بڑی رقم ہو گی ان کے پاس بس کاغذ کے ٹکڑے اور بینک کے کھاتے میں لکھے نمبر رہ جائیں گے۔اور جن کے پاس سونا چاندی زمین یا دیگر مادی اشیاء ہوں گیں، وہی دولت مند ہوں گے۔
سوال یہ ہے کہ ہمارے بڑے تو اپنی لاعلمی کی وجہ سے ہمیں کاغذ کے نوٹ کما کر دے گئے۔ کیا ہم بھی آنے والی نسل کو یہ کاغذ تھما کر جائیں گے؟؟
اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو ہم یا ہماری اگلی یا اس سے اگلی نسل جن کے ہاتھ میں موجود نوٹوں کو کاغذ قرار دے دیا جائے گا، وہ ضرور پچھلوں کو کوسے گی۔
زرا سوچیے ...!!
FAR

30/12/2023

👈 قطب الدین ایبک __!!

ایک بار ایک تاجر غلاموں کی منڈی میں گیا تو اسے ایک تُرک لڑکا ملا جو بہت پسند آیا اور اسے تاجر نے فوراً خرید لیا۔ تاجر نے بچے سے پوچھا : تمہارا نام کیا ہے۔ لڑکے نے جواب دیا : جناب میں اپنا نام بتا کر اپنے نام کی توہین نہیں کرنا چاہتا ۔ میں غلام ہوں اس لئے آپ جس نام سے پکاریں گے وہی میرا نام ہوگا ۔ تاجر کو اس جواب پر حیرت ہوئی لیکن اسے یہ بات پسند بھی آئی کہ بچے میں عزت نفس کا احساس باقی ہے۔ تاجر نے اس بچے پر خاص توجہ دی اور اسکی تعلیم اور تربیت کا انتظام کیا ۔
بچے نے بہت جلد تیر اندازی، تلوار بازی اور شہسواری میں ایسی مہارت حاصل کی کہ خود تاجر حیران رہ گیا ۔ غزنی کا بادشاہ شہاب الدین غوری ایک بار گھوڑوں کی دوڑ کا مقابلہ دیکھ رہا تھا ۔ تاجر اپنے غلام کو لے کر اس کے پاس پہنچا اور کہا کہ حضور میرے اس غلام کو گھڑ سواری میں کوئی نہیں ہرا سکتا ۔
بادشاہ نے مسکرا کے لڑکے سے پوچھا : تم کتنا تیز گھوڑا دوڑا سکتے ہو۔ لڑکے نے نہایت ادب سے جواب دیا : حضور گھوڑے کو تیز دوڑانے سے زیادہ ضروری اسے اپنا مطیع بنانا ہوتا ہے۔ غوری نے چونک کر اسے دیکھا اور ایک بہترین گھوڑا اسے دیتے ہوئے کہا: لڑکے تم اس گھوڑے کو اپنا مطیع و فرمانبردار بنا کر دکھاؤ۔
لڑکا اچھل کر گھوڑے پر بیٹھا اور کچھ دور اسے چلا کر لے گیا اور پھر پلٹ کر واپس آیا۔ لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ واپسی میں بھی گھوڑا اپنے سُموں کے نشان پر ہی چلتا ہوا آیا۔
سلطان غوری نے سوچا جو شخص ایک جانور کو اس طرح اپنا فرمانبردار بنا سکتا ہے اس کے لئے انسانوں کو مُطیع بنانا کیا مشکل ہو سکتا ہے ۔ اس نے فوراً اس غلام کوخرید لیا جس کا نام قطب الدین تھا ۔
ترکی میں ایبک انگلی کو کہتے ہیں اور شل کا مطلب ہوتا ہے ، ٹوٹا ہوا ۔ چونکہ اس غلام کی ایک انگلی ٹوٹی ہوئی تھی اس لئے عموماً سب اسے ایبک شل کہتے تھے پھر ایبک اس کے نام کا جزو بن گیا اور اس نے قطب الدین ایبک کے نام سے ہندوستان پر حکومت کی ۔دہلی کی قوت الاسلام مسجد، اور قطب مینار اس کی یادگاریں ہیں..!!`

29/12/2023

آپریشن سے دو گھنٹے پہلے
مریض کے کمرے میں ایک نرس داخل ھوئی اور وہاں کمرے میں رکھے ھوئے گلدستے کو سنوارنے اور درست کرنے لگ گئی. ایسے میں جبکہ وہ اپنے پورے انہماک کے ساتھ اپنے اس کام میں مشغول تھی، اس نے اچانک ھی مریض سے پوچھ لیا: سر کونسا ڈاکٹر آپ کا آپریشن کر رہا ھے؟ مریض نے نقاہت کی حالت میں، نرس کو دیکھے بغیر ھی اچاٹ سے لہجے میں کہا: ڈاکٹر کاشف۔ نرس نے حیرت کے ساتھ ڈاکٹر کا نام سنا اور اپنا کام چھوڑتے ہوئے، مریض سے قریب ہو کر پوچھا: سر کیا واقعی ڈاکٹر کاشف نے آپ کا آپریشن کرنا قبول کر لیا ھے؟

مریض نے کہا: جی میرا آپریشن وہ ھی کر رھے ہیں۔

نرس نے کہا: بہت ھی عجیب بات ھے، مجھے یقین نہیں آ رہا۔ مریض نے پریشان ھوتے ھوئے پوچھا: مگر اس میں ایسی کونسی عجیب بات ھے؟ نرس نے کہا: دراصل اس ڈاکٹر نے اب تک ہزاروں آپریشن کیئے ہیں ان کے آپریشن میں کامیابی کا تناسب سو فیصد ھے۔ ان کی شدید مصروفیت کی بناء پر، ان سے وقت لینا انتہائی دشوار کام ھوتا ھے۔ میں اسی لئے حیران ھو رھی ھوں کہ آپ کو کس طرح ان سے وقت مل گیا ھے؟ مریض نے ایک طمانیت کے ساتھ نرس سے کہا بہرحال، یہ میری خوش قسمتی ھے کہ مجھے ڈاکٹر کاشف سے وقت ملا ھے اور وہ ھی میرا آپریشن کر رھے ہیں۔ نرس نے ایک بار اپنی بات دہراتے ھوئے کہا کہ: یقین جانیئے میری حیرت ابھی تک برقرار ھے کہ اس دنیا کا سب سے اچھا ڈاکٹر آپ کا آپریشن کرے گا!!

اس گفتگو کے بعد مریض کو آپریشن تھیٹر پہنچایا گیا، مریض کا کامیاب آپریشن ھوا اور اب مریض بخیر وعافیت ہنسی خوشی اپنی زندگی گزار رہا ھے۔۔۔۔

ایک بات جو بتانے والی ھے وہ یہ کہ مریض کے کمرے میں آنے والی عورت کوئی عام نرس نہیں بلکہ اسی ہسپتال کی ایک ماہر نفسیات لیڈی ڈاکٹر تھی جس کا کام مریضوں کو ذہنی اور نفسیاتی طور پر آپریشن کیلیئے، کچھ ایسے طریقے سے تیار اور مطمیئن کرنا تھا جس کی طرف مریض کا شک بھی نہ جا سکے اور اس بار اس لیڈی ڈاکٹر نے اپنا کام نرس کی یونیفارم میں مریض کے کمرے میں رکھے گلدستے کو سنوارتے سنوارتے کر دیا تھا۔ اور مریض کے دل و دماغ میں یہ بات بہت ھی خوب صورتی سے بٹھا دی تھی کہ جو ڈاکٹر اس کا آپریشن کرے گا وہ دنیا کا مشہور اور کامیاب ترین ڈاکٹر ھے جس کا ہر آپریشن ایک کامیاب آپریشن ھوتا ھے۔ اور ان سب باتوں سے مریض بذات خود ایک مثبت انداز میں بہتری کی طرف لوٹ آیا۔ امید اور اچھا احساس دلانا اور مثبت سوچنے پر مجبور کرنے کیلئے آپ کا ماہر نفسیات ھونا ضروری نہیں

کسی مایوس شخص کو تسلی اور خوش امیدی کے دو بول جادوئی اثر اور وہ توانائی دیتے ہیں جو کسی دوا میں نہیں اس لیئے ہمیشہ اچھا بولیئے۔ دوسروں کو نئی امید دلائیے۔۔۔

26/12/2023

دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان میں بے انتہا غربت تھی، 1960تک ان کے بچے خوراک کی قلت کا شکار تھے، یہ بچے لاغر اور کم زور پیدا ہوتے تھے اور ان کی پرورش میں بھی کمی رہ جاتی تھی۔

لہٰذا ان کے قد چھوٹے، ہڈیاں کم زور، وزن کم اور رنگ پیلے تھے، جاپانی اس دور میں 24 گھنٹے میں صرف ایک کھانا کھاتے تھے، انھوں نے اس دور میں اندازہ کیا ہم اگر دن تین بجے کھانا کھائیں تو چوبیس گھنٹے گزار سکتے ہیں چناں چہ یہ دن تین بجے کھانا کھاتے تھے اور اگلی خوراک کی باری اگلے دن آتی تھی۔

اس وقت ان کی حالت یہ ہوتی تھی پاکستان نے 1957میں چاولوں سے بھرا ہوا ایک بحری جہاز ٹوکیو بھجوایا، جہاز پر جاپان کی امداد کے لیے پاکستان کا تحفہ لکھا ہوا تھا اور اس کی تصویریں باقاعدہ اخبارات میں شایع ہوئیں اور پورے جاپان نے ہاتھ جوڑ کر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا، جاپانیوں کو آج بھی پاکستان کا یہ احسان یاد ہے۔

میں نے عرفان صاحب سے عرض کیا، جاپان دنیا کے ان چار ملکوں میں شمار ہوتا ہے جن کے ساتھ پاکستان کے تعلقات شروع دن سے حیران کن رہے، ہندوستان کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن پاکستان اور بھارت کو 15 اگست 1947 کو آزادی دینا چاہتے تھے۔

اس کی وجہ جاپان تھا، جاپان نے 1945میں 15 اگست کو امریکا کے سامنے سرینڈر کیا تھا، اتحادی فوجیں (امریکا، برطانیہ اور یورپی ملک) 15 اگست کو یوم فتح کے طور پر مناتے تھے۔

لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی خواہش تھی 15 اگست 1947 کو جب پورا برطانیہ یوم فتح منا رہا ہوتو بھارت اور پاکستان کی پیدائش اس وقت ہوتاکہ ہر سال جب ان دونوں ملکوں کے لوگ آزادی کی تقریبات منائیں تو اس وقت جاپانی افسردہ ہوں اور یہ کھیل تاابد جاری رہے۔

یہ منصوبہ جب قائداعظم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے فوراً انکار کر دیا، قائد کا کہنا تھا "ہم اپنا یوم آزادی کسی دوسری قوم کے یوم شکست پر نہیں رکھیں گے"
جاپانی آج تک پاکستان کا یہ احسان نہیں بھولے، دوسری جنگ عظیم میں شکست کے بعد جاپان نے تاوان ادا کرنا شروع کیا (یہ آج بھی امریکا کو ہر سال 10 بلین ڈالر ادا کرتا ہے)، پاکستان کا اس تاوان میں چھٹا حصہ تھا، قائداعظم نے اس وقت اپنا یہ حصہ بھی جاپان کو معاف کر دیا تھا جب ہمارے پاس سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے لیے رقم نہیں تھی۔

جاپانی آج تک یہ احسان بھی نہیں بھولے اور پاکستان نے اپنے ابتدائی دنوں میں جاپان کو نقد امداد بھی دی اور جاپان کو آج تک یہ بھی یاد ہے چناں چہ کہنے کا مقصد یہ ہے ایک پاکستان ایسا بھی ہوتا تھا۔

ہماری دریا دلی صرف جاپان تک محدود نہیں تھی، ہم نے 1950 کی دہائی میں جرمنی کو پانچ کروڑ روپے قرض دیا تھا، پولینڈ کے متاثرین کو پناہ دی تھی، چین کا دنیا کے ساتھ رابطہ کرایا تھا، پی آئی اے دنیا کی پہلی ائیرلائین تھی جس نے چین کی سرزمین کو چھوا تھا اور ماؤزے تنگ اور چو این لائی نے ائیرپورٹ آ کر ہماری فلائیٹ کا استقبال کیا تھا۔

ہم نے ماؤزے تنگ کو ذاتی استعمال کے لیے جہاز بھی گفٹ کیا تھا، یہ جہاز آج بھی چین کے میوزیم میں پاکستان کے شکریے کے ساتھ کھڑا ہے، ہم نے اپنے ترک بھائیوں کی قیام پاکستان سے پہلے بھی مدد کی تھی اور قیام کے بعد بھی، ترکی کے زیادہ تر امرائ، فوجی افسروں اور سیاست دانوں کے بچے پاکستان میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔

ہم نے استنبول میں پہلا بوئنگ طیارہ اتارا تھا اور ترکی نے اس کے لیے ائیرپورٹ پر نیا رن وے بنایا تھا اور پوری کابینہ اس کے استقبال کے لیے ائیرپورٹ گئی تھی، ہم نے مراکو، تیونس اور الجزائر کی آزادی میں بھی مرکزی کردار ادا کیا، پاکستان نے ان کی سیاسی قیادت کو پاسپورٹ بھی دیے اور اقوام متحدہ میں اپنے بینچ سے انھیں خطاب کا موقع بھی دیا۔

چین اور امریکا کا پہلا رابطہ اور ہنری کسنجر اور صدر رچرڈ نکسن کے چین کے پہلے دورے کا انتظام بھی ہم نے کیا تھا، چین میں لوہے کا پہلا کارخانہ پیکو کی طرز پر لگا تھا اور چو این لائی اسے دیکھنے کے لیے اپنے ماہرین کے ساتھ 1960کی دہائی میں لاہور آئے تھے، ایران کی ترقی اور یورپ اور امریکا کے ساتھ تعلقات میں بھی پاکستان نے اہم کردار ادا کیا تھا، شاہ ایران ہر دوسرے ماہ پاکستان کا دورہ کرتے تھے اور پاکستان کی ترقی کو حیرت سے دیکھتے تھے۔

فلسطین کے لیے پہلی عالمی آواز بھی ہم نے اٹھائی تھی، شام، اردن اور مصر کی سفارت کاری، آزادی اور بحالی میں بھی پاکستان کا اہم کردار تھا، سعودی عرب میں 1970 تک پاکستان سے زکوٰۃ جاتی تھی اور سعودی شہری خانہ کعبہ میں پاکستانیوں کے رزق میں اضافے کے لیے دعائیں کیا کرتے تھے۔

یو اے ای کی ترقی میں بھی پاکستان کا اہم کردار تھا، دنیا کی چوتھی بہترین ائیرلائین ایمریٹس کا کوڈ (ای۔ کے) ہے، اس کا "کے" کراچی ہے، یہ ائیر لائین کراچی سے اسٹارٹ ہوئی تھی، ہم نے انھیں جہاز بھی دیا تھا اور عملہ بھی لہٰذا یہ آج بھی ای۔ کے (امارات کراچی) ہے، مالٹا کے بچوں کے سلیبس میں پی آئی اے کا پورا باب ہے۔

سنگا پور ائیرلائین اور پورٹ دونوں پاکستانیوں نے بنائیں، انڈونیشیا اور ملائیشیا کی اشرافیہ کے بچے پاکستان میں پڑھتے تھے، ملائیشیا کا آئین تک پاکستانی وکلاء نے لکھا تھا، جنوبی کوریا کی گروتھ میں محبوب الحق کے پانچ سالہ منصوبے کا اہم کردار تھا، بھارت 1990کی دہائی میں پاکستان سے بجلی خریدتا رہا اور من موہن سنگھ نے "شائننگ انڈیا" کا پورا منصوبہ پاکستان سے لیا تھا۔

دنیا کی تین بڑی انجینئرنگ فرمز نے1960ء کی دہائی میں کنسورشیم بنا کر منگلا ڈیم کی "بڈ" کی تھی اور ہارورڈ یونیورسٹی کی انجینئرنگ کلاس کے طالب علم جہاز بھر کر مطالعے اور مشاہدے کے لیے منگلا آتے تھے اور اس منصوبے کوحیرت سے دیکھتے تھے۔

مسلم دنیا کے 27 ملکوں کے فوجی افسر پاکستانی اکیڈمیوں میں ٹرینڈ ہوئے اور بعدازاں اپنے اپنے ملکوں میں آرمی چیف بنے، یو اے ای کے فرمانروا زید بن سلطان النہیان 1970 کی دہائی تک پاکستان کے دورے پر آتے تھے تو ان کا استقبال کمشنر راولپنڈی کرتا تھا، ہمارے وزیر بھی ائیرپورٹ نہیں جاتے تھے اور سب سے بڑھ کر 1961میں جب ایوب خان امریکا کے دورے پر گئے تھے تو پوری امریکی کابینہ نے صدر جان ایف کینیڈی سمیت ائیرپورٹ پر ان کا استقبال کیا اور صدر ایوب خان ائیرپورٹ سے وائٹ ہاؤس کھلی گاڑی میں گئے اور سڑک کی دونوں سائیڈز پر امریکی عوام پھول لے کر کھڑے تھے اور پاکستان زندہ باد اور ویل کم، ویل کم کے نعرے لگا رہے تھے۔

پاکستان نے ایک دور ایسا بھی دیکھا جب دنیا حیرت سے اس کی طرف دیکھتی تھی اور یہ جرمنی اور جاپان جیسے ملکوں کو قرضے اور امداد دیتا تھا لیکن پھر اس ملک پر ایک ایسا دور آیا جس میں ہم ایک ارب ڈالر کے لیے دنیا کے دروازے پر بھکاری بن کر بیٹھے ہیں اور دنیا ہمیں غرور اور نفرت سے دیکھ رہی ہے۔

ایک وقت تھا جب ہم ویزے کے بغیر پوری دنیا میں سفر کرتے تھے اور ایک وقت اب ہے جب ہمیں افغانستان کے ویزے کے لیے بھی قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے، ایسا کیوں ہوا؟ ہم نے کبھی سوچا؟ ہمیں ماننا پڑے گا ہم نے بڑی محنت اور جدوجہد سے اس ملک کو برباد کیا ہے، ہم نے اس کی عزت اور وقار کو ایڑی چوٹی کا زور لگا کر مٹی میں ملایا ہے مگر سوال پھر وہی ہے کیا ہمارے پاس واپسی کی کوئی گنجائش ہے۔

جی ہاں ابھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا، ہم تاحال ایک قوم ہیں اور ہمارا جغرافیہ بھی بحال ہے لہٰذا ہم اگر آج بھی نیند سے جاگ اٹھیں، ہم اپنے حال پر رحم کریں تو ہم دس بیس برسوں میں دوبارہ اس لیول پر آ سکتے ہیں جس پر ہم دوسرے ملکوں کو امداد اور قرض دیں لیکن اس کے لیے ہمیں چند بڑے فیصلے کرنا ہوں گے۔

وہ فیصلے کیا ہیں؟ ہمیں سب سے پہلے سیاسی انجینئرنگ بند کرنا ہوگی، ملک میں پانچ سال بعد الیکشن ہوں اور یہ فری اینڈ فیئر ہوں، اسٹیبلشمنٹ الیکشن مینج نہ کرے، کسی عہدیدار کو(سویلین ہو یا ملٹری) ایکسٹینشن نہ دی جائے، کوئی بھی سیاست دان دو یا حد تین سے زیادہ مدت تک وزیراعظم نہ رہ سکے، ملک کو بزنس فرینڈلی بنایا جائے۔

کوئی بھی شہری یا غیر ملکی ملک میں کمپنی کھول سکے اور کاروبار کر سکے اور حکومت اسے پانچ سال تک ٹیکس کی رعایت دے، ہم فوری طور پر آبادی کنٹرول کریں اور 30 سال کی عمر تک تمام لوگوں کو ہنر مند بھی بنائیں، ملک میں کوئی شخص بے ہنر اور بے روزگار نہ ہو، کام کو لازم قرار دے دیا جائے اور جو شخص کام نہ کرے۔

پولیس اسے گرفتار کرے اور اپنی نگرانی میں اسے کام پر چھوڑ کر آئے اور اس کی آدھی تنخواہ بحق سرکار ضبط کر لی جائے اور آخری مشورہ ملک کے تمام اسٹیک ہولڈرز ایک ہی بار بیٹھ کر اگلے 20 سال کا قومی منصوبہ تیار کر لیں اور پھر کوئی شخص اسے چھیڑنے کی جسارت نہ کرے اور جو کرے اسے قرار واقعی سزا دی جائے، آپ یقین کریں ہم ان چند اقدامات سے ایک بار پھر عزت اورآبرو کی شاہراہ پرآ سکتے ہیں ورنہ ہم اسی طرح بھیک مانگ مانگ کر ختم ہو جائیں گے اور تاریخ کے اوراق میں ہمارا ذکر تک نہیں ہوگا۔۔۔
FAR #

Address

More Khunda Distt. Nankana Sahib
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gaseous Fuel-Bio Gas Program posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Gaseous Fuel-Bio Gas Program:

Share