Akbari Mandi

Akbari Mandi Spices, grains, rice, sugar, oils, processed food items, merchandise, chemist items, many other v

*الہی عشـــــرۂ رحـــمت کـی ھو گئـــی آمـــــد* *ہمیں بھی بھیک دے رحمت کی یا خدا یا رب*
19/02/2026

*الہی عشـــــرۂ رحـــمت کـی ھو گئـــی آمـــــد*
*ہمیں بھی بھیک دے رحمت کی یا خدا یا رب*

16/12/2025

..... تہانوں کیہڑی یاد اے۔۔۔۔۔۔
پنجابی کہاوتاں

01۔ سکھ نال نصیباں دے ' دکھ نال غریباں دے

02۔ سرفہ کر کے سُتی تے آٹا لے گئی کتی

03۔ چور نالوں پَنڈ کالہی

04۔ کہنا دھی نوں ' سنانا نوہ نوں

05۔ جس راہ نئیں جانا ' اوہدا ناں کیہ لینا

06۔ ویہلی رن ' پروہنیاں جوگی

07۔ جیناں کھادیاں گاجراں ' ٹیڈ اونہاں دے پیڑ

08۔ کُتی چوراں نال رل گئی

09۔ آٹا گنہدی ' ہلدی کیوں اے

10۔ چور اچکا چوہدری تے غُنڈی رَن پردھان

11۔ ڈگی کھوتے توں تے غصہ کمہار تے

12۔ انّے کتے ہرنا دے شکاری

13۔ گونگے دی ماں گونگے دی رمزاں جان-دی اے

14۔ رب ملائی جوڑی ' اک انّا اک کوڑھی

15۔ لائی لگ نا ہوئے گھر والا تے چندرا گوانڈ نا ہو وے

16۔ آپ نہ وسّی سوہرے تے لوکی متاں دے

17۔ آپ کسے جہی نا تے گل کرنو رہی نا

18۔ جے کوئی کُچھڑ چُکے تے جان کے پُنجے نہی ڈِگی دا

19۔ جِدے گھر دانے ' اُوہدے کملے وی سیانے

20۔ ویلے دیاں نمازاں تے کویلے دیاں ٹکراں

21۔ ککڑ دی جان گئی تے کھان آلیا نوں صواد نہ آیا

22۔ آٹے دی بلی بناواں ' میاؤں کون کرے

23۔ مُلاں دی دوڑ مصیت تک

24۔ موئیا نئیں ' آکڑیا اے

25۔ دھی دی سھیلی تے ماں دی سوکن

26۔ مرے دا تے مُکرے دا علاج کوئی نہ

27۔ بوہے آئی جنج تے ونوں کُڑی دے کن

28۔ کملی رووے یارا نوں ' لے لے ناں بهرواں دا

29۔ عقل ہووے تے سوچاں ' نہ ہووے تے موجاں

30۔ نکا ویکھ کے لڑیے نہ ' وڈا ویکھ کہ ڈریے نہ

31۔ ٹُردے نوں کوئی نئیں ملدا

32۔ ست گھر تے ڈین وی چھڈ دیندی اے

33۔ بھاویں ماسی بنے سس ' اوہنوں وی ڈین والا چس

34۔ اکھوں دِسّے ناں تے ناں نور بی بی

35۔ جیا کِلے بدا ' جیا چوراں کھڑیا

36۔ سپاں دی کھڈ وچ سپولے جمدے نیولے نئیں

37۔ آئی موج فقیر دی ' لائی چگی نوں اگ

38۔ جَٹ ' وَٹ تے پَھٹ بَنّن نال ای قابو آندے نے

39۔ شاہاں دا قرض برا ' فکر دا درد برا

40۔ فکر دی مار بری ' بیگانی نار بری

13/12/2025

Anjeer

اللہ اکبر
12/12/2025

اللہ اکبر

واٹس ایپ کے ذریعے موصول شدہ میسج مفاد عامہ کیلئے شئیر کیا گیا۔۔ڈاکومنٹس کو سکین کرنے کیلئے اب camscanner کی ضرورت نہیں ر...
11/08/2025

واٹس ایپ کے ذریعے موصول شدہ میسج مفاد عامہ کیلئے شئیر کیا گیا۔۔

ڈاکومنٹس کو سکین کرنے کیلئے اب
camscanner کی ضرورت نہیں رہی۔۔۔
آپ واٹس ایپ کا یہ فیچر استعمال کر سکتے ہیں۔۔
ویڈیو پر آپکے کمنٹس ہمارا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔۔
ویڈیو اچھی لگے تو شئیر کریں اور کوئی کمی یا تجویز کیلئے کمنٹس میں راہنمائی فرمائیں۔۔ شکریہ

WhatsApp Features Part 2How to: Scan a Document using WhatsApp Send a Document using WhatsApp whatsapp k zariay document scan karnay ka tareeqa whatsap...

*چینی (Sugar) کے ریٹ نوٹیفیکیشن*
18/07/2025

*چینی (Sugar) کے ریٹ نوٹیفیکیشن*

18/07/2025
"رنگ باز لاہوری"کیا آپ جانتے ہیں کہ لاہور والوں کو *"رنگ باز"* کیوں کہتے ہیں؟چلیئے آپکو بتاتے ہیں!شہنشاہ اکبر اور شاہ جہ...
18/07/2025

"رنگ باز لاہوری"
کیا آپ جانتے ہیں کہ لاہور والوں کو *"رنگ باز"* کیوں کہتے ہیں؟

چلیئے آپکو بتاتے ہیں!

شہنشاہ اکبر اور شاہ جہاں کے دور میں لاہور نیل کی دنیا کی سب سے بڑی منڈی تھا۔ شہنشاہ اکبر نے لاہور کے قلعے سے ذرا فاصلے پر ہندوستان میں نیل کی پہلی منڈی قائم کی۔
یہ منڈی اکبر کے نام پر *اکبری منڈی* اور اس سے ملحق علاقہ *رنگ محل* کہلایا۔ لاہور کے مضافاتی علاقے موجودہ *ساہیوال* میں میلوں نیل کے پودے تھے۔ اسی نسبت سے اسے آج بھی *نیلی بار* کہتے ہیں. لوگ نیل کے پودوں کا عرق نکالتے، بڑی بڑی کڑاہیوں میں ڈال کر پکاتے، اس کا پاؤڈر اور ڈلیاں بنائی جاتی تھیں۔ پھر ٹوکریوں اور بوریوں میں بھر کر اکبری منڈی پہنچ کر بکتیں۔

پھر یہ وہاں سے بمبئی اور کولکتہ کے فرانسیسی اور اطالوی تاجر انہیں خرید لیتے۔ بحری جہازوں میں بھر کر یہ نیل اٹلی کے ساحلی شہر *جینوا* پہنچ جاتا۔ یہ سویٹزرلینڈ کا شہر Geneva نہیں بلکہ اٹلی کا قدیم شہر Genova ھے۔جینووا نامی شہر فرانسیسی شہر *نیم*، کے قریب تھا۔ نیم شہر *ڈی نیم* بھی کہلاتا ہے جہاں ہزاروں کھڈیاں لگی تھیں۔ ان پر موٹا سوتی کپڑا بُنا جاتا جو *سرج* کہلاتا تھا۔ کپڑا بن کر پھر جینووا پہنچتا جہاں گورے اس پر لاہوری نیل کا رنگ چڑھاتے، کپڑا نیلا ہو جاتا تھا. پھر یہ کپڑا درزیوں کے پاس پہنچتا، درزی اس سے مزدوروں، مستریوں اور فیکٹری ورکرز کے لیے پتلونیں سیتے. وہ پتلونیں بعد ازاں جینووا شہر کی وجہ سے *جینز* کہلانے لگیں۔

جینز پتلونیں دنیا بھر میں مشہور ہو گئیں۔ ڈی نیم شہر کے تاجروں نے جوش حسد میں اپنے کپڑے کو بھی *ڈی نیم* کہنا شروع کر دیا۔ ڈی نیم آہستہ آہستہ *’’ڈینم‘‘* بن گیا۔ جبکہ جینز اور ڈینم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اکٹھے ہو کر ڈینم جینز بن گئے۔

جینز کے تین عناصر تھے،
1۔ ڈی نیم کا کپڑا،
2۔ لاہور کا نیل اور
3۔ جینوا کے درزی۔
مغلوں کے دور میں اگر لاہور کا نیل نہ ہوتا تو جینز نہ بن سکتی تھی۔ اگر بنتی بھی تو کم از کم نیلی نہ ہوتی. جینز کا نیلا پن لاہور کی بدولت تھا۔ آج بھی انگریزی کی پرانی ڈکشنریوں میں نیل کا نام لاہوری ملے گا۔ گورے اس زمانے میں نیل کو لاہوری کہتے تھے۔ یہ رنگ بعد ازاں انڈیا کی مناسبت سے انڈیگو بن گیا۔

فرانسیسی، اطالوی، پرتگالی اور ڈچ نیل خریدنے کے لئے ہندوستان آتے تھے۔ برطانوی افیون پینے کے لئے آتے تھے مگر پھر پورا ہندوستان ہتھیا لیا۔ لیکن یہ بہت بعد کی باتیں ہیں۔ ابھی اس دور کی بات ہے جب نیل لاہور کی سب سے بڑی تجارت تھا۔ تب یہ پاک و ہند میں لاہوری یا انڈیگو کہلاتا تھا۔ یہ ہزاروں میل کا زمینی اور سمندری فاصلہ طے کر کے جینوا پہنچتا، جینز کا حصہ بن کر ساری دنیا میں پھیل جاتا تھا۔

پھر لاہور کے نیل کو نظر لگ گئی۔ مغلوں نے نیل پر ٹیکس لگا دیا تو یورپ نے مصنوعی رنگ ایجاد کر لئے، ایسٹ انڈیا کمپنی نے فرانسیسیوں اطالویوں اور پرتگالیوں کو مار بھگایا۔ یوں نیل کی صنعت زوال پذیر ہو گئی۔ نیل لاہوری نہ رہا مگر لاہور کے شہری آج بھی *رنگ باز* ہیں۔ لاہوریوں کو یہ خطاب ممبئی اور کولکتہ کے تاجروں نے دیا تھا۔

ہندوستان میں اس وقت فارسی زبان رائج تھی. فارسی میں کسی بھی پیشے سے وابستہ لوگوں کو باز کہا جاتا تھا۔ جیسے پتنگ بنانے والے پتنگ باز، کبوتر پالنے والوں کو کبوتر باز اور اس مناسبت سے رنگ بیچنے والے *رنگ باز* ہو گئے۔ چنانچہ کولکتہ اور ممبئی کے تاجر نیل کی صنعت سے وابستہ لاہوریوں کو *’’رنگ باز‘‘* کہنے لگے۔ اس زمانے میں کیونکہ لاہور کی زیادہ تر آبادی نیل کی صنعت سے وابستہ تھی چنانچہ پورا *لاہور رنگ باز* ہو گیا اور یہ رنگ بازی آج بھی لاہوری مزاج میں زندہ ھے۔

درج ذیل میں حوالہ جات اور ماخذ دیے جا رہے ہیں جو (نیل، لاہور کی رنگ سازی، اکبری منڈی، اور انڈیگو کی برآمدات وغیرہ) سے متعلق ہیں۔

1. William Foster, The English Factories in India 1618–1669, Oxford University Press.
ولیم فوسٹر کی یہ کتاب انگریز تاجروں کی ہندوستان میں موجودگی اور تجارت کی ابتدائی دستاویزی تاریخ پر مشتمل ہے۔ اس میں لاہور اور دیگر مغلیہ شہروں میں انڈیگو (نیل) کی تجارت کا بار بار ذکر ملتا ہے۔

2. Irfan Habib, An Atlas of the Mughal Empire, Oxford University Press, 1982.
عرفان حبیب کی اس مستند کتاب میں مغلیہ دور کے تجارتی مراکز اور صنعتوں کی نقشہ جاتی تفصیل دی گئی ہے، جن میں لاہور، ملتان اور کمالیہ کی نیل کی پیداوار اور برآمد کا ذکر شامل ہے۔

3. Muzaffar Alam, The Crisis of Empire in Mughal North India, Oxford University Press.
مظفر عالم کی تحقیق کے مطابق لاہور، دہلی، آگرہ، اور بنگال انڈیگو اور ٹیکسٹائل کے بڑے مراکز تھے۔ اس میں نیل کی برآمدات اور مقامی صنعت کا بھی تجزیہ موجود ہے۔

4. Jean-Baptiste Tavernier, Travels in India, 1676
فرانسیسی سیاح ٹاورنیئر نے اپنے سفرنامے میں مغلیہ ہندوستان کی نیل، کھدر، اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے، خاص طور پر لاہور کے رنگ سازوں اور نیل کی برآمد کا۔

5. Sir Thomas Roe’s Embassy to the Mughal Court (1615–1619).
سر تھامس رو کی مغلیہ دربار میں سفارتی رپورٹ میں انگریز تاجروں کے نیل اور کپڑے کی تجارت سے متعلق اہم معلومات شامل ہیں۔ لاہور کا بطور نیل کی منڈی ذکر موجود ہے۔

6. Richard M. Eaton, The Rise of Islam and the Bengal Frontier, 1204–1760, University of California Press.
اگرچہ یہ کتاب بنیادی طور پر بنگال پر ہے، مگر انڈیگو انڈسٹری کے جنوبی ایشیا میں پھیلاؤ، اور مغل سلطنت میں نیل کے اہم تجارتی مراکز (لاہور، ملتان، بنگال) کا ذکر اس میں تفصیل سے موجود ہے۔

7. Punjab District Gazetteers (British India), Lahore District, 1904.
برطانوی دور کے پنجاب گزٹیئر میں لاہور کی انڈیگو رنگ سازی، بازارِ اکبری، رنگ محل اور نیل کی مقامی صنعت کا واضح ذکر ملتا ہے۔

17/06/2025

موٹروے M-2 پر اسلام آباد سے لاہور کے لیے کار کا پرانا ٹول ٹیکس 1100 روپے تھا جو 27 اگست 2024 کے بعد 1210 روپے ہو گیا، اور اب 15 جون 2025 سے یہ 1800 روپے ہو جائے گا۔ اسی طرح، لاہور سے عبدالحکیم (M-3) تک کار کا پرانا ٹول ٹیکس 700 سے 800 روپے تھا جو اب بڑھ کر 1200 روپے کر دیا گیا ہے۔
پنڈی بھٹیاں سے ملتان (M-4) تک کار کا ٹول 950 سے 1050 روپے سے بڑھ کر 1600 روپے ہو گیا ہے، جبکہ ملتان سے سکھر (M-5) تک کا ٹول 1100 سے 1200 روپے سے بڑھ کر 1800 روپے ہو جائے گا۔ ڈی آئی خان سے حقہ (M-14) اور حسن ابدال سے مانسہرہ (E-35) کے لیے کار کے ٹول ٹیکس میں بھی بالترتیب 600-650 سے 1000 روپے اور 250-300 سے 450 روپے تک اضافہ ہوا ہے۔
بڑے ٹرکس کے لیے بھی لاہور سے اسلام آباد (M-2) کا ٹول ٹیکس نمایاں طور پر بڑھا دیا گیا ہے۔ 2 اور 3 ایکسل ٹرک کے لیے یہ 5280 روپے سے 7900 روپے ہو گیا ہے، جبکہ آرٹیکولیٹڈ ٹرک کے لیے یہ 6780 روپے سے بڑھ کر 10200 روپے ہو جائے گا۔

17/06/2025

Address

Akbari Gate, Walled Lahore City, Circular Road
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Akbari Mandi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Akbari Mandi:

Share