Desperated Soul

Desperated Soul First ov all I em a Muslim
then I am a Green blooded pakistani. Muslim by soul. Human by nature.

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَفرعون نما جانوروں کو مبارک ہو کہ میاں عباد فاروق کا بیٹا اس دنیا سے چلاگیا- آپ...
18/09/2023

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ

فرعون نما جانوروں کو مبارک ہو کہ میاں عباد فاروق کا بیٹا اس دنیا سے چلاگیا- آپ سب کو مبارک ہو کہ آپ نے ایک خطرناک ، آتنک وادی اور دہشت گرد بچے کو اس دنیا سے اگلے جہاں میں بھجوادیا اور پاکستان کو ایک بڑے خطرے سے بچالیا--
یاد رہے میاں عباد کے بیٹے کو دوران علاج ہسپتال سے بے دخل
کر دیا گیا تھا ۔ اتنا سلوک تو کافر بھی نہیں کرتے۔
پاکستان ذندہ باد

23/06/2021

Snake VS Mouse .... WOW... HUGE cobra KILLED... 😲😲

*" ضروری نہیں آپکی زندگی میں بے چینی یا خالی پن کسی شخص کے جانے،کسی خواہش کے پورا نہ ہو سکنے یا کسی چیز کے نہ ملنے کی وج...
20/01/2021

*" ضروری نہیں آپکی زندگی میں بے چینی یا خالی پن کسی شخص کے جانے،کسی خواہش کے پورا نہ ہو سکنے یا کسی چیز کے نہ ملنے کی وجہ سے ہو✨*
*جب جب ہماری روح پر چھوٹے چھوٹے گناہوں کا بوجھ بڑھ جاتا ھے۔ وہ ڈائریکشن مانگتی ھے۔ سکون مانگتی ھے۔ جو صرف سجدے میں ھے*💯⁦❤️

*میلے کپڑے پلاسٹک کے جوتے* *سیمنٹ کے تھیلوں کی جائے نماز مشقت سے تھکا بدن* *کام کا ٹائم* *اس محنت کش کے پاس بھی نماز چھو...
20/01/2021

*میلے کپڑے پلاسٹک کے جوتے*
*سیمنٹ کے تھیلوں کی جائے نماز مشقت سے تھکا بدن*
*کام کا ٹائم*
*اس محنت کش کے پاس بھی نماز چھوڑنے کے سب بہانے اور معاشرے میں رائج عذر تھے۔*

*عجب بندہ مومن ہے کہ سب عذر ایک طرف رکھ کر اپنے رب سے ملاقات کیلئے کھڑا ہوا کہ*

*اللہ تو جانتا ہے یہی میری اوقات ہیں یہ میرے حالات ہیں۔*

*آپ سے کچھ مخفی نہیں ہے۔*

*اس تصویر نے مجھے بندگی کے حقیقی مفاہیم اور مطالب سے آشنا کر دیا، آپ بھی غور کیجئے*

اس بزرگ خاتون کی ساری زندگی دیہات میں گزری تھی وہ پہلی بار جہاز میں سوار ہوئی تھی اس نے اپنی بیٹی اور داماد سے ملنے شہر ...
20/01/2021

اس بزرگ خاتون کی ساری زندگی دیہات میں گزری تھی وہ پہلی بار جہاز میں سوار ہوئی تھی اس نے اپنی بیٹی اور داماد سے ملنے شہر جانا تھا جہاز میں میرے برابر والی سیٹ اسے مل گئی،جہاز کا عملہ کھانا لیکر آ گیا اس نے پہلی بار ایسا کھانا دیکھا تھا وہ مخصوص ٹشو کی پیکٹ کھول کر چبانے لگ گئی لیکن اسے جلد احساس ہوا کہ کچھ غلط ہوگیا وہ شرمندہ ہو کر کن آنکھوں سے میری طرف دیکھ رہی تھی میں ان پر یہ ظاہر کر رہا تھا کہ گویا میں نے کچھ نہیں دیکھا پھر چند سیکنڈ کے بعد میں نے بھی ٹشو کا پیکٹ کھولا اور منہ میں ڈالا وہ زور زور سے ہنس پڑی اور مجھے روکنے لگی میں نے ان سے کہا کہ ماں جی آپ کو پتا تھا تو مجھے پہلے کیوں نہیں بتا دیا وہ ہنستے ہوئے بولی بیٹا میں بھی نے بھی اسے کھانے والی کوئی شے سمجھ کر منہ میں ڈال دیا تھا،حالانکہ وہ جانتا تھا کہ یہ ٹشو ہے،وہ جانتا تھا چند گھنٹے بعد یہ سفر ختم ہوگا وہ جانتا تھا کہ یہ عمر رسیدہ خاتون ان کی کچھ نہیں لگتی ہے لیکن پھر بھی اس جوان نے اس مختصر سفر میں بزرگ خاتون کی شرمندگی مٹا دی،ان کے سفر کو خوشگوار بنا دیا،بے غرض ہو کر لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنا بہت خوبصورت احساس اور بہترین نیکی ہے۔

*یہ تحریر ضرور پڑھیں, ایسی تحاریر بہت کم ملتی ہیں*خلیفہ عبدالملک بن مروان بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا- اس کی نظر ایک نوج...
18/01/2021

*یہ تحریر ضرور پڑھیں, ایسی تحاریر بہت کم ملتی ہیں*

خلیفہ عبدالملک بن مروان بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا- اس کی نظر ایک نوجوان پر پڑی- جس کا چہرہ بہت پُر وقار تھا- مگر وہ لباس سے مسکین لگ رہا تھا-
خلیفہ عبدالملک نے پوچھا کہ یہ نوجوان کون ہے؟ تو اسے بتایا گیا کہ اس نوجوان کا نام سالم ہے اور یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیٹا اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا پوتا ہے۔
خلیفہ عبدالملک کو دھچکا لگا۔ اور اُس نے اِس نوجوان کو بلا بھیجا-
خلیفہ عبدالملک نے پوچھا کہ بیٹا میں تمہارے دادا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بڑا مداح ہوں۔ مجھے تمہاری یہ حالت دیکھ کر بڑا دکھ ہوا ہے۔ مجھے خوشی ہو گی اگر میں تمھارے کچھ کام آ سکوں۔ تم اپنی ضرورت بیان کرو۔ جو مانگو گے تمہیں دیا جائے گا-

نوجوان نےجواب دیا، اے امیر المومنین! میں اس وقت اللہ کے گھر بیتُ اللّٰہ میں ہوں اور مجھے شرم آتی ہے کہ اللہ کے گھر میں بیٹھ کر کسی اور سے کچھ مانگوں۔

خلیفہ عبدالملک نے اس کے پُرمتانت چہرے پر نظر دوڑائی اور خاموش ہو گیا۔
خلیفہ نے اپنے غلام سے کہا کہ یہ نوجوان جیسے ہی عبادت سے فارغ ہو کر بیتُ اللّٰہ سے باہر آئے، اسے میرے پاس لے کر آنا-

سالم بن عبداللہؓ بن عمرؓ جیسے ہی فارغ ہو کر حرمِ کعبہ سے باہر نکلے تو غلام نے اُن سے کہا کہ امیر المؤمنین نے آپکو یاد کیا ہے۔
سالم بن عبداللہؓ خلیفہ کے پاس پہنچے۔

خلیفہ عبدالملک نے کہا، نوجوان! اب تو تم بیتُ اللّٰہ میں نہیں ہو، اب اپنی حاجت بیان کرو۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں تمہاری کچھ مدد کروں۔
سالم بن عبداللہؓ نےکہا، اے امیرالمؤمنین! آپ میری کونسی ضرورت پوری کر سکتے ہیں؟ دنیاوی یا آخرت کی؟
امیرالمؤمنین نےجواب دیا، کہ میری دسترس میں تو دنیاوی مال و متاع ہی ہے۔
سالم بن عبداللہؓ نے جواب دیا کہ اے امیر المؤمنین! دنیا تو میں نے کبھی اللّٰہ سے بھی نہیں مانگی، جو اس دنیا کا مالکِ کُل ہے۔ آپ سے کیا مانگوں گا؟ میری ضرورت اور پریشانی تو صرف آخرت کے حوالے سے ہے۔ اگر اس سلسلے میں آپ میری کچھ مدد کر سکتے ہیں تو میں بیان کرتا ہوں۔

خلیفہ حیران و ششدر ہو کر رہ گیا-
اور کہنے لگا کہ نوجوان یہ تُو نہیں، تیرا خون بول رہا ہے۔

خلیفہ عبدالملک کو حیران اور ششدر چھوڑ کر سالم بن عبداللہؓ وہاں سے نکلے اور حرم سے ملحقہ گلی میں داخل ہوئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے۔

یوں ایک نوجوان حاکمِ وقت کو آخرت کی تیاری کا بہت اچھا سبق دے گیا۔

*کیا آپ سب نے بھی آخرت کے بارے میں کچھ سوچا? نہیں سوچا تو اللہ کے واسطے ابھی اسی لمحہ سے سوچیں, کیا پتہ اگلا لمحہ ہمیں نصیب ہو یا نہ ہو*

*نوٹ:* اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیے تاکہ اللہ کسی کی زندگی کو آپ کے ذریعے بدل کر بہتر کر دے.

*=== میاں بیوی کے باہمی حقوق ===*انسان جس معاشرہ میں رہتا ہے، اس میں اس کے ذمہ رہن سہن کے آداب کی بجا آوری لازم ہے، یہی ...
18/01/2021

*=== میاں بیوی کے باہمی حقوق ===*

انسان جس معاشرہ میں رہتا ہے، اس میں اس کے ذمہ رہن سہن کے آداب کی بجا آوری لازم ہے،

یہی ہمارے دین کے معاشرتی زندگی کا حصہ ہے، اور پھر زوجین کے حقوق کی ادائیگی سے تو زندگی کی گاڑی کا پہیا چلتا ہے، اسی مناسبت سے چند شرعی احکام پیش خدمت ہیں۔ (✍ :

*چند اہم ارشادات نبویہ*
میاں بیوی کا تعلق انتہائی اہم اور نازک نوعیت کا حامل ہے، یہ ایک دیرپا اور تحمل و برداشت کا متقاضی عقد ہے، ایک شخص جب عورت کو اپنے نکاح میں لیتا ہے تو وہ تاحیات اس کے ساتھ رہنے کا عزم کرتا ہے

اسی لئے شریعت میں ایسا نکاح جو ہمیشگی کے لئے نہ ہو بلکہ ایک مخصوص مدت تک کے لئے عقد کیا جائے تو یہ نکاح ہی نہیں بلکہ حرام کاری اور زنا کے حکم میں ہے، ہر مسلمان کے کچھ حقوق ہوتے ہیں، لہذاجب نکاح کا معاملہ اتنی اہمیت اور توجہ کا حامل ہے تو اس کے حقوق بھی اتنے ہی اہم ہیں۔

1- آپ ﷺ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا :
*خيركم خيركم لأهله وأنا خيركم لأهلي وإذا مات صاحبكم فدعوه* (مشکوۃ ۲۸۱/۲)
تم میں بہتر وہ شخص ہے جو اپنے اہل کے لئے بہتر ہو اور میں اپنے اہل کے لئے سب سے بہتر ہوں اور جب تم میں سے ایک مرجائے تو اس کو چھوڑ دو (اوراس کا صرف ذکر خیر کرو)

اسی طرح بے شمار احادیث میں حضور اکرم ﷺ نے میاں بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق بیان فرمائے ہیں۔

2- ایک حدیث میں ارشاد نبوی ہے :
*قيل لرسول الله صلى الله عليه وسلم : أي النساء خير ؟ قال : التي تسره إذا نظر وتطيعه إذا أمر ولا تخالفه في نفسها ولا مالها بما يكره*

آپ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ بہترین عورت کونسی ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جسے اس کا شوہر دیکھے تو خوش ہو جائے اور جب وہ اسے کسی چیز کا حکم دے تو اسے بجا لائے اور اس کے مال اور اپنی ذات کے اعتبار سےکوئی ایسا فعل نہ کرے جو اسے (شوہر کو) نا پسند گزرے۔ (مشکوۃ ۲/ ۲۸۳)

3- ایک اور حدیث میں ہے :
*قیل يا رسول الله ما حق زوجة أحدنا عليه؟ قال: أن تطعمها إذا طعمت و تكسوها إذا اكتسيت ولا تضرب الوجه ولا تقبح ولا تهجر إلا في البيت۔ رواه أحمد وأبو داود*

حضور اکرم ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ ہماری بیویوں کے ہم پر کیا حقوق ہیں؟ آپ ﷺ نے جواب مرحمت فرمایا کہ جب تم کھاؤ تو انہیں کھلاؤ جب تم پہنو تو انہیں پہناؤ اور چہرے پر نہ مارو،

بے شک
18/01/2021

بے شک

صبح بخیر
18/01/2021

صبح بخیر

*قرآن مجید کو ترجمے کے ساتھ پڑھنے  سے آپ پہ وہ سارے جھوٹ عیاں ہونگے جو دین کے نام پہ بولے جاتے ھیں*
17/01/2021

*قرآن مجید کو ترجمے کے ساتھ پڑھنے سے آپ پہ وہ سارے جھوٹ عیاں ہونگے جو دین کے نام پہ بولے جاتے ھیں*

قدرت جب بھی ہمیں کوئی نصیحت کرتی ہے......" جب بھی کوئی بات ہمیں بتائی جاتی ہے......جب بھی ہمیں کوئی واقعہ دیکھایا جاتا ہ...
17/01/2021

قدرت جب بھی ہمیں کوئی نصیحت کرتی ہے......"
جب بھی کوئی بات ہمیں بتائی جاتی ہے......
جب بھی ہمیں کوئی واقعہ دیکھایا جاتا ہے....
جب ہم کوئی اچھا سبق آموز پیغام سنتے ہیں....
تحریر پڑھتے ہیں۔۔۔
ہم اس کو لوکوں کے ساتھ شیئر کرنا چاہتے ہیں......
ہم سمجھتے ہیں کہ شاید یہ لوگوں کے لیے تھی......
ہم انہیں دیکھانا چاہتے ہیں کہ یہ پڑھو.....
ہم اسے فیس بُک اور واٹس ایپ پر لگاتے ہیں.....
لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ یہ ہمارے لیے تھی.......
ہم خود سے نہیں پوچھتے یہ ہماری ہی زندگی میں اس وقت کیوں آئی.......
ہم اسکو لوگوں کے لیے چھوڑ دیتے ہیں
ہم اس سے خود سبق حاصل کرنا بھول جاتے ہیں
ہم آگے بھیج کر اپنے فرض کی ادائیگی مکمل سمجھ لیتے ہیں اور پھر ہماری زندگی دھری کی دھری رہ جاتی ہے.......
زندگی بدلنے کے لیے ایک لائن ہی کافی ہے

*✪ ہم شکر کیوں نہیــــں کرتے...؟* *ہم میں سے بہت سے لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ اپنی زندگی کو دوسروں کی زندگی سے " ᶜᵒᵐᵖᵃʳᵉ ...
17/01/2021

*✪ ہم شکر کیوں نہیــــں کرتے...؟*

*ہم میں سے بہت سے لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ اپنی زندگی کو دوسروں کی زندگی سے " ᶜᵒᵐᵖᵃʳᵉ " کرتے رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے جو نعمتیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کی ہوتی ہیں ہم وہ دیکھ ہی نہیں پاتے....!!!*

*یقین کریں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہر انسان کو بہت سی نعمتیں عطا کی ہوتی ہیں ۔ کوئی بھی انسان نعمتوں سے محروم نہیں ہوتا....!!!*

*مسئلہ یہ ہے کہ جو نعمتیں ہمارے حصے میں ہوتی ہیں ہم انہیں " ⁱᵍⁿᵒʳᵉ " کر کے وہ چاہ رہے ہوتے ہیں جو دوسروں کے پاس ہوتی ہیں۔ یہ رویہ بہت غلط ہے ۔ اس رویے کے ساتھ آپ کبھی خوش نہیں رہ سکتے۔ اپنی ˡⁱᶠᵉ کو " ᶜᵒᵐᵖᵃʳᵉ " کرنا چھوڑئیے اور جو نعمتیں آپ کے پاس موجود ہیں ان کا شکر ادا کیجیئے۔۔۔۔!!!*♥️

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Desperated Soul posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share