27/11/2025
🕌 جنات کا قرآن سننا اور ایمان لانا
یہ واقعہ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے ابتدائی دور سے تعلق رکھتا ہے۔
واقعہ کا پس منظر
ایک وقت تھا جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے قریب نخلہ یا کسی اور مقام پر چند صحابہ کے ساتھ فجر کی نماز ادا کر رہے تھے۔ اس وقت کفار کے شدید مخالفت کی وجہ سے آسمانی خبریں (جنات کی طرف سے جاسوسی) کے راستے بند کر دیے گئے تھے۔
جنات کا ایک گروہ جو حقیقت کی تلاش میں تھا، سفر کرتے ہوئے اس جگہ کے قریب سے گزرا جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں قرآن مجید کی تلاوت فرما رہے تھ.
جنوں نے جب تلاوت سنی تو وہ رک گئے اور انہوں نے ایک دوسرے سے کہا:
”غور سے سنو! یہ وہی چیز ہے جس کی وجہ سے تم پر آسمانی خبروں کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔“
قرآن سے متاثر ہونا
جنوں کا یہ گروہ قرآن کے فصیح و بلیغ کلام، اس کے پیغام اور اس میں بیان کردہ عقائد سے شدید متاثر ہوا اور اس پر ایمان لے آیا۔
قرآن مجید میں اس واقعہ کا ذکر خود جنات کی زبانی اس طرح کیا گیا ہے:
"کہہ دو کہ میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے (قرآن) سنا، تو کہا کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا۔ جو نیکی کی راہ بتاتا ہے تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اور ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔" (سورۃ الجن، آیات 1-2)
واپسی اور دعوت
ایمان لانے کے بعد، یہ جنات کا گروہ واپس اپنی قوم کی طرف لوٹا اور انہیں اسلام کی دعوت دی، انہیں اللہ پر ایمان لانے، توحید کو اپنانے اور شرک سے بچنے کی تلقین کی.