Fegget

Fegget Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Fegget, Lahore.

​Curator (of knowledge/collections)
​Guide (for research/information)
​Archivist (of history/records)
​Educator (of literacy/research skills)
​Organizer (of materials/systems)
​Information (specialist/manager)
​Short Phrases
​Manage collections
​Guide res

🕌 جنات کا قرآن سننا اور ایمان لانا​یہ واقعہ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے ابتدائی دور سے ت...
27/11/2025

🕌 جنات کا قرآن سننا اور ایمان لانا
​یہ واقعہ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے ابتدائی دور سے تعلق رکھتا ہے۔
​واقعہ کا پس منظر
​ایک وقت تھا جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے قریب نخلہ یا کسی اور مقام پر چند صحابہ کے ساتھ فجر کی نماز ادا کر رہے تھے۔ اس وقت کفار کے شدید مخالفت کی وجہ سے آسمانی خبریں (جنات کی طرف سے جاسوسی) کے راستے بند کر دیے گئے تھے۔
​جنات کا ایک گروہ جو حقیقت کی تلاش میں تھا، سفر کرتے ہوئے اس جگہ کے قریب سے گزرا جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں قرآن مجید کی تلاوت فرما رہے تھ.
​جنوں نے جب تلاوت سنی تو وہ رک گئے اور انہوں نے ایک دوسرے سے کہا:
​”غور سے سنو! یہ وہی چیز ہے جس کی وجہ سے تم پر آسمانی خبروں کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔“
​قرآن سے متاثر ہونا
​جنوں کا یہ گروہ قرآن کے فصیح و بلیغ کلام، اس کے پیغام اور اس میں بیان کردہ عقائد سے شدید متاثر ہوا اور اس پر ایمان لے آیا۔
​قرآن مجید میں اس واقعہ کا ذکر خود جنات کی زبانی اس طرح کیا گیا ہے:
​"کہہ دو کہ میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے (قرآن) سنا، تو کہا کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا۔ جو نیکی کی راہ بتاتا ہے تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اور ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔" (سورۃ الجن، آیات 1-2)
​واپسی اور دعوت
​ایمان لانے کے بعد، یہ جنات کا گروہ واپس اپنی قوم کی طرف لوٹا اور انہیں اسلام کی دعوت دی، انہیں اللہ پر ایمان لانے، توحید کو اپنانے اور شرک سے بچنے کی تلقین کی.

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Adnan Khalid, Muhammad Aslam, Nasir Qasai
27/11/2025

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Adnan Khalid, Muhammad Aslam, Nasir Qasai

24/11/2025

🐍 سانپ کا مسئلہ اور امیر المؤمنین کا فیصلہ
​یہ واقعہ بھی حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کے دورِ خلافت کا ہے جب ان کی عدالت میں ایک بہت ہی عجیب و غریب مقدمہ پیش ہوا۔
​مقدمے کی نوعیت
​دو بھائی ایک مشترکہ زمین کے مالک تھے۔ اچانک ان کے درمیان ایک تنازع کھڑا ہو گیا:
​ایک بھائی نے دعویٰ کیا کہ اس نے زمین کے ایک حصے پر کھیتی باڑی کی تھی اور جو فصل تیار ہوئی ہے وہ اس کی ملکیت ہے۔
​دوسرے بھائی نے دعویٰ کیا کہ زمین مشترکہ ہے اور اس کے حصے کی فصل اسے ملنی چاہیے۔
​دونوں بھائیوں نے اپنے دلائل دیے، مگر حضرت علی (رضی اللہ عنہ) نے محسوس کیا کہ دونوں ہی سچے ہیں اور معاملہ صرف ایک مشترکہ زمین اور فصل کی تقسیم کا نہیں ہے۔
​زمین سے سانپ کا برآمد ہونا
​حضرت علی (رضی اللہ عنہ) نے دونوں بھائیوں سے کہا کہ وہ انہیں جائے وقوعہ (زمین) پر لے چلیں۔ جب آپ وہاں پہنچے، تو آپ نے اس جگہ کو غور سے دیکھا جہاں یہ فصل اگائی گئی تھی۔
​آپ نے حکم دیا کہ اس زمین کو کھودا جائے۔ جب لوگوں نے زمین کھودنا شروع کی تو وہاں سے ایک بہت بڑا خزانہ برآمد ہوا، جو سونے اور چاندی سے بھرا ہوا تھا۔
​اس خزانے کے درمیان ایک سانپ بھی بیٹھا ہوا تھا جو شاید اس کی حفاظت کر رہا تھا۔
​امیر المؤمنین کا حکیمانہ فیصلہ
​خزانہ دیکھ کر دونوں بھائی بہت خوش ہوئے۔ لیکن حضرت علی (رضی اللہ عنہ) نے انہیں مخاطب کیا اور فرمایا:
​"یہ زمین دراصل کسی سابقہ بادشاہ یا دولت مند کی تھی، جس نے اپنا مال زمین میں چھپا دیا تھا۔ جو سانپ تم نے دیکھا، وہ اس کی مثال ہے کہ یہ مال تم دونوں بھائیوں کے لیے زہر کی طرح ہے۔ اگر تم اسے اپنے درمیان تقسیم کر لیتے تو یہ تم دونوں کی دنیا اور آخرت تباہ کر دیتا۔ اسی لیے یہ تنازعہ پیدا ہوا تاکہ یہ راز فاش ہو جائے۔"
​پھر حضرت علی (رضی اللہ عنہ) نے یہ فیصلہ سنایا:
​پہلا حصہ: اس خزانے کو بیت المال (سرکاری خزانے) میں جمع کیا جائے تاکہ یہ مسلمانوں کی فلاح و بہبود پر خرچ ہو سکے۔
​دوسرا حصہ: دونوں بھائیوں کو زمین کی فصل پر کوئی تنازع نہیں کرنا چاہیے، اور وہ زمین کو آپس میں عدل کے ساتھ تقسیم کر لیں۔
​اس فیصلے سے دونوں بھائیوں کو اپنے تنازع کی وجہ سمجھ میں آ گئی اور وہ شرمندہ ہو کر آپس میں صلح کر لی۔
​یہ واقعہ حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کی نہ صرف غیر معمولی ذہانت اور بصیرت کا ثبوت ہے، بلکہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ کسی بھی مسئلے کی اصل جڑ تک پہنچنے کی کوشش کرتے تھے تاکہ بہترین اور سب سے زیادہ عادلانہ فیصلہ کیا جا سکے.

بسم اللہ الرحمن الرحیمنبی کریم ﷺ نے فرمایاجب انسان مر جاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں سوائے تین چیزوں کے صدقۂ جا...
23/11/2025

بسم اللہ الرحمن الرحیم
نبی کریم ﷺ نے فرمایا
جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں سوائے تین چیزوں کے صدقۂ جاریہ وہ علم جس سے فائدہ اُٹھایا جائے یا نیک اولاد جو اُس کے لیے دعا کرے۔
(صحیح مسلم)

🌙 ایک رات کا عدل: حضرت عمر فاروقؓ کا واقعہ​مدینہ کی ریاست میں، امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے عدل اور رع...
22/11/2025

🌙 ایک رات کا عدل: حضرت عمر فاروقؓ کا واقعہ
​مدینہ کی ریاست میں، امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے عدل اور رعایا پروری کے لیے مشہور تھے۔ وہ راتوں کو بھیس بدل کر گشت کیا کرتے تھے تاکہ براہِ راست لوگوں کے حالات جان سکیں۔
​ایک سرد رات، جب وہ گشت پر تھے، تو انہیں مدینہ کی حدود سے باہر ایک خیمہ نظر آیا۔ خیمے سے کسی عورت کے درد سے کراہنے کی آواز آ رہی تھی اور ایک بدو (دیہاتی آدمی) پریشانی کے عالم میں خیمے کے باہر بیٹھا آگ جلا رہا تھا۔
​حضرت عمرؓ نے قریب جا کر سلام کیا اور بدو سے پوچھا کہ خیمے کے اندر کیا معاملہ ہے؟ بدو نے بتایا:
"اللہ کے بندے! میری بیوی ولادت کی تکلیف میں ہے اور میں مسافر ہوں۔ مدینہ پہنچنا چاہتا تھا لیکن رات ہو گئی، اس لیے یہاں ٹھہر گیا۔ کوئی مدد کرنے والا نہیں۔"
​یہ سن کر حضرت عمرؓ فوراً واپس مدینہ لوٹے اور اپنی زوجہ محترمہ، حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا (حضرت علیؓ کی بیٹی) کے پاس گئے۔ آپؓ نے فرمایا: "اے ام کلثوم! کیا تم ثواب کمانا پسند کرو گی؟"
​انہوں نے فوراً جواب دیا: "جی امیر المؤمنین، کیوں نہیں!"
​حضرت عمرؓ نے ان سے آٹا، گھی اور کچھ ضروری سامان لیا اور ساتھ ہی انہیں ولادت میں مدد کے لیے تیار ہونے کو کہا۔
​حضرت عمرؓ سامان لے کر بدو کے خیمے کے پاس پہنچے اور آگ پر کھانا بنانے لگے۔ حضرت ام کلثومؓ خیمے کے اندر گئیں اور کچھ دیر بعد ایک بچے کی پیدائش کی خوشخبری لے کر باہر آئیں۔
​بدو یہ سب دیکھ کر حیران تھا کہ یہ سخی اور مہربان اجنبی کون ہے۔ جب کھانا تیار ہو گیا اور عورت کی حالت کچھ سنبھلی، تو حضرت ام کلثومؓ خیمے سے باہر آئیں اور بدو سے کہا:
​"اے اللہ کے بندے! امیر المؤمنین کو مبارکباد دو۔ تمہارے گھر میں بیٹا ہوا ہے، اور یہ شخص جس نے کھانا بنایا ہے، وہ امیر المؤمنین عمر بن خطاب ہیں!"
​یہ سن کر بدو پر لرزہ طاری ہو گیا اور وہ تعظیم میں پیچھے ہٹنے لگا۔ حضرت عمرؓ نے اسے تسلی دی اور فرمایا: "گھبراؤ نہیں۔ اپنا سامان اٹھاؤ اور صبح میرے پاس آنا تاکہ میں تمہارے لیے کچھ انتظام کر سکوں۔"
​یہ حضرت عمرؓ کا وہ عدل اور جذبۂ خدمت تھا جس نے انہیں نہ صرف ایک عظیم حکمران بلکہ تاریخ کا ایک بے مثال خادمِ انسانیت بنا دیا۔
​کیا آپ حضرت عمرؓ کے عدل یا کسی اور تاریخی واقعہ کے بارے میں مزید جاننا پسند کریں گے؟

22/11/2025

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fegget posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share