26/01/2026
یہ واقعہ میں نے کسی کتاب میں نہیں پڑھا، بلکہ ایک بس اسٹاپ پر اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ مغرب میں اسے اسٹوئسزم کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اسٹوئسزم یونانی فلسفہ ہے، جو یہ سکھاتا ہے کہ زندگی میں جو چیز تمہارے اختیار میں نہیں، اُس پر رونا فضول ہے، اور جو تمہارے اختیار میں ہے، اُس پر کام نہ کرنا جرم۔
خیر، پہلے کہانی سن لیں، فلسفے کو بعد میں کوسیں گے۔ بارشوں کا سیزن تھا اور اس دن بھی موسلا دھار بارش ہو رہی تھی۔ سڑک پر پانی، آسمان سے پانی، اور لوگوں کے چہروں پر سوال کہ یہ آفت کب تھمے گی؟ بس اسٹاپ پر جہاں سبھی بارش کو لے کر پریشان تھے وہاں ایک بندہ اتنی بارش سے بظاہر بے نیاز کھڑا تھا، ہاتھ میں ٹفن، پاؤں میں پلاسٹک کی چپل، اور سر پر… کچھ بھی نہیں۔ بارش اسے دھو رہی تھی جیسے کپڑے دھوتی ہے۔
قریب کھڑے ایک صاحب سے رہا نہ گیا، بولے۔۔۔ باؤ، بارش ہو رہی ہے، چھتری لے لیا کریں، بیمار ہو جائیں گے۔
باؤ نے بے نیازی سے نظریں اٹھائیں، مسکرایا اور بولا۔۔ بارش میرے اختیار میں نہیں، لیکن بھیگنا ہے۔۔ تو بھیگ لوں۔ بیمار ہونا ہوا تو دیکھ لیں گے۔
اسی بات پر ساتھ کھڑا ایک نوجوان جس کے ایک ہاتھ میں چھتری، کان میں ایئر پوڈ، دوسرے ہاتھ میں موبائل اور چہرے پر شرارت تھی، بولا بابے نو آخر آئ اے ہورے کیڑی سلاجیت کھادی اے، اور بڑبڑاتے ہوئے وہ چل پڑا۔ لیکن جلد بازی میں اچانک اس کی چھتری سٹاپ کے شیڈ میں اٹکی، اس کا بیلنس بگڑا، پاؤں پھسلا اور دھڑام سے پانی میں گرا۔ ایک ساتھ کئی ہاتھ آگے بڑھے، اسے اٹھایا۔ بابو جی اب ہنس رہے تھے۔ نوجوان جھنجھلا گیا۔
بابو نے کہا تمہارے اختیار میں چھتری تھی، مگر تم نے اسے سنبھالا نہیں اور اب تم بھی بھیگ گئے۔
اب ذرا رکیں۔ یہی وہ پوائنٹ ہے جہاں اسٹوئسزم چپکے سے داخل ہوتا ہے، بغیر جوتے اتارے۔ اسٹوئسزم کہتا ہے زندگی دو حصوں میں بٹی ہے۔
ایک وہ جو تم کنٹرول کر سکتے ہو۔
اور دوسری وہ جو تمہیں کنٹرول کرتی ہے۔
بارش، بیماری، موت، موسم، لوگ، ماضی، معیشت، دوسروں کی رائے یہ سب دوسرے خانے میں آتے ہیں۔
لیکن سوچ، ارادہ، فیصلہ، عمل، برداشت، ردِعمل، تیاری، نظم یہ سب پہلے خانے میں ہوتے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہم الٹا کھیل کھیلتے ہیں۔ جو ہمارے بس میں نہیں، اُس پر واویلا کرتے ہیں اور جو ہمارے بس میں ہے، اُس سے غفلت برتنے میں ہوشیاری۔ لیکن یہاں ایک مسئلہ ہے اور یہی وہ جگہ ہے جہاں ہر فلسفہ تھوڑا سا جھوٹ بولتا ہے۔
اسٹوئسزم بھی اکثر اُن لوگوں کو اچھا لگتا ہے جن کے پاس بیک اپ ہوتا ہے۔ جن کے پاس اگر آج بھیگ گئے تو کل سوکھنے کا انتظام موجود ہے۔ جن کی بیماری بھی “روٹین چیک اپ” کہلاتی ہے۔ جبکہ غریب آدمی اگر اسٹوئک ہو جائے تو اسے بے حس کہا جاتا ہے اور امیر اگر یہی کرے تو مچور کہلاتا ہے۔
اصل زندگی میں نہ کوئی مکمل اسٹوئک ہوتا ہے، نہ مکمل جذباتی۔ ہم سب تھوڑے تھوڑے کنفیوشس، تھوڑے تھوڑے تاؤ، اور باقی پورے پاکستانی ہوتے ہیں یعنی “دیکھیں گے” پر گزارا کرنے والے۔ سچ پوچھیں تو حقیقت بھی یہی ہے کہ نہ ہر بار بارش میں بھیگنا دانشمندی ہے، اور نہ ہر بار چھتری لے کر نکلنا ممکن۔ عقل مندی شاید یہ ہے کہ یہ پہچان لی جائے کہ کہاں تقدیر ہے اور کہاں اپنی سستی کو ہم فلسفہ بنا رہے ہیں۔
بندہ عموماً یہ نہیں پوچھتا کہ “میرے اختیار میں کیا ہے؟” وہ سیدھا یہ پوچھتا ہے “میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے؟” اور یہی سوال اسے زندگی بھر بس اسٹاپ پر کھڑا رکھتا ہے۔
بقول شاعر
متاعِ لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے
کہ خونِ دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے
بات اتنی سی ہے، بارش کو گالی نہ دو
اپنی چھتری کو سنبھالو۔
Shahid Syed