12/04/2026
وکالت کا گرتا ہوا معیار: تہذیب و رواداری سے سیاسی وفاداریوں تک کا سفر
تحریر: میاں محمد مظفر (سینٸر ایڈووکیٹ)
کالج آف لاء سے نکل کر جب ایک نوجوان وکیل بار روم کی دہلیز پر قدم رکھتا تھا، تو اسے وہاں صرف قانون کی کتابیں نہیں بلکہ اعلیٰ اخلاقی اقدار، باہمی احترام اور ایک ایسا خاندان ملتا تھا جہاں سینئر کی شفقت اور جونیئر کا ادب اس پیشے کی روح ہوا کرتا تھا۔ وہ دور شرافت اور علم کا دور تھا، جہاں اختلافِ رائے کے باوجود وکلا ایک دوسرے کے وقار پر آنچ نہیں آنے دیتے تھے۔ لیکن آج کی صورتحال اس کے بالکل برعکس نظر آتی ہے۔ ماضی میں بار کا ماحول ایک علمی درسگاہ جیسا تھا۔ وکلا کے درمیان پیشہ ورانہ چشمک ضرور ہوتی تھی، مگر عدالت سے باہر وہ ایک دوسرے کے بہترین دوست اور ہمدرد ہوتے تھے۔ "بار" محض ایک جگہ کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ایسی اکائی تھی جہاں اتحاد اور اتفاق کی مثالیں دی جاتی تھیں۔ اس دور میں وکالت کا مقصد مظلوم کی دادرسی اور انصاف کا حصول تھا، نہ کہ ذاتی مفادات کی جنگ۔ بدقسمتی سے وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس معزز پیشے میں ایسے عناصر داخل ہو گئے جن کا مقصد وکالت نہیں بلکہ "ایجنٹ" کا کردار ادا کرنا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کالے کوٹ کو اپنے سیاسی آقاوں کی خوشامد کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ ان لوگوں کا کام عدالتوں میں عوام کی وکالت کرنا نہیں بلکہ سیاستدانوں کی دہلیز پر جا کر مفادات سمیٹنا ہے۔ جب ایک وکیل اپنے پیشہ ورانہ ضمیر کو کسی سیاسی مفاد کے عوض بیچ دیتا ہے تو وہ صرف اپنا نقصان نہیں کرتا بلکہ پوری وکلا برادری کے سر کو شرم سے جھکا دیتا ہے۔ آج کے دور میں سوشل میڈیا جہاں معلومات کا ذریعہ ہے، وہیں ان مفاد پرست عناصر کے لیے ایک ہتھیار بن چکا ہے۔ اپنے سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کی خاطر یہ لوگ سوشل میڈیا پر اخلاق بافتہ گفتگو، مغلظات اور دشنام طرازی سے گریز نہیں کرتے۔ ان کا مقصد تعمیری بحث نہیں بلکہ معاشرے اور برادری میں انتشار پھیلانا ہوتا ہے۔ نفاق پیدا کرنا شیطان کا کام ہے، اور جو لوگ انسانی شکل میں بھائی کو بھائی سے لڑواتے ہیں، وہ درحقیقت اسی شیطانی ایجنڈے کی پیروی کر رہے ہیں۔ اس ٹاؤٹ ازم اور سیاسی چاپلوسی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ وکلا برادری کا وہ تاریخی اتحاد پارہ پارہ ہو چکا ہے جس کی بنیاد پر بڑی بڑی تحریکیں کامیاب ہوئیں۔ جب وکیل کا مقصد انصاف کے بجائے اپنے سیاسی گروہ کی برتری بن جائے، تو برادری میں نفاق پیدا ہونا فطری عمل ہے۔ یہ تقسیم نہ صرف وکلا کی طاقت کو کمزور کر رہی ہے بلکہ عام آدمی کا اعتماد بھی اس معزز پیشے سے اٹھتا جا رہا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ بار کا وہی پرانا پرسکون اور باعزت ماحول واپس آئے، تو ہمیں اپنے اندر موجود ان "کالی بھیڑوں" کا محاسبہ کرنا ہو گا۔ وکالت انصاف کا امین پیشہ ہے، اسے سیاست کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں سیاستدانوں کی چاپلوسی کے بجائے آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے ایک ہونا ہوگا۔ آج ہمیں پھر سے اس عہد کی ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے کا احترام کریں گے، سیاسی وابستگیوں کو بار کے تقدس پر حاوی نہیں ہونے دیں گے اور ان عناصر کا بائیکاٹ کریں گے جو نفاق کا بیج بو کر اپنی دکانیں چمکاتے نظر آتے ہیں۔