23/09/2026
ایک طرف کراچی کی بلند و بالا عمارتیں ۔۔ شیشے، فولاد اور کنکریٹ ۔۔
دوسری طرف بانس، مٹی اور چونے سے بنا ایک چھوٹا سا گھر ۔۔
دونوں کے نقشے ایک ہی عورت نے بنائے ۔۔ مگر ان دونوں کے درمیان ایک زلزلہ کھڑا تھا ۔۔ جس نے اس عورت کی کامیابی کا مطلب بدل دیا۔
نام ہے ۔۔ یاسمین لاری۔
یاسمین لاری پاکستان کی پہلی خاتون آرکیٹیکٹ بنیں۔ برطانیہ سے تعلیم حاصل کرکے واپس آئیں اور 1964 میں کراچی میں اپنا کام شروع کیا۔
یہ وہ دور تھا جب پاکستان میں آرکیٹیکٹ ہی بہت کم تھے ۔۔ اور کسی عورت کا اس شعبے میں اپنی جگہ بنانا اس سے بھی زیادہ غیرمعمولی بات تھی۔
آنے والے برسوں میں انہوں نے کراچی کی کئی نمایاں عمارتیں ڈیزائن کیں ۔۔ فنانس اینڈ ٹریڈ سینٹر، پاکستان اسٹیٹ آئل ہاؤس اور دیگر بڑے تجارتی منصوبے ان کے کیریئر کا حصہ بنے۔
نام تھا ۔۔ پہچان تھی ۔۔ کامیابی تھی ۔۔
پھر سال 2000 میں انہوں نے باقاعدہ architectural practice سے ریٹائرمنٹ لے لی۔
کہانی یہاں ختم ہوسکتی تھی۔
ایک کامیاب خاتون آرکیٹیکٹ ۔۔ بڑے منصوبے ۔۔ عالمی شناخت ۔۔ اور پُرسکون ریٹائرمنٹ۔
لیکن 8 اکتوبر 2005 کو شمالی پاکستان کی زمین ہل گئی۔
تباہ کن زلزلے میں تقریباً 80 ہزار انسان جان سے گئے اور لاکھوں افراد بےگھر ہوگئے۔ پہاڑوں میں گھر ملبے کا ڈھیر بن گئے ۔۔ سردی بڑھ رہی تھی اور خاندان کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے تھے۔
یاسمین لاری اپنی ریٹائرمنٹ چھوڑ کر متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئیں۔
وہاں انہیں اندازہ ہوا کہ جن لوگوں کے پاس اپنا گھر دوبارہ تعمیر کرنے کے وسائل نہیں ۔۔ انہیں کسی بڑے آرکیٹیکٹ کا شاہکار نہیں چاہیے۔
انہیں ایک ایسی چھت چاہیے جسے وہ مقامی سامان سے خود بنا سکیں ۔۔ جو کم خرچ ہو ۔۔ زلزلے اور سیلاب کا مقابلہ کرسکے ۔۔ اور جس کے لیے انہیں ہمیشہ کسی خیراتی ادارے کا محتاج نہ رہنا پڑے۔
چنانچہ یاسمین لاری نے کنکریٹ اور فولاد سے نظریں ہٹا کر بانس، مٹی اور چونے کو دیکھا۔
وہ مواد جو دیہات میں پہلے سے موجود تھا ۔۔ جو مقامی لوگ جانتے تھے ۔۔ اور جسے استعمال کرنے کے لیے مہنگی مشینوں اور بڑی کمپنیوں کی ضرورت نہیں تھی۔
انہوں نے صرف گھر بنا کر نہیں دیے ۔۔ لوگوں کو اپنے گھر خود بنانا سکھایا۔
خواتین کو تعمیر، محفوظ چولہے بنانے اور مقامی ہنر سے روزگار پیدا کرنے کی تربیت دی گئی۔ یوں مدد لینے والے لوگ منصوبے کے تماشائی نہیں رہے ۔۔ اپنے مستقبل کے معمار بن گئے۔
یاسمین لاری نے اس طریقے کو “Barefoot Social Architecture” کا نام دیا۔
ان کی قائم کردہ ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے مطابق 2005 کے بعد بانس، مٹی اور چونے سے تقریباً 40 ہزار ماحول دوست پناہ گاہیں تیار کی گئیں۔
پھر 2022 کے تباہ کن سیلاب آئے ۔۔ اور یاسمین لاری ایک مرتبہ پھر میدان میں تھیں۔
اس بار انہوں نے بلند پلیٹ فارم پر ایسے کم لاگت مکانات کا تصور پیش کیا جو پانی کے سامنے نسبتاً زیادہ مزاحمت کرسکیں۔ ان کا مؤقف سادہ تھا ۔۔ غریب انسان کو ایسا گھر مت دو جسے صرف کوئی مہنگا ٹھیکیدار دوبارہ بنا سکے ۔۔ اسے وہ علم دو جس سے وہ اپنی زندگی خود کھڑی کرسکے۔
دنیا نے انہیں بڑے اعزازات دیے ۔۔ پاکستان نے ستارۂ امتیاز اور ہلالِ امتیاز دیا ۔۔ 2023 میں انہیں فنِ تعمیر کا معتبر RIBA Royal Gold Medal بھی ملا۔
مگر شاید ان کا سب سے بڑا اعزاز کسی تقریب میں نہیں ملا۔
وہ کسی گاؤں میں کھڑی ایک عورت ہے ۔۔ جو اپنے ہاتھوں سے بنائے گئے گھر کے دروازے پر کھڑی ہے ۔۔ اور جانتی ہے کہ اگلی آفت کے بعد وہ صرف امداد کا انتظار نہیں کرے گی۔
یاسمین لاری نے اپنی زندگی کے پہلے حصے میں ایسی عمارتیں بنائیں جن پر ان کا نام لکھا گیا۔
اور دوسرے حصے میں ایسے گھر بنوائے جن پر ان کا نام کہیں نہیں لکھا ۔۔
کیونکہ عظمت ہمیشہ عمارت کی بلندی سے نہیں ناپی جاتی۔
کبھی کبھی ایک چھوٹی سی محفوظ چھت ۔۔ کسی فلک بوس عمارت سے کہیں بڑی ہوتی ہے۔