28/07/2026
میں نے پاک وہیلز کی ایپ پہ 1940 سے لے کر 2006 تک کا فلٹر لگایا۔صرف یہ دیکھنے کے لیے کہ کس قیمت کی گاڑیاں آتی ہیں۔اس میں تیس لاکھ سے لے کر ایک کروڑ دس لاکھ تک کی بے انتہا گاڑیاں تھیں۔یہ وہ گاڑیاں ہیں جو بیس سال سے زیادہ پُرانی ہیں۔سُننے میں آ رہا ہے کہ پنجاب میں بیس سال سے پُرانی گاڑیاں بند ہونے جا رہی ہیں۔میں نہیں جانتا اس بیان میں کتنی صداقت ہے لیکن اگر واقعی ایسا ہے تو ذرا سوچیں یہ کس قدر زیادتی ہے لوگوں کے ساتھ کہ ان کے کروڑوں اور لاکھوں کے اثاثے بیٹھے بیٹھے ضائع کروا دینا۔جب آفیشل بیان آئے گا اور اس پہ کارروائی شروع ہو گی تو کیا وُقعت رہ جائے گی ان گاڑیوں کی؟؟ اور پولیس کو جب بول دیا جاتا ہے کہ فلاں کارروائی کرو تو پولیس کارروائی کرتی ہے۔لوگ کس قدر زلیل ہونگے۔خاص طور پہ پاکستان کی زیادہ تر عوام جو کہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتی ہے آج بھی چلا ہی 1998 سے لے کر 2005 ماڈل رہی ہے۔جس میں زیادہ تر پُرانی سٹی، آلٹو، مہران کلٹس اور جی ایل آئی وغیرہ آتی ہے۔اس طرح کا ایکشن آپ تب لو جب یا تو آپ ان گاڑیوں کے مالکان کے لیے ایک بجٹ بناؤ اور اس کے بدلے انہیں پیسے دے کر ان سے گاڑی لو اور سکریپ کرو۔اور ساتھ ہی نئی گاڑیوں کی قیمتیں بھی اتنی ہی نیچے لاؤ۔تاکہ اس بندے کے لیے نئی لینی آسان ہو جسے آپ نے بے کار کر دیا ہے۔اگر تو یہ بیان سچ ہے تو بے انتہا افسوس ہے کہ آپ یورپ کے قوانین ایک ایسے ملک میں لگا رہے ہو جہاں دو وقت کی روٹی کمانی مشکل ہے۔زیادہ تر یہ پرانی گاڑیوں والے ٹیکسی چلا کر اپنے پیٹ پال رہے ہیں۔ان کے روزگار کا بھی بندوبست کر لیں۔ویسے میرا نہیں خیال کہ یہ سچ ہو سکتا ہے کیونکہ یہ ایک انتہائی احمقانہ بیان ہے جو کہ ضرور ایک افواہ ہو گی۔اگر نہیں تو پلیز اپنے ایڈوائزرز بدل لیں۔