17/11/2025
ایک دن میز پر رکھا قلم خاموشی سے سوچ رہا تھا۔ اس کے قریب ایک موبائل اور لیپ ٹاپ پڑے تھے، جو سب کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے۔ قلم نے آہستہ سے اپنے آپ کو کہا:
“کبھی لوگ میرے بغیر نہیں رہ سکتے تھے،
اب مجھے کوئی ہاتھ بھی نہیں لگاتا۔
شاید میرا وقت ختم ہو گیا ہے۔”
اسی لمحے ایک بزرگ استاد آئے،
انہوں نے قلم اٹھایا اور ایک صفحے پر لکھنا شروع کیا۔ جب استاد نے لکھنا مکمل کیا تو مسکرا کر بولے:
“دنیا چاہے کتنی بھی بدل جائے،
خیالات کو زندگی دینے کا کام قلم ہی کرتا ہے۔
قلم صرف لکھتا نہیں، بلکہ یہ سوچ کو شکل دیتا ہے، احساس کو زبان دیتا ہے۔”
قلم کے دل میں سکون بھر گیا۔
اسے احساس ہوا کہ خاموش ہونے کے باوجود
وہ آج بھی ایک پوری دنیا کو بدل سکتا ہے۔
الفاظ کے ذریعے سوچ بدلتی ہے،
سوچ سے عمل، اور عمل سے پوری زندگی۔
اس لیے قلم تھامنے والا دراصل دنیا بدلنے والا ہوتا ہے۔