Prime Associates Tax & Corporate Consultants.

Prime Associates Tax & Corporate Consultants. TAX & CORPORATE CONSULTANTS.


--
Prime Associates

0606-412726
0300-8247073

26/09/2025

ایف بی آر
***
پریس ریلیز
***
دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ عناصر مختلف سوشل میڈیا گروپس پر انکم ٹیکس ریٹرن2025 کے حوالے سے غلط معلومات پھیلا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں وضاحت کی جاتی ہے کہ ایف بی آر نے حال میں کسی بھی نئے ایس آر او کے ذریعے انکم ٹیکس ریٹرن فارم 2025 میں کوئی تبدیلی یا ترمیم متعارف نہیں کرائی۔

اس سال ایف بی آر نے انکم ٹیکس ریٹرن فارم 2025 مورخہ 7 جولائی ہی کو اپنی ویب سائٹ پر جاری کردیا تھا جس میں واضح طور پر صفحہ 66 پر اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو کا اندراج کرنا ضروری قرار دیا گیا تھا۔

ابھی تک جمع کرائے گئے انکم ٹیکس گوشواروں کی پڑتال سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بہت سے لوگ اپنے اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو کے خانے میں صفر درج کررہے تھے جسے روکا گیا ہے تاکہ درست معلومات درج ہو سکیں۔

یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ جائیداد کی مارکیٹ ویلیو کا اندراج مکمل طور پر ٹیکس گذار کی صوابدید پر ہے اور اس کے لئے کسی تحقیق یا حساب کی ضرورت نہیں ماسوائے ان امیر لوگوں کے جو پہلے ہی شق سیون ا ی کی رو سے یہ معلومات درج کررہے ہیں۔ چونکہ دیگر لوگوں کے لئے یہ معلومات ٹیکس کا حساب لگانے سے متعلق نہیں اس لئے ان میں کسی غلطی کی وجہ سے ٹیکس کا کوئی نوٹس جاری نہیں ہو گا۔مگر اُمید کی جاتی ہے کہ ٹیکس گذار افراد اپنے اثا ثوں کی مالیت کو اپنی معلومات کے مطابق مارکیٹ ویلیو کے بہت قریب ڈیکلیئر کریں گے۔

مزید وضاحت کی جاتی ہے کہ جن ٹیکس دہندگان نے پہلے ہی اپنے گوشوارے جمع کرا دیئے ہیں ان سے دوبارہ اس میں ترمیم کرنے یا ری فائل کرنے کا نہیں کہا جائے گا کیونکہ اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو کے یہ اندراجات نہ تو ٹیکس کے حساب کے لئے استعمال ہوں گے اور نہ ہی ویلتھ سٹیٹ منٹ کی Reconciliation کے لئے انہیں زیر غور لایا جائے گا۔

انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کے لئے IRIS سسٹم مکمل طور پر فعال ہے اور درست کام کررہا ہے لہذا ٹیکس دہندگان کو تاکید کی جاتی ہے کہ وہ اپنے انکم ٹیکس گوشوارے جلد از جلد جمع کرائیں کیونکہ انکم ٹیکس گوشوارہ جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر 2025 ہے۔
****

31/12/2024

1۔ نان فائلرز اب موٹرسائیکل، رکشہ اور ٹریکٹر کے علاوہ کوئی گاڑی نہیں خرید سکیں گے۔

2۔ نان فائلرز کسی کار کمپنی یا ڈیلر سے نئی گاڑی نہیں بک کرا سکیں گے۔

3۔ نان فائلرز اگر اوپن مارکیٹ سے گاڑی لے لیں گے تو اپنے نام پر رجسٹر یا ٹرانسفر نہیں کرا سکیں گے۔

4۔ ٹرانسپورٹ کمپنیز اپنے لئے بس یا ٹرک خریدنا چاہیں تو اس کیلئے اجازت لینی پڑے گی۔

5۔ ٹیکس ریٹرن میں اپنی مالی حیثیت ظاہر کئے بغیر جائیداد لیں گے تو اس کی رجسٹری نہیں ہو سکے گی، مالی حیثیت ظاہر کی ہے لیکن جائیداد خریدنے کیلئے بینک ٹو بینک پیمنٹ نہیں کریں گے تو اس جائیداد کی کل مالیت پر جرمانہ عائد ہو جائے گا، جائیداد ضبط بھی ہو سکتی ہے۔

6۔ اب ٹیکس ڈیپارٹمنٹ آپ کے بینک اکاؤنٹس کو ڈائریکٹ دیکھ سکے گا کہ اس میں کتنی رقم آئی گئی ہے اور آپ نے ریٹرن میں کتنی انکم دکھائی ہے اور کتنی ٹرانزیکشن چھپائی ہے۔

7۔ نان فائلرز اب بیسک بینک اکاؤنٹ یا آسان اکاؤنٹ کے علاوہ کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں کھلوا سکیں گے، بیسک یا آسان اکاؤنٹ میں آپ سال بھر کے اندر تقریباً پانچ لاکھ سے زیادہ رقم کریڈٹ نہیں کر سکتے۔

8۔ نان فائلرز کے موجودہ سیلریڈ اینڈ بزنس اکاؤنٹس جن میں ٹیکس ایبل سطح کا کریڈٹ آتا ہے یہ فائلر نہیں ہوں گے تو ان کے اکاؤنٹس فریز ہو سکتے ہیں۔

9۔ اب ہر قسم کے بینک اکاؤنٹ سے رقم جمع کرانے اور نکالنے پر ایک لمٹ نافذ ہوگی، اس کی وجہ یہ کہ لاکھوں لوگ انکم ٹیکس میں مائینر سی انکم دکھاتے ہیں جبکہ ان کے اکاؤنٹ میں کئی گنا زیادہ رقم آئی گئی ہوتی ہے لہذا کسی فارمولے سے اس کو لمیٹائز کیا جائے گا تاکہ لوگ صحیح انکم بتائیں اور اس سے سوا گنا یا ڈیڑھ گنا تک کریڈٹ کی لمٹ لے لیں۔

10۔ سیلزٹیکس ایبل دکاندار، ٹریڈرز اینڈ ریٹیلرز، جو سیلزٹیکس میں رجسٹرڈ نہیں ان کے بینک اکاؤنٹس اور پراپرٹیز فریز یا سِیل کی جا سکتی ہیں۔

03/10/2024

The 15 restrictions outlined by the government include:

1. Non-Religious Travel Ban: Non-filers will be prohibited from undertaking non-religious travel.
2. Cash Withdrawal Limit: Annual cash withdrawals for non-filers will be capped at Rs30 million.
3. Asset Purchase Ban: Non-filers will be barred from purchasing properties or vehicles.
4. Investment Restrictions: Non-filers will not be allowed to invest in the stock market and mutual funds.
5. Current Account Limitations: Restrictions will be placed on the ability of non-filers to open current bank accounts.
6. Higher Withholding Taxes: Non-filers will face higher tax rates on various transactions.
7. Income Proof for Property Purchases: Higher-income filers will need to justify their income sources for property acquisitions.
8. Explanations for Other Purchases: Lower-income filers must provide explanations for significant purchases.
9. Data Sharing with Banks: Information on non-filers will be shared with banks to limit cheque withdrawals.
10. Property Purchases Below Market Value: The government will purchase properties reported below market value in tax returns.
11. Cheque Use Restrictions: There will be limitations on cheque usage for certain transactions.
12. Transaction Bans: A gradual ban on 15 types of transactions for non-filers will be enforced.
13. No Tax Exemptions: Non-filers will not qualify for any tax deductions or exemptions.
14. Business Opportunity Limits: Non-filers will face restrictions on conducting business activities.
15. Increased Scrutiny: Enhanced audits and scrutiny will be applied to non-filers

03/10/2024

*نان فائلرز کی کیٹیگری ختم، جائیداد، اور بین الاقوامی سفر، اکاؤنٹ کھولنے پر پابندی ہوگی*

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے نان فائلرز کی کیٹیگری ختم کرکے ٹیکس نہ دینے والوں پر15پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا ہے جن میں سے 5 ابتدائی طور پر لگائی جائیں گی جن میں جائیداد، گاڑیوں، بین الاقوامی سفر ، کرنٹ اکاؤنٹ کھولنے اور میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری پرپابندیاں شامل ہیں۔

ایف بی آر نے نان فائلرز کو نشانہ بنانے کے لیے متعدد پابندیاں متعارف کرانے کا اعلان کیا تاکہ ٹیکس کمپلائنس کو بڑھایا جا سکے اور ٹیکس بیس کو وسیع کیا جا سکے، نان فائلر کیٹیگری کو ختم کر دیا جائے گا۔

ابتدائی پابندیوں میں جائیداد کی خریداری، گاڑیوں کی خریداری، میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری، کرنٹ اکاؤنٹس کھولنے اور بین الاقوامی سفر (مذہبی سفر کے علاوہ) شامل ہیں۔

حکومت نان فائلر کیٹیگری کو ختم کر رہی ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ افراد جو پہلے ان لین دین پر ٹیکس ادا کرنے سے بچنے کے لیے ایک معمولی فیس ادا کرتے تھے، اب ایسا نہیں کر سکیں گے۔

ایف بی آر کے چیئرمین راشد محمود لانگریال نے انکشاف کیا کہ ٹیکس ریٹرن جمع نہ کروانے والے افراد کے لیے 15 مخصوص سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جائے گی، جن میں ابتدائی طور پر 5 کلیدی شعبوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی، یہ اقدامات ایف بی آر کے تبدیلی کے منصوبے کا حصہ ہیں، جسے وزیر اعظم کی منظوری مل چکی ہے۔

ایک سرکاری عہدیدار نے دی نیوز کو تصدیق کی کہ اس اقدام کو ایک آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا جائے گا، اور ایف بی آر پہلے ہی اس کے قواعد پر کام کر رہا ہے اور قانون کی وزارت کو اس عمل میں شامل کر رہا ہے۔

چیئرمین ایف بی آر نے نان فائلرز کے تصور کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسی درجہ بندیاں دنیا بھر میں نہیں پائی جاتیں اور انہیں ختم کر دینا چاہیے اورتوجہ ٹیکس کمپلائنس کرنے والے اور نہ کرنے والے افراد پر مرکوز ہونی چاہیے۔"ہم جدید مشین لرننگ اور الگورتھمز کے ذریعے نان فائلرز کی شناخت کریں گے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے سال نان فائلرز سے صرف 25 ارب روپے فیس کی مد میں جمع ہوئے جبکہ ان افراد سے ممکنہ ٹیکس ریونیو ابھی بھی وصول نہیں کیا جا سکا، نئی پالیسیوں کے تحت، نان فائلرز کو روایتی بینک اکاؤنٹس کھولنے سے روکا جائے گا، سوائے کم آمدنی والے افراد کے بنیادی اکاؤنٹس ک

03/10/2024

فائلر اور این ٹی این کیا ہے؟ فائلر کیسے بنتے ہیں اور اس کے لیے کیا چیزیں چاہئیں ہوتی ہیں۔

فائلر بننے کے لیے سب سے پہلے نیشنل ٹیکس نمبر (NTN) بنتا ہے۔ این ٹی این (NTN) بنانے کے لیے درج ذیل چیزیں درکار ہیں .
1 ۔ قومی شناختی کارڈ

2 ۔ فون نمبر

3۔ ای میل ایڈریس (E.Mail)

4 ۔ گھر کا ایڈریس

نوٹ:- خالی این ٹی این (NTN) بنانے سے فائلر نہیں بنتا۔ این ٹی این بنانے کے بعد آپ کو ٹیکس ریٹرنز جمع کروانی ہوتی ہیں ۔ ٹیکس ریٹرنز کیسے جمع ہوتی ہیں ۔ ٹیکس ریٹرنزجمع کروانے کے لیے درج ذیل معلومات درکار ہیں۔

سیلری پرسن (salary person) جس سال کی ریٹرن فائل کرنی بو

1.سیلری سلیس 1 جولائی تا 30 جون
2.بینک اکاؤنٹ سٹیٹمنٹ 1 جولائی تا 30 جون

3.اثاثہ جات کی تفصیل مثلاً گھر، گاڑی زیور ، و غیره

(Buisness person) بزنس پر سن

1.بزنس انكم 1 جولائی تا 30 جون

2.اثاثہ جات کی تفصیل مثلاً گھر، گاڑی زیور وغیره

3.بینک اکاؤنٹ سٹیٹمنٹ 1 جولائی تا 30 جون

ریٹرنز فائل کرنے کے بعد سٹیٹس ایکٹو کروانے کے لیے 1000 کا ATL چالان بنتا ہے اسے ادا کرنے کے بعد سٹیٹس ایکٹو ہوتا ہے۔

نوٹ: اس کے علاوہ اگر آپکا کوئی سورس آف انکم ہیں مثلا زراعت فارن انکم قارن ریمیئنس انشورنس پالیسی وغیرہ بھی بتانا ضروری ہیں۔

نوٹ: اپنی ٹیکس ریٹرنز جمع کرواتے وقت اس چیز کا خاص خیال رکھیں کہ آپکا تمام ڈیٹا صحیح درج کیا گیا ہیں یا نہیں اور پروفیشنلز کو بائیر کریں تاکہ مستقبل میں FBR کے نوٹسز سے بچیں۔

Contact 03008247073
02/07/2024

Contact 03008247073

‏نئے بجٹ کے ساتھ ہی پیٹرول 7 روپے اور ڈیزل 9 روپے فی لیٹر مہنگا ہو گیا ہے۔
02/07/2024

‏نئے بجٹ کے ساتھ ہی پیٹرول 7 روپے اور ڈیزل 9 روپے فی لیٹر مہنگا ہو گیا ہے۔

02/07/2024

تمام ڈسٹری بیوٹرز، ہول سیلرز، اور ریٹیلرز جو براہ راست پاکستان اسٹیٹ آئل کمپنی لمیٹڈ (PSO) سے خریداری کر رہے ہیں، کو مطلع کیا جاتا ہے کہ حکومت پاکستان نے فنانس بل 2024 کے ذریعے تمام صنعتوں پر انوائسز پر ایڈوانس انکم ٹیکس جمع کرنے کی ذمہ داری عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 236H کے تحت فائلرز کے لیے 0.5% اور نان فائلرز کے لیے 2.5% کی شرح سے یہ ایڈوانس انکم ٹیکس انوائس کی مجموعی رقم پر لاگو ہوگا اور اسے حکومت کے خزانے میں جمع کرایا جائے گا۔

جمع کیا گیا ایڈوانس انکم ٹیکس قابل ایڈجسٹ/ریفنڈ ایبل ہوگا، اور PSO انوائسز پر جمع کردہ ایڈوانس ٹیکس کا دعویٰ کرنے کے عمل میں آسانی کے لیے 'سرٹیفکیٹ آف ڈیڈکشن/کلیکشن آف ٹیکس' جاری کرے گا۔

مزید یہ کہ یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ ڈیلرز/ریٹیل آؤٹ لیٹس کو سیکشن 236H کے تحت ایڈوانس ٹیکس چارج کیا جائے گا، اس کے علاوہ وہولڈنگ انکم ٹیکس جو پہلے ہی ڈیلر کی مارجن پر ذریعہ سے کٹوتی ہو رہا ہے۔

مندرجہ بالا کے پیش نظر، یہ تجویز دی جاتی ہے کہ آپ اپنے انکم ٹیکس اسٹیٹس کو 'فائلر' کے طور پر اپ ڈیٹ کریں تاکہ کم ایڈوانس انکم ٹیکس کی شرحوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے اور اپنے NTN/CNIC کی تفصیلات کو PSO کے ریکارڈ میں مناسب طریقے سے اپ ڈیٹ کرائیں۔

انوائسز پر ایڈوانس انکم ٹیکس کی وصولی یکم جولائی 2024 سے قابل عمل ہوگی۔

30/06/2024
Contact:  0300 8247073
29/06/2024

Contact: 0300 8247073

Address

Leiah
31200

Telephone

+923008247073

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Prime Associates Tax & Corporate Consultants. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Prime Associates Tax & Corporate Consultants.:

Share