22/11/2024
#سیکس میاں بیوی کے لیے #گلوکوز اور #خون کی بوتلوں کی سی حیثیت رکھتا ہے ۔
هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّؕ
وہ تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو ۔(القران)
محبت کے بعد شادی ہو یا شادی کے بعد محبت تو رومینس سے شروع ہونے سے لے کر آخری لوازمات میں مباشرت ہی رہ جاتی ہے
دو مختلف سوچ اور مزاج کے لوگوں کو ایک ساتھ باندھے رکھنے کی بنیادی وجہ جسمانی تعلق ہے ، مجھے بتا دیں آج تک کسی عورت نے کسی نامرد سے شادی کی ہو ، یا کسی مرد نے کسی ایسی عورت جسکو جسمانی تعلقات گناہ لگتے ہوں یا وہ بیڈ روم لائف سے دور بھاگتی ہو
اور پاک محبت کا ڈھول پیٹنا بھی فضول اور بے عقلی کا واضع ثبوت ہے ، پاک محبت کو دو پہلووں سے لوگ سمجھتے ہیں۔
1_👈ایک وہ محبت جسکا دائرہ ایک ہی شخص ہو اور ساری زندگی وہی رہے ۔
2_ 👈دوسری سوچ ! ایسی محبت جس میں مباشرت شامل ہی نہ ہو اسے بھی کئی سادی سوچ نے پاک محبت کا نام دے دیا ہے ۔۔
کامیاب پاک محبت وہی ہوتی ہے جس میں شادی ہو ، یعنی لیگل جنسی تعلقات کیونکہ دو لوگوں کو زندگی بھر ساتھ رکھنے ایک دوسرے کی کیئر کرنے کے پیچھے جو کشش ہے وہ جسم کی کشش ہے جو فطری ہے اس کشش کی بنا پہ ہی ایک انسان ساری زندگی ایک دوسرے کا بوجھ اٹھاتے ہیں ایک دوسرے کیلئے کام کرتے ہیں شوہر کماتا ہے تاکہ بیگم کی بنیادی ضروریات آسانیاں اور خوشیاں خریدی جا سکیں اور بیگم اپنی خدمت سلوک کام کاج کھانا پینا تیار کرنے کی سروس وغیرہ کی مدد سے شوہر اور اسکے بچوں اور گھر والوں کا خیال رکھتی ہے کیا کوئی غیر کسی کے لئے اتنا سب کرتا ہے ۔۔۔؟ ۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔
شادی جس کا مطلب ہے " یہ شخص آج سے میرا ہے اور میں اسکا " اس سوچ کے ساتھ شادی کا مقصد شروع ہو جاتا ہے جب ایک شخص آج سے میری ذات کا حصہ ہے تو اسکی بنیادی جسمانی معاشی ضروریات اور خوشیوں کی ذمہ داری بھی میری ہوئی ، یہ سوچ ایک محبت کرنے والی سوچ ہے صرف محبت ہی خود با خود دوسرے کی ذمہ داری اٹھاتی ہے ورنہ کئی اولادیں ماں باپ کو رول رہی ہیں والدیں اور اولاد سے زیادہ مخلصی کا رشتہ کوئی نہیں مگر محبت کے بغیر یہ بھی ذمہ داری نہیں اٹھاتا ۔۔۔۔ محبت کے بعد یہ رشتے اور تعلق عادت اور ذمہ داری بن جاتے ہیں ۔
شادی شدہ زندگی کو سکون اور خوشیوں سے بھرنے میں دونوں جینڈرز کا جنونی جسمانی ریلیشن سب سے مضبوط ٹول ہے جس سے ایک مرد اپنے گھر اور کمائی کی جگہ پہ بھی اپنی مہارت دکھا سکتا ہے اور ٹھرکی پن سے بھی بچ سکتا ھے بلکہ مرد ذہنی طور پر دن بدن زیادہ پر جوش اور مضبوط ہونا شروع ہو جاتا ہے دوسری جگہ عورت اپنی مرضی کی جنونی بیڈ روم لائف سے نہا کر نکلنے کے بعد پوری توجہ ایمانداری اور مہارت کے ساتھ اپنے گھر شوہر اور بچوں کو manage کر سکتی ہے اسکے بعد گھر سے باہر نظر ڈالنا بیگم کیلئے ممکن ہی نہیں رہتا ۔ انسانی سوچ جب حلال جنسی معاملات میں پر سکون رہتی ہے تب وہ پھلتی پھولتی ہے پالش ہوتی ہے شیر کی طرح حوصلہ بہادر اور حوصلہ پیدا ہوتا ہے اور شاہین کی طرح ہمت نہیں ہارتی ۔۔
اگر میاں بیوی میں جنسی تعلق نہ رہے تو دونوں ایک دوسرے کی جتنی بھی عزت کر لیں جتنی بھی کیئر کر لیں یہ سب بناوٹی ہے مگر دل ہی دل میں دونوں کے اندر کمی محسوس ہوتی رہتی ہے جس کمی کو پورا کرنے کیلئے وہی سوکھی محبت دینے والا مرد اور عورت گیلی محبت کیلئے کسی دوسرے کی طرف خود با خود راغب ہونے لگتے ہیں ،
دنیا میں سب سے پہلا رشتہ ہی میاں بیوی کا بنا اور یہ تعلق صرف جسمانی تعلق کی بنیاد پہ ہی مضبوط مخلص رہتا ہے اگر اس رشتے میں من چاہی جسمانی لذت نہ ملے تو ایک وقت پہ اس رشتے کو کیڑا لگ جاتا ہے اگر کیڑا نہ لگے تب بھی یہ آپس کا تعلق دلوں میں مردہ ہو چکا ہوتا ہے چاہے اوپر اوپر سے زندگی ساتھ گزاری جا رہی ہو مگر اندر سے خالی پن کی چبھن محسوس ہوتی رہتی ہے اور معمولی سی آہٹ پر یہ رشتہ لاتعلقی کا رنگ دینے لگتا ہے کیونکہ جسمانی تعلق جس میں دونوں فریقین کا ایک دوسرے کیلئے جنون بھی ہو ایسی محبت دونوں فریقین کیلئے اگر میاں بیوی کی من پسند بیڈ روم لائف نہیں ہے صرف روکھی سوکھی اپنی اپنی ضرورت پوری ہوتی ہے تو اس رشتے میں کبھی مضبوطی اور مخلصی آ ہی نہیں سکتی ۔
جو شاہین اپنی ماؤں سے 25 سال میں سیدھے نہیں ہوتے وہ اقبال کی بلبل 5 دن میں کیسے تیر کی طرح سیدھا کر لیتی ہے،،، سوچیں ،،، وہ کوئی دم ، یا جادو نہیں کرتی بلکہ یہ من چاہا جنونی جنسی تعلق ہے جو ایک دوسرے کو دیا جاتا ہے ۔۔۔۔یاد رہے ۔۔۔صرف مانگا نہیں جاتا بلکہ پہلے دیا جاتا ہے پھر کروا لیا جاتا ہے یا دوسرا ساتھی اتنا جنون دکھائے تو کون پاگل ہو گا جو اپنی ذات کے لئے اتنا جنون دیکھ کر ساتھ نہ دے یہیں نکاح کے رشتے کو مضبوط اور مخلص رکھنے کا جادوئی راز ہے جسکا نام جنونی بیڈ روم لائف ہے جو دو دن میں سب رشتوں پہ بھاری پڑ جاتا ہے اور وہ لڑکا جس نے کبھی خود اٹھ کر پانی کا گلاس تک نہ پیا ہو بیگم کے لئے چائے بھی شوق سے بنا لیتا ہے اور اسکی خاطر اپنے گھر والوں سے جھگڑا تک کر لیتا ہے ۔
شادی کے گٹار کا سب سے خوبصورت اور مضبوط تار صرف ایک دوسرے کیلئے جنونی جذبات ہیں ...