17/10/2025
---
🌿 قرآن سے حوالے
1️⃣ سورۃ الہمزہ (آیت 1–3):
> وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ
الَّذِي جَمَعَ مَالًا وَعَدَّدَهُ
يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ
ترجمہ:
"ہر طعنہ دینے والے، عیب جوئی کرنے والے کے لیے ہلاکت ہے،
جو مال جمع کرتا ہے اور اسے گنتا رہتا ہے،
وہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا۔"
📖 (سورۃ الہمزہ: 1–3)
مطلب:
اللہ تعالیٰ نے مال کے غرور اور حبص رکھنے والوں کے لیے "وَیل" (یعنی ہلاکت) کا اعلان فرمایا۔
---
2️⃣ سورۃ التکاثر (آیت 1–2):
> أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ
حَتَّىٰ زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ
ترجمہ:
"تمہیں مال کی زیادتی کی حرص نے غافل کر دیا،
یہاں تک کہ تم قبروں تک جا پہنچے۔"
📖 (سورۃ التکاثر: 1–2)
مطلب:
دنیاوی مال کی دوڑ نے انسان کو آخرت سے غافل کر دیا۔
---
3️⃣ سورۃ القصص (آیت 76):
> إِنَّ قَارُونَ كَانَ مِن قَوْمِ مُوسَىٰ فَبَغَىٰ عَلَيْهِمْ وَآتَيْنَاهُ مِنَ الْكُنُوزِ مَا إِنَّ مَفَاتِحَهُ لَتَنُوءُ بِالْعُصْبَةِ أُولِي الْقُوَّةِ
ترجمہ:
"قارون موسیٰ کی قوم میں سے تھا، مگر اس نے ان پر ظلم کیا۔
ہم نے اسے ایسے خزانے دیے کہ ان کی کنجیاں طاقتور لوگوں کے لیے بھی بوجھ تھیں۔"
📖 (سورۃ القصص: 76)
مطلب:
قارون کی مثال اس بات کی نشانی ہے کہ مال کی محبت اور تکبر انسان کو ہلاکت تک لے جاتا ہے۔
---
🌸 احادیثِ مبارکہ سے حوالے
1️⃣ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> "لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ مِنْ ذَهَبٍ، أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ لَهُ وَادِيَانِ، وَلَنْ يَمْلَأَ فَاهُ إِلَّا التُّرَابُ."
ترجمہ:
"اگر آدمی کے پاس سونا سے بھری ایک وادی ہو، تو وہ چاہے گا کہ اس کے پاس دو ہوں۔
اور انسان کا پیٹ صرف مٹی ہی بھرے گی (یعنی موت ہی اسے روک سکے گی)۔"
📚 (صحیح بخاری: 6439، صحیح مسلم: 1048)
مطلب:
انسان کی حرص کبھی ختم نہیں ہوتی — یہی حبصِ مال ہے۔
---
2️⃣ ایک اور حدیث میں فرمایا ﷺ:
> "لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ."
ترجمہ:
"وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں ذرّہ برابر بھی تکبر ہوگا۔"
📚 (صحیح مسلم: 91)
اور ایک شخص نے پوچھا:
"یا رسول اللہ! اگر کوئی شخص خوبصورت کپڑے اور جوتے پسند کرتا ہے تو کیا یہ تکبر ہے؟"
آپ ﷺ نے فرمایا:
> "إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ، الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ."
ترجمہ:
"اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔
تکبر یہ ہے کہ تم حق کو ٹھکرا دو اور لوگوں کو حقیر سمجھو۔"
---
🌿 خلاصہ:
پیسہ خود برا نہیں، لیکن جب انسان کے دل پر حکومت کرے تو یہ فتنہ بن جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ مالداروں کو شکر اور انفاق کا حکم دیتا ہے، تکبر اور غرور سے روکتا ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا کہ "مال کی محبت تمام برائیوں کی جڑ ہے"۔ (مشکوٰۃ، حدیث 5084)
---