Madni Mobiles And Repairing Centre

Madni Mobiles And Repairing Centre all mobiles accesries spareparts easyload and easypaisa jazzcash availble..

07/02/2026
موبائل ڈائری ۔۔ قسط نمبر 13موبائل کیمرہ ۔۔ زومنگ کی اقسام ۔۔ میگا پکسل کا کھیلپچھلی 12 قسطوں میں ہم نے ، موبائل فیلڈ میں...
10/12/2025

موبائل ڈائری ۔۔ قسط نمبر 13
موبائل کیمرہ ۔۔ زومنگ کی اقسام ۔۔ میگا پکسل کا کھیل

پچھلی 12 قسطوں میں ہم نے ، موبائل فیلڈ میں کچھ
جنرل نالج ،
پروسیسر اور ڈسپلے کور کر لیے ۔۔

فائنلی اب کیمرہ کی طرف چلتے ہیں ۔۔

موبائل کیمرہ کی اقسام ؛ ۔۔

آپ نے دیکھا ہوگا کہ آج کل موبائل کی بیک پر ایک سے
چار تک کیمرے دیے جاتے ہیں ۔۔
ہر کیمرے کا الگ نام اور الگ کام ہوتا ہے ۔۔

• وائیڈ اینگل
• الٹرا وائیڈ
• ٹیلی فوٹو
• مائیکرو کیمرہ

ان چار طرح کے کیمروں کے ساتھ ایک دو سینسر بھی دیے جاتے ہیں ۔۔

• وائیڈ اینگل ۔۔
وہی نارمل کیمرہ جو ہر فون میں دیا جاتا ہے ۔۔
انٹری لیول یا بجٹ رینج کے فون میں صرف یہی ایک کیمرہ ہی دیا جاتا ہے ۔۔

• الٹرا وائیڈ ۔۔
یہ کیمرا ، فوٹو میں زیادہ ایریا کور کرنے کے لیے ، یا
گروپ فوٹو بنانے کے لیے ہیں دیا جاتا ہے ۔۔ سمجھیں یہ
زوم آؤٹ کرنے والا کیمرہ ہے ۔۔
یہ مڈ رینج ، یا فلیک شپ فون میں دیا جاتا ہے ۔

• ٹیلی فوٹو ۔۔
زومنگ والا کیمرہ ۔۔ دور کی چیز کو قریب دکھانے کے لیے ۔۔
یہ ذرا گہرا سا دکھنے والا کیمرہ ہوتا ہے ۔۔
ہائی اینڈ اور فلیگ شپ ڈیوائس میں یہ کیمرہ دیا جاتا ہے ۔۔

• مائیکرو کیمرہ ۔
چھوٹی پھول پتیاں ، حشرات وغیرہ یا بالکل قریب کی چیزوں کا
اسپیشلی کلیئر فوٹو لینے کے لیے ۔
مڈ رینج اور ہائی اینڈ ڈیوائس میں دیا جاتا ہے ۔

اکثر مڈ رینج فون میں مائیکرو لینس دیا جاتا ہے ۔۔ جبکہ
ہائی اینڈ فون میں الٹرا وائیڈ لینس کو ہی میکرو کے طور پر
استعمال کیا جاتا ہے۔

آپ نارمل کیمرہ چلاتے ہیں یا زومنگ آؤٹ کرتے ہیں
یعنی الٹرا وائیڈ کیمرہ چلاتے ہیں ، یا ٹیلی فوٹو کیمرہ ۔۔
یہ سوفٹ ویئر کے ذریعے غیر محسوس طریقے سے کیمرہ
چینج ہو جاتا ہے ۔۔

اگر آپ کے موبائل میں دو یا تین کیمرے ہیں ، تو
کیمرے پر انگلی رکھ کے چیک کیجیے ، کہ وائیڈ اینگل کون سا کیمرہ ہے یا ٹیلی فوٹو کون سا ۔۔

کیمرہ کی اقسام میں ٹیلی فوٹو اور پریسکوپ ٹیلی فوٹو کو ایک ساتھ ہی لکھا گیا ہے ۔

زومنگ کی اقسام ؛ ۔۔

چند دن پہلے ویڈیو بنائی تھی اور اس میں بھی یہ چیز ایکسپلین کی تھی ۔۔ کہ
زومنگ دو طرح کی ہوتی ہے ۔

• ڈیجیٹل زوم
• آپٹیکل زوم ۔

موبائل کیمرہ سے جب بھی ہم کسی چیز پر فوکس کرتے ہیں اور زوم کرتے ہیں ۔۔ تو آپ نے غور کیا ہوگا کہ کبھی کبھار تصویر کا رزلٹ خراب ہو جاتا ہے اور کبھی بالکل کلیئر رہتا ہے ۔۔

یہ فرق ڈیجیٹل زوم یا آپٹیکل زوم کے حساب سے ہوتا ہے ۔۔

ڈیجیٹل زوم یہ سافٹ ویئر کا زوم ہوتا ہے ، اس میں تصویر کا رزلٹ خراب ہو سکتا ہے ۔۔

آپٹیکل زوم ، یہ کیمرے کے لینس کا زوم ہے ۔۔
سمجھیں کہ کیمرے کا رزلٹ فزیکلی آگے پیچھے ہو کر فوکس
کرتا ہے اور زوم کرتا ہے ۔۔ جس کی وجہ سے تصویر بلر نہیں ہوتی ۔۔

آپٹیکل زوم کی ایک مخصوص لمٹ ہوتی ہے ۔۔
4 ایکس ، 5 ایکس ، 10 ایکس ۔۔

سمسنگ کی ایس سیریز ، 10 ایکس آپٹیکل زوم سپورٹ کرتی
ہے ۔۔ یعنی 10 ایکس زومنگ کرنے سے تصویر خراب نہیں ہوگی بلر نہیں ہوگی ۔۔
اور ان کا ڈیجیٹل زوم 100 ایکس ہے ۔۔
100 ایکس زوم پر تصویر بلر تو ہو جاتی ہے ، لیکن اچھا کیمرہ سوفٹ ویئر وہ کافی حد تک شارپ کر دیتا ہے ۔

ابھی میں نے ٹیلی فوٹو لینس کی وضاحت کی ہے ۔۔ زومنگ کے لیے یہی کیمرہ ہوتا ہے ۔۔

میگا پکسل MP ؛ ۔۔

ہمارے ہاں عموماً ، عام عوام موبائل لیتے ہوئے کیمرہ سپیسیفیکیشن میں صرف میگا پکسل کو دیکھتی ہے ۔۔
کہ اس کا کیمرہ 108 میگا پکسل ہے ، بس وہیں پگھل گئے
کہ اب صرف یہی موبائل لینا ہے ۔۔

حالانکہ میگا پکسل کا تعلق ، تصویر کے اچھے رزلٹ سے نہیں
بلکہ
تصویر کے سائز سے ہوتا ہے ۔۔

مختصر الفاظ میں ۔۔
یعنی اگر فوٹو پرنٹ کرنی ہو ، تو پھر آپ کو زیادہ
میگا پکسل چاہیے ۔۔
مثلاً ۔۔ اگر 10 فٹ کے بینا فلیکس کے لیے آپ نے فوٹو
کیپچر کرنا ہے تو 108 میگا پکسل کیمرہ سے فوٹو کھینچیں ۔۔
اگر صرف ایک فٹ کا فلیکس بنوانا ہے پرنٹ کروانا ہے ،
تو صرف 12 میگا پکسل کیمرہ کا فوٹو ہی کافی ہے ۔۔

لہٰذا ؛
ایک اچھے رزلٹ والی اور شارپ فوٹو کا تعلق ، زیادہ میگا پکسل سے نہیں ۔۔ بلکہ کئی اور چیزوں سے ہوتا ہے ۔۔
یعنی
• لینس کوالٹی
• اپرچر
• کیمرہ سنسر
• پکسل سائز
• سوفٹویئر وغیرہ وغیرہ ۔

جن کی تفصیل اگلی قسط میں آئے گی ۔۔

سو ؛ اچھے کیمرہ ریزلٹ کے لیے موبائل لینا ہو تو کبھی بھی صرف میگا پکسل پر نہ جائیے ۔۔ بلکہ یہ سب چیزیں مد نظر رکھیں ۔

ویسے بھی ۔۔ جو فون زیادہ میگا پکسل سپورٹ کرتے ہیں ،
مثلاً 108 میگا پکسل کا فون ۔۔ جب ان میں کیمرہ آن کریں
تو ڈائریکٹ 108 میگا پکسل نہیں لگ جاتا ، بلکہ یہ تو
آپشنل ہوتا ہے ۔۔
موبائل کیمرہ آن کرتے ہی بائے ڈیفالٹ 8 یا 12 میگا پکسل کا کیمرہ آن ہوتا ہے ۔
شاید آپ نے چیک نہیں کیا ہوگا ۔

آج کا مقصد: لوگوں کو ایک ایسا مفت جگاڑ بتانا ہے جس سے وہ اپنی آواز کی ہو بہو کاپی (Clone) بنا کر اپنے دوستوں کو حیران کر...
10/12/2025

آج کا مقصد: لوگوں کو ایک ایسا مفت جگاڑ بتانا ہے جس سے وہ اپنی آواز کی ہو بہو کاپی (Clone) بنا کر اپنے دوستوں کو حیران کر سکیں۔

😲 کیا تم اپنی آواز کی "فوٹو کاپی" نکالنا چاہتے ہو؟ یہ مفت ویب سائٹ تمہارا دماغ گھما دے گی!

یار سنو! کبھی ایسا ہوا ہے کہ تمہارا گلا خراب ہو لیکن تم نے دوست کو وائس نوٹ بھیجنا ہو؟ یا پھر تم چاہتے ہو کہ تمہاری اپنی آواز میں کوئی ایسی بات کہی جائے جو تم نے کبھی بولی ہی نہیں؟

سوچو، تم آرام سے بستر میں لیٹے ہو اور تمہاری آواز میں تمہارے باس یا ٹیچر کو ایک سنجیدہ میسج جا رہا ہے... ہے نا کمال کا سین؟ 😎

آج میں تمہارے لیے ایک ایسی خفیہ ویب سائٹ ڈھونڈ کر لایا ہوں جو یہ کام منٹوں میں کر دیتی ہے، وہ بھی بالکل مفت! ٹینشن نہیں لینی، تمہارا بھائی آ گیا ہے جگاڑ لے کر۔

🚀 1. خزانے کا دروازہ: Tontaube (ٹون ٹوب)

سب سے پہلے تو اس ویب سائٹ کا نام یاد کر لو: Tontaube۔ یہ وہ جادوئی جگہ ہے جہاں سے یہ سارا کھیل شروع ہوتا ہے۔

یہ کیوں ضروری ہے؟
کیونکہ انٹرنیٹ پر زیادہ تر ٹولز پیسے مانگتے ہیں، لیکن یہاں فی الحال "لُٹ سیل" لگی ہوئی ہے۔

کرنا کیا ہے؟
سیدھا اس ویب سائٹ پر جاؤ اور وہاں "Voice Previews" پر کلک کر دو۔ جیسے ہی کلک کرو گے، تمہارے سامنے بہت ساری "پریمیم" قسم کی آوازیں آ جائیں گی۔ اگر چاہو تو ان غیر ملکی بابوں کی آواز میں بھی اپنا اسکرپٹ بلوا سکتے ہو، لیکن رکو... اصل مزہ تو اپنی آواز میں ہے! 😉

🎙️ 2. اپنی آواز کا جادو (Voice Cloning)

اب آتے ہیں اصل مدے پر! ہمیں ان گوروں کی آواز نہیں چاہیے، ہمیں اپنی "دیسی آواز" کلون کرنی ہے۔

یہ کیا ہے؟
یہ فیچر تمہاری آواز کے نمونے (Sample) کو سنتا ہے اور پھر ہو بہو تمہارے لہجے میں بولنا شروع کر دیتا ہے۔

استعمال کا طریقہ:

لسٹ میں اوپر "Clone Voice" کا آپشن نظر آئے گا، اس پر دبا دو۔

اب دو راستے ہیں:

یا تو مائیک کا بٹن دبا کر وہیں کوئی شعر سنا دو (لائیو ریکارڈنگ)۔ 🎤

یا اگر پہلے سے کوئی ریکارڈنگ پڑی ہے تو Upload Audio پر کلک کر کے وہ فائل اپلوڈ کر دو۔

پرو ٹپ: 💡
کوشش کرو ریکارڈنگ صاف ہو، پیچھے پنکھے یا سبزی والے کی آواز نہ آ رہی ہو، ورنہ AI کنفیوز ہو جائے گا کہ آواز تمہاری ہے یا آلو والے کی! 😂

✍️ 3. جو دل چاہے بلوا لو (Scripting)

اب جب اس نے تمہاری آواز پہچان لی، تو اب باری ہے اسے نچانے کی!

یہ کیسے کام کرتا ہے؟
نیچے ایک ڈبہ (Box) بنا ہوگا، وہاں اپنی پسند کی کوئی بھی زبان (اردو، ہندی، انگلش) میں کچھ بھی لکھ دو۔

مثال کے طور پر لکھو: "یار علی! میرے پیسے کب واپس کر رہے ہو؟"

اس کے بعد Generate Voice کے بٹن پر ایک زور دار کلک مارو اور بس کچھ سیکنڈز کا انتظار۔ جیسے ہی پروسیسنگ ختم ہوگی، تمہاری آواز تیار! اسے پلے کرو اور Download کر کے اپنے پاس محفوظ کر لو۔

وارننگ: ⚠️
یار اس ٹرک سے اپنے ابو کی آواز کلون کر کے پرنسپل کو چھٹی کی کال مت کر دینا، ورنہ سکول سے نام کٹ سکتا ہے اور گھر پر چھترول الگ ہوگی! 😂

تو دوستو! یہ تھا وہ چھوٹا سا ٹول جو بڑے بڑے کام کر سکتا ہے۔ فی الحال یہ مفت ہے تو جتنا فائدہ اٹھا سکتے ہو اٹھا لو۔ ٹیکنالوجی بہت تیزی سے آگے جا رہی ہے، اس لیے تم بھی پیچھے مت رہو۔ جاؤ، اپنی آواز کلون کرو اور دنیا کو دکھا دو کہ تم بھی کسی سے کم نہیں!

اب تمہاری باری ہے! 🧐
مجھے نیچے کمنٹ میں سچ سچ بتانا، تم اس ٹرک کا استعمال کس پر کرنے والے ہو؟ سب سے پہلے کس دوست کو یہ "جعلی وائس نوٹ" بھیج کر ڈرانے کا پلان ہے؟ چلو شاباش، کمنٹ کرو! 👇

⚡ تحریر اور آئیڈیاز: محمد کیف (عرف Kaif HCK)

04/12/2025
Solar wiring diagram
04/12/2025

Solar wiring diagram

Traffic license fees
04/12/2025

Traffic license fees

’’شادی کے 32 سال بعد ہم میاں بیوی کا پہلا جھگڑا ہوا اور نوبت طلاق تک پہنچ گئی، اگر میرے بیٹے بڑے نہ ہوتے اور وہ مجھے کنٹ...
04/12/2025

’’شادی کے 32 سال بعد ہم میاں بیوی کا پہلا جھگڑا ہوا اور نوبت طلاق تک پہنچ گئی، اگر میرے بیٹے بڑے نہ ہوتے اور وہ مجھے کنٹرول نہ کرتے تو میرا گھر ٹوٹ جاتا‘ ہم دونوں میاں بیوی اب اکٹھے رہ رہے ہیں لیکن ہماری بات چیت نہیں ہوتی‘ مجھے سمجھ نہیں آ رہی میں کیا کروں‘‘ وہ اداس لہجے میں بتا رہے تھے اور میں حیرت سے ان کی طرف دیکھ رہا تھا‘ ان کی کہانی دل چسپ تھی‘ ان کی لو میرج ہوئی تھی‘ میاں بیوی پوری زندگی خوش رہے۔

اﷲ تعالیٰ نے صحت مند بچے دیے‘ وہ پڑھ لکھ کر سیٹل ہو گئے‘ گھربار‘ گاڑی بلکہ گاڑیاں اور کاروبار بھی ٹھیک تھا‘ اسٹیٹس بھی تھا لہٰذا ان کی زندگی میں مسئلہ کوئی نہیں تھا‘ بیگم صاحبہ بھی نہایت عاجز اور ہمدرد تھیں‘ یہ ہمیشہ خوش رہتی تھیں لیکن پھر شادی کے 32سال بعد ان کا خوف ناک جھگڑا ہوا اور آخر میں دونوں کے درمیان بات چیت بند ہو گئی۔

یہ ہفتے میں ایک دن میرے ساتھ ملاقات کرتے ہیں‘ کل تشریف لائے تو ان کی جذباتی حالت خراب تھی‘ آنسو ٹھوڑی تک آ رہے تھے اور آہیں رک نہیں رہی تھیں‘ میں نے انھیں پانی کی بڑی بوتل اور گرین ٹی کے تین کپ پلائے‘ جب ان کی حالت سنبھلی تو میں نے جھگڑے کی وجہ پوچھی‘ لڑائی کی وجہ انتہائی مزاحیہ تھی‘ انھوں نے بتایا پندرہ دن قبل میں شام کے وقت گھر گیا تو میری بیوی کا منہ پھولا ہوا تھا‘ میں نے وجہ پوچھی تو اس نے شکوہ کیا جب ہماری شادی ہوئی تھی تو آپ نے مجھے منہ دکھائی کیوں نہیں دی تھی؟

میں نے حیرت سے پوچھا‘ منہ دکھائی کیا ہوتی ہے؟ اس کا جواب تھا اچھا اب آپ کو یہ بھی معلوم نہیں!مجھے واقعی پتا نہیں تھا‘ میں نے اسے بڑی مشکل سے یقین دلایا میں اس واہیات چیز کے بارے میں بالکل نہیں جانتا‘ مجھے اس نے بتایا‘ خاوند شادی کی پہلی رات بیوی کو جو تحفہ دیتا ہے وہ منہ دکھائی ہوتی ہے اور آپ نے مجھے کوئی تحفہ نہیں دیا تھا‘

میں نے جواب دیا‘ میں تمہیں پوری زندگی تحفے دیتا رہا‘ ان تحفوں کے سامنے منہ دکھائی کی کیا حیثیت تھی لیکن اس کا کہنا تھا منہ دکھائی زندگی کا اہم ترین تحفہ ہوتا ہے‘ عورتیں اسے پوری زندگی سنبھال کر رکھتی ہیں‘ اس چھوٹی سی بات پر ہماری تکرار ہوئی‘ میں اس وقت ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھا تھا‘ میں نے غصے سے سالن کا ڈونگا اٹھا کر دیوار پر مار دیا‘ میری بیوی نے چاولوں کی ڈش میرے اوپر انڈیل دی اور اس کے بعد ہم دونوں کے درمیان دھینگا مشتی شروع ہو گئی‘ ہم نے ایک دوسرے کا سر کھول دیا۔

ہمارے بچے پہنچے تو ہم دونوں زخمی حالت میں دیواروں کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے تھے اور ایک دوسرے کو بددعائیں دے رہے تھے‘ مجھے سمجھ نہیں آ رہی ہم میں 32 سال بعد اتنا غصہ اور نفرت کہاں سے آگئی؟ ہم دونوں ایک جان اور دو قالب ہوتے تھے‘ ہم اچانک ایک دوسرے کے دشمن کیسے بن گئے؟‘‘۔

میں نے اطمینان سے ان کی بات سنی اور اس کے بعد ان سے پوچھا‘ آپ سوچ کر بتائیں اس دن آپ کی بیوی سے کس کی ملاقات ہوئی تھی؟ وہ سوچتے رہے لیکن انھیں یاد نہ آیا‘ ان کی بیگم میری منہ بولی بہن تھی‘ میں نے انھیں فون کر دیا‘ انھوں نے بتایا اس دن میری ایک پرانی سہیلی مجھ سے ملاقات کے لیے آئی تھی‘ میں نے ان سے پوچھا‘ کیا منہ دکھائی کی بات اس نے آپ سے کی تھی؟ بھابھی نے تھوڑا سا سوچ کر ہاں میں جواب دے دیا‘۔

میں نے فون اسپیکر پر شفٹ کیا‘ بھابھی کو رانا صاحب کی موجودگی کا بتایا‘ رانا صاحب کو فون کے قریب بٹھایا اور پھر دونوں سے عرض کیا ’’ہماری زندگی میں رحمان اور شیطان دونوں انسانوں کے روپ میں آتے ہیں‘ ہمیں روز بعض ایسے بابرکت لوگ ٹچ کرتے ہیں جن پر اﷲ مہربان ہوتا ہے‘یہ لوگ رحمت ہوتے ہیں‘ ان کی ذات دوسروں کے لیے رحمت‘ برکت‘ آسانی اور خوشی کا سبب بنتی ہے‘ یہ لوگ تصوف کی دنیا میں رحمانی کہلاتے ہیں‘ ان کی خاص نشانی شکر اور ماشاء اﷲ ہے‘ یہ جب بھی دوسروں سے ملیں گے ان کی اچیومنٹ‘ ان کی خوشیوں اور ان کی کام یابیوں پر دل سے ماشاء اﷲ کہیں گے‘ یہ انھیں شکر کرنے اور اﷲ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے کی تلقین کریں گے۔

رحمانی لوگوں سے ملاقات کے بعد آپ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرتے ہیں‘ آپ کو اپنے سر‘ اپنے کندھوں کا بوجھ ہلکا محسوس ہوتا ہے جب کہ ان کے برعکس کچھ لوگ شیطان کے ایجنٹ ہوتے ہیں‘ یہ اپنی ذات سے شیطانیت‘ بے چینی‘ فساد‘ جھگڑا اور تلخی ٹرانسمٹ کرتے ہیں‘ یہ جب آپ کے قریب آتے ہیں تو آپ کا سکھ‘ چین‘ آرام‘ آسائش‘ امن اور خوشی ختم ہو جاتی ہے‘ اہل تصوف ان لوگوں کو شیطانی کہتے ہیں‘ شیطانوں کا سب سے بڑے ہتھیار حقارت اور کیوں ہوتا ہے‘ شیطان کا جنم حقارت اور کیوں سے ہوا تھا‘ شیطان نے اﷲ تعالیٰ سے کہا تھا انسان مجھ سے حقیر ہے‘ میں اسے سجدہ کیوں کروں۔

چناں چہ یہ لوگ جب بھی آپ سے ملیں گے یہ آپ کو کیوں کے ہتھیاروں سے حقیر ثابت کر دیں گے اور یوں آپ کی زندگی کا چین اور امن ختم ہو جائے گا‘‘ میں نے بھابھی سے عرض کیا ’’بھابھی آپ کی وہ سہیلی بھی شیطان کی ایجنٹ تھی‘ اس نے صرف ایک فقرے سے یعنی تمہارے خاوند نے تمہیں منہ دکھائی کیوں نہیں دی؟ آپ کی ازدواجی زندگی کا بیڑہ غرق کر دیا‘ یہ شیطان کا وار تھا‘ اﷲ نے آپ پر کرم کیا‘ آپ لوگ بچ گئے‘ میں نے سیکڑوں لوگوں کو اس وار کے ذریعے برباد ہوتے دیکھا لہٰذا آپ لوگ ایسے لوگوں سے بچ کررہا کریں‘‘ بھابھی نے لمبی اور ٹھنڈی آہ بھری‘ اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور رانا صاحب سے معذرت کر لی‘ رانا صاحب نے بھی بیگم سے اپنا تلخ نوائی پر معافی مانگ لی اور یوں دونوں دوبارہ شیروشکر ہو گئے۔

میری اپنی زندگی شیطان کے ایجنٹوں سے بھری پڑی ہے‘ میں نے 1996میں پہلی گاڑی خریدی تھی‘ وہ زیرو میٹر مہران تھی‘ میں نے بڑی مشکل سے دن رات کام کر کے تین لاکھ روپے جمع کیے اور مہران خرید لی‘ میں نے ابھی اسے اپنے دروازے پر کھڑا ہی کیا تھا کہ مجھے ایک شیطان ٹکر گیا‘ اس نے گاڑی کے گرد چکر لگایا‘ قیمت پوچھی اور پھر مسکرا کر کہا‘ آپ نے سوئفٹ کیوں نہیں خریدی‘ وہ اس سے کہیں زیادہ ا چھی‘ آرام دہ اور بڑی ہے اور مہران اور اس کی قیمت میں بھی صرف ڈیڑھ لاکھ روپے کا فرق ہے۔

آپ یقین کریں یہ فقرہ سن کرمجھے میری گاڑی بری لگنے لگی‘ میں اس کے بعد جہاں بھی جاتا تھا مجھے سوئفٹ نظر آتی تھی اور مجھے اپنی حماقت پر افسوس ہوتا تھا‘ یہ افسوس مہران کے بکنے تک جاری رہا‘ میں آج بھی جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو مجھے اپنی بے وقوفی پر افسوس ہوتا ہے‘ اﷲ تعالیٰ نے مجھے 27 سال کی عمر میں اپنی کمائی سے زیرو میٹر گاڑی خریدنے کی توفیق دی تھی لیکن میں اس خوشی کو چھوڑ کر دوسری گاڑی کے تاسف میں گھلنے لگا‘ مجھ سے زیادہ بے وقوف کون تھا،

اسی طرح میں 2000میں ایک ایڈورٹائزنگ کمپنی میں کاپی رائیٹنگ کرتا تھا‘ میں وہاں صرف دو گھنٹوں کے لیے جاتا تھا اور مجھے وہاں سے ماہانہ پچاس ہزار روپے ملتے تھے‘ یہ اس زمانے میں بڑی رقم تھی‘ یہ میرے بچوں کی فیس اور گھر کی گروسری کور کرتی تھی لیکن پھر ایک دن میرا ایک پرانا دوست وہاں آیا‘ اس نے میرا ڈیسک دیکھا اور طنزاً مسکرا کر کہا‘ تم اپنا اسٹیٹس دیکھو‘ تم اے پی این ایس سے بیسٹ کالمسٹ کا ایوارڈ لے چکے ہو اور تم اس وقت دو بائی تین فٹ کے ڈیسک پر بیٹھے ہو‘ تم اپنی بے عزتی کیوں کرا رہے ہو؟۔

بس ان چند فقروں کی دیر تھی اور مجھے وہ جاب بری لگنے لگی‘ میں نے اپنے ’’اسٹیٹس‘‘ کے چکر میں وہ جاب چھوڑ دی اور اس کے بعد مجھے اس سے آدھی رقم کے لیے روزانہ چھ چھ گھنٹے اضافی کام کرنا پڑا‘ یہ صرف دو مثالیں نہیں ہیں‘ میری زندگی کی ہر اچیومنٹ کے بعد شیطان کا کوئی نہ کوئی ایجنٹ میری زندگی میں ضرور آیا اور اس نے چند لمحوں میں میری اس کام یابی کا مزہ کرکرا کر دیا‘ اﷲ نے کرم کیا اور زندگی کے مختلف مراحل کے دوران مجھے رحمان اور شیطان کا فرق سمجھ آ گیا‘ میرے پاس اب جب بھی کوئی ایسا شخص آتا ہے جو دائیں بائیں دیکھ کر برا سا منہ بناتا ہے اور پھر کہتا ہے سر یہ آپ نے کیا کر دیا‘ آپ اگر اس کی جگہ یہ لے لیتے تو کتنا اچھا ہوتا یا آپ نے یہ کیوں نہیں لیا تو میں مسکرا کر دل ہی دل میں سورۃ الناس پڑھتا ہوں اور پھر اپنے کان بند کر کے بیٹھ جاتا ہوں۔

آپ کی زندگی میں بھی روزانہ ایسے لوگ آتے ہوں گے ‘آپ بس ان سے بچ جائیں‘ یہ شیطان کے ایجنٹ ہیں‘ یہ آپ کی خوشیاں اور کام یابیاں برباد کرنے کے لیے آتے ہیں‘ یہ آپ کا سکھ اور چین مارنے کے لیے آتے ہیں چناں چہ آج سے جب بھی کوئی شخص آپ سے پوچھے‘ تمہارے خاوند نے منہ دکھائی میں تمہیں کیا دیا تھا‘ تم نے ورکنگ وومن کے ساتھ شادی کیوں کی‘ تمہارا خاوند روزانہ لیٹ کیوں آتا ہے‘ تمہارے بچے تمہاری کیوں نہیں سنتے‘ تمہیں دفتر سے اتنی کم تنخواہ کیوں ملتی ہے‘ تمہارے بیٹے نے اتنے کم نمبر کیوں لیے‘ تم نے اپنے بچوں کو آئی فون کیوں نہیں لے کر دیا‘ تمہارے ابو تمہیں نیا لیپ ٹاپ لے کر کیوں نہیں دیتے‘ تم اپنی گاڑی کیوں نہیں بدل رہے۔

‘ تم اس محلے میں کیوں رہ رہے ہو‘ تم یورپ میں امیگریشن کیوں نہیں لیتے‘ تم اتنے کم پیسوں میں گزارہ کیسے کرتے ہو‘ تم اپنے فضول باس کی فضول باتیں کیوں سن لیتے ہو‘ تم اپنے بچوں کے ساتھ کیوں نہیں رہتے‘ تمہارے بچے تمہارے ساتھ بدتمیزی کیوں کرتے ہیں‘ تم اتنا کام کیوں کرتے ہو‘ تم پتلے کیوں ہو گئے ہو‘ تمہارا رنگ کیوں پیلا پڑ رہا ہے اور تم اس مسجد میں نماز کیوں پڑھتے ہو تو آپ اس کی طرف مسکرا کر دیکھیں‘ اﷲ تعالیٰ سے شیطان سے پناہ کی دعا کریں اور وہاں سے جلد سے جلد نکل جائیں‘کیوں؟ کیوںکہ شیطان آپ تک پہنچ چکا ہے اور آپ اب جتنا عرصہ اس کے قریب رہیں گے آپ کا امن‘ سکون‘ شانتی اور سکھ کا دریا خشک ہوتا رہے گا یہاں تک کہ آپ بنجر ہو جائیں گے لہٰذا اٹھیں اور بھاگ جائیں‘ اسی میں عافیت ہے۔

نا معلوم

آ پ کا پہلا موبائل فون کونسا تھا
13/11/2025

آ پ کا پہلا موبائل فون کونسا تھا

Mobiles tech
13/09/2025

Mobiles tech

Address

Mandi Bahauddin

Telephone

+923444294708

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Madni Mobiles And Repairing Centre posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Madni Mobiles And Repairing Centre:

Share