Business Think

Business Think Start your own business,like this page and take different business idea's Goat farming,small busines

10/10/2022

وہ 6 عادات جو لوگوں کو امیر بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں

غربت یا متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے امیر بننا اتفاق نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے سخت محنت، بے خوفی اور آگے بڑھنے کی خواہش کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایک محقق نے 5 سال تک 233 امیر افراد کی عادات پر تحقیق کی، جن میں سے 177 افراد غربت سے امیری تک پہنچے تھے۔

اس تحقیق کا مقصد یہ دریافت کرنا تھا کہ ان افراد نے کس طرح اپنی حیثیت کو بدلا۔

تحقیق کے دوران ایسی 6 عادات یا اصولوں کو شناخت کیا گیا، جن سے ان افراد کو دولت مند بننے میں مدد ملی۔

درحقیقت محقق کا تو کہنا ہے کہ ہر فرد ان عادات کو اپنا سکتا ہے اور امیر بن سکتا ہے۔

(1) مسلسل سیکھنا

تحقیق کے مطابق ایسے افراد کے لیے مسلسل سیکھنا اور ذاتی بہتری اولین ترجیحات میں شامل ہوتا ہے۔

تحقیق میں 49 فیصد افراد نے بتایا کہ وہ روزانہ چند منٹ نکال کر نئے الفاظ کو سیکھتے ہیں، جبکہ 61 فیصد کے مطابق وہ نئی صلاحیتوں (کوئی کھیل یا آن لائن کورس) کی مشق کرتے ہیں۔

71 فیصد افراد نے بتایا کہ وہ اکثر سیلف ہیلپ بکس کا مطالعہ کرتے ہیں، خاص طور پر کامیاب افراد کی سوانح حیات میں انہیں زیادہ دلچسپی ہوتی ہے۔

(2) بولنے کی بجائے سننا پسند کرتے ہیں

تحقیق کے مطابق ان افراد میں ایک طریقہ کار کافی مقبول ہوتا ہے۔

کسی مجمع میں یہ افراد ایک منٹ تک بولنے کے بعد 5 منٹ تک دیگر افراد کی رائے سنتے ہیں، جس سے انہیں اپنے کاروباری تعلقات کو مضبوط بنانے میں مدد ملتی ہے، جبکہ کسی مسئلے کے بارے میں مختلف نظریات سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔

81 فیصد افراد نے بتایا کہ وہ روزانہ دیگر افراد کی رائے سنتے ہیں۔

(3) اچھی ٹیموں کی تشکیل

تحقیق کے مطابق غربت سے امارت تک پہنچنے والے 86 فیصد افراد ہر ہفتے اوسطاً 50 گھنٹے کام کرتے ہیں، مگر وہ تنہا کام نہیں کرتے بلکہ اپنی کمزوری پر قابو پانے کے لیے دیگر افراد کا سہارا لینے سے گریز نہیں کرتے۔

اگر وہ کسی مخصوص صلاحیت کو سیکھنے میں کامیاب نہیں ہوتے تو وہ کسی ایسے فرد کی خدمات حاصل کرتے ہیں جو وہ کام کرسکتا ہو، تاکہ ان کے پاس زیادہ وقت ہو اور وہ دماغی توانائی کو اہم مقاصد کے لیے استعمال کرسکیں۔

(4) خواب بڑے ہوتے ہیں

تحقیق میں بتایا گیا کہ بیشتر امیر افراد زندگی میں بڑے مقاصد کے حصول کا خواب دیکھتے ہیں اور اس کے حصول کے لیے ہمت نہیں ہارتے۔

درحقیقت جس بات پر انہیں یقین ہوتا ہے وہ اس کے حصول کے لیے پیچھے ہٹنے سے انکار کردیتے ہیں۔

(5) صحت کا خیال رکھتے ہیں

اچھی صحت سے زندگی کی معیاد بھی بڑھتی ہے، یعنی وہ زیادہ دولت کماسکتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ امیر افراد اپنی صحت پر توجہ مرکوز کرتے ہیں تاکہ زندگی کے مقاصد کے حصول میں امراض رکاوٹ نہ بن سکیں۔

(6) اپنی قسمت خود بناتے ہیں

تحقیق کے مطابق اپنے کام کا تسلسل برقرار رکھنے سے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور خوابوں کی تعبیر کے لیے ہار نہ ماننے والے افراد اپنی قسمت خود بنانے کے قابل ہوجاتے ہیں۔







30/09/2022

ایمازون پر آن لائن اشیا کے فروخت کرنے والوں میں پاکستان کا تیسرا نمبر برقرار

صرف ایک سال کے قلیل عرصے میں پاکستان سے ہزاروں تاجر ایمازون (ایمازون سیلر سنٹرل) پر رجسٹر ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکی ملٹی نیشنل ای کامرس کمپنی ایمازون پر مصنوعات فروخت کرنے والے تاجروں میں پاکستان نے اپنا تیسرا نمبر برقرار رکھا ہے۔

ڈان اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) کے حکام نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کامرس کو بریفنگ دی، بریفنگ کے دوران ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے ملکی برآمدی مصنوعات، ملکی صلاحیت اور پلیٹ فارم سے وابستہ افراد کی صلاحیتوں کے بارے میں اعتماد کا اظہار کیا، انہوں نے امید ظاہر کی ایمازون پر اشیا فروخت کرنے والے کاروباری حضرات تیزی سے ترقی کے اس سفر سے استفادہ کرتے ہوئے مستقبل میں بھی بہتری کا سفر برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں گے۔

چیئرمین رضا ربانی کی سربراہی میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے ارکان کو ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے بریفنگ میں کہا کہ 2022ء میں امریکا میں ایمازون مارکیٹ پلیس (Marketplace) کے ذریعے مصنوعات کی فروخت میں پاکستان تیسرا بڑا ملک ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمومی طور پر امریکا اور چین اس فہرست میں سب سے اوپر ہیں، ہزاروں پاکستانی فروخت کنندگان دو سب سے بڑی قوموں کے مقابلے میں چھوٹے ہیں، لیکن یہ چین، بھارت جیسے برآمدی مرکز اور کینیڈا جیسے دنیا کے باقی ممالک کے مقابلے میں ان سے آگے ہیں۔’

واضح رہے کہ وزارت تجارت اور ایمازون حکام کے درمیان تقریباً ایک سال کے مذاکرات کے بعد مئی 2021ء میں پاکستان کو ایمازون پر مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت دی گئی تھی اور صرف ایک سال کے قلیل عرصے میں پاکستان سے ہزاروں تاجر ایمازون سے رجسٹر ہوئے تھے۔





23/09/2022

گوگل نے پاکستانیوں کے لیے 15 ہزار اسکالر شپس دینے کا اعلان کردیا

سوشل میڈیا پلیٹ فارم گوگل نے تمام پاکستانیوں کے لیے 15 ہزار اسکالر شپس کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ اس کے علاوہ اسکالر شپس گوگل سرٹیفکیٹس کے تحت ڈیجیٹل ٹریننگ کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے۔

گزشتہ روز جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ گوگل نے کیرئیر سرٹیفکیٹس متعارف کروا دیئے ہیں، جن کا مقصد پاکستانیوں کو سیکھنے کے لچکدار راستے فراہم کرنا ہے تاکہ وہ روزگار کے لیے درکار انتہائی مطلوب ڈیجیٹل مہارتیں (اسکلز) حاصل کر سکیں۔ اپنے مشن ’’اَن لاک پاکستانز ڈیجیٹل پوٹینشل‘‘ میں گوگل نے اپنے اس عز م کو تقویت بخشی ہے، جس کے تحت وہ اِس سال، اپنے مقامی پارٹنرز انسٹی ٹیوٹ آف رورل مینجمنٹ (آئی آر ایم) اور اگنائٹ (Ignite) کے ذریعے 15 ہزار اسکالر شپس پیش کر کے ایک مساوی اور جامع ڈیجیٹل معیشت کو فعال کرنے کے اپنے عزم کو بھی تقویت دی ہے، جس میں تعلیمی اداروں، انڈسٹری پارٹنرز اور غیر منفعتی تنظیمیں (NGOs) شامل ہیں۔

اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ الفا بیٹا (Alpha Beta) کی ایک رپورٹ کے مطابق، اگر مکمل طور پر فائدہ اٹھایا جائے تو ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز سنہ 2030ء تک، پاکستان میں 9.7 کھرب پاکستانی روپے (59.7 ارب امریکی ڈالرز) سالانہ کی معیشت پیدا کر سکتی ہیں۔ پاکستان کے ICT سیکٹر نے گزشتہ دہائی میں قابل ذکر ترقی کی ہے، جس سے سالانہ محاصل میں اوسطاً 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

13/09/2022

امریکہ میں 2022ء کی پہلی ششماہی میں کپڑوں کی سب سے زیادہ درآمدات 6 ایشیائی ممالک سے ہوئی

سنہ 2022ء کی پہلی ششماہی میں امریکہ نے 49.58 ارب ڈالرز مالیت کا کپڑا امپورٹ کیا، جوکہ گزشتہ سال کی نسبت 40.14 فیصد زیادہ تھا۔

امریکہ میں عالمی کساد بازاری اور مہنگائی کے باوجود صارفین کی قوت خرید پر کوئی نمایاں فرق نہیں دیکھنے میں آیا، بلکہ اس کے برعکس سنہ 2021ء کی نسبت سنہ 2022ء کی پہلی ششماہی میں کپڑے اور دیگر متعلقہ مصنوعات کی خریداری میں کہیں زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا، بالخصوص ماہ جون 2022ء میں امریکہ میں 8.64 ارب ڈالرز مالیت کا کپڑا درآمد کیا گیا، جوکہ گزشتہ سال کے اسی عرصہ کی نسبت 40.30 فیصد زیادہ، جبکہ مئی 2022ء کی نسبت 1.52 فیصد اضافہ ھوا۔

تفصیلات کے مطابق OTEXA کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق 6 ایشیائی ممالک (چین، ویتنام، بنگلادیش، بھارت، انڈونیشیا اور کمبوڈیا) نے مجموعی طور پر 32.82 ارب ڈالرز مالیت کا کپڑا امریکہ کو برآمد کیا، جوکہ اسی دورانیہ کی کل امریکی درآمدات کا 66.20 فیصد حصہ بنتا ھے۔

امریکہ کو کپڑے کی برآمدات میں سرفہرست چین رھا، جسکی مالیت گزشتہ سال سے 40.15 فیصد اضافے کیساتھ 10.25 ارب ڈالرز رہی۔

ویتنام نے سنہ 2022ء کی پہلی ششماہی میں 9.19 ارب ڈالرز مالیت کا کپڑا امریکہ کو برآمد کیا، جوکہ گزشتہ سال کی نسبت 35 فیصد زائد تھیں۔

اسی طرح گزشتہ سال کی نسبت 60.30 فیصد اضافے کے ساتھ بنگلادیش نے 5.02 ارب ڈالرز، جبکہ 57.27 فیصد اضافے کے ساتھ بھارت نے 3.20 ارب ڈالرز مالیت کا کپڑا برآمد کیا۔

انڈونیشیا امریکہ کو اپنے کپڑے کی مصنوعات برآمد کرنے والا پانچواں بڑا ملک رہا، جس نے 60.27 فیصد سالانہ اضافے کے ساتھ 3 ارب ڈالرز مالیت کی گارمنٹس مصنوعات امریکہ کو برآمد کیں۔










27/05/2022

25 سالہ لڑکا ارب پتی کیسے بنا ؟؟

دنیا کے کم عمر ترین ارب پتی ایک ایسے فرد ہیں، جو تعلیم بھی مکمل نہیں کرسکے ۔

امریکا سے تعلق رکھنے والے الیگزینڈر وانگ بچپن سے ریاضی میں دلچسپی رکھتے تھے اور کوڈنگ و ریاضی کے مقابلوں میں شرکت کرتے تھے۔

ان مقابلوں میں تو وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکے، مگر اب 25 سال کی عمر میں وہ دنیا کے کم عمر ترین سیلف میڈ ارب پتی بن گئے ہیں اور ان کی کمپنی آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی کے ذریعے مختلف خدمات فراہم کرتی ہے۔

19 سال کی عمر میں انہوں نے میساچوسٹس انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) کو چھوڑ کر اسکیل اے آئی نامی کمپنی کی بنیاد رکھی تھی۔

الیگزینڈر وانگ بچپن میں نیو میکسیکو کی لوس آلموس نیشنل لیپ کے قریب رہتے تھے، یہ امریکا کا وہ خفیہ مقام ہے، جہاں دوسری جنگ عظیم کے دوران پہلا ایٹم بم تیار ہوا تھا۔

ان کے والدین فزکس کے ماہرین تھے اور امریکی فوج کے ہتھیاروں کے منصوبوں پر کام کرتے تھے اور اب الیگزینڈر وانگ بھی کچھ ایسا ہی کررہے ہیں۔

ان کی 6 سال پرانی کمپنی پہلے ہی امریکی ایئرفورس اور آرمی کے لیے اے آئی سسٹم لگانے کے لیے 3 معاہدے کرچکی ہے۔

اس کمپنی کی ٹیکنالوجی سیٹلائیٹ تصاویر کی جانچ پڑتال میں انسانی تجزیہ کاروں سے بہت زیادہ تیز ہے اور فوج کے ساتھ ساتھ 300 سے زائد کمپنیاں جیسے جنرل موٹرز اسکیل اے آٗی کی مدد سے مختلف ڈیٹا حاصل کرتی ہیں۔

امریکی جریدے فوربز سے بات کرتے ہوئے الیگزینڈر وانگ نے کہا کہ ہر صنعت میں بہت زیادہ ڈیٹا ہوتا ہے اور ہمارا مقصد اس ڈیٹا کو ان لاک کرکے اے آئی ٹیکنالوجی سے کاروبار کو بہتر کرنا ہے۔

ان کی کمپنی کی مالیت 7.3 ارب ڈالرز ہے اور الیگزینڈر وانگ کے اس میں 15 فیصد حصص ہیں، جس کے باعث ان کی دولت ایک ارب ڈالرز تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث وہ دنیا کے کم عمر ترین سیلف میڈ ارب پتی بن گئے ہیں۔

دوران تعلیم ان کی ملاقات لوسی گیو سے ہوئی تھی اور دونوں نے مل کر اسکیل اے آئی کی بنیاد رکھی تھی۔

الیگزینڈر کے مطابق اس موقع پر انہوں نے اپنے والدین سے کہا 'یہ کام تو میں بس موسم گرما کی تعطیلات کے لیے کررہا ہوں، مگر پھر میں کبھی اسکول واپس نہیں گیا'۔

08/05/2022
07/05/2022

ایپل، گوگل اور مائیکروسوفٹ کا بغیر پاس ورڈ لاگ ان ٹیکنالوجی پر اتفاق

پاس ورڈ کے عالمی دن کے موقع پر ایپل، گوگل اور مائیکروسوفٹ جیسے بڑے اداروں نے روایتی پاس ورڈ کو ختم کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے مستقبل قریب میں بہتر لاگ ان ٹیکنالوجی کا اعلان کیا، جن میں ایف آئی ڈی او ٹیکنالوجی سرِفہرست ہے۔ اس طرح بہت جلد عالمی پیمانے پر ’پاس ورڈ لیس‘ ٹیکنالوجی عام ہوجائے گی۔ پاس ورڈ کے بغیر ٹیکنالوجی موبائل، ڈیسک ٹاپ اور براؤزر پلیٹ فارم سمیت تمام فورم پر کام کرسکے گی۔ اسی طرح ایندروئڈ، کروم، سفاری، ایج، میک او ایس اور آئی او ایس سمیت دیگر آپریٹنگ سسٹم کے لیے بھی آسانی سے استعمال کیا جاسکے گا۔ ایپل کے پلیٹ فارم پراڈکٹ مارکیٹنگ کے سینیئر سربراہ کہتے ہیں کہ اس سے پاس ورڈ چوری ہونے اور ڈیٹا کو نقصان کا ازالہ کیا جاسکے گا۔ یوں شفافیت اور بہترین سیکیورٹی ممکن ہوسکے گی۔ گوگل نے خیال پیش کیا ہے کہ اس میں فون کو مرکزی لاگ ان آلے کے طور پر استعمال کیا جاسکے گا، یعنی فون کھولئے، یا اس میں پاس ورڈ شامل کیجئے، یا پِن نمبر شامل کیجئے یا کوئی پیٹرن بنائیں تو وہ تمام سروسز پر ازخود سائن ان کرادے گا۔ اب ہر پلیٹ فارم پر جاکر پاس ورڈ لکھنے کی ضرورت ختم ہوجائے گی۔ اس میں ایک کرپٹو ٹوکن ’پاس کی‘ کے طور پر استعمال ہوگا۔ یہ ٹوکن عین بلاک چین طرز پر بنایا جائے گا۔ چونکہ ایک آلہ بطور پاس ورڈ استعمال ہوگا اس طرح ہیکنگ، فشنگ اور پاس ورڈ چوری کی وارداتوں میں بہت کمی ممکن ہوگی۔ یعنی آئی فون کی پاس کی سے مائیکروسوفٹ ونڈوز پر چلنے والے کروم براؤزر پر لاگ ان ممکن ہوگا۔ تمام پلیٹ فارم پر یکساں طور پر کام کرنے والی ٹیکنالوجی کو ایف آئی ڈی او کا نام دیا گیا ہے، جو فون کھلا ہونے کی صورت میں ہی کام کرے گی اور ایک ہی ڈیوائس سے سارے پلیٹ فارم پر لاگ ان کرنا ممکن ہوگا۔ فون کھونے کے صورت میں نیا فون کلاؤڈ پر رکھی دوسری ڈجیٹل کی سے ہم آہنگ (سِنک) ہوجائے گا۔ اچھی بات یہ ہے کہ کئی پلیٹ فارم پرایف آئی ڈی او سپورٹ موجود ہے، تاہم ایف آئی ڈی او پر پہلی مرتبہ سائن ان ہی ہونا پڑے گا اور عین اسی جگہ سے آپ کے کوائف اور پاس ورڈ چوری ہوسکتے ہیں۔ ایف آئی ڈی او الائنس کے سربراہ سمپتھ سری نواس نے کہا ہے کہ 2022 کے آخر یا 2023 تک پاس ورڈ کے بغیر اکاؤنٹ ٹیکنالوجی وضع کرلی جائے گی۔

06/05/2022

وہ پاکستانی عہدیدار جو سب سے زیادہ تنخواہ لیتے ہیں

بینکنگ سیکٹر ان شعبوں میں سے ایک ہے، جن میں عہدیدار خطیر تنخواہیں وصول کرتے ہیں۔ ویب سائٹ ’پرو پاکستانی‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں پاکستان کے سب سے زیادہ تنخواہ لینے والے بینکاروں کی ایک فہرست ترتیب دی ہے، جو مندرجہ ذیل ہے:

شہزاد دادا۔ یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ

یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (یو بی ایل) کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر شہزاد دادا پاکستان میں سب سے زیادہ کمانے والے بینکار ہیں۔ انہوں نے 2021ءمیں مجموعی طور پر 34کروڑ روپے کمائے۔ اس میں 23کروڑ 20لاکھ روپے انہیں تنخواہ کی مد میں ملے، جبکہ 10کروڑ 80 لاکھ روپے خصوصی انعام کے طور پر انہوں نے وصول کیے۔ انہوں نے گزشتہ سال ہی صائمہ کمال کی جگہ عہدے کا چارج سنبھالا تھا۔ صائمہ کمال اس وقت سٹیٹ بینک آف پاکستان میں ڈپٹی گورنر کے عہدے پر فائز ہیں۔

عرفان صدیقی۔ میزان بینک

دوسرے نمبر پر میزان بینک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر عرفان صدیقی نے 30 کروڑ 60 لاکھ روپے کمائے۔ اس میں ساڑھے 27 کروڑ روپے تنخواہ اور 3کروڑ 10 لاکھ روپے سالانہ اضافے کی مد میں انہیں ادا کیے گئے۔

محمد اورنگزیب۔ حبیب بینک لمیٹڈ

پاکستان کے سب سے بڑے بینک ’حبیب بینک لمیٹڈ ‘ کے صدر و چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد اورنگزیب گزشتہ چند سالوں سے پاکستان کے سب سے مہنگے بینکار ہیں، تاہم تنخواہ کے لحاظ سے وہ تیسرے نمبر پر آتے ہیں۔ انہوں نے تنخواہ کی مد میں گزشتہ سال ساڑھے 26 کروڑ روپے وصول کیے۔

عمران مقبول۔ ایم سی بی بینک

ایم سی بی بینک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر عمران مقبول نے 2021ء میں ساڑھے 23 کروڑ روپے تنخواہ کی مد میں وصول کیے۔ ان کی یہ تنخواہ 2020ءکی نسبت 85فیصد زیادہ تھی۔2020ءمیں انہیں تنخواہ کے طور پر 12 کروڑ 70 لاکھ روپے ادا کیے گئے تھے۔

ریحان شیخ۔ سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک

سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ریحان شیخ نے گزشتہ سال کی نسبت 5 کروڑ 10 لاکھ اضافے کے ساتھ 2021ء میں 19 کروڑ 40 لاکھ روپے تنخواہ کی مد میں وصول کیئے۔

عاطف اسلم باجوہ، بینک الفلاح

بینک الفلاح کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر عاطف اسلم باجوہ نے 2021ء میں 18 کروڑ 70 لاکھ روپے تنخواہ وصول کی۔

محسن ناتھانی، حبیب میٹرو پولیٹن بینک

حبیب میٹروپولیٹن بینک کے صدر و چیف ایگزیکٹو آفیسر محسن ناتھانی 7ویں نمبر پر سب سے زیادہ تنخواہ پانے والے بینکار ہیں۔ انہوں نے گزشتہ سال 14 کروڑ 40 لاکھ روپے تنخواہ کی مد میں حاصل کیے۔

منصور علی خان، بینک الحبیب

صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر منصور علی خان 2016ء سے بینک الحبیب کی قیادت کر رہے ہیں، جس کی رینکنگ گزشتہ سال بہت بہتر ہوئی اور وہ ساتویں درجے پر آ گیا۔ گزشتہ سال منصور علی خان نے تنخواہ کی مد میں 12 کروڑ 80 لاکھ روپے وصول کیے۔

یوسف حسین، فیصل بینک

یوسف حسین 2008ء سے بینک سے وابستہ ہیں اور 2017ء میں وہ بینک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر بنے۔ گزشتہ سال انہیں تنخواہ کی مد میں 13کروڑ 70 لاکھ روپے ادا کیے گئے۔

ظفر مسعود، بینک آف پنجاب

بینک آف پنجاب کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ظفر مسعود نے دیگر مراعات کے علاوہ گزشتہ سال 13 کروڑ 40 لاکھ روپے تنخواہ کی مد میں وصول کیے۔

26/04/2022

آخرکار ایلون مسک ٹوئٹر خریدنے میں کامیاب ہوگئے

دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے 44 ارب ڈالر میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر کو خرید لیا۔ ٹوئٹر بورڈ کی جانب سے ایک بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ انہوں نے ٹوئٹر کمپنی 44 ارب ڈالر میں ایلون مسک کو فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

ٹوئٹر بورڈ کے آزاد رکن بریٹ ٹیلر نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹوئٹر کی فروخت کیلئے ہونے والی ٹرانزیکشن میں بڑا حصہ کیش پر مشتمل ہوگا، ہمارے خیال میں ٹوئٹر کے شیئر ہولڈرز کیلئے یہی بہترین تھا۔

بی بی سی کے مطابق ٹوئٹر بورڈ کی جانب سے ایلون مسک کو فروخت کی منظوری دیے جانے کے بعد شیئر ہولڈرز سے ووٹ کے ذریعے ڈیل کی حتمی منظوری لی جائے گی۔

ٹوئٹر کی فروخت کے حوالے سے جاری ہونے والے بیان میں ایلون مسک نے کہا کہ آزادی اظہار جمہوریت کیلئے بنیادی حیثیت رکھتا ہے، ٹوئٹر ایک ایسا ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جہاں انسانیت کے مستقبل کی بحث ہوتی ہے، وہ ٹوئٹر کو پہلے سے کہیں زیادہ بہتر بنانا چاہتے ہیں۔

ایلون مسک نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ وہ ٹوئٹر کے فنکشن بڑھائیں گے اور نئے فیچرز متعارف کرائیں گے۔ اس کے علاوہ وہ ٹوئٹر کے لوگارتھم بھی اوپن سورس کردیں گے تاکہ بھروسے میں اضافہ کیا جاسکے اور بوٹس کو ختم کرکے صرف انسانوں کیلئے اس پلیٹ فارم کو دستیاب بنایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ ٹوئٹر میں بہت زیادہ صلاحیت موجود ہے اور وہ کمپنی اور کمیونٹی کے ساتھ مل کر ان صلاحیتوں کو بڑھائیں گے۔

موچی کے کام سے ماہانہ 8 لاکھ روپے کماتی ہوں ۔۔ پاکستان کی یہ پہلی موچی لڑکی کون ہے؟میں موچی ہوں، دنیا میں کئی طرح کے کام...
29/03/2022

موچی کے کام سے ماہانہ 8 لاکھ روپے کماتی ہوں ۔۔ پاکستان کی یہ پہلی موچی لڑکی کون ہے؟

میں موچی ہوں، دنیا میں کئی طرح کے کام ہوتے ہیں مگر ہم کام کو کرنے سے پہلے یہ سوچتے ہیں کہ یہ میں کروں گا تو اچھا لگے کا بھی یا نہیں، مگر لاہور میں ایک ایسی بھی لڑکی پائی جاتی ہے جس کے پاس اعلیٰ ڈگری ہے لیکن یہ پھر بھی موچیوں کا کام کرتی ہے۔

اس لڑکی کا نام آلائنہ ہے جو اپنے والد کے کام کو آگے بڑھا رہی ہے اور کہتی ہے کہ میں نے سوشل سائنس میں تعلیم حاصل کر رکھی ہے مگر بہت سی جگہ نوکریوں حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن نوکری نہیں ملی تو والد صاحب نے کہا کہ بیٹا تم میرا والا کام کیوں نہیں کرتی جس پر میں حیران ہوئی اور سوچا کہ ابوکیا کہہ رہے ہیں؟

مزید یہ کہ کچھ دنوں بعد میں نے یہی کام شروع کر دیا تو میری سہیلیوں نے مجھے کہا کہ یہ تم کیا کر رہی ہو مگر اب اللہ پاک کا شکر ہے کہ میں ماہانہ 7 سے 8 لاکھ روپے کما لیتی ہوں ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ میرے والد صاحب اتنا کما نہیں پاتے تھے مگر لوگوں کے پھٹے پرانے جوتے سینا ارو نئے جوتے بنانا یہ سب میں نے کام شروع کیا ۔

تو اللہ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا آج میرا اپنا گھر ہے ، میرے پاس ایک بہترین کار ہے ۔ جس پر میں اس رب کریم کی بہت شکر گزار ہوں ۔ سید باسط علی نامی یوٹیوب چینل کے مطابق موچی آلائنہ نے کہا کہ مجھے تو کوئی بھی تنگ نہیں کرتا بلکہ میرے پاس صرف لاہور سے ہی نہیں بلکہ ملک کے دیگر حصوں سے آرڈر آتے ہیں جنہیں اب تو میں پورا بھی نہیں کر پاتی تو میں نے اب اپنی ٹیم رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

یہی نہیں بلکہ میں ٹرک ڈرائیوروں ، بڑوں اور بچوں کیلئے خصوصی ڈیزائنز کی پشاوری چپل بناتی ہوں۔ یہی نہیں اب کام اتنا بڑھ گیا ہے کہ صرف یہ دکان ہی نہیں بلکہ میں نے چھت پر ایک اسٹور بھی بنا رکھا ہے جس میں بک ہوئے آرڈرز کو پہلے س بنا کر رکھ دیتی ہوں تا کہ جب وہ آئیں لینے کیلئے تو میں انکو جلد سے جلد دے دوں بنا کسی دیر کے۔

Pakistani larki jo mochi ka karti he

Address

Mandi Bahauddin

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+27621665010

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Business Think posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Business Think:

Share