17/08/2026
آزادی کا جشن یا ہجرت کا ماتم۔۔۔؟
کل کے دن پاکستان بھر میں 14 اگست کی آزادی خوب جوش و خروش سے منایا جاۓ گا ، اس کے لیے گلیاں سبز ہلالی پرچموں سے سجنے لگی ہیں، گھروں کی چھتوں پر جھنڈے لہرا رہے ہیں، بچے ملی نغمے گا رہے ہیں اور ہر طرف آزادی کے جشن کی تیاریاں ہیں۔ ہمیں جشن ضرور منانا چاہیے ، کیونکہ پاکستان محض ایک ملک نہیں ، لاکھوں قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا ایک خواب ہے ۔ لیکن اس جشن کے شور میں اگر کسی ماں کی سسکی ، کسی باپ کی بے بسی ، کسی نوجوان کا ڈوبتا ہوا خواب اور کسی مسافر کی آخری چیخ سنائی نہ دے تو شاید ہمیں ایک لمحے کے لیے رک کر خود سے ایک سوال ضرور پوچھنا چاہیے :
ہم نے آزادی حاصل کرنے کے بعد اس ملک کے ساتھ کیا کیا۔۔۔؟
1947 میں ہمارے بزرگ ٹرینوں کی چھتوں پر بیٹھ کر ، زخمی جسموں اور خون آلود کپڑوں کے ساتھ ایک نئے وطن کی طرف آ رہے تھے ۔ بہت سے لوگ منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی راستوں میں مارے گئے ۔ کئی ٹرینیں ایسی بھی تھیں جو مسافروں کے بجائے لاشیں لے کر پاکستان پہنچیں۔ کسی نے اپنا بیٹا کھویا ، کسی نے بھائی، کسی نے شوہر اور کسی نے پورا خاندان ۔
مگر ان کے دل میں ایک یقین تھا ۔
وہ یقین یہ کہ ایک دن ان قربانیوں سے ایک ایسا وطن بنے گا جہاں ہماری نسلیں عزت ، امن ، آزادی اور خوشحالی کے ساتھ زندگی گزاریں گی۔
وہ اپنے لیے نہیں، آنے والی نسلوں کے لیے ہجرت کر رہے تھے۔
وہ موت کی طرف نہیں، ایک خواب کی طرف جا رہے تھے۔
لیکن آج، پون صدی گزرنے کے بعد ، تاریخ ہمارے سامنے ایک ایسا سوال لے کر کھڑی ہے جس سے نظریں چرانا شاید خود سے دھوکا ہے :
آج ہمارے نوجوان کس طرف جا رہے ہیں۔۔۔؟
وہ بھی ہجرت کر رہے ہیں۔
فرق صرف اتنا ہے کہ 1947 میں لوگ ایک آزاد وطن میں داخل ہونے کے لیے جان دے رہے تھے ، اور آج بہت سے لوگ اسی وطن سے نکلنے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
کوئی سمندر کی بے رحم لہروں کے حوالے ہو رہا ہے ، کوئی غیر قانونی راستوں پر چلتے ہوئے پہاڑوں میں دم توڑ رہا ہے ، کوئی اجنبی سرحدوں پر پکڑا جا رہا ہے اور کوئی اپنی زندگی کی جمع پونجی ایسے سفر پر لگا رہا ہے جس کی منزل کا بھی اسے یقین نہیں۔
یہ صرف ہجرت نہیں۔
یہ مایوسی کی آخری حد ہے۔
یہ اس نوجوان کے دل کی چیخ ہے جو اپنے ہی ملک میں اپنے مستقبل کو دھندلا دیکھنے لگا ہے۔ وہ نوجوان جو ڈگری لے کر سالوں نوکری ڈھونڈتا ہے ، کاروبار شروع کرنے کے لیے سرمایہ نہیں پاتا ، سفارش کے بغیر دروازے بند دیکھتا ہے اور پھر ایک دن سوچتا ہے کہ شاید اس کی محنت کی کوئی قدر اس سرزمین سے باہر ہی ہو ۔
یہ سوچنا ہمارے لیے سب سے بڑا المیہ ہونا چاہیے ۔
کیونکہ قومیں صرف جنگوں سے نہیں ہارتیں۔
قومیں اس وقت ہارتی ہیں جب ان کے نوجوان اپنے مستقبل کو اپنے وطن سے باہر تلاش کرنے لگتے ہیں۔
ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا ہوگا کہ آخر وہ کون سی وجہ ہے جو ایک ماں کو اپنے بیٹے سے یہ کہنے پر مجبور کرتی ہے :
"بیٹا ، یہاں رہ کر کیا کرو گے ، باہر چلے جاؤ۔"
وہ کون سی ناامیدی ہے جو ایک نوجوان کو یہ یقین دلا دیتی ہے کہ شاید ایک اجنبی ملک کی جیل ، سمندر کی موت یا غیر قانونی سفر کا خطرہ بھی اپنے وطن میں بے مقصد زندگی گزارنے سے بہتر ہے۔۔۔؟
یہ سوال صرف حکومت سے نہیں۔
یہ سوال ہم سب سے ہے ۔
ہم نے آزادی کو صرف جشن بنا دیا ، ذمہ داری نہیں۔
ہم نے 14 اگست کو جھنڈوں ، ملی نغموں اور تقریبات تک محدود کر دیا لیکن شاید یہ بھول گئے کہ آزادی صرف ایک دن کا نام نہیں۔
آزادی ایک مسلسل ذمہ داری ہے۔
یہ ذمہ داری ہے کہ ملک میں انصاف ہو، محنت کرنے والے کو موقع ملے، نوجوان کو روزگار اور کاروبار کے راستے ملیں، قانون طاقتور اور کمزور کے لیے ایک ہو، اور ایک غریب باپ اپنے بچے کے مستقبل سے خوفزدہ نہ ہو۔
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جس وطن کے لیے ایک نسل نے خون دیا، اگلی نسل کو اس وطن سے فرار کا خواب نہ دیکھنا پڑے ۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان کی کہانی صرف ناکامیوں کی کہانی نہیں۔ ہمارے لوگ دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ پاکستانی ڈاکٹرز ، انجینئرز ، سائنس دان، تاجر ، مزدور ، کھلاڑی اور ہنرمند دنیا کے مختلف حصوں میں اپنی محنت سے نام بنا رہے ہیں ۔
مگر سوال یہ ہے :
اگر ہمارا انسان دنیا کے ہر کونے میں کامیاب ہو سکتا ہے تو وہ اپنے گھر میں کامیاب کیوں نہیں ہو سکتا۔۔۔؟
یہی وہ سوال ہے جس کا جواب ہمیں 14 اگست کے دن تلاش کرنا چاہیے۔
صرف یہ نہیں کہ پاکستان زندہ باد
بلکہ یہ بھی کہ پاکستان کو زندہ ، مضبوط ، باوقار اور خوشحال کیسے بنایا جائے۔۔۔؟
ہمیں ایسا پاکستان بنانا ہوگا
جہاں قابلیت سفارش سے بڑی ہو ،
قانون طاقت سے بڑا ہو ،
کاروبار رشوت سے آزاد ہو ،
تعلیم صرف ڈگری نہ ہو بلکہ ہنر بنے اور
اقتدار ذاتی مفاد کے بجائے قومی خدمت کا ذریعہ ہو ۔
14 اگست ہمیں صرف یہ یاد نہیں دلاتا کہ پاکستان کیسے حاصل ہوا تھا ۔
یہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ پاکستان کیوں حاصل کیا گیا تھا ۔
وہ خواب کیا تھا۔۔۔؟
وہ منزل کیا تھی۔۔۔؟
اور ہم اس منزل سے کتنے قریب یا کتنے دور کھڑے ہیں۔۔۔؟
آج جب ہم اپنے گھروں پر سبز پرچم لہراتے ہیں تو ان لوگوں کو بھی یاد کریں جنہوں نے 1947 میں اسی پرچم کے خواب کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا ۔
اور پھر ان ماؤں کو بھی یاد کریں جو آج اپنے بچوں کو سمندر کے راستے بیرونِ ملک جاتے ہوئے دیکھتی ہیں اور ہر فون کال پر یہ دعا کرتی ہیں کہ میرا بچہ زندہ ہو ۔
1947 میں خون کی ندیاں پار کرکے لوگ پاکستان پہنچے تھے ۔
آج اگر پاکستان کے بچے خون اور لاشوں سے بھرے راستے عبور کرکے پاکستان سے باہر جانے پر مجبور ہیں تو یہ صرف ان کی بدقسمتی نہیں، یہ ہم سب کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے ۔
ہمیں جشن بھی منانا ہے ، مگر خود احتسابی کے ساتھ
ہمیں پرچم بھی لہرانا ہے ، مگر ان قربانیوں کی لاج رکھنے کے عزم کے ساتھ
ہمیں پاکستان سے محبت کا نعرہ بھی لگانا ہے ، مگر اس محبت کو کردار ، دیانت ، محنت ، انصاف اور خدمت میں بھی بدلنا ہے ۔
کیونکہ وطن صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتا۔
وطن وہ جگہ ہوتی ہے جہاں انسان اپنے خواب دفن نہیں کرتا بلکہ انہیں پورا کرتا ہے۔
اور شاید اس 14 اگست پر ہماری سب سے بڑی دعا یہی ہونی چاہیے :
یا اللّٰہ۔۔۔! ہمارے وطن کو ایسا بنا دے کہ جس نوجوان نے یہاں پیدا ہو کر خواب دیکھے ہیں، اسے اپنے خواب کی تکمیل کے لیے اپنی مٹی چھوڑنے پر مجبور نہ ہونا پڑے ۔
وہ دن دوبارہ نہ آئے جب کسی ماں کو اپنے بیٹے کی لاش کسی اجنبی ساحل سے وصول کرنی پڑے ۔
وہ دن نہ آئے جب سمندر پاکستانی خوابوں کا قبرستان بن جائے ۔
اور وہ دن ضرور آئے جب دنیا بھر سے لوگ پاکستان کی طرف روزگار ، امن ، عزت اور امید کی تلاش میں آئیں۔
تب شاید ہماری آزادی کا جشن حقیقی معنوں میں مکمل ہوگا ۔
کیونکہ آزادی صرف یہ نہیں کہ ہمارا اپنا ملک ہے؛ آزادی کا اصل مطلب یہ ہے کہ اس ملک میں رہنے والا انسان اپنے مستقبل سے مایوس نہ ہو ۔
1947 کا خون ہم سے سوال کر رہا ہے۔
آج کے نوجوانوں کی ہجرت ہمیں آئینہ دکھا رہی ہے۔
اور تاریخ شاید ہمیں کبھی معاف نہ کرے اگر ہم نے اس آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنے سے انکار کر دیا ۔
پاکستان زندہ باد — مگر ایسا پاکستان، جہاں زندہ رہنے کے لیے پاکستان چھوڑنا نہ پڑیں ۔ والسلام
Follow for more 👇