Sindh Mehran State Agency

Sindh Mehran State Agency Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Sindh Mehran State Agency, Business service, Ali shair shah colony matiari, Matiari.

15/08/2024

مٺي محمّد جا چارئي يار دلي
ابوبڪر عمر عثمان علي
عاشق صحابه شيئر ڪرڻ نہ وساريندا
❤❤❤❤❤❤❤

*یہاں سے "left" لو پھر" right" آگے سے "uturn" لے کے* *سیدھا میرے دل میں آ جانا اور کہیں گم نہ ہو جانا! 🧸😝
15/08/2024

*یہاں سے "left" لو پھر" right" آگے سے "uturn" لے کے*

*سیدھا میرے دل میں آ جانا اور کہیں گم نہ ہو جانا! 🧸😝

14/08/2024

اس پرچم 🇵🇰 کے سائے تلے کچھ نیک ہیں کچھ سنیک 🐍 ہیں
😁😅🤣🤣

14/08/2024

اس وقت ملک بھر میں اور حصوصی طور پر خیبرپختونخوا میں انٹرنیٹ کی کرفیو لگا دی گئی ہے ۔
حکومت مکمل طور پر خاموش ۔
کوئی وضاحت نہیں دی جارہی آخر ملک میں ہو کیا رہا ہے ۔
انٹرنٹ نہیں
امن و آمان نہیں
معاشی سٹیبلٹی نہیں
روزگار نہیں
مہنگائی کنٹرول سے باھر
حکمرانوں کے بچے باھر ملکوں میں
اور یہاں پر احتجاج اور ھر روز جلسے جلوسوں سے عام شہریوں کا جینا حرام کردیا گیا ہے ۔
کبھی ایک پارٹی کبھی دوسری پارٹی
کے جلسے جلوسوں سے عام شاہراہوں کو بند کرنا ظلم کی انتیہا ہے ۔
حکمرانوں نے اپنے کرسی بچانے کی کیلیئے عام عوام کا جینا حرام کر رکھا ہے ۔
صوبائی حکومتیں وفاقی حکومت نہیں مانتے اور وفاقی حکومت صوبائی حکومت کو نہیں مانتے ۔
عجیب کش مکش ہے ۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ افغانستان جیسے حکومت آئیے تاکہ ان کمینوں سے جان چھوٹ جائیے ۔
FurYou

14/08/2024

پاکستان میں وہ کیا چیز ہے جب آتی ہے تو سب دعائیں دیتے ہیں
اور جب جاتی ہے تو سب گالیاں دیتے ہیں😂😂

14/08/2024

1947 کو دو ملک وجود میں آئے تھے🤨
ایک چاند پر چڑھ گیا 🇮🇳
ایک عوام پر چڑھ گیا 🇵🇰

14/08/2024

امریکہ کے ایک ریسٹورنٹ میں ویٹریس نے لنچ کا مینو ایک شخص اور اس کی بیوی کو دیا اور اس سے پہلے کہ وہ مینو کو دیکھتے، انہوں نے اس سے کہا کہ وہ انہیں دو سستے ترین کھانے پیش کرے کیونکہ ان کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔ کئی مہینوں سے تنخواہیں نہیں مل رہیں۔ جس کی وجہ سے وہ مشکل وقت سے گذر رہے ہیں ۔
ویٹریس سارہ نے زیادہ دیر نہیں سوچا۔ اس نے انہیں دو ڈشیں تجویز کیں اور وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے مان گئے کہ وہ سب سے سستے ہیں۔ وہ دونوں آرڈر لے کر آئی اور انہوں نے بھوک کی شدت سے جلدی سے کھانا کھایا، اور جانے سے پہلے انہوں نے ویٹریس سے بل مانگا۔ وہ اپنے بلنگ والیٹ میں کاغذ کا ایک ٹکڑا لے کر ان کے پاس واپس آئی جس پر اس نے لکھا تھا کہ : "میں نے آپ کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کا بل اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے ادا کیا۔ یہ میری طرف سے تحفے کے طور پر ایک سو ڈالر کی رقم ہے، اور میں آپ کے لیے کم سے کم اتنا تو کر سکتی ہوں۔ آپ کی آمد کے لیے شکریہ۔ سارہ کے دستخط شدہ۔
ریستوراں سے نکلتے ہی یہ جوڑا بہت خوش تھا۔
مشکل صورتحال میں مبتلا سارہ کے لئے حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس نے اپنے سخت مالی حالات کے باوجود جوڑے کے کھانے کا بل ادا کرنے میں بے حد خوشی محسوس کی۔ حالانکہ وہ تقریباً ایک سال سے ایک آٹومیٹک واشنگ مشین خریدنے کے لئے پیسے بچا رہی تھی کیونکہ پرانی واشنگ مشین سے کپڑے دھونے میں اسے بہت مشکل ہوتی تھی

لیکن جس چیز نے اسے سب سے زیادہ دکھ پہنچایا وہ یہ تھا کہ جب اس کی دوست کو اس معاملے کا پتہ چلا تو سارہ کی دوست نے اسے بہت ڈانٹا۔ کیونکہ اس نے خود اپنی اور اپنے بچے کی ضرورتوں کو پس پشت ڈال کر یہ پیسے بچائے تھے اسے دوسروں کی مدد کرنے سے زیادہ اپنے لئے واشنگ مشین خریدنے کی ضرورت تھی۔

اسی دوران اسے اپنی ماں کا فون آیا جس میں اسے اونچی آواز میں کہا گیا: "سارہ تم نے کیا کیا؟"
اس نے ایک ناقابل برداشت جھٹکے سے ڈرتے ہوئے دھیمی، کانپتی ہوئی آواز میں جواب دیا: ’’میں نے کچھ نہیں کیا۔ کیا ہوا؟"
اس کی والدہ نے جواب دیا: "فیس بک تمہاری تعریف کرنے اور تمہارے طرز عمل کی تعریف کرنے میں زمین آسمان ایک کر رہا ہے۔ اس بندے اور اسکی اہلیہ نے فیس بک پر تمہارا پیغام پوسٹ کیا جب تم نے ان کی طرف سے بل ادا کیا اور بہت سے لوگوں نے اسے شیئر کیا۔ مجھے تم پر فخر ہے۔" ...
اس نے بمشکل اپنی والدہ کے ساتھ اپنی بات چیت مکمل کی تھی جب اسکول کے ایک دوست نے اسے فون کیا جس سے یہ ظاہر ہوا کہ اس کا پیغام تمام ڈیجیٹل سوشل پلیٹ فارمز پر وائرل ہو چکا ہے۔
جیسے ہی سارہ نے اپنا فیس بک اکاؤنٹ کھولا، اسے ٹیلی ویژن کے پروڈیوسروں اور پریس رپورٹرز کے سینکڑوں پیغامات ملے جن میں اس سے ملنے کے لیے کہا گیا تاکہ وہ اپنے مخصوص اقدام کے بارے میں بات کریں۔
اگلے دن، سارہ سب سے مشہور اور سب سے زیادہ دیکھے جانے والے امریکی ٹیلی ویژن شوز میں سے ایک پر نمودار ہوئی۔ پروگرام پیش کرنے والے نے اسے ایک بہت ہی پرتعیش واشنگ مشین، ایک جدید ٹیلی ویژن سیٹ اور دس ہزار ڈالر دیے۔ اس ایک الیکٹرانکس کمپنی سے پانچ ہزار ڈالر کا پرچیز واؤچر حاصل کیا۔ اس پر تحائف کی بارش ہوئی یہاں تک کہ اس کے عظیم انسانی رویے کی تعریف میں حاصل ہونے والی رقم $100,000 سے زیادہ تک پہنچ گئی۔

دو کھانے جن کی قیمت چند ڈالر + $100 سے زیادہ نہیں تھی نے اس کی زندگی بدل ڈالی۔
سخاوت یہ نہیں ہے کہ جس چیز کی آپ کو ضرورت نہیں ہے وہ کسی کو دے دیں بلکہ سخاوت یہ ہے کہ جس چیز کی آپ کو ضرورت ہے وہ کسی دوسرے ضرورت مند کو دے دیں۔
حقیقی غربت انسانیت اور رویوں کی غربت ہے۔

13/08/2024

-ایک پردیسی کی روداد . . . . .
جب میں نیا نیا سعودیہ آیا تو بالکل دل نہیں لگ رہا تھا روزانہ گھر کال کر کے بہانے بناتا کہ کام مشکل ہے ۔ ڈیوٹی بہت ہے ۔ کفیل تنگ کرتا ہے ۔ کھانا اچھا نہیں ملتا وغیرہ وغیرہ
کہ کسی بھی طرح گھر والے مجھے پاکستان بلا لیں ، پر گھر والے کسی بھی بات میں نہیں آ رہے تھے انہی دنوں میں میرے قریب کا ایک لڑکا پاکستان چھٹی جا رہا تھا اس نے پوچھا اگر پاکستان کچھ بھیجنا ہے تو لے لینا میں لیتا جاؤں گا
جس دن اس نے جانا تھا میں نے ایک خبز کا پیکٹ لیا اور اس کو دے دیا
( خبز ۔ مطلب یہ روٹی ہی ہوتی ہے جو پلانٹ میں تیار کی جاتی ہے جو سعودیہ میں ہر بقالہ (کریانے) کی دوکان سے مل جاتی ہے پر پاکستان سے نئے جانے والے کے لیے کھانی مشکل ہوتی کیونکہ اس کا ذائقہ ہمارے ہاں جو روٹی بنتی اس سے کافی مختلف ہوتا ہے )
میں نے اس ارادے سے خبز گھر بھیجا کے ان کو احساس ہو میں کیا کھا رہا ہوں ادھر کتنی مشکل ہے ۔ پر اس لڑکے کے پاکستان پہنچنے کے دو دن بعد میری والدہ کی کال آئی جسے سن کر میں سمجھو کومہ میں ہی چلا گیا جسم سن ہو گیا گلا خشک ہو گیا آنکھیں نم ہو گئیں جذبات بہہ گئے۔

کال یہ تھی کہ پتر توں جیڑا تبرک بھیجیا سی او سارے راشتے داراں نوں پورا نئی آیا کسے آؤندے جاندے دے ہاتھ ہور بھیج دے 😑😂

13/08/2024

قدرت نے انگریزوں کو حُسن دیا😳
یہودیوں کو پیسہ دیا💵
چائنیز کو دماغ دیا😼
اور پاکستانیوں کو۔۔۔۔۔۔۔؟؟🙄

13/08/2024

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عیسائیوں کے ایک قلعہ کا محاصرہ کیا تو ان کا سب سے بوڑھا پادری آپ کے پاس آیا اس کے ہاتھ میں انتہائی تیز زھر کی ایک پڑیا تھی اس نے حضرت خالد بن ولید سے عرض کیا کہ آپ ھمارے قلعہ کا محاصرہ اٹھا لیں اگر تم نے دوسرے قلعے فتح کر لئے تو اس قلعہ کا قبضہ ھم بغیر لڑائی کے تم کو دے دیں گے۔

حضرت خالد رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا
نہیں ہم پہلے اس قلعہ کو فتح کریں گے بعد میں کسی دوسرے قلعے کا رخ کریں گے یہ سن کر بوڑھا پادری بولا اگر تم اس قلعے کا محاصرہ نہیں اٹھاؤ گے تو میں یہ زھر کھا کر خودکشی کر لوں گا اور میرا خون تمہاری گردن پر ھوگا حضرت خالد رضی اللہ تعالٰی عنہ فرمانے لگے
یہ ناممکن ہے کہ تیری موت نہ آئی ھو اور تو مر جائے
بوڑھا پادری بولا اگر تمہارا یہ یقین ہے تو لو پھر یہ زھر کھا لوحضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالٰی عنہ نے وہ زھر کی پڑیا پکڑی اور یہ دعا بسم الله وبالله رب الأرض ورب السماء الذي لا يضر مع اسمه داء پڑھ کر وہ زھر پھانک لیا اور اوپر سے پانی پی لیا۔ ⁦

بوڑھے پادری کو مکمل یقین تھا کہ یہ چند لمحوں میں موت کی وادی میں پہنچ جائیں گے مگر وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ چند منٹ آپ کے بدن پر پسینہ آیا اس کے علاوہ کچھ بھی نہ ہوا، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالٰی عنہ نے پادری سے مخاطب ھو کر فرمایا دیکھا اگر موت نہ آئی ھو تو زھر کچھ نہیں بگاڑتا پادری کوئی جواب دئیے بغیر اٹھ کر بھاگ گیا اور قلعہ میں جا کر کہنے لگا۔⁦

اے لوگو میں ایسی قوم سے مل کر آیا ہوں کہ خدا تعالٰی کی قسم اسے مرنا تو آتا ہی نہیں وہ صرف مارنا ہی جانتے ھیں جتنا زِہر ان کے ایک آدمی نے کھا لیا اگر اتنا پانی میں ملا کر ہم تمام اہلِ قلعہ کھاتے تو یقیناً مر جاتے مگر اس آدمی کا مرنا تو درکنار وہ بیہوش بھی نہیں ہوا۔ میری مانو تو قلعہ اس کے حوالے کر دو اور ان سے لڑائی نہ کرو چنانچہ وہ قلعہ بغیر لڑائی کے صرف حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالٰی عنہ کی قوت ایمانی سے فتح ہو گیا۔ ⁦
اللہ_اکبر

(تاریخ ابن عساکر).

13/08/2024

انٹرنیٹ کو اگر پولیو کے 2 قطرے پلا دیئے جاتے تو آج یہ دن نا دیکھنا پڑتا 😒😂

13/08/2024

ناروے یورپ کا ایک انتہائی خوبصورت ملک ھے۔ اگر آپ کبھی وھاں جائیں تو آپ کو عموماً یہ منظر نظر آئے گا۔۔۔۔۔

ایک ریستوراں ھے۔
ایک عورت اس کے کیش کاؤنٹر پر آتی ھے اور کہتی ھے۔ "5 کافی، 1 معطلی"۔ پھر وہ پانچ کافیوں کی ادائیگی کرتی ھے اور چار کپ کافی لے جاتی ھے...

کچھ وقت کے بعد۔۔۔۔
ایک اور آدمی آتا ھے اور کہتا ھے- "4 لنچ، 2 معطلی"! وہ چار لنچ کے لیے ادائیگی کرتا ھے۔
اور دوپہر کے کھانے کے دو پیکٹ اٹھا کر لے جاتا ہے...

پھر ایک اور آتا ھے... آرڈرز - "10 کافی، 6 معطلی"!! وہ دس کے لیے ادا کرتا ھے، چار کافی لیتا ھے...

کچھ وقت کے بعد....
پھٹے کپڑوں میں ایک بوڑھا آدمی کاؤنٹر پر آتا ہے اور پوچھتا ہے- "کوئی معطل کافی؟" جواب ملتا ھے- "ھاں!!" اور اسے ایک کپ گرم کافی دے دیتی ھے...

کچھ دیر بعد ایک اور انتہائ کمزور سا آدمی اندر آتا ہے اور پوچھتا ہے۔ "کوئی معطلی لنچ؟" تو کاؤنٹر پر موجود شخص گرم کھانے کا پارسل اور پانی کی بوتل دیتا ھے... اور یہ سلسلہ...دن بھر جاری رھتا ھے۔

اس کا مطلب ھے کسی نامعلوم غریب ضرورت مند کی مدد کرنا اپنے آپ کو "شناخت" کیے بغیر اور کسی کا چہرہ بھی "جانتے" بغیر...

یہ ناروے کے شہریوں کی روایت ہے!!!

اور ایک ھمارا ملک ھے جہاں ایک درجن لوگ ایک مریض کو ایک کیلا دیتے ھیں اور اس کی تصویریں بڑی بے شرمی سے کھینچتے ھیں جیسے وہ دنیا کے سب سے بڑے ڈونرز ھوں۔

ایک ھمارے لیڈر ہیں۔ ھمارے پیسوں سے ھی لوگوں میں راشن تقسیم کرتے ھیں اور تصویر کھنچوا کر بڑا فخر محسوس کرتے ہیں۔ آٹے کے تھیلوں پہ اپنی تصویر بنوا کر کس ڈھٹائی سے تقسیم کم اور بیچا زیادہ جارھا ھے ، سمجھ نہیں آتا۔

ہم ایک زندہ قوم کب بنیں گے ؟؟؟ شاید ہماری زندگی میں تو بہت مشکل ھے۔۔۔۔

عرفان سلیم بٹ۔

Address

Ali Shair Shah Colony Matiari
Matiari

Telephone

03048258105

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sindh Mehran State Agency posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share