10/07/2026
مینگو گروورز کوآپریٹو سوسائٹی لمیٹڈ کی جانب سے
پاکستانی آم کی برآمدات کو درپیش سب سے بڑا چیلنج: بین الاقوامی ایئر لائنز کی جوابدہی ناگزیر
پاکستانی آم دنیا بھر میں اپنی بہترین ذائقے اور معیار کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے، مگر افسوس کہ اس کی برآمدات کو سب سے زیادہ نقصان بین الاقوامی ایئر کارگو نظام کی کمزوریوں اور ناقص ہینڈلنگ کی وجہ سے برداشت کرنا پڑتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایکسپورٹ شپمنٹ کی مجموعی لاگت کا تقریباً 70 سے 80 فیصد حصہ فضائی کرایے (Air Freight) پر مشتمل ہوتا ہے، جبکہ برآمد کنندگان کو ہونے والے بڑے نقصانات میں سے ایک بڑی وجہ ایئر لائنز کی مس ہینڈلنگ ہے۔ شدید گرمی کے باعث آم کا جل جانا، کارٹنوں کا گیلا یا پھٹ جانا، کولڈ چین کا متاثر ہونا، اور آخری وقت میں شپمنٹ کا آف لوڈ ہو جانا ایسے مسائل ہیں جو نہ صرف برآمد کنندگان کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ عالمی منڈی میں پاکستان کی ساکھ کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
بدقسمتی سے بین الاقوامی ایئر لائنز اپنی شرائط اور فریٹ ریٹس خود طے کرتی ہیں، جبکہ ان کی کارکردگی اور جوابدہی کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ دوسری طرف ایکسپورٹر اور ایئر لائن کے درمیان فریٹ فارورڈر موجود ہوتا ہے، جو سپیس بکنگ اور ریٹ طے کرنے کی فیس وصول کر لیتا ہے، لیکن اکثر شپمنٹ کی محفوظ اور بروقت ترسیل کی ذمہ داری عملاً کوئی قبول نہیں کرتا۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ سرکاری سطح پر منعقد ہونے والی بیشتر میٹنگز میں دیگر اسٹیک ہولڈرز سے تو جواب طلبی کی جاتی ہے، مگر بین الاقوامی ایئر لائنز اور فریٹ فارورڈرز کی کارکردگی اور ذمہ داری پر سنجیدہ سوالات نہیں اٹھائے جاتے۔
مینگو گروورز کوآپریٹو سوسائٹی لمیٹڈ حکومتِ پاکستان، متعلقہ وزارتوں، سول ایوی ایشن، ایئر لائنز اور تمام متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ:
بین الاقوامی ایئر لائنز کو اپنی سروس کے معیار اور مس ہینڈلنگ پر جوابدہ بنایا جائے۔
فریٹ فارورڈرز کو ہر شپمنٹ کی مناسب نگرانی اور بروقت ترسیل کے حوالے سے واضح ذمہ داریاں سونپی جائیں۔
خراب ہینڈلنگ، آف لوڈنگ یا کولڈ چین کی خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار فریق کے خلاف مؤثر کارروائی اور متاثرہ ایکسپورٹر کو بروقت معاوضہ فراہم کرنے کا نظام بنایا جائے۔
آم کی برآمدات کے لیے بین الاقوامی معیار کے مطابق کولڈ چین اور کارگو ہینڈلنگ کو یقینی بنایا جائے۔
اگر پاکستان اپنی زرعی برآمدات، خصوصاً آم کی صنعت کو عالمی سطح پر مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے تو ضروری ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی طرح بین الاقوامی ایئر لائنز اور فریٹ فارورڈرز کو بھی مکمل طور پر جوابدہ بنایا جائے۔ یہی قدم برآمدات میں اضافے، نقصان میں کمی اور دنیا بھر میں پاکستان کے وقار کو مزید مستحکم کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
— مینگو گروورز کوآپریٹو سوسائٹی لمیٹڈ