Home Tuition in Multan

Home Tuition in Multan Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Home Tuition in Multan, Business service, Multan.

01/12/2025

جب چی گویرا کو اُس کے ٹھکانے سے گرفتار کیا گیا،
اور بتایا گیا کہ یہ راز ایک چرواہے نے فاش کیا ہے
کسی نے چرواہے سے حیرت سے پوچھا
تم نے اُس شخص کو کیسے بیچا جو ساری زندگی تمہارے اور تمہارے حقوق کے لیے لڑتا رہا؟"

چرواہا بس اتنا بولا:

اس کی دشمنوں سے جنگ نے میری بکریوں کو ڈرا دیا تھا

برسوں پہلے، مصر میں عظیم قائد محمد کریم نے نپولین کی قیادت میں آنے والے فرانسیسی لشکر کی مزاحمت کی۔
گرفتار ہونے پر انہیں سزائے موت سنائی گئی۔
نپولین نے انہیں بلا کر کہا

مجھے افسوس ہے کہ ایک ایسے شخص کو قتل کرنا پڑ رہا ہے
جس نے اپنے وطن کا اتنی بہادری سے دفاع کیا۔
میں نہیں چاہتا کہ تاریخ مجھے ایسے شخص کے طور پر یاد رکھے
جس نے اپنی سرزمین کے لیے لڑنے والے ہیروز کو مار ڈالا۔
اس لیے میں تمہیں معاف کرتا ہوں — اگر تم دس ہزار سونے کے سکے ادا کرو
جو ہمارے مارے گئے سپاہیوں کا معاوضہ ہوں۔

محمد کریم مسکرا کر بولے
میرے پاس اتنے نہیں ہیں، مگر تاجروں پر میرے سو ہزار سے زیادہ سونے کے سکے واجب الادا ہیں۔

نپولین نے مہلت دی۔ وہ ہتھکڑیاں پہنے، قبضے کے سپاہیوں سے گھرا ہوا بازار پہنچا
ان کے پاس یہ امید تھی کہ جن کے لیے اپنی جان داؤ پر لگائی
وہ اب وفا کا ثبوت دیں گے۔
مگر ایک بھی تاجر نے جواب نہ دیا۔
الٹا اُن پر الزام لگایا کہ تم نے اسکندریہ کو برباد کیا
اور ان کے کاروبار کو تباہ کیا۔
محمد کریم ٹوٹے دل کے ساتھ نپولین کے سامنے واپس آئے
تو نپولین نے کہا
میں تمہیں اس لیے قتل نہیں کر رہا کہ تم نے ہم سے جنگ کی
بلکہ اس لیے کہ تم نے اپنی جان ایسے بزدل لوگوں کے لیے قربان کی
جن کے لیے تجارت، وطن کی آزادی سے زیادہ قیمتی تھی۔

اور محمد رشید رضا نے کہا تھا:

ایک جاہل قوم کے لیے انقلاب لانے والا
ایسا ہے جیسے کوئی شخص اندھے کے راستے کو روشن کرنے کے لیے
اپنے جسم کو آگ لگا دے۔

اس جانور کا نام 'پگمی شریو' (Pygmy Shrew) ہے جو دنیا کا سب سے چھوٹا میمل ہے۔ ایک بالغ پیگمی شریو کا وزن صرف لگ بھگ پانچ ...
20/09/2025

اس جانور کا نام 'پگمی شریو' (Pygmy Shrew) ہے جو دنیا کا سب سے چھوٹا میمل ہے۔ ایک بالغ پیگمی شریو کا وزن صرف لگ بھگ پانچ سے چھ گرام ہوتا ہے۔ چھوٹے میملز مثلاً چوہوں، گلہریوں وغیرہ کا میٹابولزم عموماً تیز ہوتا ہے۔ جو میمل جس قدر چھوٹا ہو اس کا میٹابولزم اسی قدر زیادہ تیز ہوتا ہے کیونکہ میملز کو اپنا درجہ حرارت کانسٹینٹ رکھنا ہوتا ہے اور جو جانور جس قدر چھوٹا ہو اسی قدر اس کے جسم سے حرارت زیادہ تیزی سے خارج ہوتی ہے- بڑے جانوروں کا حجم چونکہ زیادہ ہوتا ہے اور حرارت صرف جلد سے خارج ہو سکتی ہے اس لیے بڑے جسم کے جانوروں کے لیے حرارت کو مقید رکھنا آسان ہوتا ہے- یہی وجہ ہے کہ اکثر بڑے میملز کا میٹابولزم سست رفتار ہوتا ہے جبکہ چھوٹے میملز کا میٹابولزم تیز ہوتا ہے

پیگمی شریو چونکہ دنیا کا سب سے چھوٹا میمل ہے اس لیے اس کا میٹابولرم تمام جانوروں کی نسبت زیادہ تیز ہے۔ اس کا دل ایک منٹ میں ایک ہزار سے زیادہ مرتبہ دھڑکتا ہے جو تمام جانوروں میں دل کی تیز ترین دھڑکن ہے۔ اس قدر تیز میٹابولزم کو سپورٹ کرنے کے لیے اسے بہت زیادہ کیلوریز درکار ہوتی ہیں اس لیے یہ جانور جاگنے کا زیادہ تر حصہ خوراک تلاش کرنے اور خوراک کھانے میں صرف کرتا ہے- اسے ہر روز اس قدر خوراک کی ضرورت ہوتی ہے کہ اس کی روزانہ خوراک کا وزن اس کے اپنے وزن سے بھی زیادہ ہوتا ہے- ان کی بھوک اس قدر شدید ہوتی ہے کہ اگر انہیں دوسری خوراک (کیڑے مکوڑے) نہ ملے تو یہ بھوک مٹانے کے لیے اپنے ہی شپیشیز کے دوسرے افراد کو مار کر کھانے لگتے ہیں

10/05/2024

ٹراؤٹ مچھلی کی تاریخ::::: بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ دریائے نیلم میں پائی جانے والی ٹراؤٹ مچھلی یہاں کی دیسی مچھلی نہیں بلکہ فرانس سے درآمد شدہ species ہے اور ھمارے دریا کے آ بی ماحول کے لئے کسی زھر قاتل سے کم نہیں ۔۔۔۔۔۔۔اس مچھلی کو فرانس سے کب،کیوں اور کون یہاں لایا ایسا اھم ترین سوال ہے جس کا تسلی بخش جواب ضرور ہے ۔۔۔۔۔تفصیل اس اجمال کی کچھ اس طرح کی ہے کہ جب 1885میں ڈوگرہ مہاراجہ پرتاب سنگھ کشمیر کا حکمران بنا تو اس نے ملکی معیشت کو ترقی دینے اور کشمیر کو ایک مثالی ریاست بنانے کے لئے کئی ایک اصلاحات متعارف کروائیں جن میں سے کچھ تو بہت فائدہ مند ثابت ہوئیں اور کچھ ناموافق حالات کی وجہ سے الٹا نقصان دہ ثابت ہو گئیں ۔۔۔۔۔ٹراوٹ مچھلی کی کہانی بھی کچھ اسی طرح کی ہے ۔راجا نے اس مچھلی کا بیج یا بچے فرانس سے منگوا کر گریس کے مقام پر دریائے نیلم (کشن گنگا) میں ڈال دیا ۔۔۔۔موافق آ ب و ہوا کے میسر آ نے سے صرف چند ہی سالوں میں اس کی پیداوار میں بے تحاشہ اضافے سے ایسے مسائل پیدا ہو گئے جن کا حل ممکن نہ رہا ۔۔۔۔ہوا یہ کہ نیلم دریا میں جو اسکی اپنی لوکل بریڈ تھی جس کے منہ میں دانت بالکل نہیں تھے اس نوکیلے اور تیز دانتوں والی ٹراؤٹ مچھلی کا شکار بن گئی ۔۔۔۔حالانکہ اس وقت بھی سرگن،مچھل اور شونٹھر نالوں میں جو بہت ہی کم مقدار میں دیسی مچھلی بچی ہے اس ٹراؤٹ مچھلی سے ذائقے میں بہت ہی بہتر ہے۔۔۔۔۔یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ اس دریا میں ٹراؤٹ کے داخلے سے قبل تین سے پانچ اقسام کی دیسی مچھلیاں بکثرت پائی جاتی تھیں بڑے بزرگوں سے سنا ہے کہ انہیں دریا سے مچھلیاں پکڑنے کے لئے کانٹے یا جال کے استعمال کی چنداں ضرورت نہ تھی کسی بھی نالے میں چادر ڈال کر دس سے پندرہ کلو دیسی مچھلی با آسانی پکڑی جاسکتی تھی ۔۔۔۔اب وہ تمام قسم کی دیسی مچھلیاں ٹراؤٹ کے تیز دانتوں کی نذر ہو کر معدوم ہو چکی ہیں اور خود ٹراؤٹ مچھلی میں سیلاب سے بچنے کی فطری قوت مدافعت نہ ہو نے کی وجہ سے ٹراوٹ بذات خود معدوم ہو تی جاری ہے (اس کا اصل وطن یورپ کا میدانی علاقے ہیں جہاں سیلاب وغیرہ نہیں آ تے)۔۔۔بس یہی کچھ ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں ۔۔۔کوا چلا ھنس کی چال ،اپنی چال بھی بھول گیا ۔۔۔۔

The python suffocated the King Cobra while the king cobra bit it. Both snakes died, one from asphyxiation and the other ...
29/10/2023

The python suffocated the King Cobra while the king cobra bit it. Both snakes died, one from asphyxiation and the other from the venom.

And that is how people destroy each other. Friendships end, relationships end, and families end up decimating themselves because one always wants to be better than the other.

Some "smothering" people with their ego of superiority, others end up poisoning with gossip, envy, and deceit until they destroy each other.

Choose love, compassion, loyalty and honesty 🙏🏿

تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ دُنیا کا سب سے تیز ترین بڑھنے والا درخت  پولونیا ہے،  جسے انگلش میں poulonia یا poulowni...
17/09/2023

تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ دُنیا کا سب سے تیز ترین بڑھنے والا درخت پولونیا ہے، جسے انگلش میں poulonia یا poulownia لکھا جاتا ہے، یہ جرمن درخت ہے اور جرمن ماہرینِ نباتات ہی اِس کے پیدا کندہ یا موجد ہیں، جس طرح ہمارے خطے میں سُخچین یا سُکھ چین کا درخت ہے جو انڈیا اور پاکستان کی محنت یا ایجاد کردہ ہے:
پولونیا سالانہ 3 میٹر سے زیادہ بڑھنے کا ریکارڈ رکھتا ہے، ناصرف انتہائی ماحول دوست ہے بلکہ ہر ملک کے زمینی اور موسمی حالات اور کم و بیش نمی میں پروان چڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہے:
اِس کی لکڑی اگرچہ وزن میں ہلکی ہوتی ہے لیکن نہایت ہی پائیدار ہوتی ہے، اِسی لیے بحری جہاز اِسی کی لکڑی سے بن رہے ہیں: کیونکہ یہ درخت سیدھا اوپر جاتا ہے اور باالکل ٹیڑھا نہیں ہوتا، اِس لیے اِس کی لکڑی خوبصورت، نہایت ہی کارآمد اور مہنگی ہوتی ہے:
جرمنی میں تو اِس درخت کے جنگل کے جنگل اُگائے جاتے ہیں، تجارت کی غرض سے بھی اور فرنیچر و بحری جہاز بنانے کی وجہ سے بھی:
موسمِ بہار میں اِس پر جامنی رنگ کے انتہائی خوبصورت پھول بکثرت لگتے ہیں اور بے حد مسحور خوشبو والے ہوتے ہیں، بعد میں ڈھوڈیاں بنتی ہیں جو بیجوں سے بھری ہوتی ہیں۔۔۔ ایک درخت کے بیج پورے علاقے کو بیچے جا سکتے ہیں۔
اسرائیل جو کہ خشک ترین زمین والا ملک ہے، نے اپنی زمینوں پر اِس درخت کے اُگانے کا تجربہ کیا ہے جو نہایت کامیاب رہا اور اب وہ اِس درخت کی نرسری کا جرمنی سے سب سے بڑا خریدار ہے، اسرائیل کے ساتھ جُڑے اسلامی ملک اُردن (جورڈن) نے بھی سرکاری سطح پر اِس درخت کی شجر کاری شروع کر دی ہے، اُردن کی حکومت نے بیس سالہ پروگرام کا اعلان کیا ہے اور پالیسی بنائی ہے کہ اُردن کے شہری اور ادارے اگلے بیس سال تک صرف یہی پودے لگائیں گے اور کم از کم پُورا درخت بننے تک اِسے کاٹنا جُرم تصور ہو گا:
اِس درخت کی ایک اور خاصیت بھی ہے کہ اِس کے پتے وٹامن سے بھرپور ہوتے ہیں اور بھیڑ بکریوں کی بہترین خوراک قرار دیے گئے ہیں:
یہ پودا پاکستان میں بھی پہنچ چکا ہے اور لوگ تجارت کی غرض سے اِسے وسیع پیمانے پر لگانا بھی شروع ہو گئے ہیں، یہ درخت سفیدے کی طرح مُضر اور پانی کا دشمن نہیں ہے۔۔۔

25/02/2023

لارڈ میکالے وہ شخص ہے جس نے 1835 میں ہمارا "نظام تعلیم" ترتیب دیا- اور آج تقریبا 2 صدیاں گزرنے کے بعد بھی ہم اسی نظام کا حصہ ہیں!.

2 فروری 1835 میں 'لارڈ میکالے' نے کہا:

میں نے ہندوستان کے طول و عرض میں سفر کیا ہے۔ مجھے کوئی بھی شخص بھکاری یا چور نظر نہیں آیا۔ اس ملک میں میں نے بہت دولت دیکھی ہے، لوگوں کی اخلاقی اقدار بلند ہیں اور سمجھ بوجھ اتنی اچھی ہے کہ میرے خیال میں ہم اس وقت تک اس ملک کو فتح نہیں کر سکتے جب تک کہ ہم ان کی دینی اور ثقافتی اقدار کو توڑ نہ دیں جو انکی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لیے میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ ہم ان کا قدیم نظام تعلیم اور تہذیب تبدیل کریں۔ کیونکہ اگر ہندوستانی لوگ یہ سمجھیں کہ ہر انگریزی اور غیر ملکی شے ان کی اپنی اشیاء سے بہتر ہے تو وہ اپنا قومی وقار اور تہذیب کھو دیں گے اور حقیقتاً ویسی ہی مغلوب قوم بن جائیں گے جیسا کہ ہم انہیں بنانا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔

(جی ہاں اسی "لارڈ میکالے" نے ہمارا نظام تعلیم مرتب کیا ہے!)

1835 میں English Education Act بنایا گیا۔
'لارڈ میکالے' کا اصرار تھا کہ ہندوستانیوں کو انگریزی ادب پڑھایا جائے جبکہ خود انگریز اس زمانے میں کیمیاء، برقیات، دھات کاری اور معدنی وسائل سے متعلق تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ انگریز اچھی طرح جانتا تھا کہ سائنس اور ٹیکنولوجی پڑھانے سے ملک معاشی ترقی کی جانب گامزن ہو جاتا ہے جبکہ ادب پڑھانے سے معاشی ترقی نہیں ہوتی۔

ہمارے معاشرے میں سب سے بڑا علامہ, تعلیم دان, پروفیسر, سیاستدان ,جج ,وکیل, صحافی, پولیس افسر، بیوروکریٹ اور جنرل وہی ہوتا ہے جسکی انگلش زیادہ بہتر ہو پھر چاہے وہ اصل علوم و فنون کی ابجد سے ناواقف ہو! بس یہ انگلش ملک کو ترقی بھی نہیں دے رہی اور ساتھ میں ہمیں باور کروا رہی ہے کہ تم بہت پڑھے لکھے ہو!

ماننا پڑے گا لارڈ میکالنے نے ایسی چال بنائی جسے ہم 2 سو سال میں توڑنا تو اپنی جگہ سمجھ بھی نہ سکے! اسی لیے کسی مفکر نے کہا تھا کہ سب سے مشکل کام غلام کو یہ سمجھانا ہے کہ تم غلام ہو-

08/01/2023

وہ سکاٹ لینڈ کا ایک غریب کسان تھا. کھیتوں کی طرف جاتے اس نے چیخنے کی آواز سنی. آواز کی سمت جا کر دیکھا کہ ایک بچہ دلدل کے ایک جوہڑ میں ڈوب رہا ہے. دلدل میں آپ جتنا زیادہ نکلنے کی کوشش کرتے ہیں. زیادہ تیزی سے ڈوبتے ہیں. کسان نے اسے تسلی دی پرسکون کیا اور درخت کی ایک شاخ توڑ کر بچے سے کہا یہ پکڑ لو. میں تمہیں کھینچ لیتا ہوں. کچھ دیر بعد بچہ باہر تھا. کسان نے اسے کہا کہ چلو میرے گھر تمہارے کپڑے صاف کرا دیتا ہوں. لیکن بچے نے کہا میرے والد پریشان ہوں گے اور دوڑ لگا دی.
اگلی صبح ایک شاندار بگھی کسان کے گھر کے سامنے کھڑی ہوئی. ایک رعب دار شخصیت بگھی سے نکلی اور کسان کا شکریہ ادا کرنے کہ بعد کہا میں آپ کو کیا صلہ دوں کیونکہ آپ نے میرے بیٹے کی جان بچائے. غریب کسان نے کہا شکریہ جناب لیکن میری جگہ کوئی بھی ہوتا تو یہی کرتا. مجھے کسی صلے کی طلب نہیں. بہت اصرار کے بعد بھی جب کسان نے کچھ قبول نہ کیا تو جاتے جاتے اس رئیس کی نظر کسان کے بیٹے پر پڑھی. پوچھا کیا یہ آپکا بیٹا ہے.؟؟ کسان نے محبت سے بیٹے کا سر سہلاتے کہا جی جناب یہ میرا بیٹآ ہے.
رئیس نے کہا ایک کام کرتے ہیں. میں اسے اپنے ساتھ لندن لے جاتا ہوں. اسے پڑھاتا ہوں. بیٹے کی محبت میں اس پیشکش پر کسان راضی ہوگیا. اسکا بیٹا لندن چلا گیا. پڑھنے لگا اور اتنا پڑھا کہ آج دنیا اسے الیگزینڈر فلیمنگ کے نام سے جانتی ہے. وہ فلیمنگ جس نے پنسلین ایجاد کی. وہ پنسلین جس نے کروڑوں لوگوں کی زندگی بچائی. وہ رئیس جس کے بیٹے کو کسان نے دلدل سے نکالا تھا. وہی بیٹا جنگ عظیم سے پہلے ایک بار پھر ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں تھا. اور اسی فلیمنگ کی پنسلین سے اس کی زندگی بچائی گئی. وہ رئیس روڈولف چرچل تھے. اور انکا بیٹا ونسٹن چرچل تھا. وہ چرچل جو جنگ عظیم میں برطانیہ کا وزیر اعظم تھا. اور جس نے کہا تھا.
بھلائی کا کام کریں کیونکہ بھلائی پلٹ کر آپ کے پاس ہی آتی ہے."

11/09/2022

خدا تک پہنچنے کا راستہ

جلیل بیگ 1990ء میں لندن میں تھے، یہ برطانیہ میں سیٹل ہو چکے تھے، زندگی مطمئن اور خوبصورت تھی، یہ مشینوں کے پارٹس پاکستان بھجواتے تھے، پیسہ کماتے تھے، فالتو وقت میں مصوری کرتے تھے، جنگلوں میں نکل جاتے تھے اور جھیلوں کے کنار بیٹھ جاتے تھے، زندگی میں رنگ ہی رنگ، خوشیاں ہی خوشیاں تھیں، لیکن پھر ان کی لائف کا پورا ٹریک بدل گیا، ان کے کان میں کائی نیٹکس کا مسئلہ پیدا ہو گیا، کائی نیٹکس کی بیماری میں انسان کے کانوں میں ہر وقت سائیں سائیں کی آوازیں آتی رہتی ہیں، یہ آوازیں انسان کی زندگی اجیرن کر دیتی ہیں، یہ سو سکتا ہے اور نہ ہی چل پھر سکتا ہے۔

آپ خود اندازہ لگائیے اگر آپ کے کان ہر وقت بجنے لگیں تو آپ کی کیا حالت ہو گی، جلیل بیگ کی زندگی بھی زندگی نہیں تھی، عذاب بن چکی تھی، وہ ڈاکٹروں کے پاس گئے، ڈاکٹروں نے آپریشن کا مشورہ دیا، بیگ صاحب کی حالت اتنی خراب تھی کہ انھوں نے فوراً ہاں کر دی، آپریشن ہوا لیکن آپریشن کے دوران دماغ کی ایک حساس نس کٹ گئی، جلیل بیگ صاحب کا پورا جسم مفلوج ہو گیا، یہ اب بول سکتے تھے اور نہ ہی چل پھر سکتے تھے، یہ یکسوئی کی نعمت سے بھی محروم ہو چکے تھے۔

ان کے دماغ کے گنبد میں ہر وقت آوازیں گونجتی رہتی تھیں، یہ نارمل انسان سے سبزی بن گئے، ڈاکٹروں کا کہنا تھا، یہ مسلسل علاج سے چھ سال میں معمولی حد تک نارمل ہو سکیں گے، یہ ایک افسوسناک صورتحال تھی، اس افسوسناک صورتحال میں ان کے ایک ترک دوست مصطفی نے ان کا بھرپور ساتھ دیا، یہ شیفیلڈ کے علاقے میں ایک لیئر سینٹر میں کام کرتا تھا، لیئر سینٹر ایک ایسا اسپورٹس کمپلیکس ہوتا ہے جس میں جمنازیم، گیمز، سوئمنگ پول اور سینما ہوتے ہیں۔

مصطفی روز بیگ صاحب کو ویل چیئر پر بٹھا کر لیئر سینٹر لے جاتا، یہ وہاں سارا دن کافی شاپ میں گزار دیتے، مصطفی شام کے وقت ان کی چیئر دھکیل کر انھیں واپس لے جاتا، یہ معمول کئی ہفتوں تک جاری رہا، بیگ صاحب ایک دن کافی شاپ میں بیٹھے تھے، انھوں نے سامنے دیکھا، کوئی صاحب ہال میں نوجوانوں کو جمناسٹک کرا رہے ہیں، بیگ صاحب اس ٹرینر کو دیکھتے رہے، ٹرینر نے کلاس ختم کی اور وہ بھی اس کافی شاپ میں آ کر بیٹھ گیا، تھوڑی دیر بعد مصطفی آیا اور بیگ صاحب سے اشارے میں کافی کا پوچھا، وہ ٹرینر دونوں کو غور سے دیکھ رہا تھا، اس نے مصطفی کو بلایا اور بیگ صاحب کی معذوری کی وجہ پوچھی، مصطفی نے اسے ساری کہانی سنا دی، ٹرینر اٹھا، بیگ صاحب کے قریب پہنچا اور ان سے ان کے معائنے کی اجازت مانگی، بیگ صاحب اسے خالی نظروں سے دیکھتے رہے۔

ٹرینر نے اپنی دونوں چھوٹی انگلیاں ان کے کانوں میں گھسائیں، آہستہ آہستہ آگے بڑھائیں، انگلیاں جب کان کے آخری سروں تک پہنچ گئیں تو اس نے ایک جھٹکے کے ساتھ دونوں انگلیاں باہر نکالیں، جلیل بیگ کو غش آیا اور یہ بے ہوش ہو گئے، ٹرینر نے ان کی گردن سہلائی اور یہ چند سیکنڈ میں ہوش میں آ گئے، ٹرینر مسکرایا اور بیگ صاحب کو غور سے دیکھ کر بولا "میں آپ کو چھ ہفتوں میں نارمل کر سکتا ہوں، میں بیس پاؤنڈ فی گھنٹہ لوں گا، آپ دو ہفتوں میں پاؤں پر کھڑے ہوں گے اور چھے ہفتے میں نارمل انسانوں کی طرح بھاگ دوڑ رہے ہوں گے"بیگ صاحب کسی قسم کا رسک نہیں لینا چاہتے تھے لیکن مصطفی ڈٹ گیا، اس نے ٹرینر کو اپنی جیب سے پے منٹ کرنے کا اعلان کیا اور اسے علاج شروع کرنے کی ہدایت دے دی۔

وہ ٹرینر جرمن تھا، اس کا نام نارمن موشے تھے، وہ کنٹریکٹ پر دنیا کے مختلف ملکوں میں ٹریننگ کراتا تھا، وہ لندن میں چند ماہ کے لیے آیا تھا، عمر 92 سال تھی لیکن وہ دیکھنے میں چالیس سال سے زیادہ نہیں لگتا تھا، پانچ شادیاں کر چکا تھا، بارہ تیرہ بچے تھے، آخری بیوی انتہائی خوبصورت اور جوان تھی، نارمن نے بیگ صاحب کا علاج شروع کر دیا، وہ انھیں ایکسرسائز کراتا، ان کی فزیو تھراپی کرتا، انھیں یوگا کے آسن سکھاتا اور ان کو جمناسٹک پر مجبور کرتا، یہ مشقیں چند دن جاری رہیں یہاں تک کہ معجزہ ہو گیا، جلیل بیگ واقعی اپنے پیروں پر کھڑے ہو گئے، یہ دو ہفتوں میں چلنے بھی لگے۔

یہ حیران کن تبدیلی تھی، یہ تبدیلی جاری رہی، بیگ صاحب صحت مند ہوتے چلے گئے، ان کے کان بھی ٹھیک ہو گئے، یہ بولنے بھی لگے اور یہ ہاتھ اور پاؤں بھی چلانے لگے، بیگ صاحب چھٹے ہفتے 90 فیصد تندرست ہو گئے، نارمن انھیں جم میں لے گیا، ان کی گردن میں پٹا ڈالا، وزن باندھا اور انھیں یہ وزن اٹھانے کا حکم دیا، بیگ صاحب آسانی سے وزن اٹھا گئے، نارمن اس کے بعد وزن بڑھاتا گیا اور بیگ صاحب وہ وزن اٹھاتے گئے، نارمن مطمئن ہو گیا، وہ انھیں لے کر ٹینس کورٹ میں چلا گیا، کورٹ میں دو ڈسٹ بن تھیں، نارمن نے پہلے انھیں ان دونوں ڈسٹ بینوں کے درمیان دوڑایا، بیگ صاحب یہ مرحلہ آسانی کے ساتھ عبور کر گئے۔

نارمن نے اس کے بعد انھیں پوری طاقت کے ساتھ بھاگنے کا حکم دیا، اس کا کہنا تھا "بیگی تم ہارے ہوئے اس سپاہی کی طرح بھاگو جس کے پیچھے خون خوار کتے لگے ہیں اور وہ اگر ایک لمحے کے لیے بھی رک گیا تو اسے کتے چیر پھاڑ دیں گے"بیگ صاحب بڑی مشکل سے صحت مند ہوئے تھے، وہ دوبارہ معذور نہیں ہونا چاہتے تھے لیکن نارمن نے انھیں دوڑنے پر مجبور کر دیا، وہ دوڑے اور واقعی ہارے ہوئے سپاہی کی طرح دوڑے، بیگ صاحب کا خیال تھا، وہ بھاگتے ہوئے گر جائیں گے لیکن کمال ہو گیا، وہ بغیر گرے کورٹ کے آخری سرے تک پہنچ گئے۔

انھوں نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور اپنے محسن سے لپٹ کر رونے لگے، نارمن نے انھیں تسلی دی، ان کے ساتھ ہاتھ ملایا اور کہا "بیگی اٹھو، تم اب بالکل نارمل انسان ہو، اپنے ملک جاؤ اور نارمل انسانوں جیسی زندگی گزارو"یہ علاج نہیں تھا، یہ معجزہ تھا، جلیل بیگ بھی اس معجزے پر حیران تھے اور ڈاکٹر بھی۔ یہ صرف اور صرف ایکسرسائز کا کمال تھا، ایکسرسائز نے ایک معذور شخص کو دواء اور آپریشن کے بغیر قدموں پر بھی کھڑا کر دیا اور نارمل بھی بنا دیا، اس واقعے نے بیگ صاحب کی کایا پلٹ دی، پرانا جلیل بیگ فوت ہو گیا اور نئے جلیل بیگ نے جنم لے لیا۔

جلیل بیگ، نئے جلیل بیگ نے یونیورسٹی میں"فزیکل ہیلتھ"میں داخلہ لے لیا اور وہ باقاعدہ ایکسرسائز سیکھنے لگے، نارمن موشے جرمنی واپس چلا گیا، اسے جلیل بیگ کے شوق کا علم ہوا تو اس نے انھیں اپنی شاگردی میں لے لیا، نارمن فرینکفرٹ کے قریب چھوٹے سے قصبے میں رہتا تھا، بیگ صاحب اکثر اس کے پاس چلے جاتے تھے، وہ انھیں مختلف ایکسرسائز سکھاتا تھا، نارمن ایسی ہزار ایکسرسائز جانتا تھا جن کے ذریعے مختلف بیماریوں کا علاج ممکن تھا، وہ یوگا اور مراقبے کا ماہر بھی تھا، بیگ صاحب نارمن کے مرنے تک اس کے شاگرد رہے۔

نارمن کی موت بھی اس کی زندگی کی طرح حیران کن تھی، وہ ایک سو دو سال کا تھا، وہ اپنے ہیلتھ سینٹر میں آلتی پالتی مار کر مراقبے میں گیا، وہ جب دیر تک مراقبے سے باہر نہ آیا تو اس کی بیوی نے اسے ہلایا، وہ فرش پر گر گیا، وہ مراقبے کے عالم میں ہی فوت ہو چکا تھا، جلیل بیگ صاحب نے نارمن کے مرنے کے بعد اپنا سامان سمیٹا اور پاکستان آ گئے، یہ اب لاہور میں رہتے ہیں، اپرمال اسکیم میں ان کا گھر ہے، گزارے کے لیے ایک چھوٹی سی کمپنی چلاتے ہیں، صبح پانچ بجے ریس کورس پارک چلے جاتے ہیں، ریس کورس کی جھیل کے قریب اس وقت تک ڈیڑھ سو لوگ جمع ہو چکے ہوتے ہیں، یہ ان لوگوں کو ایکسرسائز کراتے ہیں، ان کا دعویٰ ہے، یہ ایکسرسائز کے ذریعے ہر مرض کا علاج کر سکتے ہیں۔

لوگ شوگر، بلڈ پریشر، ہارٹ، ٹینشن، اینگزائٹی، اعصاب، کولیسٹرول اور مرگی جیسے امراض لے کر آتے ہیں، یہ انھیں ایکسرسائز اور مراقبہ سکھاتے ہیں اور وہ مریض چند ہفتوں میں صحت یاب ہو کر گھر چلے جاتے ہیں اور یہ اس وقت تک صحت مند رہتے ہیں جب تک یہ ایکسرسائز کرتے ہیں، جلیل بیگ پچھلے سولہ برسوں سے لوگوں کی مد کر رہے ہیں، یہ ہزاروں انسانوں کی زندگی بدل چکے ہیں۔

لوگوں کی زندگیاں بدلنا ان کا جنون بھی ہے اور عبادت بھی۔ یہ ہر وقت اس جنونی عبادت میں مصروف رہتے ہیں، سیلف لیس انسان ہیں، اپنی خدمات کا دعا کے سوا کوئی معاوضہ نہیں لیتے، سیکڑوں لوگ ان کے مرید ہیں، ان مریدین میں دانشور بھی شامل ہیں، بیوروکریٹ بھی اور بزنس مین بھی۔ آپ بھی اگر ان سے ملنا چاہیں تو آپ کسی صبح ریس کورس پارک میں چلے جائیں، یہ آپ کو جھیل کے کنارے اپنے مریدوں کو ایکسرسائز کراتے مل جائیں گے۔

ہم انسان دنیا میں آنے سے قبل جنت میں تھے، ہمیں وہاں تین نعمتیں حاصل تھیں، ہم اللہ کے قرب کی وجہ سے وہاں پرسکون تھے، جنت میں دکھ نہیں تھے لہٰذا ہم وہاں خوش بھی تھے اور وہاں کیونکہ مصائب، آزار اور آلام بھی نہیں تھے چنانچہ ہم وہاں کمفرٹیبل بھی تھے، ہم انسان پوری زندگی دنیا میں خوشی، سکون اور کمفرٹس تین چیزیں تلاش کرتے رہتے ہیں، یہ تلاش ہمیں اکثر اوقات بھٹکا بھی دیتی ہے، تھکا بھی دیتی ہے اور بیمار بھی کر دیتی ہے۔

دنیا کی تمام بیماریاں ذہن سے شروع ہوتی ہیں، اگر آپ کا ذہن بیمار ہے تو پھر آپ کا جسم صحت مند نہیں رہ سکتا اور نارمن موشے اور جلیل بیگ جیسے لوگ آپ کے ذہن کو صحت مند بناتے ہیں، یہ صحت دماغ سے روح اور جسم میں جاتی ہے اور یوں آپ توانائی سے بھرپور انسان بن جاتے ہیں، میں طویل جدوجہد کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں، آپ اگر اپنے آپ کو اہمیت نہیں دیتے تو آپ دنیا کی کسی چیز کو اہمیت نہیں دے سکتے، آپ اگر اپنی عزت نہیں کرتے، آپ اگر خود سے محبت نہیں کرتے اور آپ اگر اپنے آپ کو تبدیل نہیں کر سکتے تو پھر آپ دنیا کی کسی چیز کو بدل سکتے ہیں۔

آپ کسی سے محبت کر سکتے ہیں اور نہ آپ کسی کو عزت دے سکتے ہیں، انسان کا پہلا اور مضبوط ترین رشتے دار اس کا اپنا وجود ہوتا ہے، انسان اگر یہ رشتہ نہیں نبھاتا تو پھر یہ کوئی رشتہ، کوئی بندھن نہیں نبھا سکتا حتیٰ کہ یہ اللہ کا اچھا اور نیک بندہ بھی نہیں بن سکتا، انسان کی خودی اس کا خود ہے اور ہمارا خدا ہمارے اس خود میں چھپا ہوتا ہے، نارمن اور جلیل بیگ اپنی خودی میں چھپے خدا تک پہنچ گئے، آپ بھی پہنچنا چاہتے ہیں تو آپ بھی اپنے آپ سے اسٹارٹ لیں، خدا کو خود میں تلاش کریں، یہ آپ کو چند ماہ میں مل جائے گا۔
(بہ شکریہ جاوید چودھری)

01/08/2022

کیپٹن چارلی پلمپ امریکی پائلٹ تھا‘ یہ 1960 کی دہائی میں ویتنام میں پوسٹ تھا‘ اس نے 74 کام یاب فضائی آپریشن کیے اور امریکی فضائیہ کا ’’آئی کان‘‘ بن گیا‘ چارلی نے 74ویں آپریشن کے بعد چھٹی اپلائی کر دی‘ چھٹی منظور ہو گئی لیکن روانگی سے پانچ دن قبل اس کے سینئر نے اسے آخری مشن پر روانہ کر دیا۔
اس کا سامان پیک تھا‘ الوداعی ملاقاتیں بھی ہو گئی تھیں‘ خاندان امریکا میں اس کا انتظار کر رہا تھااور وہ عملاً ڈیوٹی سے آف ہو چکا تھا مگر سینئرز کے دبائو پر اس نے 75ویں آپریشن کی حامی بھر لی‘ وہ اپنے ایف۔4 فینٹم میں بیٹھ گیا‘ انجن اسٹارٹ تھااور وہ جب رن وے کی طرف نکلنے لگا تھا کہ اس نے دور سے ایک شخص کو اپنی طرف دوڑتے ہوا دیکھا‘ وہ شخص دونوں ہاتھ ہلا کر اسے روک رہا تھا۔
چارلی کے پاس وقت کم تھا‘ ٹیک آف کا سگنل مل چکا تھا‘ اس نے اس شخص کے اشارے کو اگنور کرنے کا فیصلہ کیا لیکن پھر کسی نے اس کا ہاتھ روک لیا‘ وہ شخص دوڑتا ہوا اس کے قریب آیا اور انجن کی آواز کے درمیان زور زور سے بولا ’’سر جہاز میں پیرا شوٹ نہیں ہے‘ میں آپ کے لیے پیرا شوٹ لایا ہوں‘‘ چارلی پلمپ اس وقت تک ہزار فلائیٹ کر چکا تھا اور اسے کبھی پیرا شوٹ کی ضرورت نہیں پڑی تھی۔
اس کا خیال تھا وہ جائے گا اور ماضی کی طرح دس منٹ میں واپس آ جائے گا لہٰذا اس نے ہاتھ سے ’’چل اوئے پرے ہٹ‘‘ کا اشارہ کیا مگر وہ افسر اصرار کرتا رہا‘ چارلی نے تنگ آ کر پیراشوٹ لوڈ کر لیا اور جہاز کو رن وے پر چڑھا دیا‘ وہ معمول کے مطابق اڑا‘ کمیونسٹ باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی اور واپس مڑگیا لیکن نہ جانے کسی طرف سے ایک میزائل آیا اور اس کے طیارے کے پرخچے اُڑ گئے تاہم وہ وقت پر پیرا شوٹ کھولنے میں کام یاب ہو گیا اور جنگل میں اتر گیا‘ وہ باغیوں کا علاقہ تھا‘ چارلی جنگل میں دشمن سے بچنے کی کوشش کرتا رہا لیکن بدقسمتی سے پکڑا گیا۔
اس پر شدید ٹارچر ہوا اور اسے آٹھ بائی آٹھ کے سیل میں پھینک دیا گیا‘ وہ چھ سال کمیونسٹوں کی حراست میں رہا‘ ٹارچر‘ بھوک‘ بیماری‘ اذیت‘ بے عزتی اور آٹھ بائی آٹھ کا چھوٹا سا سیل‘یہ اس کی زندگی کا مشکل ترین دور تھا‘ امریکن فوج اور اس کے خاندان نے اسے مردہ سمجھ کر دل پر پتھر رکھ لیا‘ اس کے اعزاز میں دعائیہ تقریبات تک ہو گئیں لیکن وہ چھ برس بعد زندہ سلامت واپس آ گیا۔
کیپٹن چارلی پلمپ نے واپسی کے بعد پانچ ہزار امریکن بزنس مینوں‘ صحافیوں اور دانشوروں سے خطاب کیا‘ اس نے اپنی ساری کہانی سنائی اور آخر میں انھیں بتایا‘ میں قید میں جب مایوس ہوتا تھا تو دو چیزیں ہر بار حوصلہ دیتی تھیں‘ پیراشوٹ اور تھینک یو کا ایک ادھار‘ وہ بولا‘ میں سوچتا تھا میں اس دن پیراشوٹ کے بغیر فلائی کر رہا تھا مگر ایک اجنبی شخص آیا اور اس نے مجھے زبردستی پیراشوٹ دے دیا‘ وہ اگر نہ آتا اور پیراشوٹ کے لیے اصرار نہ کرتا تو میں جہاز کے ساتھ جل کر مر جاتا‘ اللہ کو میری زندگی عزیز تھی چناں چہ اس نے عین وقت پر ایک فرشتہ میری مدد کے لیے بھیج دیا۔
مجھے یہ بات قوت دیتی تھی‘ دوسرا میں سمجھتا تھا مجھے زندگی میں کم از کم ایک بار پیرا شوٹ دینے والے سے ضرور ملنا چاہیے اور اس کا شکریہ ادا کرنا چاہیے‘ میں اگر اس شخص کا شکریہ ادا کیے بغیر فوت ہو گیا تو یہ ڈیفالٹ ہو گا چناں چہ مجھے شکریے کے اس ادھار نے بھی زندہ رکھا‘ چارلی پلمپ کا کہنا تھا‘ میں نے قید کے دوران خود کو چارلی پلمپ سے چارلی چپلن بنالیااور میں اپنی حرکتوں سے دوسرے قیدیوں کو خوش رکھنے لگا‘ چارلی پلمپ نے اس کے بعد پیراشوٹ دینے والے ٹیکنیکل افسر کو تلاش کرنا شروع کر دیا مگر وہ اسے نہ ملا‘ پندرہ سال گزر گئے‘ وہ اسے تلاش کرتا رہا۔
وہ ایک دن کسی ریستوران میں کھانا کھا رہا تھا‘ ویٹر نے اس کا نام پوچھا اور پھر بتایا‘ میں ویتنام میں آپ کا کولیگ تھا‘ میں نے ہی آپ کی آخری فلائیٹ کے وقت آپ کو پیراشوٹ دیا تھا‘ چارلی پلمپ کے ہاتھ سے فورک گر گیا‘ وہ اٹھا‘ ویٹر کو گلے سے لگایا اور ہچکیوں سے روتے ہوئے کہا’’میں تمہیں پندرہ سال سے تلاش کر رہا ہوں‘ تم نے دو مرتبہ میری جان بچائی تھی‘ جہاز اُڑانے سے پہلے اور دوسری مرتبہ قید کے دوران‘ میں روز یہ سوچ کر سوتا تھا میں ایک دن قید سے نکلوں گا اور تمہارا شکریہ ادا کروں گا‘ تم نہ ہوتے تو میں جہاز کے ساتھ مرجاتا یا پھر قید میں خودکشی کر لیتا‘‘۔
ہم سب لوگ زندگی کی چھوٹی چھوٹی مشکلوں کے دوران وہ پیرا شوٹ بھول جاتے ہیں جن کی وجہ سے ہم بڑی مصیبتوں سے بچ گئے تھے‘ ہم پیراشوٹ دینے والوں کو بھی فراموش کر بیٹھتے ہیں‘ ہم کبھی رک کر ان کا شکریہ ادا نہیں کرتے‘ بقراط نے کہا تھا ہم انسانوں کو اگر شکر اور شکریہ کی قیمت کا اندازہ ہو جائے تو ہم زندگی میں تھینک فل ہونے کے علاوہ کوئی کام نہ کریں‘ مہاتما بودھ کی پوری زندگی بھی شکر کی تبلیغ میں خرچ ہو گئی‘ بودھ جب شہزادہ تھا تو اس کے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوتا تھا ’’انسان دکھی کیوں ہوتا ہے‘‘ اس نے اپنی زندگی اس سوال کے جواب کے لیے وقف کر دی۔
سلطنت چھوڑی‘ محل چھوڑا‘ اپنی حسین ترین بیوی یوشودھرا چھوڑی‘ اپنا سات دن کا بیٹا راہول چھوڑا اور جنگلوں میں مارا مارا پھرنے لگا‘ وہ اپنے وقت کے ہر جوگی‘ ہر پنڈت اور ہر رشی کے پاس گیا مگر اس کو اپنے سوال کا جواب نہ ملا‘ اس نے آخر میں مجبور ہو کر گیا کے چھوٹے سے گائوں میں برگد کے درخت کے نیچے پناہ لے لی‘ آلتی پالتی ماری اور آسمان کی طرف دیکھ کر کہا‘ تم اگر وہاں ہو تو تمہیں میرے سوال کا جواب دینا ہو گا ورنہ میں اس درخت کے نیچے بیٹھا بیٹھا مر جائوں گا‘ وہ دھن کا پکا تھا چناں چہ ایک رات آسمان سے بجلی گری اور اسے اپنے سوال کا جواب مل گیا۔
قدرت نے اسے بتایا ’’انسان کو صرف اور صرف خواہش دکھ دیتی ہے‘ خواہش بڑی ہو گی تو دکھ بڑا ہو گا‘ خواہش چھوٹی ہو گی تو دکھ چھوٹا ہو گا‘‘ یہ پیغام خوشی کے محل کی کنجی تھا‘ بودھ نے لوگوں کو بتانا شروع کر دیا‘ خواہشیں چھوڑ دو‘ سکھ پا جائو گے‘ پورا بودھ مت اس نظریے پر کھڑا ہے‘ یہ لوگ دو چادروں‘ لکڑی کے سلیپرو‘ ایک جھولے اور بھیک کے چھوٹے سے کشکول کے ساتھ پوری زندگی گزار دیتے ہیں‘ خواہشوں کی گٹھڑی اٹھا اٹھا کر نہیں پھرتے‘ ان کی دوسری عادت شکر ہے‘ یہ روز صبح اٹھنے کے بعد اللہ کی نعمتیں گنتے ہیں اور پھر ایک ایک نعمت کا نام لے کر رب کا شکر ادا کرتے ہیں۔
یہ شکریے کو بھی ادھار سمجھتے ہیں اور اس ادھار کو کبھی اپنے ذمے نہیں رہنے دیتے‘ بودھوں کی مقدس کتاب میں لکھا ہے نروان کے بعد مہاتما بودھ کا ایک دن اپنی ریاست کپل وستو سے گزر ہوا‘ اس کی بیوی نے سنا تو اس نے اپنے بیٹے راہول کو بودھ کے پاس بھجوا دیا لیکن خود محل میں رہی‘ بودھ نے بیٹے سے پوچھا ’’تمہاری ماں کیوں نہیں آئی‘‘ اس نے جواب دیا ’’وہ کہہ رہی تھیں بودھ کے ذمے میرا ایک ادھار ہے‘ یہ اگر واقعی کسی کا ادھار نہیں رکھتا تویہ پھر میرا ادھار ادا کرنے کے لیے خود میرے پاس آئے گا‘‘ بودھ نے سنا‘ مسکرایا اور ننگے پائوں محل کی طرف روانہ ہو گیا۔
بیوی نے پردے کے پیچھے سے پوچھا‘ میرے تین سوال ہیں‘ مجھے ان کے جواب چاہییں‘ بودھ سنتا رہا‘ اس نے کہا‘ راجپوت عورتیں جنگوں میں بھی اپنے خاوندوں کو خود تیار کر کے بھجواتی ہیں لیکن آپ نے ایک معمولی سے جواب کی تلاش میں جانے سے پہلے مجھے بتانا بھی مناسب نہ سمجھا‘ آپ چوری چھپے محل سے بھاگ گئے‘ کیوں؟ بودھ نے جواب دیا‘ میرا خیال تھا میں نے اگر بتایا تو پھر میں تمہیں چھوڑ کر نہیں جا سکوں گا‘ یوشودھرا کا دوسرا سوال تھا آپ کہتے ہیں کائنات کو بنانے والا ہر جگہ موجود ہے‘ اگر وہ ہر جگہ ہے تو کیا وہ آپ کو محل میں نہیں مل سکتا تھا‘ آپ نے وہ کیوں چھوڑا؟
بودھ کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا‘ اس نے اس کے بعد پوچھا‘ آپ اپنے بیٹے راہول کو دنیا میں کیا دے کر جائیں گے‘ بودھ مسکرایا اور اپنا کشکول اپنے بیٹے کے ہاتھ میں دے دیا اور اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا‘ یہ دنیا کی سب سے بڑی سچائی‘ سب سے بڑی نعمت ہے۔بودھ بھکشو کہتے ہیں آپ شکر کرتے جائیں آپ کی نعمت اور خوشیاں بڑھتی جائیں گی اور آپ شکریہ ادا کرتے جائیں آپ کی خوشیوں اور نعمتوں میں رنگ‘ذائقہ اور خوشبو آتی جائے گی.
*نبی اکرمؐ کا فرمان ہے* " *جو شخص انسانوں کا احسان نہیں مانتا وہ اللہ کا احسان بھی تسلیم نہیں کرتا*۔"
آپ یقین کریں اگر ہمارے منہ کا لعاب سوکھ جائے‘ کان میں میل پیدا نہ ہو یا ناک میں بال نہ اگیں تو ہم کروڑوں روپے خرچ کر کے بھی یہ نعمتیں حاصل نہیں کر سکتے‘ ہمارے ٹیسٹ بڈز (ذائقہ محسوس کرنے کے سیل) میں سے اگر ایک گروپ خراب ہو جائے تو ہم ساری دنیا کی دولت دے کر بھی وہ واپس حاصل نہیں کر سکتے‘ ہماری ایک دن کی آکسیجن اور ایک دن کی روشنی کی قیمت 8 لاکھ روپے ہے اور یہ ان 16لاکھ نعمتوں میں سے صرف دو ہیں جو اللہ نے ہمیں مفت دے رکھی ہیں *مگر ہم اس کے باوجود اس کا شکر ادا نہیں کر تے‘ کیوں*؟
کیوں کہ *ہم نے آج تک ان لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کیا جن کے پیرا شوٹس کی وجہ سے ہم زندہ بھی ہیں اور زندگی میں آگے بھی بڑھ رہے ہیں*۔
*آپ یاد رکھیں انسان شکریے سے شکر تک جاتا ہے‘ آپ جب تک شکریے کی عادت نہیں ڈالتے آپ شکر کی نعمت تک نہیں پہنچتے چناںچہ آئیے آج سے شکریہ ادا کرنا شروع کرتے ہیں‘ ان سب کا شکریہ ادا کرتے ہیں جن کی کھال کے جوتے پہن کر ہم زندگی میں آگے بڑھ رہے ہیں*

15/07/2022

*ایک شخص اپنے دوستوں کی محفل میں باقاعدگی سے شریک ہوتا تھا، اچانک کسی اطلاع کے بغیر اس نے آنا چھوڑ دیا۔*

*کچھ دنوں کے بعد ایک انتہائی سرد رات میں اس محفل کے ایک بزرگ نے اس سے ملنے کا فیصلہ کیا اور اس کے گھر گئے۔*

*وہاں انہوں نےاس شخص کو گھر میں تنہا، ایک آتشدان کے سامنے بیٹھا پایا، جہاں روشن آگ جل رہی تھی۔ ماحول کافی آرام دہ تھا۔ اس شخص نے مہمان کا استقبال کیا۔ دونوں خاموشی سے بیٹھ گئے، اور آتشدان کے آس پاس رقص کرتے شعلوں کو دیکھتے رہے۔*

*کچھ دیر بعد، مہمان نے ایک لفظ کہے بغیر، جلتے انگاروں میں سے ایک کا انتخاب کیا جو سب سے زیادہ چمک رہا تھا، اس کو چمٹے کے ساتھ اٹھایا اور ایک طرف الگ رکھ دیا۔ میزبان خاموش تھا مگر ہر چیز پر دھیان دے رہا تھا۔*

*کچھ ہی دیر میں تنہا انگارے کا شعلہ بجھنے لگا، تھوڑی سی دیر میں جو کوئلہ پہلے روشن اور گرم تھا اب ایک کالے اور مردہ ٹکڑے کے سوا کچھ نہیں رہ گیا تھا۔*

*سلام کے بعد سے بہت ہی کم الفاظ بولے گئے تھے۔ روانگی سے پہلے، مہمان نے بیکار کوئلہ اٹھایا اور اسے دوبارہ آگ کے بیچ رکھ دیا، فوری طور پر اس کے چاروں طرف جلتے ہوئے کوئلوں کی روشنی اور حرارت نے اسے دوبارہ زندہ کر دیا۔*

*جب مہمان روانگی کے لئے دروازے پر پہنچا تو میزبان نے کہا: "آپ کی آمد کا، اور آپ کے اس خوبصورت سبق کے لئے بہت شکریہ، میں جلد ہی آپ کی محفل میں واپس آؤں گا"*

*اکثر محفل کیوں بجھ جاتی ہے؟؟*
*بہت آسان: "کیونکہ محفل کا ہر رکن دوسروں سے آگ اور حرارت لیتا ہے۔ گروپ کے ارکان کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ شعلے کا ایک حصہ ہیں اور ہم سب ایک دوسرے کی آگ کو روشن کرنے کے ذمہ دار ہیں اور ہمیں اپنے درمیان اتحاد کو قائم رکھنا چاہئے تاکہ محبت کی آگ واقعی مضبوط، موثر اور دیرپا ہو، اور ماحول آرام دہ رہے"۔*

*گروپ بھی ایک کنبہ کی طرح ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کبھی کبھی ہم کچھ پیغامات سے ناخوش اور ناراض ہوتے ہیں، جو بات اہم ہے وہ یہ ہے کہ اس تعلق کو قائم رکھنا چاہیے۔ ہم یہاں ایک دوسرے کی خیریت سے آگاہ رہنے کے لئے، خیالات کا تبادلہ کرنے، یا محض یہ جاننے کے لئے ہیں کہ ہم تنہا نہیں ہیں۔*

*دوسروں سے حرارت لیں اور اپنی حرارت سے دوسروں کو مستفید کریں اور سب کو دعاؤں میں یاد رکھیں*

*اس شعلہ کو زندہ رکھیں اور اللہ کی بخشی گئی سب سے خوبصورت چیز، "دوستی" کو ہمیشہ قائم و دائم رکھیں*
🌹

25/06/2022

اصل مطالعہ پاکستان اور ‏ہماری تاریخ.....پلیز ضرور پڑھ لیجئےگا
1947: قائداعظم نے پاکستان کی بنیاد رکھی۔
1948: خراب ایمبولنس میں وفات پاگئے۔

1947: امیرالدین قدوائی نے قومی پرچم ڈیزائن کیا۔
2019: بے قصور پوتے نے 20 ماہ NAB ٹارچر سیل میں کاٹے۔

1906: نواب محسن الملک نے مسلم لیگ کی بنیاد رکھی۔
1960: نواسے کو جنرل ایوب نے اذیتیں دیکر
‏مار دیا۔ (حسن ناصر)

1921: حسرت موہانی مسلم لیگ کے 13ویں صدر بنے۔
1995: پوتے کو دہشتگرد قرار دیکر مار دیا گیا۔

1948: فاطمہ جناح نے آزادئ کشمیر کیلئے پیسے دیئے۔
1964: مس جناح کو غدار قرار دیا گیا۔

1949: احمد چھاگلہ نے قومی ترانے کی دھن مرتب کی۔
1979:خاندان کو ضیا دور میں ملک چھوڑنا ‏پڑا

1949: رعنا لیاقت نے "ویمن نیشنل گارڈ" کی بنیاد رکھی
1951: رعنا لیاقت کو طوائف قرار دیا گیا۔

1940: فضل حق نے قرارداد پاکستان پیش کی ۔
1954: فضل حق غدار قرار پائے۔

1947: شاہنواز بھٹو نےجونا گڑھ کا پاکستان سے الحاق کروایا
1979: انکے بیٹےکو پھانسی اور بعد میں ان کی پوتی اور پوتوں ‏کو قتل کردیا گیا

1947 : کے-ایچ خورشید نے الحاق کشمیر کیلئے کوشش کی۔
1965: خورشید کو سڑک پر گھسیٹا گیا۔ بعد میں جیل بھی کاٹی۔

1947: لیاقت علی خان پہلے وزیراعظم منتخب ہوئے۔
1951: بےدردی سے قتل ہوئے۔ انکوائری رپورٹ جل گئی

1947: قیام پاکستان کے بعد خواجہ ناظم الدین لیگ کے پہلےصدر بنے
1964:میں ‏خواجہ صاحب غدار قرار پائے۔

1947:سردار ابراھیم نے الحاق پاکستان کی مہم چلائی
2009:انکے بیٹے غدار قرار پائے۔

1943: جی-ایم سید نے قرارداد لاھور سندھ اسمبلی میں پیش کی
1948: جی- ایم سید غدار قرار پائے۔

1947:شیخ مجیب نے مسلم سٹوڈنٹ لیگ کی بنیاد رکھی
1971:شیخ مجیب کو غدار قرار دیا گیا۔

‏1940: بیگم سلمی تصدق نے لیگ کیلئے مہم چلائی۔
1960: ایوب خان نے کرپٹ قرار دیکر نا اہل کردیا

1946:افتخارالدین نے مسلم گارڈ کیلئے آبائی گھر مختص کیا
1960:ایوب خان نے افتخارالدین کو کرپٹ قرار دیا

1946:حسین شہید سہروری نے مسلم گارڈ کیلئے ٹرینگ سنٹر بنایا
1960:حسین شھید غدار قرار پائے۔

‏1945:والئی قلات احمد یار نے قائد کو سونے اور چاندی میں تولا
2006: پوتے کو جان بچانے کیلئے ملک چھوڑنا پڑا۔

1933: چودھری رحمت علی نے پاکستان کا نام رکھا
1951:انکا سامان ضبط کرکے جلاوطن کردیا گیا۔

1939:قاضی عیسی نے بلوچستان مسلم لیگ کی بنیاد رکھی ہماری نسل کو سکول میں پڑھایا گیا کہ ‏قاضی عیسیٰ قاید اعظم کے ساتھی اور قومی ہیرو تھے اور ان کی کوششوں سے بلوچستان پاکستان میں شامل ہوا
2019: انکے بیٹے کو ملک کے لےَ خطرہ قرار دیا گیا۔
2020 : بیٹے کی دشمنی میں قاضی عیسیٰ بھی غدار قرار دئے گئے۔

Address

Multan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Home Tuition in Multan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share