Muhabbat CnG

Muhabbat CnG Fun and Masti

*ڈبل شاہ*ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا.ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر بی ایس سی اور بی ایڈ کیا،اوروزیر آباد کے قریب نظام آباد کے گورن...
24/12/2021

*ڈبل شاہ*ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا.

ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر بی ایس سی اور بی ایڈ کیا،
اور
وزیر آباد کے قریب نظام آباد کے گورنمنٹ ہائی سکول میں سائنس کا استاد بھرتی ہو گیا۔

غربت زیادہ تھی اور خواب اونچے،
وہ نوکری سے اکتا گیا۔
اس نے چھٹی لی
اور 2004ء میں دوبئی چلا گیا۔

وہ چھ ماہ دوبئی رہا۔
چھ ماہ بعد وزیر آباد واپس آگیا۔

وزیر آباد میں اس نے ایک عجیب کام شروع کیا۔

اس نے ہمسایوں سے رقم مانگی۔
اور
یہ رقم پندرہ دن میں دوگنی کر کے واپس کردی۔

ایک ہمسایہ اس کا پہلا گاہک بنا‘
یہ ہمسایہ جاوید ماربل کے نام سے ماربل کا کاروبار کرتا تھا۔

ہمسائے نے رقم دی
اور ٹھیک پندرہ دن بعد
دوگنی رقم واپس لے لی۔

محلے کے دو لوگ اگلے گاہک بنے‘
یہ بھی پندرہ دنوں میں دوگنی رقم کے مالک ہو گئے‘
یہ دو گاہک اس کے پاس پندرہ گاہک لے آئے۔

اور پھر
یہ پندرہ گاہک مہینے میں ڈیڑھ سو گاہک ہو گئے۔

یوں دیکھتے ہی دیکھتے
لوگوں کی لائین لگ گئی۔

لوگ زیورات بیچتے،
گاڑی، دکان، مکان اور زمین فروخت کرتے،
اور رقم اس کے حوالے کر دیتے۔
وہ یہ رقم دوگنی کر کے واپس کر دیتا۔

یہ کاروبار شروع میں صرف نظام آباد تک محدود تھا۔

لیکن پھر یہ وزیر آباد‘ سیالکوٹ اور گوجرانوالہ تک پھیل گیا۔
اور دیکھتے ہی دیکھتے
وہ معمولی سکول ماسٹر ارب پتی ہو گیا۔

یہ کاروبار 18 ماہ جاری رہا۔
اس شخص نے ان 18 مہینوں میں
43 ہزار لوگوں سے
7 ارب روپے جمع کر لئے.

جب کاروبار پھیل گیا
تو اس نے اپنے رشتے داروں کو بھی شامل کر لیا۔

یہ رشتے دار سمبڑیال‘ سیالکوٹ‘ گجرات اور گوجرانوالہ سے رقم جمع کرتے تھے۔
پانچ فیصد اپنے پاس رکھتے تھے،
اور باقی رقم اسے دے دیتے۔

وہ شروع میں پندرہ دنوں میں رقم ڈبل کرتا تھا۔
یہ مدت بعدازاں ایک مہینہ ہوئی۔
پھر دو مہینے
اور آخر میں 70 دن ہو گئی۔

یہ سلسلہ چلتا رہا۔
لیکن
پھر اس کے برے دن شروع ہوگئے۔

وہ خفیہ اداروں کی نظر میں آ گیا۔

تحقیقات شروع ہوئیں
تو پتہ چلا وہ شخص
*"پونزی سکیم"*
چلا رہا ہے۔

پونزی مالیاتی فراڈ کی ایک قسم ہوتی ہے ،
جس میں رقم دینے والا گاہکوں کو ان کی اصل رقم سے منافع لوٹاتا رہتا ہے۔
شروع کے گاہکوں کو دوگنی رقم مل جاتی ہے۔
لیکن
آخری گاہک سارے سرمائے سے محروم ہو جاتے ہیں۔

مجھے چند برس قبل امریکا کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔
انٹرویو کرنے والے نے ان سے سوال کیا:
"آپ کو اگر اپنی عملی زندگی دوبارہ شروع کرنی پڑے تو آپ کون سا کاروبار کریں گے ”؟

ڈونلڈ ٹرمپ نے جواب دیا:
”میں نیٹ ورکنگ کا کاروبار کروں گا۔“

میرے لئے یہ کاروبار نیا تھا‘
میں نے تحقیق کی،
پتہ چلا نیٹ ورکنگ بھی پونزی سکیم جیسا کاروبار ہے۔

اس کاروبار میں بھی گاہک کو رقم دگنی کرنے کا لالچ دے کر سرمایہ اکٹھا کیا جاتا ہے۔
یہ سرمایہ بعد ازاں میگا پراجیکٹس میں لگا دیا جاتا ہے
اور ان میگا پراجیکٹ کا منافع گاہکوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔
نیٹ ورکنگ نسبتاً اچھی پونزی ہوتی ہے،
لیکن دونوں میں شروع کے گاہک فائدے اور آخری نقصان میں رہتے ہیں۔

یہ وزیرآبادی شخص بھی اپنے گاہکوں کے ساتھ پونزی کر رہا تھا۔

یہ لوگوں کو لالچ دے کر لوٹ رہا تھا۔

خفیہ اداروں نے اس کے گرد گھیرا تنگ کر دیا.

اس دوران *”ڈیلی نیشن“* میں اس کے خلاف خبر شائع ہوگئی۔

گوجرانوالہ ڈویژن میں کہرام برپا ہوا۔
اور
یہ شخص اپریل 2007ء میں گرفتار ہو گیا۔

جی ہاں
۔آپ کا اندازہ درست ہے
یہ شخص تھا
*سید سبط الحسن
عرف ڈبل شاہ*

وہ ڈبل شاہ
جس کا شمار پاکستانی تاریخ کے سب سے بڑے فراڈیوں میں ہوتا تھا۔

اس نے صرف ڈیڑھ سال میں
تین اضلاع سے سات ارب روپے جمع کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔

آپ اب اس شخص کی چالاکی ملاحظہ کیجئے۔

یہ 2007ءمیں نیب کے شکنجے میں آ گیا۔

نیب نے اس کی جائیداد‘ زمینیں‘ اکاﺅنٹس اور سیف پکڑ لئے‘

یہ رقم تین ارب روپے بنی،
اور اس نے یہ تین ارب روپے
چپ چاپ اور بخوشی نیب کے حوالے کر دیئے.

ڈبل شاہ کا کیس چلا.

اسے یکم جولائی 2012ءکو 14 سال قید کی سزا ہو ئی.

جیل کا دن 12 گھنٹے کا ہوتا ہے
چنانچہ
ڈبل شاہ کے 14 سال عملاً 7 سال تھے.

عدالتیں پولیس حراست‘ حوالات اور مقدمے کے دوران گرفتاری کو بھی سزا سمجھتی ہیں.

ڈبل شاہ 13 اپریل 2007ءکو گرفتار ہوا تھا‘
وہ عدالت کے فیصلے تک پانچ سال قید کاٹ چکا تھا‘
یہ پانچ سال بھی
اس کی مجموعی سزا سے نفی ہو گئے‘
پیچھے رہ گئے دو سال‘

ڈبل شاہ نے محسوس کیا
چار ارب روپے کے عوض دو سال قید مہنگا سودا نہیں،

چنانچہ
اس نے پلی بارگین کی بجائے
سزا قبول کر لی.

جیل میں اچھے چال چلن‘ عید‘ شب برات اور خون دینے کی وجہ سے بھی
قیدیوں کو سزا میں چھوٹ مل جاتی ہے.

ڈبل شاہ کو یہ چھوٹ بھی مل گئی.

چنانچہ
وہ عدالتی فیصلے کے 23ماہ بعد
جیل سے رہا ہوگیا.

ڈبل شاہ 15مئی 2014ءکو
کوٹ لکھپت جیل سے رہا ہوا،
تو ساتھیوں نے گیٹ پر اس کا استقبال کیا.

یہ لوگ اسے جلوس کی شکل میں وزیر آباد لے آئے.

وزیر آباد میں
ڈبل شاہ کی آمد پر آتش بازی کا مظاہرہ ہوا.

پاکستانی تاریخ کے سب سے بڑے فراڈیئے کو
ہار پہنائے گئے.
اس پر پھولوں کی منوں پتیاں برسائی گئیں،
اور اسے مسجدوں کے لاﺅڈ سپیکروں کے ذریعے مبارک باد پیش کی گئی.

وہ ہر لحاظ سے کامیاب ثابت ہوا.

وہ سکول ٹیچر تھا.
وہ معاشرے کا تیسرے درجے کا شہری تھا.

اس نے فراڈ شروع کیا
اور 18 ماہ میں سات ارب روپے کا مالک بن گیا.

نیب نے اسے گرفتار کر لیا‘
وہ گرفتار ہو گیا‘
نیب ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے باوجود
اس سے چار ارب روپے نہیں نکلوا سکا.

سزا ہوئی،
اور وہ بڑے آرام سے
سزا بھگت کر باہر آ گیا.

اس نے قید کے دن بھی جیل کے ہسپتال اور سیکنڈ کلاس میں گزارے‘

اسے جیل میں تمام سہولتیں حاصل تھیں.

چنانچہ وہ جب رہا ہوا،
تو وہ مکمل طور پر کلیئر تھا.

اس نے اب کسی کو کچھ ادا کرنا تھا،
اور نہ ہی پولیس اور نیب اسے تنگ کر سکتی تھی.

یہ چار ارب روپے اب اس کے تھے.
یہ اس رقم کا بلا شرکت غیرے مالک تھا

ایک سابق سکول ٹیچر کےلئے
چارب ارب روپے کی رقم
قارون کے خزانے سے کم نہیں تھی.

وہ وزیرآباد سے لاہور شفٹ ہوا،
اور دنیا بھر کی سہولیات کے ساتھ شاندار زندگی گزارنے لگا.

لیکن اب
*اللہ کا نظام بھی ملاحظہ کیجئے*

سید سبط الحسن شاہ عرف ڈبل شاہ
کو رہائی کے 16 ماہ بعد
اکتوبر 2015ءمیں لاہور میں ہارٹ اٹیک ہوا.

یہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لے جایا گیا‘
اس کی طبیعت تھوڑی سی بحال ہوئی‘
یہ گھر آیا،
لیکن
پھر یہ شخص
30 اکتوبر 2015ءکو انتقال کر گیا.

یہ شخص
چار ارب روپے کا مالک ہونے کے باوجود
دنیا سے چپ چاپ رخصت ہو گیا.

ڈبل شاہ کی
ساری بے نامی جائیداد‘ خفیہ اکاﺅنٹس‘ کیش رقم‘ فیکٹریاں اور پلازے
دنیا میں رہ گئے،
اور وہ خالی ہاتھ
اگلے جہاں چلا گیا.

وہ جائیداد‘ وہ رقم‘ وہ پلازے اور وہ خفیہ اکاﺅنٹس آج کہاں ہیں؟

دنیا کا مال دنیا کے کتے چاٹ گئے۔

یہ کیا ہے؟
یہ ہماری زندگی‘ ہمارے نہ ختم ہونے والے لالچ
اور ہماری لامتناہی حرص کی اصل حقیقت ہے

ہم انسان اپنے گرد لالچ کی وسیع دیوار بناتے ہیں‘
ہم مال جمع کرتے ہیں‘
ہم دوسروں کی عمر بھر کی کمائی لوٹتے ہیں
اور قارون کی طرح خزانے بناتے ہیں.

لیکن آخر میں
ہم چپ چاپ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں.
اور یہ مال
دوسروں کے کام آ جاتا ہے.

نورجہاں کا مقبرہ
نشئیوں کی پناہ گاہ بن جاتا ہے.

اور شاہ جہاں کے تاج محل میں
انگریزوں کے گھوڑے باندھے جاتے ہیں.

ہم انسان
ان چیونٹیوں سے بھی بدتر ہیں
جو عمر بھر اپنے جثے سے بڑے دانے کھینچتی رہتی ہیں،
انہیں کھینچ‘ دھکیل کر بلوں تک لاتی ہیں،
اور جب دانوں کا انبار لگ جاتا ہے،
تو وہ ان کے سرہانے گر کر مر جاتی ہیں.
اور پھر
ان کی عمر بھر کی جمع پونجی
چوہوں کا نوالہ بن جاتی ہے.
ہم میں سے زیادہ تر لوگ چونٹیاں ہیں.
میں اکثر حیران ہوتا ہوں.

ہم انسان جانتے ہیں
*ہم خسارے کے سوداگر ہیں.*

23/12/2021

سنا ھے آنکھ میں اشکوں کا قافلہ لے کر
کسی نے بعد میں ہم کو بڑا تلاش کیا🖤🔥

😢اٹلی کی مشہور گلوکارہ (جولیا مارکین) نے 1955 میں شہر کے ایک چوراہے پر کھڑی ہو کر اپنے سینے سے بریزر نکال کر لوگوں کو مخ...
18/06/2021

😢اٹلی کی مشہور گلوکارہ (جولیا مارکین) نے 1955 میں شہر کے ایک چوراہے پر کھڑی ہو کر اپنے سینے سے بریزر نکال کر لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے بولی ۔کتنے کا لوگے__؟

😡لوگوں نے 8 ڈالر سے لیکر 3 ہزار ڈالر تک بولی دے دی__!

🌹آخر میں وہ ہنس کر بولی آپ لوگ کتنے بیوقوف ہو جو اپنی جنسی خواہش کلیئے معمولی کپڑے پر اتنے پیسے خرچ کرتے ہیں
مگر ایک غریب کا پیٹ تم لوگوں سے نہیں بھر سکتا مجھے آپ لوگوں کی انسانیت پہ سخت شرمندگی اور افسوس ہے🌹😢
نوٹ؛۔ ایسا پوسٹ سے شرم مت کرو۔کیونکہ اجکل مسلمانوں کا یہی حال ہیں 🙏🙏😢ا

29/09/2020
ایک شخص ایک دن جب اپنے گھر گیا تو اس نے دیکھا کہ اس کی بیوی اس کے چھوٹے سے بچے کے چھوٹے سے بستر پر اس کے ساتھ ہی لیٹی تھ...
29/09/2020

ایک شخص ایک دن جب اپنے گھر گیا تو اس نے دیکھا کہ اس کی بیوی اس کے چھوٹے سے بچے کے چھوٹے سے بستر پر اس کے ساتھ ہی لیٹی تھی۔ وہ شخص حیران ہوا اور بولا کہ اگر آرام کرنا ہے تو اپنے بستر پر لیٹ جاتیں۔ یہاں تو اور ہی تھک گئی ہوگی۔ اس کی بیوی اٹھ بیٹھی اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔
شوہر پریشان ہوگیا۔ بیوی نے پوچھنے پر بتایا کہ صبح وہ کچھ امداد دینے کسی یتیم خانے گئی تھی۔ وہاں اس نے دیکھا کہ چھوٹے چھوٹے سے بچے جو ابھی کچھ مہینوں کہ ہی تھے، اپنے پنگھوڑوں میں چپ چاپ تمیز سے لیٹے ہوئے تھے۔ وہ بہت خوش ہوئی اور وہاں موجود نگران خاتون سے پوچھا کہ آپ نے ان چھوٹے چھوٹے سے بچوں کی اتنی شاندار تربیت کیسے کی؟ آپ مجھے بھی مشورہ دیں۔ میرا بھی ایک چھوٹا بچہ ہے۔ اس نگران خاتون نے جواب دیا کہ ہم دعا کریں گے کہ آپ کا بچہ کبھی تمیزدار نہ ہو اور خدا اس کے لئے آپ لوگوں کو زندہ رکھے۔ یہ بچے جب یہاں آتے ہیں تو شروع کے دنوں میں بھوک لگنے پر اور ڈائپر خراب ہونے پر روتے ہیں۔ مگر ہمارا عملہ اتنا نہیں کہ بچوں کو انفرادی توجہ دے سکیں تو ہم انہیں رونے دیتے ہیں۔ کچھ ہی دنوں میں انہیں عادت ہوجاتی ہے کہ یہاں ان کے رونے سے ان کی حاجت روائی نہیں ہوگی۔ کھانا ہو یا ڈائپر تبدیل کرنا۔ ہنگامی صورتحال کے علاوہ ہر چیز مقررہ وقت پر ہی انجام پاتی ہے۔ جب وہ یہ بات سمجھ لیتے ہیں تو ان کا رونا کبھی کم اور عموما بلکل ختم ہوجاتا ہے۔ یہ بچے بھی اگر اپنے والدین کے ساتھ ہوتے تو بھوک لگنے پر، ڈائپر گندا ہونے پر، جذباتی قربت کے لئے یا کسی ایسے مسئلے کے حل کے لئے جسے ان کے ننھے ذہن سمجھنے سے قاصر ہیں، رو رو کر اپنے والدین کی توجہ خود پر مبذول کراتے۔ ان کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کرتے۔ ان کے محبت کی نرمی اور گود کی گرمی کو محسوس کرتے۔ مگر کیونکہ ایسا نہیں ہے اور ہم خود بہت مجبور ہیں۔ تو ہم انہیں رونے دیتے ہیں۔ کچھ دن بعد یہ خود ہی تھک کر چپ ہوجاتے ہیں۔
اور اسی لیے جب سے وہ عورت وہاں سے آئی تھی اپنے بچے کے ساتھ لگی بیٹھی تھی۔

اللّٰه ہر اولاد پر اُسکے والدین کا سایہ سلامت رکھے آمین

✨ایک باپ اپنی بیٹی کو شادی سےکچھ گھنٹے قبل سمجھاتے ہوئے..بیٹی یہاں تم نے جو کھایا پیا. کبھی وہاں اس بات کا ذکر نہ کرنا ک...
22/09/2020

✨ایک باپ اپنی بیٹی کو شادی سےکچھ گھنٹے قبل سمجھاتے ہوئے..بیٹی یہاں تم نے جو کھایا پیا. کبھی وہاں اس بات کا ذکر نہ کرنا کہ تم نے اپنے ماں باپ کے گھر اچھا کھایا. اور یہاں تمھہیں اچھا کھانے کو نہیں مل رہا. پیٹ میں جو چیز چلی جائے کچھ ہی گھنٹوں بعد اُس کی لذت ختم ہو جاتی ہے اور یاد ہی نہیں رہتا کہ کب ہم نے کیا کھایا تھا.
کھانے پر کبھی کسی کے ساتھ بحث نہ کرنا. جو مل جائے شکر کر کے کھا لینا.
بیٹی جس طرح تم نے اس گھر کو اپنا سمجھ کر صرف اس گھر کی تعریفیں کی ہیں. اُسی طرح اُس گھر کو اپنا سمجھ کر اُس گھر کی تعریفیں کرنا. کبھی بُرائی نہ کرنا. بے شک اب وہ ہی تمھارا اپنا گھر ہے..
بیٹی تم نے ماسٹر کیا ہے مگر اپنی پڑھائی کا رعب اپنے سسرال والوں پر مت استعمال کرنا. کبھی اُن کو یہ نہ کہنا کہ میں آپ سے زیادہ جانتی ہوں. بے شک اپنے گھر کے معاملے میں وہ تم سے زیادہ جانتے ہیں. کیوں کہ ہر گھر کے اپنے الگ اصول ہوتے ہیں..
بیٹی شوہر کو کبھی پیٹھ کر کے نہ سونا. کہ اللہ پاک عورت کی اس حرکت سے ناراض ہوتے ہیں.. بیٹی روٹھنا اس حد تک کہ وہ اگر ایک دفعہ منانے کی کوشش کرے تو مان جانا. اور اگر وہ لاکھ دفعہ بھی نہ مانے تو ایک لاکھ ایک دفعہ پھر کوشش کرنا..
کبھی شوہر سے ایسی ڈیمانڈ مت کرنا جو اُس کی حیثیت سے بڑھ کر ہو. اُس کی مجبوریوں کا احساس کرنا.. جب تک سسرال والوں کے اصولوں کو سمجھ نہ جاؤ. تب تک اگر کسی چیز کو استمال کرنا ہو تو اُن سے پوچھ کر استمال کرنا.
اُس گھر کے سبھی افراد کا خیال ایسے رکھنا. جیسے اس گھر کے افراد کا رکھتی تھی.
میری یہ نصیحتیں اپنے دوپٹے سے باندھ لینا.
شادی کے بعد نہ تو تمھارے سر سے دوپٹا سرکنے پائے.. اور نہ ہی یہ نصیحتیں.

Address

202 Multan Cantt
Multan
60000

Telephone

03334003639

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhabbat CnG posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Muhabbat CnG:

Share