A1finder.biz

A1finder.biz Call 0340 700 1000 or visit www.a1finder.biz to find the best services (hotels, rent a car, photographer & many more)

Plzzz ;-)
02/06/2016

Plzzz ;-)

15/05/2016

HEART TOUCHING..HAPPY MARRIED LIFE
کالج میں Happy married life پر ایک workshop ہو رہی تھی، جس میں کچھ شادی شدہ جورے حصہ لے رہے تھے. جس وقت پروفیسر اسٹیج پر آئے انہوں نوٹ کیا کہ تمام شادی شدہ لوگ لطیفے سن کر ہنس رہے تھے ...
یہ دیکھ کر پروفیسر نے کہا کہ چلو پہلے ایک Game کھیلتے ہیں ....... اس کے بعد اپنے موضوع پر باتیں کریں گے.
سب خوش ہو گئے ...... اور کہا کونسا Game؟
پروفیسر نے ایک married لڑکی کو کھڑا کیا
اور کہا کہ آپ بلیک بورڈ پہ ایسے 25- 30 لوگوں کے نام لکھو جو تمہیں سب سے زیادہ پیارے ہوں.
لڑکی نے پہلے تو اپنے خاندان کے لوگوں کے نام لکھے، پھر اپنے سگے رشتہ دار، دوستوں، پڑوسی اور ساتھیوں کے نام لکھ دیے ...
اب پروفیسر نے اس میں سے کوئی بھی کم پسند والے 5 نام مٹانے کے لیے کہا ...
لڑکی نے اپنے دوستوں کے نام مٹا دیے ..
پروفیسر نے اور 5 نام مٹانے کے لیے کہا ...
لڑکی نے تھوڑا سوچ کر اپنے پڑوسيو کے نام مٹا دیے ...
اب پروفیسر نے اور 10 نام مٹانے کے لیے کہا ...
لڑکی نے اپنے سگے رشتہ داروں کے نام مٹا دیے ...
اب بورڈ پر صرف 4 نام بچے تھے جو اس کے ممي- پاپا، شوہر اور بچے کا نام تھا ..
اب پروفیسر نے کہا اس میں سے اور 2 نام مٹا دو ...لڑکی کشمکش میں پڑ گئی بہت سوچنے کے بعد بہت دکھی ہوتے ہوئے اس نے اپنے ممي- پاپا کا نام مٹا دیا ...
تمام لوگ دنگ رہ گئے لیکن پرسکون تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ کھیل صرف وہ لڑکی ہی نہیں کھیل رہی تھی بلکی ان کے دماغ میں بھی یہی سب چل رہا تھا.
اب صرف 2 ہی نام باقی تھے ..... شوہر اور بیٹے کا ...
پروفیسر نے کہا اور ایک نام مٹا دو ...
لڑکی اب سہمی سی رہ گئی ........ بہت سوچنے کے بعد روتے ہوئے اپنے بیٹے کا نام کاٹ دیا ...
پروفیسر نے اس لڑکی سے کہا تم اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ جاؤ ... اور سب کی طرف غور سے دیکھا ..... اور پوچھا: کیا کوئی بتا سکتا ہےکہ ایسا کیوں ہوا کہ صرف شوہر کا ہی نام بورڈ پر رہ گیا.
کوئی جواب نہیں دے پایا .......... تمام لوگر منہ لٹکا کر بیٹھے تھے ...
پروفیسر نے پھر اس لڑکی کو کھڑا کیا اور کہا ......... ایسا کیوں؟
جس نے تمہیں جنم دیا اور پال پوس کر اتنا بڑا کیا ان کا نام بھی تم نے مٹا دیا ........ اور تو اور تم نے اپنی کوکھ سے جس بچے کو جنم دیا اس کا بھی نام تم نے مٹا دیا؟
لڑکی نے جواب دیا .......
کہ اب مممي- پاپا بوڑھے ہو چکے ہیں، چند سال کے بعد وہ مجھے اور اس دنیا کو چھوڑ کے چلے جائیں گے ...... میرا بیٹا جب بڑا ہو جائے گا تو ضروری نہیں کہ وہ شادی کے بعد میرے ساتھ ہی رہے.
لیکن میرے شوہر جب تک میری جان میں جان ہے تب تک میرا نصف جسم بن کے میرا ساتھ نبھائینگے اس لئے میرے لئے سب سے عزیز میرے شوہر ہیں ..
پروفیسر اور باقی اسٹوڈنٹ نے تالیوں کی گونج سے لڑکی کو سلامی دی ...
پروفیسر نے کہا
تم نے بالکل صحیح کہا کہ آپ اور سب کے بغیر رہ سکتی ہو
پر اپنے نصف عضو یعنی اپنے شوہر کے بغیر نہیں رہ سکتی
مذاق مستی تک تو ٹھیک ہے
پر ہر انسان کا اپنی زندگی کے ساتھی ہی اس کو سب سے زیادہ عزیز ہوتا ہے ...
یہ لفظی سچ ہے

01/05/2016

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ''ﺑﮯﻭﻗﻮﻑ'' ﮨﮯ, ﺍﺳﮯ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﻭ.
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﮭﯽ ۔ ۔ ۔ ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ, ﺧﯿﺮ ﺣﮑﻢ ﺗﮭﺎ,ﻋﻤﻞ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ '' ﺑﮯﻭﻗﻮﻑ '' ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺳﻨﮑﮍﻭﮞ ﻟﻮﮒ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺩﺋﯿﮯ ﮔﺌﮯ. ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺳﺐ ﮐﺎ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ''ﻓﺎﺋﻨﻞ ﺭﺍﺅﻧﮉ '' ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ '' ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺑﮯﻭﻗﻮﻑ'' ﻗﺮﺍﺭ ﭘﺎﯾﺎ. ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﻠﮯ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﮨﺎﺭ ﺍﺗﺎﺭ ﮐﺮ ﺍﺱ ''ﺑﮯﻭﻗﻮﻑ'' ﮐﮯ ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ. ﻭﮦ ''ﺑﮯ ﻭﻗﻮﻑ'' ﺍﻋﺰﺍﺯ ﭘﺎﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻟﻮﭦ ﮔﯿﺎ...
ﺍﮎ ﻋﺮﺻﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ''ﺑﮯﻭﻗﻮﻑ'' ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﺧﯿﺎﻝ ﺳﮯ ﺁﯾﺎ. ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻣﺮﺽ ﺍﻟﻤﻮﺕ ﻣﯿﮟ ﺁﺧﺮﯼ ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺍﺭ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ, ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﺫﻥِ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﺑﺨﺶ ﺩﯾﺎ۔ ﺑﮯﻭﻗﻮﻑ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺍ. ''ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ ﺁﭖ ﻟﯿﭩﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﯿﮟ''؟
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ ''ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﺍﭨﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ, ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﻔﺮ ﭘﺮ ﺟﺎﺭﮨﺎﮨﻮﮞ, ﺟﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﯽ, ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﮞ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯﻟﯿﮯ ﻟﯿﭩﻨﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮬﮯ.''
ﺑﮯﻭﻗﻮﻑ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ''ﻭﺍﭘﺴﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﻧﺎ? ﮐﯿﺎ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻭﮨﯿﮟ ﺭﮨﻨﺎ ﮬﮯ?"
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﮯﺑﺴﯽ ﺳﮯ ﺑﻮﻻ ''ﮨﺎﮞ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻭﮨﯿﮟ ﺭﮨﻨﺎ ﮬﮯ.'' ''ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺗﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﯾﻘﯿﻨﺎََ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﻣﺤﻞ, ﺑﮍﮮ ﺑﺎﻏﯿﭽﮯ, ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻏﻼﻡ, ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﺑﯿﮕﻤﺎﺕ, ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﻣﺎﻥِ ﻋﯿﺶ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮬﻮﮔﺎ." ﺑﮯﻭﻗﻮﻑ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ.
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﭼﯿﺦ ﻣﺎﺭﮐﺮ ﺭﻭﭘﮍﺍ۔ ﺑﮯﻭﻗﻮﻑ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ,ﺍﺳﮯ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮧ ﺁﺋﯽ ﮐﮧ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯿﻮﮞ ﺭﻭﭘﮍﺍ ﮬﮯ۔ ''ﻧﮩﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺟﮭﻮﻧﭙﮍﯼ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺎﺋﯽ". ﺭﻭﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻧﮑﻠﯽ.
''ﮐﯿﺎ, ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮬﮯ. ﺁﭖ ﺳﺐ ﺳﮯﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﻤﺠﮫ ﺩﺍﺭ ﮨﯿﮟ, ﺟﺐ ﺁﭘﮑﻮ ﭘﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻭﮨﺎﮞ ﺭﮨﻨﺎ ﮬﮯ ﺿﺮﻭﺭ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﮬﻮﮔﺎ'' ۔ ﺑﮯﻭﻗﻮﻑ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ.
''ﺍﻓﺴﻮﺱ, ﺻﺪ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ". ﺁﮦ, ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﻼ ﮐﺎ ﺩﺭﺩ ﺗﮭﺎ. ﺑﮯ ﻭﻗﻮﻑ ﺍﭨﮭﺎ, ﺍﭘﻨﮯ ﮔﻠﮯ ﺳﮯ ﻭﮦ ﮨﺎﺭ ﺍﺗﺎﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ '' ﺗﻮ ﭘﮭﺮﺣﻀﻮﺭ, ﺍﺱ ﮨﺎﺭ ﮐﮯ ﺣﻖ ﺩﺍﺭ ﺁﭖ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﯿﮟ

Greatt..
30/04/2016

Greatt..

26/10/2015

Very nice lesson

Wts Next..
24/10/2015

Wts Next..

20/10/2015
29/09/2015
SubhanAllah
22/09/2015

SubhanAllah

Address

Multan

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when A1finder.biz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to A1finder.biz:

Share