Saym Traders

Saym Traders 20 years of experience in the cotton industry, we bridge the gap between ginners, spinners, & textile manufacturers.

We specialize in sourcing premium raw cotton delivering unparalleled market intelligence & personalized sourcing solutions.

23/05/2026
22/05/2026

COTTON CULTIVATION IN PUNJAB (2026) - BAHAWALPUR DIVISION

A review meeting on the current cotton situation in Bahawalpur Division was held under the chairmanship of.

During the briefing, it was shared that a target of 1.695 million acres has been set for cotton cultivation in Bahawalpur Division, out of which 80% has already been achieved. The current condition of the cotton crop was described as satisfactory.

It was further highlighted that more than 50% of Punjab’s total cotton cultivation target will be achieved from Bahawalpur Division, reflecting the agricultural importance of the region.

The Secretary Agriculture Punjab directed all concerned departments to ensure the achievement of 100% cotton cultivation target by May 31 and further accelerate field activities related to cotton crop management and farmer guidance.

🌿 Strong Cotton — Strong Economy 🇵🇰

22/05/2026

COTTON CULTIVATION IN PUNJAB - 2016, MULTAN & DGKHAN DIVISION

A review meeting on the current cotton situation in Multan and Dera Ghazi Khan Divisions was held under the chairmanship of Secretary Agriculture Punjab in Multan.

During the briefing, it was informed that a target of 775,000 acres has been set for cotton cultivation in Multan Division, while 81% of the target has already been achieved so far.

It was further shared that in Dera Ghazi Khan Division, a target of 425,000 acres has been fixed for cotton cultivation, and 93% of the target has already been successfully achieved.

The ongoing measures for the revival of cotton cultivation and strengthening Pakistan’s textile sector are showing positive results.

🌿 Strong Cotton — Strong Economy 🇵🇰

22/05/2026

پنجاب میں کپاس کی کاشت (2026) - بہاولپور ڈویژن

سیکرٹری زراعت پنجاب کی زیر صدارت بہاولپور ڈویژن میں کپاس کی موجودہ صورتحال کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ بہاولپور ڈویژن میں 16 لاکھ 95 ہزار ایکڑ رقبہ پر کپاس کی کاشت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ اب تک 80 فیصد ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔ کپاس کی فصل کی موجودہ صورتحال تسلی بخش قرار دی گئی۔

مزید بتایا گیا کہ صوبہ پنجاب میں کپاس کی مجموعی کاشت کے ہدف کا 50 فیصد سے زائد حصہ بہاولپور ڈویژن سے حاصل کیا جائے گا، جو اس خطے کی زرعی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

سیکرٹری زراعت پنجاب نے ہدایت جاری کی کہ 31 مئی تک کپاس کی کاشت کے 100 فیصد ہدف کے حصول کو یقینی بنایا جائے اور فیلڈ فارمیشنز کپاس کی نگہداشت اور کسان رہنمائی کیلئے جاری سرگرمیوں میں مزید تیزی لائیں۔

🌿 مضبوط کپاس — مضبوط معیشت 🇵🇰

22/05/2026

پنجاب میں کپاس کی کاشت - 2016, ملتان اور ڈیرہ غازیخان ڈویژن

سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو کی زیر صدارت ملتان میں کپاس کی موجودہ صورتحال بارے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ملتان ڈویژن میں 7 لاکھ 75 ہزار ایکڑ رقبہ پر کپاس کی کاشت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ اب تک 81 فیصد ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ ڈی جی خان ڈویژن میں 4 لاکھ 25 ہزار ایکڑ رقبہ پر کپاس کی کاشت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور وہاں 93 فیصد ہدف کامیابی سے حاصل کر لیا گیا ہے۔

کپاس کی بحالی اور پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کو مضبوط بنانے کیلئے جاری اقدامات مثبت نتائج دے رہے ہیں۔

🌿 مضبوط کپاس — مضبوط معیشت 🇵🇰

22/05/2026

Copy/Paste

*کاٹن کا جنازہ ہے ذرا جھوم سے نکلے*

حکومت پہلے ہی کاٹن کی فصل کو تباہ کرنے کے درپے ہے کاٹن زونز میں دھڑا دھڑ شوگر ملیں لگائی جارہی ہیں رحیم یار خان اور ۔۔۔۔ میں شوگر ملیں لگ رہی ہیں۔
کاٹن کی فصل ڈیڑھ لاکھ گانٹھوں سے تشویشناک حد تک کم ہوکر 55 لاکھ گانٹھوں کی انتہائی کم سطح پر آگئی ہے بلکہ کاشتکار بھی کپاس کی فصل اگانے سے گریز کررہے ہیں۔ اگر صورت حال ایسی ہی رہی تو کپاس کی پیداوار اور کم ہو جائے گی کیونکہ کپاس کی جگہ گنے کی بوائی کی جا رہی ہے۔
کپاس کی فصل کم ہونے کی وجہ سے جننگ فیکٹریاں بھی گاہے گاہے کم ہوتی جا رہی ہیں شہروں کے نزدیک کاٹن فیکٹریاں بھی پلاٹوں میں تبدیل ہو رہی ہیں شہر کے نزدیک زرعی رقبوں پر بھی رہائشی سوسائٹیاں قائم ہو رہی ہیں جنرز کے کہنے کے مطابق توانائی کی بلند قیمتیں اور حکومت کی جانب سے جننگ فیکٹریوں پر بے تحاشہ ٹیکس کے بوجھ کی وجہ سے جننگ فیکٹریاں چلانا بہت مشکل ہو گیا ہے۔
ایف آئی اے FIA نے 1936 میں قائم شدہ ملک کی تاریخی کاٹن کی پہچان کاٹن ایکسچینج بلڈنگ پر ناجائز قبضہ کر لیا ہے جبکہ معزز سندھ ہائی کورٹ نے کے FIA کے عملہ کو جب تک کورٹ کا فیصلہ نہیں آجاتا کاٹن ایکسچینج بلڈنگ میں داخل ہونے سے منع کیا ہوا ہے لیکن باوجود اس کے FIA کے عملے نے 320 رجسٹرڈ کاٹن بروکرز کے دفتروں کے تالے توڑ کر دفتروں پر ناجائز قبضہ کر لیا ہے اور ان کا سامان بھی قبضے میں لیا ہوا ہے ایسی ناانصافی تو دنیا ساری میں کہیں نہیں ہوتی! کاٹن بروکرز بے یار و مددگار ہو گئے ہیں انہیں لوٹا بھی گیا ہے اور رونے بھی نہیں دیتے۔ کس سے فریاد کریں!؟ ملک کے صنعتی اور تاجروں کے ادارے PCBA - PCGA - FPCCI - KCCI - APTMA بھی اس معاملے میں خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں حالانکہ KCA کے کئی بروکرز KCCI اور FPCCI کے رجسٹرڈ ممبران بھی ہیں! اپنے ممبران کے ساتھ یہ کھلے عام ظلم ہو رہا ہے لیکن یہ معتبر ادارے بھی کچھ ان کا ساتھ نہیں دے رہے۔ کیوں؟ کوئی تو پرسان حال ہو!!!
اب 1970 میں کاٹن کی ریسرچ کے لیے قائم کی ہوئی بلڈنگ کو جم خانے میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل کئی سالوں پہلے کراچی میں کونس روڈ پر پاکستان کے وجود میں آنے سے پہلے تعمیر کی ہوئی PCRI Heritage کی خوبصورت بلڈنگ کو توڑا گیا اور KCA کے کاٹن کے گودام بھی بند بندوق کی نوک پر ہتھیا کر وہاں امریکن ایمبیسی قائم کر دی گئی جو مائ کلاچی پر قائم کی ہوئی ہے۔
علاوہ ازیں حکومت کی غلیظ پالیسوں کی وجہ سے ملک کی سب سے زیادہ زر مبادلہ کمانے والی اور سب سے زیادہ روزگار دینے والے ٹیکسٹائل سیکٹر کو بھی تباہ کیا جا رہا ہے APTMA کے مطابق 150 تا 200 ٹیکسٹائل ملز بند ہو چکی ہے دیگر ملیں بھی بند ہونے والی ہیں۔

Address

Multan
60050

Opening Hours

Monday 09:00 - 23:00
Tuesday 09:00 - 23:00
Wednesday 09:00 - 23:00
Thursday 09:00 - 23:00
Friday 09:00 - 12:00
15:00 - 23:00
Saturday 09:00 - 23:00
Sunday 09:00 - 23:00

Telephone

+923333616555

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Saym Traders posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Saym Traders:

Shortcuts

Share