19/08/2026
غصے اور خوشی میں فیصلہ — عقل کا چراغ روشن رکھیں
انسان کی زندگی فیصلوں کا مجموعہ ہے۔ ہر دن ہمیں کسی نہ کسی انتخاب کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے؛ کبھی رشتوں کے بارے میں، کبھی معاملات کے بارے میں، کبھی اپنے مستقبل کے بارے میں۔ مگر فیصلہ صرف یہ نہیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں، اصل دانائی یہ ہے کہ ہم فیصلہ کس کیفیت میں کر رہے ہیں۔ انسان کے جذبات کبھی کبھی اتنے طاقتور ہو جاتے ہیں کہ عقل کی آواز مدھم پڑ جاتی ہے۔ اسی لیے حضرت علیؓ سے منسوب یہ حکمت بھری بات نہایت قابلِ غور ہے کہ انسان کو شدید غصے اور شدید خوشی کی حالت میں اہم فیصلہ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ دونوں کیفیتیں سوچنے اور پرکھنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہیں۔
غصہ انسان کے اندر ایک ایسا طوفان پیدا کرتا ہے جس میں الفاظ تیر بن جاتے ہیں اور فیصلے تلوار۔ غصے میں انسان اکثر وہ بات کہہ دیتا ہے جسے بعد میں واپس لینے کی خواہش کرتا ہے، مگر زبان سے نکلا ہوا لفظ واپس نہیں آتا۔ اسی طرح غصے میں کیا گیا فیصلہ بعض اوقات ایک لمحے کا ردِعمل ہوتا ہے، جبکہ اس کے نتائج مہینوں یا برسوں تک انسان کے ساتھ چل سکتے ہیں۔ حضرت علیؓ کے فرامین میں بھی غصے سے بچنے اور اسے قابو میں رکھنے کی تاکید ملتی ہے۔
غصے کی حالت میں انسان مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اکثر اپنا غصہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسے سامنے والے کی غلطی بڑی اور اپنی غلطی چھوٹی دکھائی دیتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انصاف کمزور پڑ جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی رشتے میں اختلاف ہو جائے اور انسان شدید غصے میں فوراً رشتہ ختم کرنے کا فیصلہ کر لے تو ممکن ہے چند گھنٹوں بعد جب دل پرسکون ہو تو اسے احساس ہو کہ مسئلہ اتنا بڑا نہیں تھا جتنا غصے نے بنا دیا تھا۔ اس لیے خاموشی، مہلت اور ٹھنڈے دل سے سوچنا اکثر بڑے نقصان سے بچا لیتا ہے۔
لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ صرف غصہ ہی عقل کو دھندلا نہیں کرتا، شدید خوشی بھی کر سکتی ہے۔ جب انسان کسی کامیابی، محبت، تعریف، اچانک فائدے یا کسی بڑی خوشخبری سے بہت زیادہ متاثر ہوتا ہے تو وہ مستقبل کے خطرات کو نظرانداز کر سکتا ہے۔ خوشی میں انسان امکانات کو حقیقت سمجھنے لگتا ہے۔ وہ کسی شخص پر ضرورت سے زیادہ اعتماد کر سکتا ہے، کسی وعدے کو بغیر سوچے قبول کر سکتا ہے یا ایسے فیصلے کر سکتا ہے جن کے اثرات بعد میں سامنے آتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ خوشی بری چیز ہے۔ خوشی تو زندگی کی خوبصورتی ہے۔ مگر ہر جذبے کی طرح خوشی میں بھی اعتدال ضروری ہے۔ جیسے بہت تیز روشنی آنکھوں کو کچھ لمحوں کے لیے چندھیا دیتی ہے، ویسے ہی شدید جذبات بھی ذہن کی بصیرت کو عارضی طور پر متاثر کر سکتے ہیں۔ دانا انسان خوشی کو محسوس ضرور کرتا ہے، مگر فیصلہ کرتے وقت اپنے جذبات سے تھوڑا فاصلہ بھی رکھتا ہے۔
اصل دانائی شاید یہی ہے کہ جذبات کو ختم نہیں کرنا، بلکہ انہیں عقل کے تابع رکھنا ہے۔ غصہ آئے تو فوراً جواب دینے کے بجائے وقت لینا، خوشی ہو تو فوراً وعدہ کرنے کے بجائے سوچ لینا، کسی کی تعریف سے متاثر ہوں تو اس کے کردار کو بھی دیکھ لینا، اور کسی کی مخالفت سے ناراض ہوں تو اس کی بات میں موجود سچائی کو بھی تلاش کرنا—یہی متوازن شخصیت کی علامت ہے۔
زندگی میں بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جنہیں دوبارہ تبدیل کرنا آسان نہیں ہوتا۔ رشتے، اعتماد، مالی معاملات، ملازمت، شراکت داری یا کسی انسان کے بارے میں حتمی رائے—ان سب میں جذباتی کیفیت کے بجائے سنجیدہ غور و فکر ضروری ہے۔ ایک لمحے کا صبر کبھی کبھی برسوں کی پشیمانی سے بچا لیتا ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ خاموش رہنا کمزوری نہیں، بعض اوقات یہ عقل کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ ہر سوال کا جواب فوراً دینا ضروری نہیں، ہر الزام کا اسی لمحے جواب دینا ضروری نہیں، اور ہر خوشی میں فوری عہد کرنا بھی ضروری نہیں۔ کچھ فیصلوں کو وقت کی چھلنی سے گزرنے دینا چاہیے تاکہ جذبات کا غبار بیٹھ جائے اور حقیقت صاف دکھائی دے۔
حضرت علیؓ سے منسوب اس حکمت کا اصل سبق یہی ہے کہ انسان اپنے جذبات کا غلام نہ بنے۔ غصہ آئے تو خود کو سنبھالے، خوشی آئے تو خود کو متوازن رکھے، اور فیصلہ اس وقت کرے جب دل میں طوفان نہ ہو اور ذہن میں دھند نہ ہو۔
کیونکہ غصے میں انسان وہ دیکھتا ہے جو اسے برا لگتا ہے، اور شدید خوشی میں وہ دیکھتا ہے جو اسے اچھا لگتا ہے؛ مگر دانائی یہ ہے کہ انسان وہ دیکھ سکے جو حقیقت میں موجود ہے۔
اس لیے زندگی کے بڑے فیصلوں کے لیے ایک مختصر سا اصول ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے:
غصے میں ٹھہر جاؤ، خوشی میں بھی سوچ لو، اور فیصلہ ہمیشہ اُس وقت کرو جب دل پُرسکون اور عقل بیدار ہو۔
یہی ضبطِ نفس ہے، یہی دوراندیشی ہے، اور یہی وہ وصف ہے جو انسان کو ایک لمحے کے جذبات سے نکال کر پوری زندگی کی بصیرت عطا کرتا ہے۔