20/04/2024
"غلام محمد میر عرف شہید شمس الحق تحریک مزاحمت کا روشن ستارہ"
شہید شمس الحق سنور کلی پورہ تحصیل بیروہ ضلع بڈگام میں 21 ستمبر 1949 کو ثناءاللہ میر کے گھر پیدا ہوئے ۔ 1967 میں جماعت اسلامی جموں کشمیر کے ساتھ وابستگی اختیار کی، شہید شمس الحق نے گورنمنٹ ہائی سکول ماگام سے میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا ۔ جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کرتے ہی انہوں نے اسلامی لٹریچر کا خوب مطالعہ کرنا شروع کیا اور ساتھ ساتھ دعوت دین کے کام سے جی لگا کر جڑ گئے ۔ 1969ء میں ایف اے اور 1973 میں گریجویشن مکمل کرلی ۔ پھر کشمیر یونیورسٹی سے 1982 میں اردو میں ماسٹر کیا پھر عربی مضمون میں 1984 میں پوسٹ گریجویٹ کی ڈگری حاصل کی۔ شہید شمس الحق نے 1987 میں عالم فاضل کا امتحان پاس کر کے علوم دینیہ میں باقاعدہ سند حاصل کرلی تھی۔ شہید نے 1988 میں پولٹیکل سائنس میں بھی ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ شہید شمس الحق کو قرآن مقدس کے 25 پارے حفظ تھے ساتھ ہی ساتھ انہوں نے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا زخیرہ بھی حفظ کر رکھا تھا۔ شہید کے گھر قرآن الکریم ، تفاسیر قرآن ، کتب احادیث سمیت ہر طرح کی کتب کا بڑا زخیرہ ایک مکمل لائبریری کی شکل میں جمع تھا۔ اُن کے وسیع تر مطالِعے کی بدولت لوگ انہیں چلتی پھرتی لائبریری کا درجہ دیتے تھے۔ شہید نے علم و عمل کے خوبصورت کردار کے ساتھ خود کو دعوت دین کے میدان پرخار میں اتار لیا تھا۔ اپنی آبائی بستی اور بیروہ میں کئی دیگر بستیوں تک تحریکِ اسلامی اور دعوت دین کو پہنچایا۔ جگہ جگہ اسلامی درسگاہیں اور سکول قائم کرنے کے علاوہ بیروہ میں کئی بستیوں میں نماز جمعہ پڑھانے کی زمہ داری نبھاتے رہے ۔ اپنے علاقے میں مختلف مساجد و مدارس میں درس قرآن و حدیث کا منظم سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ ماگام کی جامع مسجد جس کی تعمیر اُن کی کوششوں سے ہی ممکن ہوئی تھی میں کئی برس تک خطیب کے فرائض انجام دیتے رہے۔ شہید قوم و ملت کی زبوں حالی کو دیکھ کر بڑے پیمانے پر اصلاح احوال کا کام کرنا چاہتے تھے اس کے لیئے انہوں نے جماعت اسلامی کا انتخاب کیا ۔ شہید شمس الحق نے جماعت اسلامی میں اپنا سفر ایک ہمدرد سے شروع رفیق کی حیثیت سے خوب رفاقت نبھائی پھر رکنیت پائی اور اُس کے بعد پہلے امیر تحصیل بیروہ مقرر ہوئے پھر اُنہیں سیکرٹری جنرل ضلع بڈگام بنایا گیا۔ جماعت اسلامی میں اُن کے رفقائے کار ڈاکٹر غلام نبی فائی، ڈاکٹر محمد سلطان، معروف استاد عبدالاحد فیاض، مرحوم عبدالصمد ملک آف ہانجی بگ، سیّد صلاح الدین احمد، شہید محمد اسماعیل، محمد عبداللہ وانی، شہید غلام رسول ڈار، مولانا غلام رسول مسعودی، غلام محمد کرمانی تھے۔ گویا صاحبان علم و عمل و کردار کا ایک جھرمٹ تھا جو اپنے اردگرد چھائی دین کش تاریکی میں دین سازی اور کردار سازی کی روشنیاں بکھیر رہے تھے۔ چناچہ کچھ مدت کے لیے لگا کے اخلاق سوز معاشرے میں دینی بیداری اور اقامت دین کی بتدریج عمل آوری ممکن ہو رہی ہے اور وہ دن دور نہیں جب کشمیر کی غالب مسلم آبادی اپنی اصل یعنی انقلاب اسلامی کی طرف بڑھ جائے گا گی۔
1987 میں مقبوضہ کشمیر اسمبلی الیکشن کے دوران شہید شمس الحق کو حلقہ انتخاب بیروہ سے مسلم متحدہ محاذ کا امیدوار نامزد کیا گیا۔ اُنہوں نے اِس الیکشن میں ووٹوں کی بھاری تعداد حاصل کی لیکن دہلی حکومت کی مداخلت اور ریکارڈ توڑ دھاندلی کی وجہ سے دیگر امیدواران کی طرح اُنہیں بھی جیتنے کے باوجود ہرا دیا گیا۔ یوں بھارت کی کٹھ پُتلی انتظامیہ کی اس منظم دھاندلی اور کشمیری عوام کی اجتماعی رائے پر ڈاکہ ڈالنے کے اقدام نے کشمیری عوام بالخصوص نوجوانوں کو مایوس کر دیا۔ اور ریاست جموں کشمیر میں عوامی رائے عامہ کو بندوق اور سازش سے کچل کر پُرامن جدوجہد سے حق خودارادیت کے حصول کے سارے راستے بند کر دیئے گئے ۔ جس کی وجہ سے کشمیری نوجوانوں نے بھارتی جبرواستبداد اور فوجی قبضے سے آزادی کیلئے مسلح مزاحمت کا فیصلہ کرکے مسلح مزاحمت کا فیصلہ کرلیا ۔
1990 میں جب جماعت اسلامی نے ساری صورتحال کا جائزہ لیکر عسکری جدوجہد میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تو شہید شمس الحق بغیر کسی تردد یا پس و پیش کے اپنے شاگردان اور احباب سمیت ریاست کی آزادی کیلئے عسکری جدوجہد میں شامل ہوگئے انہیں عساکرین کشمیر کی تعلیم تربیت کیلئے شعبہ کا ناظم اعلی مقرر کیا گیا۔ کچھ عرصہ بعد وہ ریاست کے سینے پر کھینچی خونی لکیر عبور کر کے آزاد کشمیر پہنچے۔ عسکری تربیت میں کچھ عرصہ گزرانے کے بعد وہ واپس اپنے آبائی وطن پلٹ گئے انہیں میدان کار زار میں حزب المجاھدین کا ناظم اعلیٰ مقرر کیا گیا کچھ عرصہ بعد انہیں حزب کے چیف کمانڈر (امیر ) کی ذمّہ داریاں سونپی گئیں ۔ اپنے قریبی ساتھیوں شہید محمد اشرف ڈار پوسٹ گریجویٹ، شہید امتیاز احمد پرے ایم ایس سی بائیو کیمسٹری، شہید اشفاق مجید وانی گریجویٹ، شہید سجاد احمد میر ایم اے عربی، ناصر الاسلام ایم اے اسلامیات، جعفر جبائی ایم فل، انجینئر شہید عمر جہانگیر ایم ایس سی، عبدالوحید شیخ بی اے، وغیرہ کے ساتھ شانہ بشانہ عسکری محاذ پر کارہائے نمایاں سرانجام دیئے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ شہید شمس الحق نہ صرف اپنی ذات کو تحریک آزادئ کشمیر کے لیئے وقف نہیں کیا بلکہ پورے خاندان کے نوجوانوں سمیت عسکری میدان میں شامل ہوئے تھے۔ اُن کے ایک ہی سگے بھائی شہید علی محمد میر، بھتیجا نذیر احمد میر، چچا زاد بھائی محمد امین میر، خالہ زاد بھائی بشیر احمد شاہ، شہید جمال الدین شیخ (رکن جماعت اسلامی اوگمونہ کنزر ٹنگمرگ) سمیت خاندان اور قریبی رشتے دار شامل تھے۔
شہید شمس الحق نے بالآخر رضائے الٰہی کی خاطر میدانِ کار زار میں فوج کے خلاف ایک خون ریز معرکے میں پنجی یارو کھاگ میں 16 دسمبر 1993 کو اپنے تین ساتھیوں عبدالقیوم شیخ (سنور کلی پورہ) خضر محمد وانی (آری پاتھن) سید عاشق (کنڈ کاند ہامہ) اپنی جان آفریں کے حوالے کرتے ہوئے جام شہادت نوش کی۔ انکی شہادت سے پوری قوم میں غم و علم کے سائے چھا گئے۔ شہید نے معض 44 سال کی مختصر عمر میں دنیاوی زندگی میں وہ کارہائے نمایاں انجام دیئے جو بہت ہی کم لوگوں کے نصیب میں ہوتے ہیں۔ شہید نے اپنی زندگی میں ہی اپنی دو کنال ملکیتی اراضی مزار شہداء کے لیے وقف کی جہاں آج اعلائے کلمۃ اللہ کی سربلندی کے لئے شہید ہوئے کئی شہداء دفن ہیں۔ شہید شمس الحق نے ایک عالم ، مربی ، استاد ، راہبر ، مجاہد ، غازی اور شہید کا خطاب پایا۔ مولانا قاری سیف الدین ؒ نے موصوف کی شہادت کی خبر سن کر کہا تھا کہ آج جماعت اسلامی کو ایک ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر میاں محمد طفیلؒ نے موصوف کے ساتھ ملاقات کے بعد اپنے تاثرات میں کہا تھا کہ واقعی اُن جیسی شخصیت تحریک اسلامی کشمیر کے ساتھ وابستہ ہے پاکستان کے سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمدؒ نے ان سے ملاقات کر کے کہا تھا کہ وہ کشمیر واپس نہ جائیں انہوں نے یہ پیشکش کی تھی کے وہ اُن کے بدلے میں اپنے بیٹے کو کشمیر کے میدان پرخار میں بھیجنے کو تیار ہیں ۔ تاہم شہید نے تنظیمی نظم کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے میدانِ کارزار کا رُخ کیا جہاں اُنہوں نے اپنی مظلوم ، محکوم اور مجبور قوم کی آزادی اور ایک اسلامی ریاست کے دفاع اور آزادی کے لئے جام شہادت نوش کیا۔ اُن کے نمازِ جنازہ میں ایک لاکھ کے قریب لوگوں نے شرکت کی ۔ جس کے بعد ان کے جسدِخاکی کو مزارِ شہداء عید گاہ سرینگر میں دفن کیا گیا۔
انااللہ وانا الیہ راجعون