Pak Afghan Border Kharlachi District Kurram

Pak Afghan Border Kharlachi District Kurram This a business page so here we can share a news about Kharlachi border

26/09/2025

26/09/2025

کرم چیمبر

26/09/2025

خرلاچی بارڈر کے خلاف من گھڑت پروپیگنڈے کی سختی سے تردید — تجارتی سرگرمیاں بلا تعطل جاری
مکانِ اشاعت: ضلع کرم — تاریخ: آج
خرلاچی پاک-افغان بارڈر ضلع کرم کے لیے ایک اہم تجارتی راہداری اور روزگار کا وسیلہ ہے۔ افسوس کے ساتھ بتایا جاتا ہے کہ مقامی تکفیری دہشت گرد عناصر نے آج سوشل میڈیا پر جھوٹا مؤقف پھیلایا کہ خرلاچی بارڈر کے ذریعے اسلحہ ملک میں داخل ہو رہا ہے۔ یہ بے بنیاد الزام نہ صرف بارڈر کے تاجروں اور ہزاروں روزگار سے وابستہ افراد کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے بلکہ ضلع کی معاشی زندگی کو بھی متاثر کرنے کی نیت رکھتا ہے۔
بارڈر پر پاک فوج کی سخت سیکیورٹی اور این ایل سی کا جدید اسکینر نصب ہے جس کی تنصیب چینی انجینیئرز نے مکمل کی ہے — بارڈر کی نگرانی اور چیکنگ کے اصول سخت اور مستند ہیں۔ ہم مقامی انتظامیہ، تاجران، اور تمام روشن ضمیروں خصوصاً میڈیا اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ خود آکر صورتحال کا از خود جائزہ لیں اور اس فتنہ انگیز پروپیگنڈے کو بے نقاب کریں۔ عوام سے بھی گزارش ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایسی افواہوں پر یقین نہ کریں اور سرکاری طور طریقہ کار یا مقامی دفاتر سے تصدیق کر کے ہی کوئی اقدام لیں۔


نیاز محمد کی کاوشوں سے خرلاچی ٹریڈ کاریڈور پر یکساں کسٹمز پالیسی کے نفاذ کا عندیہ کرم چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر...
23/08/2025

نیاز محمد کی کاوشوں سے خرلاچی ٹریڈ کاریڈور پر یکساں کسٹمز پالیسی کے نفاذ کا عندیہ

کرم چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر حاجی نیاز محمد کی انتھک جدوجہد رنگ لے آئی۔ چیف کلیکٹر کسٹمز خیبر پختونخوا مسٹر خرم خواجہ، کلیکٹر کسٹمز اپریزمنٹ مسٹر اخوندالمہدی اور ایڈیشنل کلیکٹر کسٹمز مسٹر امان اللہ ترین سے ان کی ملاقاتوں کے نتیجے میں خرلاچی ٹریڈ کاریڈور پر تاجروں کے دیرینہ مطالبات کو تسلیم کرلیا گیا۔

حاجی نیاز محمد نے کسٹمز حکام پر زور دیا کہ خرلاچی کے لیے بھی وہی پالیسی اپنائی جائے جو دیگر تجارتی روٹس اور چیک پوائنٹس پر نافذ ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ یونیفارم پالیسی نہ ہونے سے تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، حالانکہ خرلاچی کاریڈور افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے لیے سب سے قریب اور کم لاگت والا تجارتی راستہ ہے۔

پاکستان کسٹمز کے اعلیٰ افسران نے حاجی نیاز محمد کی اس بروقت اور درست نشاندہی کو نہ صرف سراہا بلکہ پیر سے عملی احکامات جاری کرنے کا عندیہ بھی دیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں یونیفارم پالیسی نافذ ہوگی جو تاجر برادری، ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد میں سنگ میل ثابت ہوگی۔

کرم چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری

04/04/2025

https://www.facebook.com/SJawadHussainKazmi?mibextid=JRoKGi
Please like and Follow

Official Page of Mr. Syed Jawad Hussain Kazmi, Group Leader (KCCI), Hon’Coordinator Federal Tax Ombudmsan (FTO), Chairman Pakistan Borders Trade Council, Advisor (FPCCI) and Member UBG Central Core Committee🎖️

Operated by Kazmi Jawad Social Media Team.

پاک افغان تجارتی گزرگاہیں خرلاچی اور انگور اڈہ ہرقسم آمدورفت کےلئے کھولنے کے امکانات روشن ہوگئے۔ تنازعات کے حل اور سرحدی...
04/04/2025

پاک افغان تجارتی گزرگاہیں خرلاچی اور انگور اڈہ ہرقسم آمدورفت کےلئے کھولنے کے امکانات روشن ہوگئے۔ تنازعات کے حل اور سرحدی گزرگاہیں کھولنے کے لئے پاک افغان جرگہ متحرک ہوگئی۔ عید کے چھٹیوں کے بعد عسکری قیادت؛ قبائلی عمائدین اور افغان جرگہ کے ساتھ مذاکرات کی شیڈول طے کردیا دیا۔ضلع کرم کے خرلاچی تجارتی گزرگاہ گزشتہ 7 ماہ سے جبکہ جنوبی وزیرستان کے انگور اڈہ تجارتی گزرگاہ ڈیڑھ سال سال ہرقسم آمدورفت کےلئے بند ہے۔ یومیہ اربوں روپے کا نقصان ہورہاہے۔

حال ہی میں افغانستان کے ساتھ طورخم سرحدی تنازعہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے والےپاک افغان جرگہ سربراہ سید جواد حسین کاظمی نے جیو نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کورکمانڈر پشاور لیفٹنٹ جنرل عمر بخاری سے ان کی قیادت میں بزنس کمیونٹی کی ملاقات ہوئی۔ جس میں کورکمانڈر نے انہیں پاک افغان سرحد کے ذریعے ہونے والے تجارت میں درپیش رکاوٹیں دور اور تنازعات کے حل کے لئے گرین سگنل دیا گیا ہے۔ سید جواد حسین کاظمی نے کہا کہ عید کی چھٹیوں کے فورا بعد ضلع کرم کے دو متحارب قبیلوں کے درمیان مذاکرات کی نشست ہوگی اور عارضی امن معاہد کو مستقل امن معاہدہ میں تبدیل کیا جائےگا ضلع کرم کے شاہراہ کو تجارتی سرگرمیوں کے لئے محفوظ بنانے کے لیے حکمت عملی بنائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خرلاچی تجارتی گزرگاہ دو قبیلوں کے درمیان زمین کے تنازعہ پر گزشتہ 7 ماہ سے ہرقسم آمدورفت کےلئے بند کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہا دونوں متحارب قبیلوں کے درمیان عارضی فائر بندی ہوگئی تاہم کرم چیمبر آف کامرس اور قبائلی عمائدین کے ہمراہ ضلع کرم میں عارضی فائر بندی معاہدہ کو مستقل امن معاہدہ میں تبدیل کیا جائےگا۔ اور اگلے ہفتہ خرلاچی بارڈر لے متصل افغان کے صوبہ خوست کے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے قائدین سے ملاقات ہوگی۔ اور پر امید ہیں کہ خرلاچی تجارتی گزرگاہ ہرقسم آمدورفت کےلئے جلد کھول دیا جائے گا۔

پاک افغان جرگہ سربراہ سید جواد حسین کاظمی نے مزید کہا کہ جنوبی وزیرستان میں پاک افغان انگور اڈہ تجارتی گزرگاہ بھی گزشتہ ڈیڑھ سال سے ہرقسم آمدورفت کےلئے بند ہے۔خرلاچی سرحد کے بحالی کے فورا بعد انگور اڈہ تجارتی گزرگاہ کی بحالی کے لئے اقدامات کے لئے پرعزم ہیں۔ پاکستان بارڈرز چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے قائدین ، اور قبائلی عمائدین کے ساتھ مل کر جنوبی وزیرستان کا دورہ کریں گے جہاں ڈیڑھ سال سے بند انگور اڈہ تجارتی گزرگاہ کو ہرقسم آمدورفت کےلئے کھولنے کے لئے فیصلہ کن اقدامات اٹھائیں گے۔ مذاکرات کے ذریعے جنوبی وزیرستان کے قبائل کے درمیان تنازعات کا حل تلاش کریں گے۔ مذاکرات کے عمل میں افغان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے قیادت کو بھی اعتماد میں لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں تجارتی گزرگاہیں بند ہونے سے یومیہ اوسطا اربوں روپے مالیت کی تجارت نہیں ہورہی ہے۔ سید جواد حسین کاظمی نے کہا کہ حال ہی میں کورکمانڈر پشاور لیفٹنٹ جنرل عمر بخاری سے ان کی قیادت میں پاکستان بزنس کمیونٹی قائدین کی اہم ملاقات ہوئی۔ جس میں صوبے کے امن وامان پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور افغانستان کے ساتھ سرحدی تجارت میں درپیش مشکلات اور تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق ہوا اور اس حوالے سے کورکمانڈر نے بزنس کمیونٹی اور پاک افغان جرگہ قائدین کو ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ کورکمانڈر پشاور لیفٹنٹ جنرل عمر بخاری نے حال ہی میں افغانستان کے ساتھ طورخم سرحدی گزرگاہ تنازعہ کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر پاک افغان جرگہ قائدین کے کردار کو خراج تحسین پیش کیا۔

16/12/2024

کُرم کے ناکام انتظامیہ کے DC کا کل Ary news کے ساتھ انٹرویو کا اٹل حقیقت

خرلاچی بارڈر پر مسلئے مسائل حل کرنے میں اہم پیش رفت۔ خرلاچی بارڈر ٹریڈ یونین کے صدر سید مبین حسین کا نارتھ وزیرستان چیمب...
08/05/2024

خرلاچی بارڈر پر مسلئے مسائل حل کرنے میں اہم پیش رفت۔ خرلاچی بارڈر ٹریڈ یونین کے صدر سید مبین حسین کا نارتھ وزیرستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر حاجی قدیراللّہ وزیر سے ملاقات۔ صدر حاجی قدیر اللّہ وزیر نے خرلاچی بارڈر پر ہر قسم کے مسائل کے حل کرنے کی یقین دہانی دی اور کہا کہ ہر فورم پر غلام حان بارڈر کے ساتھ ساتھ خرلاچی بارڈر کا بھی آواز اٹھائیں گے اور ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا۔

کشیدگی کے باوجود پاک افغان تجارتی مذاکرات اہم پیش رفتسیکرٹری پاکستانی وزارت تجارت خرم اغا کی قیادت میں چار رکنی وفد پیر ...
25/03/2024

کشیدگی کے باوجود پاک افغان تجارتی مذاکرات اہم پیش رفت

سیکرٹری پاکستانی وزارت تجارت خرم اغا کی قیادت میں چار رکنی وفد پیر کو افغان دارالحکومت کابل پہنچا ہے اور دوطرفہ تجارت اور پاکستان کے راستے افغان راہداری تجارت پر منگل کو مذاکرات ہونگے۔

مزکارت میں افغان وفد کی قیادت وزیر صنعت و تجارت نورالدین عزیزی کرینگے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے باوجود تجارت پر کابل میں ہونے و الے مذاکرات ایک مثبت پیش رفت ہے۔ پاکستانی اور افغان تاجروں کا ہمیشہ یہ مطالبہ رہا ہے کہ تجارت کو سیاسی معاملات سے دور رکھنا چاہیئے۔

مارچ 18 کو افغانستان کے پکتیکا اور خوست صوبوں میں پاکستانی فضائی کاروائی کے بعد یہ کسی بھی پاکستانی وفد کا پہلا دورہ ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ فضائی کاروائی میں حافظ گل بہادر گروپ اور کالعدم تحریک طالبان کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ افغان عبوری حکومت کا کہنا تھا کہ حملے میں عام لوگوں کا جانی نقصان ہوا تھا۔

پاکستانی وفد میں وزارت داخلہ کے ایک افسر ایڈیشنل سیکرٹری خوشال خان بھی شامل ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تجارت کے علاوہ سمگلنگ کی روک تھام پر بھی گفتگو ہوگی۔ سمگلنگ کا مسلہ پاکستان کے لئے حساس اس لئے ہے کہ اس سے پاکستانی مصنوعات کو نقصان ہوتا ہے۔ اگرچہ پاکستان سمگلنگ کی روک تھام کے لئے افغانستان کی طرف دیکھتا ہے لیکن سمگلنگ روکنا پاکستان کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کیونکہ سرحدوں پہ نگرانی کا نظام سخت کرنا پرے گا اور ان عناصر کے خلاف سخت اقدامات کرے ہونگے جو سمگلنگ میں ملوث ہوتے ہیں۔

افغانستان کے لئے مذاکرات میں سب اہم مسلہ راہداری تجارت میں درپیش مسائل کو دور کرنا ہے۔ افغانستان کو شکایت ہے کہ کراچی کے بندرگاہوں میں “ترانزٹ” تجارت معاہدے کے تحت درامد ہونے والے مال کی کلیئرنس میں زیادہ وقت لگنے کی وجہ سے ان کو مالی نقصان ہوتا ہے۔ پاکستان 1965 میں ہونے والے “افغان پاکستان ٹرانزٹ ٹرید ایگریمنٹ’ کے تحت افغان تاجروں کو درامدات کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ نظرثانی معاہدے پر 2010 میں اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلینٹن کی موجودگی میں دستخط ہوئے تھے۔

پاکستان نے گزشتہ سال اکتوبر میں کئی افغان درامدی اشیاء پر 10 فیصد محصول لگایا تھا اور اس کے علاوہ چبد اشیاء کو منفی فہرست میں شامل کیا تھا جس کا مطلب ان اشیاء کی راہداری تجارت معاہدے کے ذریعے درامد پر پابندی ہوگی۔ افغانستان کے تاجروں نے اس پر احتجاج کیا تھا۔ افغان وزارت تجارت کے ترجمان عبد السلام جواد نے ‘دی پاکستان ڈیلی’ کو بتایا کہ پاکستانی فیصلوں کی وجہ سے پاکستان کے راستے افغان ٹرانزٹ تجارت میں 50 فیصد کمی ہوئی ہے اور افغان تاجروں نے ایران کا رخ کرلیا ہے اور اب وہاں بندرگاہوں کے ذریعے اشیاء درامد کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر ٹرانزٹ تجارت متاثر ہوتی ہے تو دوطرفہ تجارت پر بھی اثر ہوتا ہے۔ پاک افغان مشترکہ صنعت وتجارت کے خیبر پختونخوا کے لئے رابطہ کار ضیاء الحق سرحدی کا کہنا ہے کہ افغانستان نے اپنی تجارت کا 70 فیصد ایران کے بندرگاہوں کو منتقل کیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں ہزاروں لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں۔ ضیاء الحق سرحدئ نے ‘دی پاکستان ڈیلی’ کو بتایا کہ پاکستان اور افغانستان نے دوطرفہ تجارت کو پانچ ارب ڈالر تک لے جانے پر اتفاق کیا تھا لیکن اب تجارت کا حجم ایک ارب ڈالر سے بھی کم ہوگئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کے لئے بہترین مارکیٹس ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کی ضروریات کسی حد تک پورا کرسکتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ تجارتی تعلقات کو سیاسی معاملات سے الگ رکھا جائے لیکن دوطرفہ تجارت کا فروغ پاکستان اور افغانستان کے اچھے تعلقات اور امن پر ہے۔ اس وقت پاکستان کے سکیورٹی خدشات اس لئے زیادہ ہیں کہ پاکستان کا کہنا ہے کہ شدت پسند گروپس افغانستان میں پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔

افغان حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ پاکستان کے خدشات کو سنجیدہ لیا جائے۔ اگرچہ افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد اور دیگر رہنما بار بار کہتے ہیں کہ افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگا لیکن پاکستان اور کوئی بھی ملک افغان عبوری حکومت کے اس موقف سے متفق ہو۔ اقوام متحدہ اور امریکا کے اکثر رپورٹس میں ٹی ٹی پی اور دیگر پاکستاان مخالف گروپس کا مسلسل ذکر کیا جاتا ہے۔

02/12/2023

Address

Punjabi Bazar
Parachinar

Telephone

+923069222303

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pak Afghan Border Kharlachi District Kurram posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share