Burhan uddin mamundzai

  • Home
  • Burhan uddin mamundzai

Burhan uddin mamundzai Insta,fb,TikTok,YouTube,Twitter
burhan ud din mamundzai
Graduated from
UPS,UCB
dream
mbbs,fcps,mcps

instafb,TikTok,YouTube,Twitter... burhanuddinmamundzai...
FBM(AMAZON)
Graduated from
UPS & UCB
Undergraduate in TGEA & QCA peshawar
Smart boy(attitude)

09/05/2026
نیچے تصویر میں جو کیچڑ آپ کو نظر آ رہا ہے وہ کوئی عام کیچڑ نہیں، بلکہ پشاور کے شاہ عالم پل کے مولانا ایاز صاحب کی مشہور ...
11/03/2026

نیچے تصویر میں جو کیچڑ آپ کو نظر آ رہا ہے وہ کوئی عام کیچڑ نہیں، بلکہ پشاور کے شاہ عالم پل کے مولانا ایاز صاحب کی مشہور زمانہ ایجاد “شوگر کنٹرول کیچڑ” ہے۔

کہا جاتا ہے کہ جب اس انقلابی دریافت کی خبر پاکستان کے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز اور امریکہ کے ممبرز کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز تک پہنچی تو دونوں اداروں نے فوراً شوگر کی پانچ سالہ اسپیشلائزیشن بند کرنے پر غور شروع کر دیا۔

اب ڈاکٹر حضرات بھی مریضوں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ دوائیاں، ٹیسٹ اور ڈائٹ پلان سب چھوڑ دیں… سیدھا شاہ عالم پل پہنچیں اور کیچڑ تھراپی کروائیں!

نوٹ: علاج سے پہلے پینٹ اوپر کر لیں، ...

15/02/2026

کھیل میں جیت سے زیادہ ہار فائدہ دیتے ہے، کیونکہ ہار انسان کو برداشت، صبر،اور استقامت سکھاتا ہے
🥹💔

یہ نقشہ ظاہر کرتا ہے کہ مغرب ایران سے کیوں خوفزدہ ہے۔  اس نقشے کو غور سے دیکھیں۔ آپ کو نظر آنے والا ہر سرخ نقطہ صرف ایک ...
18/01/2026

یہ نقشہ ظاہر کرتا ہے کہ مغرب ایران سے کیوں خوفزدہ ہے۔
اس نقشے کو غور سے دیکھیں۔
آپ کو نظر آنے والا ہر سرخ نقطہ صرف ایک بنیاد نہیں ہے، یہ ایک پیغام، ایک خطرہ اور دباؤ کا نقطہ ہے جو تقریباً ہر سمت سے ایران کو گھیرے ہوئے ہے۔

کئی دہائیوں سے، امریکی فوجی اڈے پورے مشرقِ وسطیٰ میں خاموشی سے کھڑے ہیں — خلیج سے لے کر لیونٹ تک — RAN کے گرد ایک اسٹریٹجک حلقہ مضبوط کرتے ہوئے۔
دفاع کے لیے نہیں۔
امن کے لیے نہیں۔
لیکن کنٹرول، دھمکی، اور غلبہ کے لیے**۔

پھر بھی یہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی مین اسٹریم میڈیا اونچی آواز میں چیخنا نہیں چاہتا
محصور ہونے کے باوجود ایران کھڑا ہے۔
پابندیوں کے باوجود ایران زندہ ہے۔
دھمکیوں کے باوجود ایران مزاحمت کرتا ہے۔

یہ نقشہ کمزوری نہیں دکھاتا۔
یہ ایران کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔
ایک غلطی
ایک چنگاری
اور یہ نقشہ سرخیوں میں بدل سکتا ہے جسے مغرب کبھی نہیں بھولے گا۔

‏چین نے آخری بڑی جنگ 1979 میں ویتنام کے خلاف لڑی تھی، یعنی آج سے 47 سال پہلے۔ اس کے بعد سے مکمل جنگ سے گریز کرتے ہوئے صر...
14/01/2026

‏چین نے آخری بڑی جنگ 1979 میں ویتنام کے خلاف لڑی تھی، یعنی آج سے 47 سال پہلے۔ اس کے بعد سے مکمل جنگ سے گریز کرتے ہوئے صرف محدود سرحدی جھڑپیں ہوئیں، جس نے چین کو امن کا طویل دور دیا۔

‏یہی امن چین کی معاشی ترقی کا اہم سبب بنا۔ وسائل جنگ پر ضائع ہونے کی بجائے انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی، صنعت اور گلوبلائزیشن پر لگے، جس سے معیشت تیزی سے ابھری۔

‏ماہرین کا خیال ہے کہ چین 15 سال بعد امریکہ سے فیصلہ کن جنگ لڑے گا، جبکہ امریکہ ابھی چاہتا ہے، کیونکہ دفاعی اعتبار سے اس وقت چین اتنا طاقتور نہیں جتنا امریکہ ہے۔ امریکی ائیر پاور اور نیول پاور چین سے کئی گنا طاقتور ہے جبکہ انہیں سالہاسال جنگیں لڑنے کا تجربہ بھی ہے۔ 15 سال بعد شاید چین بھی اسی لیول پر پہنچ جائے اور امریکی معیشت مزید خراب ہو جائے اس لیے دنیا کے تنازوں میں چین کا عملی طور پر کودنا امریکی مفاد کو سپورٹ کرتا ہے۔

‏ایران-اسرائیل کے معاملے میں چین نے وینزویلا کی طرح مکمل خاموشی نہیں اختیار کی۔ اسرائیل کی کارروائیوں کی شدید مذمت کی، ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا، فوری سیز فائر کی اپیل کی اور اقوام متحدہ میں سفارتی کوششیں کیں۔ تاہم، براہ راست فوجی یا بڑی مادی مدد سے گریز کیا، صرف بیانات اور سفارت کاری تک محدود رہا۔

‏وینزویلا پر امریکہ کی حالیہ کارروائی (جنوری 2026) کی بھی چین نے شدید مذمت کی، بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کہا اور Maduro کی رہائی کا مطالبہ کیا، مگر عملی مداخلت سے پرہیز کیا۔

‏چین کا مستقل انداز یہی ہے: اپنے مفادات (جیسے تیل کی سپلائی، علاقائی استحکام اور اقتصادی روابط) محفوظ رکھتے ہوئے براہ راست الجھاؤ سے بچنا۔ جبکہ امریکہ چاہتا ہے کہ جو جنگ 15 سال بعد چین سے لڑنی ہے وہ ابھی لڑی جائے تو فائدہ ہے۔

‏ایران کا معاملہ وینیزویلا سے الگ ہو گا۔ یہاں روس اور چین کی مداخلت کا امکان ہے۔ یہ جنگ دنیا کے لیے کتنی ہولناک ہو گی اس کا تصور ہی مشکل ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کیا کرے گا جو امریکہ اور چین دونوں سے تعلقات رکھنے کے لیے Tight Rope پر چل رہا ہے؟

محاصرہ:جاپان 1941 اور چین کا آنے والا امتحانتاریخ کبھی اچانک نہیں پلٹتی۔ وہ آہستہ آہستہ حالات بناتی ہے، دباؤ بڑھاتی ہے، ...
14/01/2026

محاصرہ:
جاپان 1941 اور چین کا آنے والا امتحان

تاریخ کبھی اچانک نہیں پلٹتی۔ وہ آہستہ آہستہ حالات بناتی ہے، دباؤ بڑھاتی ہے، اور پھر ایک دن کسی قوم کے سامنے صرف برے اور بدترین کی آپشن چھوڑ دیتی ہے۔ آج چین اور امریکہ کے درمیان جو تناؤ ہے، مجھے اس میں 1941 کے جاپان، اور ورلڈ وار ون کے جرمنی کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔

ابھی میں اسے جاپان کی کہانی تک محدود کرتا ہوں جس پر ABCD یعنی امریکہ، برطانیہ، چین اور ڈچ طاقتوں نے مل کر اقتصادی محاصرہ لگا دیا تھا۔ تیل کی مکمل پابندی کے بعد جاپان کے پاس زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ دو سال کا وقت بچا تھا۔ اس وقت جاپان کے سامنے دو ہی راستے بچے تھے۔ یا شکست تسلیم کر لے، یا پھر جنگ کا خطرہ مول لے۔ جاپان نے دوسرا راستہ چنا اور پرل ہاربر پر حملہ کر دیا۔

آج چین ایک مختلف مگر ملتے جلتے دباؤ میں ہے۔ اس کی توانائی کی سپلائی بڑی حد تک باہر سے آتی ہے۔ وینزویلا، ایران اور خلیجی ممالک پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔ سمندری راستے خاص طور پر Malaka Strait مستقل نگرانی میں ہیں۔ فوجی سطح پر چین کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ تائیوان کو مضبوط کیا جا رہا ہے، جاپان، کوریا اور فلپائن میں امریکی اڈے موجود ہیں، اور کوارڈ اور آکس جیسے اتحاد کھلے عام چین کو ہدف بنا رہے ہیں۔

اقتصادی محاذ پر بھی صورتحال مختلف نہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، سیمی کنڈکٹرز اور چپس پر پابندیاں ہیں۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کو عالمی دباؤ کا سامنا ہے۔ مستقبل میں مالیاتی نظام سے نکالنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔

ایسی صورتحال میں چین کے سامنے آپشنز محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر وہ امریکی مطالبات مان لیتا ہے، تائیوان اور جنوبی چین سمندر سے پیچھے ہٹتا ہے اور ٹیکنالوجی میں انحصار قبول کر لیتا ہے، تو یہ اس کے اندر قومی ذلت کے طور پر دیکھا جائے گا۔ اگر وہ متبادل راستے تلاش کرتا ہے تو روس خود پابندیوں میں ہے، جنوب مشرقی ایشیا کے راستے غیر محفوظ ہیں، اور زمینی راہیں طویل اور کمزور ہیں۔

تیسرا راستہ وہی ہے جو جاپان نے چنا تھا۔ یعنی محاصرہ توڑ کر حملہ کرنا۔ تائیوان پر قبضہ، امریکی اڈوں کو غیر مؤثر بنانا، اور سمندری راستوں پر کنٹرول کے ذریعے ایک دفاعی دائرہ قائم کرنا۔ یہ راستہ براہ راست جنگ کی طرف جاتا ہے، مگر مکمل معاشی گھٹن کے مقابلے میں بعض ریاستیں اسے کم برا سمجھتی ہیں۔

جب چین جیسے ڈیڑھ ارب آبادی والی ملک کو مکمل محاصرے کا سامنا ہو، اس کی معیشت کا دم گھٹ رہا ہو گا، تو وہ عسکری خطرہ قبول کر لے گی جیسے جاپان نے کیا تھا۔

سوال یہ ہے کہ اگر حالات اسی سمت بڑھتے رہے تو چین کیا انتخاب کرے گا۔؟

یورینیم پاورڈ آبدوزیںیورینیم 235 صرف 4 کلوگرام کی انرجی ایک ایٹمی آبدوز کی ٹربائن کو اگلے تیس سال تک بغیر رکے چلاتی رہے ...
13/01/2026

یورینیم پاورڈ آبدوزیں
یورینیم 235 صرف 4 کلوگرام کی انرجی ایک ایٹمی آبدوز کی ٹربائن کو اگلے تیس سال تک بغیر رکے چلاتی رہے گی۔۔ بغیر دوبارہ ایندھن بھرنے کے

یورینیم 235 صرف ایک کلوگرام جب نیوکلیئر فشن کے عمل سے گزرتا ہے تو یہ تقریبا دو کروڑ اور چالیس لاکھ کلو واٹ
تک انرجی پیدا کرتا ہے۔۔۔اندازا کریں کتنی ذیادہ انرجی ہے

امریکہ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی بحری قوت ہے۔ ان کے پاس تقریباً 67 ایٹمی آبدوزیں ہیں اور خاص بات یہ ہے کہ امریکہ کی تمام کی تمام آبدوزیں ایٹمی ہیں، ان کے پاس کوئی بھی روایتی (ڈیزل) آبدوز نہیں ہے۔ یہ سمندروں میں مہینوں تک غائب رہ کر دنیا کے کسی بھی کونے کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔
روس کے پاس تقریباً 31 ایٹمی آبدوزیں ہیں۔ روس کی آبدوزیں اپنی خاموشی اور گہرے پانیوں میں جانے کی صلاحیت کے لیے مشہور ہیں۔ ان کے پاس ایسی آبدوزیں بھی ہیں جو ایٹمی تارپیڈو (Torpedoes) فائر کر سکتی ہیں، جو ساحلی شہروں میں بڑی تباہی مچا سکتے ہیں۔
چین اپنی بحری طاقت کو تیزی سے بڑھا رہا ہے اور اس وقت ان کے پاس تقریباً 12 سے 16 ایٹمی آبدوزیں ہیں۔ اگرچہ یہ تعداد امریکہ سے کم ہے، لیکن چین ہر گزرتے سال کے ساتھ اپنی ٹیکنالوجی کو بہتر بنا رہا ہے تاکہ بحرِ الکاہل میں اپنا اثر و رسوخ قائم رکھ سکے۔
برطانیہ اور فرانس
ان دونوں ممالک کے پاس تقریباً 9 سے 10 ایٹمی آبدوزیں ہیں۔ ان کی بحری حکمتِ عملی کا پورا دارومدار انہی پر ہے۔ ان کی آبدوزیں مستقل طور پر سمندروں میں گشت کرتی رہتی ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں جوابی ایٹمی حملہ کیا جا سکے
بھارت کے پاس اس وقت 2 ایٹمی آبدوزیں فعال ہیں (جیسے کہ آئی این ایس ارینت)۔ بھارت اس فہرست میں سب سے نیا شامل ہونے والا ملک ہے اور وہ روس کی مدد سے مزید آبدوزیں بھی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایٹمی آبدوز اتنی خاص کیوں ہے؟
اسے ڈیزل کی ضرورت نہیں ہوتی، اس لیے یہ پوری دنیا کا چکر پانی کے اندر رہ کر لگا سکتی ہے۔
یہ پانی کے اندر انتہائی خاموشی سے حرکت کرتی ہیں، جس کی وجہ سے ریڈار یا سونار پر انہیں پکڑنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔
یہ آبدوزیں سمندر کے پانی سے خود آکسیجن اور پینے کا صاف پانی تیار کرتی ہیں، اس لیے عملہ صرف خوراک ختم ہونے کی صورت میں ہی واپس آتا ہے۔

اگر بات کریں اپنے ملک پاکستان کی تو پاکستان کے پاس کوئی بھی ایٹمی آبدوز نہیں ہے۔۔۔
وجہ کیا ہے اس پہ پھر کبھی بات کریں گے
شکریہ

#امنے ゚viralシfypシ゚viralシ

کیا خوبصورت نظارہ ہے 😍🥰  انگلینڈ آسٹریلیا ایشز سیریز کا آخری ٹیسٹ ختم ہوا تو کلوزنگ سیریمنی کے لیے کرکٹ فینز گراؤنڈ میں ...
09/01/2026

کیا خوبصورت نظارہ ہے 😍🥰
انگلینڈ آسٹریلیا ایشز سیریز کا آخری ٹیسٹ ختم ہوا تو کلوزنگ سیریمنی کے لیے کرکٹ فینز گراؤنڈ میں اگئے
تہذیب اور خوبصورت طریقے سے فینز گراؤنڈ میں سیریمنی دیکھتے رہے❤️🥰🥰🥰
نہ کوئی پچ پر آنے کی کوشش کرتا رہا اور نہ ہی کسی نے بدتمیزی کی،، بس شائستہ انداز میں سب اختتامی تقریب سے محظوظ ہوتے رہے👀💝
کاش ہمارے ہاں بھی عوام میں اتنا شعور اجائے اور اس طرح کے منظر ہمیں بھی دیکھنے کو ملیں👀😍


Follow for more

سب سے زیادہ فروخت 25 کروڑ سیٹ کا ریکارڈ اب بھی اس لیجنڈ  نوکیا 1100 کے پاس ہے ♥️اسمارٹ فونز کے روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ...
08/01/2026

سب سے زیادہ فروخت 25 کروڑ سیٹ کا ریکارڈ اب بھی اس لیجنڈ
نوکیا 1100 کے پاس ہے
♥️

اسمارٹ فونز کے روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بننے سے
پہلے، موبائل فون کی دنیا پر نوکیا کی حکمرانی تھی۔ خاص طور پر ایک ماڈل، نوکیا 1100، جو 2003 میں متعارف ہوا، عالمی سطح پر ایک سنسنی بن گیا،
خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں۔ اس کی غیر معمولی کامیابی محض اتفاق نہیں تھی، بلکہ اس کی سادگی، مضبوطی اور کم قیمت کا وہ امتزاج تھا جو اس دور میں بہت کم فونز میں نظر آتا تھا۔
اُس زمانے میں جب موبائل فون بنیادی طور پر کال اور پیغام رسانی کے لیے استعمال ہوتے تھے، نوکیا 1100 نے یہی کام بے مثال انداز میں انجام دیا اور دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کے لیے ایک قابلِ اعتماد آلہ بن گیا۔

نوکیا 1100 کا ڈیزائن اور ٹیکنالوجی جان بوجھ کر سادہ رکھی گئی تھی۔ اس میں گرد سے محفوظ کی پیڈ، ہنگامی حالات کے لیے بلٹ اِن ٹارچ، اور ایسی بیٹری تھی جو کئی دن بلکہ بعض اوقات ہفتوں تک چلتی تھی، یہ اُن علاقوں میں ایک بڑی خوبی تھی جہاں بجلی کی فراہمی غیر یقینی ہوتی تھی۔ اس کی مونوکروم اسکرین، جو آج کے اسمارٹ فونز کے مقابلے میں چھوٹی تھی، دھوپ میں بھی واضح نظر آتی تھی اور توانائی کی بچت میں بے حد مؤثر تھی۔ فون میں چند بنیادی گیمز بھی شامل تھے، جن میں مشہورِ زمانہ سانپ (Snake) نمایاں تھا، جو سادگی برقرار رکھتے ہوئے تفریح کا ذریعہ بنتا تھا۔

اُس وقت کے بہت سے فون نازک، مہنگے یا استعمال میں پیچیدہ تھے، جبکہ نوکیا 1100 کم قیمت میں غیر معمولی مضبوطی فراہم کرتا تھا، جس کی وجہ سے یہ ہر طبقے کے لوگوں کی پہنچ میں تھا۔ اس کا چھوٹا اور ایرگونومک ڈیزائن اسے گرنے، گردوغبار اور معمولی پانی سے بھی محفوظ رکھتا تھا،اسی وجہ سے اسے تقریباً ناقابلِ شکست سمجھا جاتا تھا۔ بہت سے لوگوں کے لیے نوکیا 1100 محض ایک فون نہیں بلکہ ایک ایسا ساتھی تھا جس پر ہر حال میں بھروسا کیا جا سکتا تھا۔

جب ٹچ اسکرین، ہائی ریزولوشن کیمرے، انٹرنیٹ اور بے شمار ایپس کے ساتھ اسمارٹ فونز س # # #امنے آئے، تب بھی نوکیا 1100 نے کچھ مارکیٹس میں اپنی اہمیت برقرار رکھی۔ جہاں نیٹ ورک انفراسٹرکچر محدود تھا یا قیمت ایک اہم مسئلہ تھی، وہاں اس فون کی سادگی اور کارکردگی کا کوئی مقابلہ نہیں تھا۔ وقت کے ساتھ اس چھوٹے سے فون نے ایک شاندار سنگِ میل عبور کیا: 250 ملین سے زائد یونٹس کی فروخت،یوں یہ تاریخ کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والا موبائل فون بن گیا۔

کیا اپ جانتے ہیں ہمارے گھٹنے اس کے اندر کیا ہوتے ہیں اور وہ کیسے کام کرتے ہیں تو ائیے جانتے ہیں اس بارے میںکارٹیلیج جوڑو...
08/01/2026

کیا اپ جانتے ہیں ہمارے گھٹنے اس کے اندر کیا ہوتے ہیں اور وہ کیسے کام کرتے ہیں تو ائیے جانتے ہیں اس بارے میں
کارٹیلیج جوڑوں کی حفاظت اس طرح کرتا ہے کہ وہ اپنے اندر بڑی مقدار میں پانی محفوظ رکھتا ہے، جو ایک گاڑھے، جیل جیسے مادّے میں موجود ہوتا ہے۔ اس مادّے میں قدرتی مالیکیولز ہوتے ہیں جو پانی کو اپنی طرف کھینچتے ہیں اور اسے وہیں برقرار رکھتے ہیں۔ جب جوڑ پر وزن پڑتا ہے تو کارٹیلیج کے اندر موجود پانی پھیل جاتا ہے اور دباؤ کو نرم کر دیتا ہے۔ اس طرح ہڈیاں آپس میں براہِ راست نہیں ٹکراتیں اور حرکت ہموار اور آرام دہ رہتی ہے۔

جب دباؤ بڑھتا ہے تو پانی سے بھرپور یہ تہہ اس کے خلاف مزاحمت کرتی ہے اور دبنے سے بچاتی ہے۔ جیسے ہی دباؤ کم ہوتا ہے، پانی دوبارہ اپنی جگہ واپس آ جاتا ہے اور کارٹیلیج اپنی اصل شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ہلکے سے دبنے اور پھر فوراً بحال ہو جانے کی یہی صلاحیت کارٹیلیج کو روزمرہ کی سرگرمیوں میں ایک بہترین جھٹکے جذب کرنے والا بناتی ہے۔

اس پورے نظام کے اندر مضبوط کولیجن فائبرز موجود ہوتے ہیں جو کارٹیلیج کو سہارا دیتے ہیں۔ یہ فائبرز ٹشو کو حد سے زیادہ کھنچنے سے روکتے ہیں، مگر اتنی لچک ضرور دیتے ہیں کہ قدرتی حرکت ممکن رہے۔ پانی کو سنبھالنے والی ساخت اور مضبوط کولیجن جال مل کر چلنے، دوڑنے اور جسم پر وزن ڈالنے والی ہر سرگرمی کے دوران جوڑوں کی حفاظت کرتے ہیں۔

14/12/2025

Hasti 🥹🥹🥹💔💔💔🥀🥀🥀

Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Burhan uddin mamundzai posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Business?

Share