27/02/2026
مارنے والا بھی مسلمان…
مرنے والا بھی مسلمان…
نعرہ اِدھر بھی اللہ اکبر… صدا اُدھر بھی اللہ اکبر…
مگر جب سرحد پر اندھیرا گہرا ہوتا ہے تو تکبیر کی آواز سے پہلے گولی کی گرج سنائی دیتی ہے۔
یہ صرف دو ملکوں کی جھڑپ نہیں… یہ دلوں کے پھٹنے کی آواز ہے۔
پاکستان کی مٹی بھی کلمہ پڑھتی ہے…
افغانستان کی ہوا بھی اذان دیتی ہے…
پھر یہ آگ کہاں سے آئی؟
یہ چنگاری کس نے سلگائی؟
کیوں پہاڑوں کی خاموشی کو بارود سے چیر دیا گیا؟
رات کے سناٹے میں جب اچانک گولہ پھٹتا ہے تو صرف زمین نہیں ہلتی…
ماں کا دل ہلتا ہے۔
بیوی کا یقین ٹوٹتا ہے۔
بچے کا مستقبل بکھرتا ہے۔
ایک طرف جنازہ اٹھتا ہے تو دوسری طرف بھی صفیں بنتی ہیں۔
اِدھر بھی آنکھیں سرخ… اُدھر بھی آنکھیں نم۔
اِدھر بھی پرچم میں لپٹا جسم… اُدھر بھی کفن میں بند خواب۔
پھر پرندے کیسے آئیں اور کنکر کس پہ گرائیں؟
جب دونوں طرف پیشانیاں ایک ہی رب کے سامنے جھکتی ہوں تو آسمان کس کا ساتھ دے؟
جب بھائی کے سینے میں لگی گولی کی گونج خود اپنے ہی گھر تک پہنچے تو فتح کا اعلان کون کرے؟
یہ جنگ اگر بڑھ گئی تو تاریخ صرف سرحدی تنازع نہیں لکھے گی—
وہ لکھے گی کہ ایک امت نے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی دیواریں گرا دیں۔
وہ لکھے گی کہ بارود نے عقل کو شکست دے دی۔
وہ لکھے گی کہ سیاست کی ایک چال نے ہزاروں گھروں کے چراغ بجھا دیے۔
اے حکمرانوں!
اقتدار کی میزوں پر رکھے نقشے صرف لکیریں دکھاتے ہیں،
مگر ان لکیروں کے دونوں طرف سانس لیتے انسان ہیں۔
اے عوام!
جذبات کی آگ اگر قابو سے نکل جائے تو سب سے پہلے اپنے ہی گھر کو جلاتی ہے۔
یہ وقت ہے رک جانے کا۔
یہ وقت ہے سوچنے کا۔
یہ وقت ہے کہ گولی سے پہلے گفتگو ہو، الزام سے پہلے انصاف ہو، اور غصے سے پہلے امت کا درد جاگے۔
ورنہ آنے والی نسلیں ہم سے سوال کریں گی:
جب دونوں طرف اذان ایک تھی،
جب دونوں طرف قرآن ایک تھا،
جب دونوں طرف رب ایک تھا…
تو پھر خون کیوں دو تھا؟
مارنے والا بھی مسلمان تھا…
مرنے والا بھی مسلمان تھا…
اور تاریخ چیخ چیخ کر کہتی رہے گی —
اصل شکست سرحد پر نہیں ہوئی تھی…
اصل شکست دلوں میں ہوئی تھی۔