12/10/2022
جب زندگی کی مثلث
رنج، جدائی اور موت کے تین کونوں کا نام ہو
تو میں ایک گول چکر کاٹتا ہوں
اور تمہارے نام کا پھول
دائرے کے درمیان میں رکھ دیتا ہوں
تا کہ جینے کی اُمید قائم رہے
جس طرح ہوائیں ماہر ہوتی ہیں
خوشبو کا پیام نگر نگر پہنچانے میں ،
اور بارش
زمین کی گود سیراب کرنے میں
اسی طرح تم
اُداسی کے وقیع خلا میں
رقص کرتی ہنسی کی دُھن ہو
جو افسردہ قلوب کو تازگی بخشتی ہے
مزار پر جلتے دیے
ننداسی آنکھوں سے آس کا تیل نچوڑتے ہیں
تبھی روشن ہوتے ہیں،
منت کے دھاگے
وفا کے دعووں سے لتھڑی انگلیاں مانگتے ہیں
پھر بھی اُلجھ جاتے ہیں
اِن کو سلجھانے کیلئے
محبت اور تمہاری زبان کے علاوہ
کیا کارگر ہوسکتا ہے؟
عائزہ علی خان