14/11/2025
جاوید چوہدری نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرحوم سے آخری ملاقات میں پوچھا تھا ، مشرف نے آپ کے ساتھ جو کچھ کیا ، کیا آپ کو اس پر افسوس ہے ؟ محسن پاکستان نے جواب دیا تھا ۔۔۔۔’’مجھے شروع میں بہت افسوس ہوا تھا‘ میں ہفتوں ڈپریشن میں رہا‘ مجھے اپنی حالت پر رونا بھی آ جاتا تھا‘ میں اللہ تعالیٰ سے گلہ کرتا تھا یا باری تعالیٰ میں نے اس قوم پر احسان کیا تھا مگر اس نے میرے ساتھ کیا کیا؟ لیکن پھر ایک دن میں اپنی کتابوں کی پرانی الماری صاف کر رہا تھا‘ مجھے اس میں سے اپنے ایک جرمن استاد کی تصویر ملی اور مجھے یاد آ گیا میں جب پاکستان آ رہا تھا تو اس نے مجھے روک کر کہا تھا۔ تم پاکستان نہ جاؤ‘ وہاں تمہاری قدر نہیں ہو گی‘ تم وہاں کچھ نہیں کر سکو گے اور اگر تم نے کر لیا تو تمہیں خوف ناک مثال بنا دیا جائے گا‘ مغربی طاقتیں تمہارا پیچھا کریں گی‘ تم کو ختم کرنے کی کوشش کریں گی اور اگر تم ان سے بچ گئے تو پھر تمہیں برباد کر دیا جائے گا‘ میں نے اس سے وجہ پوچھی تو استاد نے جواب دیا تھا اسرائیل کسی اسلامی ملک میں کسی جوہری سائنس دان کو برداشت نہیں کرے گا‘ یہ انھیں چن چن کر نشانہ بنائے گا اور اگر یہ اس میں کام یاب نہ ہوا تو یہ انھیں عالمی سطح پر ذلیل کر دے گا‘ کسی اسلامی ملک کے پاس ایٹم بم اسرائیل افورڈ نہیں کر سکتا‘ یہ تمہارا بھی پیچھا کرے گا‘ تمہیں کام نہیں کرنے دے گا لہٰذا تمہاری کام یابی کے امکانات صفر ہیں اور اگر تم کام یاب ہو گئے تو یہ نیوکلیئر پلانٹ تباہ کر دے گا اور تمہیں اپنے ہم وطنوں کی نظروں میں ذلیل کرا دے گا تاکہ تم جیسا کوئی دوسرا آگے نہ بڑھ سکے۔ میں نے اس وقت اپنے استاد سے اتفاق نہیں کیا تھا لیکن اس کی پیش گوئی سچ ثابت ہوئی‘ مجھ پر درجنوں اٹیکس ہوئے‘ کہوٹہ پلانٹ بھی تباہ کرنے کی کوششیں کی گئیں لیکن اللہ تعالیٰ کو پاکستان کی عزت عزیز تھی چناں چہ اسرائیل کی کوئی کوشش کام یاب نہ ہو سکی‘ یہ لوگ بڑے کینہ پرور ہیں‘ یہ ہار نہیں مانتے لہٰذا انھوں نے مجھے جنرل پرویز مشرف سے ذلیل کرا دیا مگر یہ اس کے باوجود میرا کچھ نہی بگاڑ سکے‘ لوگوں کے دلوں میں میری عزت آج تک برقرار ہے‘ اس میں ذرا برابر فرق نہیں آیا‘