21/07/2026
پریس ریلیز
سی پی ایس پی کی وظیفہ (Stipend) پالیسی پر فوری عملدرآمد کیا جائے، بصورت دیگر ہزاروں ڈاکٹروں کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا (YDA KPK)
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا حکومت خیبر پختونخوا اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ (PGMI) کی توجہ ایک انتہائی اہم معاملے کی جانب مبذول کرانا چاہتی ہے۔
کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (CPSP) نے اپنے مورخہ 30 مئی 2026 کے باضابطہ نوٹیفکیشن کے ذریعے تمام سرکاری و نجی تربیتی اداروں کو ہدایت جاری کی کہ وہ ایف سی پی ایس/ایم سی پی ایس ٹرینیز کو منظور شدہ وظیفہ (Stipend) ادا کریں۔
سی پی ایس پی کی پالیسی کے مطابق:
فرسٹ فیلوشپ (FCPS-I/MCPS) کے پہلے سال کے ٹرینی ڈاکٹر کو 104,000 روپے ماہانہ ادا کیے جائیں، جبکہ ہر سال کم از کم 10,000 روپے سالانہ اضافہ کیا جائے۔
سیکنڈ فیلوشپ (FCPS-II) کے تمام ٹرینی ڈاکٹروں کو 150,000 روپے ماہانہ وظیفہ دیا جائے۔
سی پی ایس پی نے اپنے نوٹیفکیشن میں واضح کیا ہے کہ اس پالیسی پر عملدرآمد لازمی ہے، اور اس کی خلاف ورزی متعلقہ ادارے کی اکریڈیٹیشن اور انڈکشن کو متاثر کر سکتی ہے۔
مزید برآں، RTMC پورٹل پر بھی اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تقرری نامے (Appointment Letters) اپ لوڈ کریں جن میں واضح طور پر درج ہو کہ:
فرسٹ فیلوشپ کے ٹرینی کو 104,000 روپے ماہانہ (سالانہ10فیصد انکریمنٹ کے ساتھ) ادا کیے جائیں گے۔
سیکنڈ فیلوشپ کے ٹرینی کو 150,000 روپے ماہانہ ادا کیے جائیں گے۔
اس کے باوجود PGMI پشاور نے حال ہی میں جو نئی وظیفہ پالیسی جاری کی ہے، وہ سی پی ایس پی کی منظور شدہ پالیسی سے واضح طور پر متصادم ہے۔ اس نوٹیفکیشن میں ٹرینی ڈاکٹروں کے لیے مقرر کردہ تنخواہیں سی پی ایس پی کے مقررہ کم از کم معیار سے کہیں کم ہیں، جو نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ قومی سطح پر نافذ پالیسی کی بھی خلاف ورزی ہے۔
یہ صورتحال ہزاروں ڈاکٹروں کے مستقبل کو غیر یقینی بنا رہی ہے۔ اگر ادارے سی پی ایس پی کی شرائط پوری نہیں کرتے تو اس سے انڈکشن اور تربیتی پروگرام متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے، جس کا براہِ راست نقصان مریضوں، ہسپتالوں اور صوبے کے صحت کے نظام کو ہوگا۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا حکومت خیبر پختونخوا اور پی جی ایم آئی سے پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ:
سی پی ایس پی کی منظور شدہ وظیفہ پالیسی کا فوری نفاذ یقینی بنایا جائے۔
فرسٹ فیلوشپ کے تمام ٹرینی ڈاکٹروں کو 104,000 روپے ماہانہ ادا کیے جائیں، اور ہر سال کم از کم 10,000 روپے کا اضافہ کیا جائے۔
سیکنڈ فیلوشپ کے تمام ٹرینی ڈاکٹروں کو 150,000 روپے ماہانہ وظیفہ فوری طور پر دیا جائے۔
ٹرینیز کی ڈیوٹی آورز، جاب ڈسکرپشن، آن کال ڈیوٹیز، ہفتہ وار آرام، چھٹیوں اور دیگر سروس رولز کو واضح اور تحریری شکل میں جاری کیا جائے۔
کسی بھی ڈاکٹر کو سی پی ایس پی کی مقرر کردہ کم از کم تنخواہ سے کم پر تربیت شروع کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔پوسٹ گریجویٹ ٹرینیز، جو چوبیس گھنٹے مریضوں کی خدمت کرتے ہوئے اپنی تخصصی تربیت مکمل کرتے ہیں۔ انہیں قومی پالیسی کے مطابق مناسب وظیفہ، محفوظ کام کا ماحول اور واضح سروس اسٹرکچر فراہم کرنا حکومت اور متعلقہ اداروں کی آئینی، قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ پی جی ایم آئی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان ٹرینیز کو انکا حق دے دے.
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا واضح کرتی ہے کہ سی پی ایس پی کی منظور شدہ پالیسی پر مکمل عملدرآمد تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور ٹرینی ڈاکٹروں کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
"منصفانہ وظیفہ، واضح ڈیوٹی اسٹرکچر، تربیت ہر ٹرینی ڈاکٹر کا حق ہے۔