Tax Doctor

Tax Doctor Where Tax Problems Get the Right Treatment

13/05/2026

جائیداد مالکان کیلئے بڑی خوشخبری: سیکشن 7E کالعدم قرار۔

وفاقی آئینی عدالت نے انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 7E کو غیر آئینی (Ultra Vires) قرار دیتے ہوئے ختم کر دیا ہے۔

یہ فیصلہ پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر اور جائیداد مالکان کیلئے انتہائی اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

سیکشن 7E کیا تھا؟
فنانس ایکٹ 2022 کے تحت متعارف کروائے گئے سیکشن 7E کے مطابق اگر کسی شخص کے پاس ایک سے زائد جائیداد موجود ہو، تو حکومت یہ تصور کرتی تھی کہ اس جائیداد سے اس کی مارکیٹ ویلیو کے 5 فیصد کے برابر آمدن حاصل ہو رہی ہے، چاہے حقیقت میں کوئی کرایہ یا آمدن نہ ہو۔ اسی فرضی آمدن پر وفاقی انکم ٹیکس عائد کیا جاتا تھا۔

آئینی تنازع کیا تھا؟
قانونی ماہرین کے مطابق پاکستان کے آئین کے تحت وفاق صرف "آمدن" پر ٹیکس لگا سکتا ہے، جبکہ غیر منقولہ جائیداد پر ٹیکس لگانے کا اختیار صوبوں کے پاس ہے۔ اس لیے مؤقف اختیار کیا گیا کہ سیکشن 7E دراصل پراپرٹی ٹیکس تھا جسے انکم ٹیکس کا نام دیا گیا۔

عدالت کا فیصلہ
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ سیکشن 7E وفاقی حکومت کے آئینی اختیارات سے تجاوز تھا، لہٰذا یہ قانون آئین سے متصادم ہے۔

یہ فیصلہ جائیداد مالکان کیلئے ایک بڑی قانونی اور مالی ریلیف سمجھا جا رہا ہے اور اس سے وفاق اور صوبوں کے ٹیکس اختیارات کی آئینی حد بھی واضح ہو گئی ہے۔

11/08/2025

*✅ سیکشن 175AA (فنانس ایکٹ 2025) کے تحت ایف بی آر کے نئے اختیارات*

*1. ایف بی آر اور بینکوں کا براہِ راست تعاون*

*سیکشن 175AA پُرانے راز داری کے قوانین کو ختم کرتا ہے، اور ایف بی آر اور بینکوں کو ٹیکس کے مقاصد کے لیے معلومات کا آزادانہ تبادلہ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔*

*2. سمارٹ الگورتھمز کے ذریعے ڈیٹا کا موازنہ*

*ایف بی آر بینکوں کو “ڈیٹا بیسڈ الگورتھمز” فراہم کرے گا۔*

*بینک ان الگورتھمز کے ذریعے صارفین کی بینکنگ سرگرمی کا ان کے ٹیکس ریٹرن سے موازنہ کریں گے۔*

*3. صرف مشتبہ معاملات کی اطلاع دی جائے گی*

*بینک صارف کی تمام ٹرانزیکشنز نہیں بھیجیں گے۔*

*صرف ایسی صورت میں اطلاع دی جائے گی جب بینک کا ڈیٹا ایف بی آر کے معیار سے مختلف (variance) ہو — مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ آمدنی چھپائی گئی ہے۔*
*4. رازداری کو یقینی بنایا گیا ہے*
*یہ معلومات صرف ٹیکس کے مقصد کے لیے استعمال ہوں گی اور صارف کی پرائیویسی کا خیال رکھا جائے گا۔*

*✅ سیکشن 165A کے تحت جاری بینک رپورٹنگ (2013 سے)*

*بینک پہلے ہی ایف بی آر کو درج ذیل معلومات باقاعدگی سے فراہم کرتے ہیں:*

*یومیہ نقد نکاسی: اگر کوئی فرد ایک دن میں 50,000 روپے سے زیادہ کی نقد رقم نکالے۔*

*بڑے ڈپازٹ: اگر کسی فرد کے اکاؤنٹ میں ایک ماہ میں 1 کروڑ روپے یا زیادہ جمع ہوں۔*

*کریڈٹ کارڈ کی ادائیگیاں: اگر ماہانہ 2 لاکھ روپے یا زیادہ کی ادائیگی ہو۔*

*سود پر منافع: حاصل شدہ منافع اور اس پر کٹوتی شدہ ٹیکس۔*

*کاروباری اکاؤنٹس: نئے کاروباری اکاؤنٹس کھولنے یا موجودہ اکاؤنٹس کو کاروباری میں تبدیل کرنے کی رپورٹ۔*

*دیگر اہم نکات:*

*ہر بینک کو ایف بی آر کے ساتھ رابطے کے لیے سینئر آفیسر مقرر کرنا ہوتا ہے۔*

*قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے کہ بینک یا اس کے ملازمین پر اس معلومات کی فراہمی پر کوئی مقدمہ یا کارروائی نہیں ہو سکتی۔*

*تمام معلومات خفیہ رکھی جاتی ہیں (سیکشن 216 کے تحت)۔*

*✅ اس کا مطلب کیا ہے؟*

*یہ دونوں سیکشنز (175AA اور 165A) پاکستان میں جدید اور شفاف ٹیکس نظام کی طرف ایک اہم قدم ہیں۔*

*اب ایف بی آر کے پاس ڈیجیٹل ڈیٹا کے ذریعے ٹیکس چوری کو پکڑنے کے جدید ذرائع موجود ہیں۔*

*شہریوں اور کاروباروں پر زور ہے کہ وہ اپنی آمدنی درست طریقے سے ظاہر کریں۔*

31/07/2025

فوری فائلر بغیر چالان ادا کئے.اب کوئی لیٹ فائلر نہیں ہوگا۔
ایف بی آر نے فائلر، لیٹ فائلر اور نان فائلر کے لیے قانون تبدیل کر دیا ہے۔ اب اگر آپ فائلر ہونا چاہتے ہیں تو صرف اور صرف 2025 کی ٹیکس ریٹرن فائل کریں، فوری طور پر اپ کا سٹیٹس ایکٹو فائلر ہو جائے گا اور کوئی بندہ لیٹ فائلر نہیں ہوگا۔ اب آپ کو 2024 کی ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی بھی ضرورت نہیں، 2025 کی ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کے بعد آپ بغیر اے ٹی ایل چالان ادا کیے ایکٹو فائلر ہو سکتے ہیں۔

Address

Phase 3 Hayatabad
Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tax Doctor posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share