22/05/2026
پشتون معاشرے میں بڑھتی ہوئی پسماندگی اور جہالت: اسباب، حقیقت اور حل
پشتون ثقافت اپنی مہمان نوازی، غیرت، بہادری اور خودداری کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ، جہاں دنیا علم و حکمت اور ٹیکنالوجی کی معراج پر پہنچ چکی ہے، وہیں ہمارے پشتون معاشرے کا ایک بڑا حصہ آج بھی فکری پسماندگی، توہم پرستی اور جہالت کے اندھیروں میں بھٹک رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر اکثر یہ بحث ہوتی ہے کہ "آخر پشتون معاشرے میں جہالت (بے علمی اور فکری جمود) کیوں بڑھ رہی ہے؟" یہ سوال تلخ ضرور ہے، لیکن اس کا سامنا کرنا اور اس کے سدِباب کے لیے راستے تلاش کرنا اب وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔
آئیے اس نازک موضوع کا سنجیدگی اور غیر جانبداری سے تجزیہ کرتے ہیں۔
۱. پشتون معاشرے میں فکری پسماندگی کی بنیادی وجوہات
الف) دہائیوں پر محیط جنگ اور بدامنی
پشتونخوا اور قبائلی بیلٹ پچھلی کئی دہائیوں سے جنگ، دہشت گردی اور بدامنی کا شکار رہے ہیں۔ جنگ کا سب سے پہلا وار تعلیم پر ہوتا ہے۔ ہزاروں اسکول تباہ ہوئے، اساتذہ ہجرت کر گئے، اور نسلوں سے قلم کی جگہ بندوق تھما دی گئی۔ جب امن نہیں ہوگا، تو تعلیم اور ترقی کا خواب کیسے پورا ہو سکتا ہے؟
ب) تعلیمی اداروں کا فقدان اور ناقص معیار
خاص طور پر جنوبی اضلاع (جیسے لکی مروت، بنوں، اور وزیرستان وغیرہ) میں تعلیمی ڈھانچہ انتہائی کمزور ہے۔ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی کمی، بنیادی سہولیات کا نہ ہونا اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق نصاب کا نہ ہونا پسماندگی کی بڑی وجہ ہے۔ محض "ڈگری" بانٹنا تعلیم نہیں ہے، بلکہ شعور بیدار کرنا اصل مقصد ہے جو ہمارے تعلیمی نظام سے غائب ہے۔
ج) خواتین کی تعلیم پر غیر ضروری پابندیاں
کسی بھی معاشرے کی ترقی کا دارومدار اس کی خواتین پر ہوتا ہے۔ پشتون معاشرے میں "پشتون ولی" (پشتون ضابطہ اخلاق) کی بعض غلط تشریحات کے تحت لڑکیوں کی تعلیم کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔ ایک جاہل ماں کبھی بھی ایک باشعور نسل کی تربیت نہیں کر سکتی۔ جب تک ہم آدھی آبادی کو اندھیرے میں رکھیں گے، پورا معاشرہ کبھی روشن نہیں ہو سکتا۔
د) رسم و رواج کی اندھی تقلید
پشتون ثقافت کے اچھے پہلو اپنی جگہ، لیکن بعض فرسودہ رسومات جیسے کہ دشمنیاں اور خاندانی تنازعات (بدل)، غگ (زبردستی کی شادی)، سوارہ یا ونی (خواتین کو تاوان میں دینا) اور حد سے زیادہ لکیر کا فقیر ہونا معاشرے کو آگے بڑھنے سے روک رہا ہے۔ لوگ دین اور علم پر اپنے خاندانی رواج کو ترجیح دیتے ہیں۔
ہ) معاشی بدحالی اور جدید کاروبار سے دوری
معاشی پسماندگی اور علم کا گہرا تعلق ہے۔ وسائل کی کمی کی وجہ سے بچے اسکول جانے کے بجائے کم عمری میں ہی مزدوری کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ مزید برآں، نوجوانوں میں جدید کاروباری رجحانات (جیسے ای کامرس، آئی ٹی، اور جدید زراعت) کے بارے میں شعور کی کمی ہے، جس کی وجہ سے وہ روایتی اور کم آمدنی والے کاموں تک محدود رہتے ہیں۔
۲. یہ جہالت نہیں، "شعور کا اغوا" ہے!
یہ بات واضح رہے کہ پشتون فطرتاً جاہل یا کند ذہن نہیں ہیں۔ جب بھی کسی پشتون کو سازگار ماحول، امن اور بہترین تعلیمی مواقع ملے، اس نے دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ مسئلہ صلاحیت کا نہیں بلکہ مواقع کی عدم دستیابی اور غلط ترجیحات کا ہے۔ ہم نے بہادری کو صرف بندوق سے جوڑ دیا، جبکہ اصل بہادری قلم اور علم کے میدان میں فتح حاصل کرنا ہے۔
۳. حل کیا ہے؟ ہم کیا کر سکتے ہیں؟
اگر ہم واقعی اپنے معاشرے کو اس دلدل سے نکالنا چاہتے ہیں، تو ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر درج ذیل اقدامات کرنے ہوں گے:
تعلیمی انقلاب کی حمایت: ہر پشتون اپنے علاقے کے سرکاری اسکولوں کی حالتِ زار پر نظر رکھے، اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے آواز اٹھائے اور اپنی مدد آپ کے تحت تعلیمی مہم چلائے۔
لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینا: ہمیں اس فرسودہ سوچ کو بدلنا ہوگا کہ لڑکیوں کا کام صرف چولہا چوکا ہے۔ بیٹیوں کو ڈاکٹر، انجینئر، کاروباری شخصیت اور سب سے بڑھ کر ایک باشعور انسان بننے کا موقع دیں۔
منفی رسومات کا بائیکاٹ: جرگوں اور خاندانی فیصلوں میں فرسودہ روایات کے خلاف کھڑے ہوں اور اسلام کے دیے ہوئے حقوق (خاص طور پر وراثت اور شادی میں خواتین کی مرضی) کو ترجیح دیں۔
نوجوانوں کے لیے جدید کاروبار اور ٹیکنالوجی: نوجوانوں کو روایتی ملازمتوں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے جدید ٹیکنالوجی، فری لانسنگ اور جدید کاروباری صلاحیتوں کی طرف راغب کریں۔ معاشی خود مختاری ہی فکری آزادی کی ضامن ہے۔
سوشل میڈیا کا تعمیری استعمال: پشتون نوجوان سوشل میڈیا پر بحث برائے بحث اور نفرت انگیز مہمات چلانے کے بجائے تعلیمی مسائل، کاروبار کے مواقع اور سماجی اصلاح پر بات کریں۔
آخری پیغام (کال ٹو ایکشن)
پشتون بھائیو اور بہنو! تاریخ گواہ ہے کہ تلواروں کی جنگیں عارضی ہوتی ہیں، لیکن علم اور معیشت کی جنگیں نسلوں کو زندہ رکھتی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی غیرت اور بہادری کا رخ قلم، کتاب، کاروبار اور ترقی کی طرف موڑ دیں۔ اپنی ترجیحات بدلیں تاکہ آنے والی نسلیں ہم پر فخر کر سکیں۔
آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ کمنٹس میں اپنی قیمتی رائے کا اظہار کریں اور اس تحریر کو زیادہ سے زیادہ شیئر کر کے بیداریِ شعور کی اس مہم کا حصہ بنیں۔