دہ مشر عسکر

دہ مشر عسکر Politics

11/08/2026

اسلام آباد؛ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا اپوزیشن لیڈر سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان مشر محمود خان اچکزئی سے اُنکے رہائشگاہ پر ملاقات۔

اعلامیہ

قائدِ حزبِ اختلاف و سربراہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان محمود خان اچکزئی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی کی ملاقات

اسلام آباد: آج وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی نے قائدِ حزبِ اختلاف اور سربراہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان محمود خان اچکزئی سے ان کی اسلام آباد میں واقع رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی، آئینی اور امن و امان کی صورتحال سمیت اہم قومی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں سلمان اکرم راجہ سیکرٹری جنرل پاکستان تحریکِ انصاف، جنید اکبر خان صدر پاکستان تحریکِ انصاف خیبر پختونخوا، عاطف خان رکن قومی اسمبلی، صاحبزادہ صبغت اللہ رکن قومی اسمبلی، انور تاج رکن قومی اسمبلی، ڈاکٹر امجد خان رکن قومی اسمبلی، محبوب شاہ رکن قومی اسمبلی، حسین احمد یوسفزئی ترجمان تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان، اور خالد یوسف چوہدری لیگل کونسل سابق وزیراعظم عمران خان، بھی موجود تھے۔

ملاقات میں سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کے حوالے سے میڈیا پر نشر ہونے والی خبروں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ عمران خان اس وقت ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں، لہٰذا ان کی صحت، سلامتی اور جان کی مکمل ذمہ داری انہیں قید رکھنے والے متعلقہ اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ عمران خان کو کسی بھی قسم کی گزند پہنچنے کی صورت میں اس کی تمام تر ذمہ داری بھی متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔
شرکاء نے مطالبہ کیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی طویل قیدِ تنہائی فوری طور پر ختم کی جائے، انہیں بلا تاخیر ان کے خاندان اور ذاتی معالجین تک مکمل رسائی فراہم کی جائے اور ان کے جامع طبی معائنے اور علاج کے لیے انہیں شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔

ملاقات میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے میڈیا میں زیرِ بحث مجوزہ قانون سازی اور آئینی ترمیم پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے واضح کیا کہ موجودہ پارلیمان عوامی مینڈیٹ اور اخلاقی جواز سے محروم ہے، لہٰذا صوبوں کی تشکیل جیسے انتہائی حساس، قومی اہمیت کے حامل اور عوام کے مستقبل سے متعلق معاملات پر قانون سازی یا آئینی ترمیم کا اسے اخلاقی اختیار حاصل نہیں۔

شرکاء نے قرار دیا کہ صوبوں کی تشکیل یا کسی بھی بنیادی آئینی معاملے پر فیصلہ صرف حقیقی عوامی مینڈیٹ، وسیع تر سیاسی اتفاقِ رائے اور آئینی تقاضوں کے مطابق ہی کیا جا سکتا ہے۔

ملاقات میں کہا گیا کہ پاکستان ایک مرتبہ پھر اپنی دستوری اور جمہوری تاریخ کے ایک انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ موجودہ صورتحال میں تمام جمہوری قوتوں کو آئین کے تحفظ، جمہوری اقدار کی بحالی اور عوام کے حقِ حکمرانی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا
شرکاء نے واضح کیا کہ جو بھی سیاسی جماعت آئین کے تحفظ، جمہوریت کی بحالی اور حقیقی اپوزیشن کے کردار کی ادائیگی کے لیے ہمارے ساتھ چلنا چاہتی ہے، ہمارے دروازے ہر وقت کھلے ہیں اور اسے خوش آمدید کہا جائے گا۔

ملاقات میں اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ بہت جلد تمام اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ اجلاس طلب کیا جائے گا، جس میں ملک کو درپیش سیاسی، آئینی، معاشی اور انتظامی مسائل اور موجودہ سیاسی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لے کر ایک متفقہ اور مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دیا جائے گا۔

ملاقات میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے اسے وفاقی حکومت کی ناکام اور ناقص سیکیورٹی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان پالیسیوں کے باعث دونوں صوبوں کے عوام مسلسل بدامنی، عدم تحفظ اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

ملاقات میں پاک افغان تجارتی راستوں کی مسلسل بندش کی شدید مذمت کی گئی۔ شرکاء نے کہا کہ تجارتی راستوں کی بندش سے سرحدی علاقوں کے ہزاروں تاجروں، کاروباری افراد، مزدوروں، ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹرز کا روزگار بری طرح متاثر ہو رہا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں معطل، مقامی معیشت شدید متاثر اور عوام کو ناقابلِ تلافی مالی نقصانات کا سامنا ہے۔
شرکاء نے کہا کہ پاک افغان تجارت سے وابستہ سرحدی علاقوں کی مقامی آبادی کو معاشی طور پر دیوار سے لگانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ وفاقی حکومت اور متعلقہ ذمہ داران سے مطالبہ کیا گیا کہ پاک افغان تجارتی راستوں کو فی الفور بحال کیا جائے اور ایسی پالیسیوں سے اجتناب کیا جائے جو دونوں جانب کے عوام کے جائز تجارتی، کاروباری اور معاشی مفادات کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

ملاقات میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ مائنز، منرلز اور دیگر قدرتی وسائل پر پہلا حق ان علاقوں کے مقامی لوگوں کا ہے، مگر بدقسمتی سے مقامی آبادی کو اپنے ہی وسائل سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
شرکاء نے قرار دیا کہ مقامی آبادی کو روزگار، تجارت اور اپنے قدرتی وسائل کے ثمرات سے محروم رکھنا ان کے معاشی استحصال اور بنیادی حقوق کی سنگین پامالی کے مترادف ہے۔ قدرتی وسائل سے متعلق کسی بھی پالیسی میں مقامی آبادی کے بنیادی حقوق، معاشی مفادات اور فیصلہ سازی میں ان کی شمولیت کو یقینی بنایا جانا چاہیے

ملاقات میں آزاد جموں و کشمیر میں پُرامن مظاہرین کے خلاف تشدد، ہلاکتوں، راستوں اور انٹرنیٹ کی بندش کی بھی شدید مذمت کی گئی۔ شرکاء نے تین مراحل میں کرائے گئے انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومتِ پاکستان اور حکومتِ آزاد جموں و کشمیر موجودہ صورتحال کا سیاسی حل تلاش کریں، مظاہرین سے بامعنی مذاکرات کیے جائیں اور شفاف، آزاد اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔

ملاقات میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے اعلان کردہ لانگ مارچ کے حوالے سے قائدِ حزبِ اختلاف و سربراہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان محمود خان اچکزئی کو اعتماد میں لیا گیا اور شرکاء نے لانگ مارچ کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا ۔
اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ لانگ مارچ کو مکمل تیاری، بھرپور سیاسی قوت، عوامی شمولیت اور منظم انداز میں کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں اپوزیشن جماعتوں اور سیاسی و جمہوری قوتوں سے رابطوں اور مشاورت کا عمل بھی جاری رکھا جائے گا۔

حسین احمد یوسفزئی
ترجمان
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان
Islamabad; Khyber Pakhtunkhwa Chief Minister Sohail Afridi met with Opposition Leader and Head of the Pakistan Tehreek-e-Tahafuz Ain Pakistan, Mahmood Khan Achakzai, at his residence.

Announcement

Meeting of Opposition Leader and Head of the Pakistan Tehreek-e-Tahafuz Ain Pakistan, Mahmood Khan Achakzai, and Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Sohail Khan Afridi

Islamabad: Today, Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Sohail Khan Afridi met with Opposition Leader and Head of the Pakistan Tehreek-e-Tahafuz Ain Pakistan, Mahmood Khan Achakzai, at his residence in Islamabad. In the meeting, important national issues including the overall political, constitutional and law and order situation of the country were discussed in detail.

Salman Akram Raja, Secretary General Pakistan Tehreek-e-Insaf, Junaid Akbar Khan, President Pakistan Tehreek-e-Insaf Khyber Pakhtunkhwa, Atif Khan, Member National Assembly, Sahibzada Sibghatullah, Member National Assembly, Anwar Taj, Member National Assembly, Dr. Amjad Khan, Member National Assembly, Mehboob Shah, Member National Assembly, Hussain Ahmed Yousafzai, Spokesperson of the Movement to Protect the Constitution of Pakistan, and Khalid Yousaf Chaudhry, Legal Counsel to former Prime Minister Imran Khan, were also present in the meeting.

        قائدِ حزبِ اختلاف و سربراہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان چيرمين پشتونخواميپ محمود خان اچکزئی اور وزیراعلیٰ خیبر پخت...
11/08/2026





قائدِ حزبِ اختلاف و سربراہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان چيرمين پشتونخواميپ محمود خان اچکزئی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی کی ملاقات

اسلام آباد: آج وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی نے قائدِ حزبِ اختلاف اور سربراہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان محمود خان اچکزئی سے ان کی اسلام آباد میں واقع رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی، آئینی اور امن و امان کی صورتحال سمیت اہم قومی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں سلمان اکرم راجہ سیکرٹری جنرل پاکستان تحریکِ انصاف، جنید اکبر خان صدر پاکستان تحریکِ انصاف خیبر پختونخوا، عاطف خان رکن قومی اسمبلی، صاحبزادہ صبغت اللہ رکن قومی اسمبلی، انور تاج رکن قومی اسمبلی، ڈاکٹر امجد خان رکن قومی اسمبلی، محبوب شاہ رکن قومی اسمبلی، حسین احمد یوسفزئی ترجمان تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان، اور خالد یوسف چوہدری لیگل کونسل سابق وزیراعظم عمران خان، بھی موجود تھے۔

ملاقات میں سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کے حوالے سے میڈیا پر نشر ہونے والی خبروں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ عمران خان اس وقت ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں، لہٰذا ان کی صحت، سلامتی اور جان کی مکمل ذمہ داری انہیں قید رکھنے والے متعلقہ اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ عمران خان کو کسی بھی قسم کی گزند پہنچنے کی صورت میں اس کی تمام تر ذمہ داری بھی متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔
شرکاء نے مطالبہ کیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی طویل قیدِ تنہائی فوری طور پر ختم کی جائے، انہیں بلا تاخیر ان کے خاندان اور ذاتی معالجین تک مکمل رسائی فراہم کی جائے اور ان کے جامع طبی معائنے اور علاج کے لیے انہیں شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔

ملاقات میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے میڈیا میں زیرِ بحث مجوزہ قانون سازی اور آئینی ترمیم پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے واضح کیا کہ موجودہ پارلیمان عوامی مینڈیٹ اور اخلاقی جواز سے محروم ہے، لہٰذا صوبوں کی تشکیل جیسے انتہائی حساس، قومی اہمیت کے حامل اور عوام کے مستقبل سے متعلق معاملات پر قانون سازی یا آئینی ترمیم کا اسے اخلاقی اختیار حاصل نہیں۔

شرکاء نے قرار دیا کہ صوبوں کی تشکیل یا کسی بھی بنیادی آئینی معاملے پر فیصلہ صرف حقیقی عوامی مینڈیٹ، وسیع تر سیاسی اتفاقِ رائے اور آئینی تقاضوں کے مطابق ہی کیا جا سکتا ہے۔

ملاقات میں کہا گیا کہ پاکستان ایک مرتبہ پھر اپنی دستوری اور جمہوری تاریخ کے ایک انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے۔

ملاقات میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے اسے وفاقی حکومت کی ناکام اور ناقص سیکیورٹی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان پالیسیوں کے باعث دونوں صوبوں کے عوام مسلسل بدامنی، عدم تحفظ اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

ملاقات میں پاک افغان تجارتی راستوں کی مسلسل بندش کی شدید مذمت کی گئی۔ شرکاء نے کہا کہ تجارتی راستوں کی بندش سے سرحدی علاقوں کے ہزاروں تاجروں، کاروباری افراد، مزدوروں، ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹرز کا روزگار بری طرح متاثر ہو رہا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں معطل، مقامی معیشت شدید متاثر اور عوام کو ناقابلِ تلافی مالی نقصانات کا سامنا ہے۔
شرکاء نے کہا کہ پاک افغان تجارت سے وابستہ سرحدی علاقوں کی مقامی آبادی کو معاشی طور پر دیوار سے لگانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ وفاقی حکومت اور متعلقہ ذمہ داران سے مطالبہ کیا گیا کہ پاک افغان تجارتی راستوں کو فی الفور بحال کیا جائے اور ایسی پالیسیوں سے اجتناب کیا جائے جو دونوں جانب کے عوام کے جائز تجارتی، کاروباری اور معاشی مفادات کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

ملاقات میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ مائنز، منرلز اور دیگر قدرتی وسائل پر پہلا حق ان علاقوں کے مقامی لوگوں کا ہے، مگر بدقسمتی سے مقامی آبادی کو اپنے ہی وسائل سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
شرکاء نے قرار دیا کہ مقامی آبادی کو روزگار، تجارت اور اپنے قدرتی وسائل کے ثمرات سے محروم رکھنا ان کے معاشی استحصال اور بنیادی حقوق کی سنگین پامالی کے مترادف ہے۔ قدرتی وسائل سے متعلق کسی بھی پالیسی میں مقامی آبادی کے بنیادی حقوق، معاشی مفادات اور فیصلہ سازی میں ان کی شمولیت کو
ملاقات میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے اعلان کردہ لانگ مارچ کے حوالے سے قائدِ حزبِ اختلاف و سربراہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان محمود خان اچکزئی کو اعتماد میں لیا گیا اور شرکاء نے لانگ مارچ کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا ۔
اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ لانگ مارچ کو مکمل تیاری، بھرپور سیاسی قوت، عوامی شمولیت اور منظم انداز میں کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں اپوزیشن جماعتوں اور سیاسی و جمہوری قوتوں سے رابطوں اور مشاورت کا عمل بھی جاری رکھا جائے گا۔

حسین احمد یوسفزئی
ترجمان
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان

10/08/2026


08/08/2026

28/07/2026


28/07/2026

ستمبر یا اکتوبر میں پورے پشتونخوا وطن میں جرگہ بلایا جائے گا۔
محترم مشر محمود خان اچکزئی

28/07/2026

کوټه پریس کلب
د تحریک تحفظ آئین پاکستان سربراہ د پښتونخوا ملې عوامي ګوند چیرمین اپوزیشن لیډر ګران مشر محمود خان آڅګزي په کوټه پریس کلب کښی پریس کانفرنس ته د وینا پر محال.




Mehmood Khan M Umar Achakzai

Address

Pashton Abad
Quetta

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when دہ مشر عسکر posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share